Baaghi TV

Blog

  • ایران میں کرد کون ہیں؟

    ایران میں کرد کون ہیں؟

    مشرقِ وسطیٰ میں کرد عوام ایک ایسی نسلی اقلیت ہیں جن کے پاس آج تک کوئی آزاد اور خودمختار ریاست موجود نہیں۔ دنیا بھر میں کردوں کی مجموعی آبادی کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آتے ہیں جو تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 4 کروڑ 50 لاکھ کے درمیان بتائے جاتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اس پہاڑی خطے میں آباد ہے جو ایران، عراق، ترکی، شام اور آرمینیا کے مختلف حصوں پر پھیلا ہوا ہے۔

    ماہرین کے مطابق کردوں کی سب سے بڑی آبادی ترکی میں رہتی ہے، جہاں یہ ملک کی سب سے بڑی نسلی اقلیت سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم درست اعداد و شمار دستیاب نہیں کیونکہ خطے کے کئی ممالک اپنی مردم شماری میں نسلی شناخت کو باقاعدہ طور پر درج نہیں کرتے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو اتحادی طاقتوں نے موجودہ مشرقی ترکی کے علاقے میں ایک آزاد کرد ریاست بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم نئی ترک حکومت نے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا جس کے بعد یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اس کے بعد سے کرد عوام مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر رہنے پر مجبور ہیں۔

    کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، تاہم کرد معاشرہ مذہبی اور ثقافتی طور پر انتہائی متنوع ہے۔ ان میں مختلف مذہبی روایات، سماجی ڈھانچے اور سیاسی نظریات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کرد زبان بھی کئی مختلف بولیوں پر مشتمل ہے جو مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔برطانوی حکومتی اندازوں کے مطابق ایران میں کرد آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً 8 فیصد سے 17 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ ایران کے مغربی علاقوں میں آباد کرد برادری طویل عرصے سے زیادہ خودمختاری، سیاسی حقوق اور ثقافتی آزادیوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں، خصوصاًایمنسٹی انٹرنیشنل، نے ایران میں کردوں کے خلاف متعدد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کرد زبان کی تعلیم پر کئی جگہ پابندیاں عائد ہیں،بعض کرد نام سرکاری طور پر رجسٹر نہیں کیے جا سکتے،کرد کارکنوں کو اکثر من مانی گرفتاریوں اور حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    ایران کے کرد علاقوں میں کئی مسلح گروہ دہائیوں سے حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ یہ گروہ زیادہ تر ایران۔عراق سرحد کے قریب اپنے ٹھکانے رکھتے ہیں جہاں سے وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان گروہوں کے پاس ہزاروں مسلح افراد موجود ہیں۔حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایران کے کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ ایران کے اندر عوامی بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔اس منصوبے سے واقف متعدد افراد نے بتایا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد کئی ایرانی کرد تنظیموں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں جن میں ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے ایرانی فوجی اہلکاروں سے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال مزید آگے بڑھتی ہے تو ایران کے مغربی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

  • ایران کے حملوں کا خدشہ، متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام متحرک

    ایران کے حملوں کا خدشہ، متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام متحرک

    متحدہ عرب امارات میں ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کے بعد فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

    اماراتی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق “فضاؤں میں سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔” وزارت نے یہ بیان سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے عوام کو صورتِ حال سے آگاہ کیا۔

    دارالحکومت ابوظہبی میں موجود غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں نے بھی متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے، جس کے بعد شہر میں سیکیورٹی الرٹ مزید بڑھا دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق یہ خطرہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ حکام نے فوری طور پر کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • 
بھارتی فضائیہ کا سخوئی 30 ایم کے آئی طیارہ آسام میں گر کر تباہ

    
بھارتی فضائیہ کا سخوئی 30 ایم کے آئی طیارہ آسام میں گر کر تباہ

    
بھارتی فضائیہ کا سخوئی 30 ایم کے آئی لڑاکا طیارہ آسام کے ضلع کاربی آنگلونگ میں گر کر تباہ ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ شام تقریباً سات بجے رنگخیلان گاؤں کے قریب نیلیپ بلاک کے علاقے چکیہولا کے پہاڑی مقام پر پیش آیا۔
    ‎اطلاعات کے مطابق یہ جنگی طیارہ جورہاٹ میں واقع رووریاہ ایئر فورس بیس سے پرواز بھرنے کے بعد معمول کے مشن پر تھا جب پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حادثے سے پہلے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی اور بعد ازاں پہاڑی چوٹی پر طیارہ گرتے دیکھا گیا۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق طیارہ پہاڑ سے ٹکرانے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اور حادثے کی جگہ پر آگ کا بڑا گولا دیکھا گیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طیارہ پہاڑی ضلع کی بلند چوٹی سے ٹکرا گیا۔
    ‎گوہاٹی میں دفاعی تعلقات عامہ کے دفتر کے مطابق طیارے سے ریڈار رابطہ منقطع ہونے کے بعد فضائیہ کی ٹیمیں فوری طور پر علاقے کی طرف روانہ کر دی گئیں تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں اور طیارے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
    ‎مقامی پولیس بھی پہاڑی چوٹی تک پہنچنے کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی ہے تاہم حادثے کی جگہ بلند پہاڑی پر ہونے کی وجہ سے وہاں پہنچنا مشکل بتایا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی پائلٹ کے طیارے سے باہر نکلنے کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  • خطے میں کشیدگی: اطالیہ کا خلیجی ممالک کو فضائی دفاعی امداد دینے کا اعلان

    خطے میں کشیدگی: اطالیہ کا خلیجی ممالک کو فضائی دفاعی امداد دینے کا اعلان

    اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے خطے میں جاری کشیدگی اور ایرانی حملوں کے تناظر میں ایک اہم اور تزویراتی بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے خلیجی ممالک کو دفاعی امداد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جارجیا میلونی کا کہنا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرح اٹلی بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ خلیجی خطے کو فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) سمیت دیگر ضروری دفاعی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    اس فیصلے کے محرکات بیان کرتے ہوئے اطالوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ اقدام محض دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اٹلی کے اپنے اسٹریٹجک مفادات اور شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔ میلونی نے نشاندہی کی کہ خلیجی ممالک میں نہ صرف دسیوں ہزار اطالوی شہری مقیم ہیں بلکہ تقریباً 2 ہزار اطالوی فوجی بھی وہاں تعینات ہیں، جن کی حفاظت کرنا ان کی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی خطہ اٹلی اور پورے یورپ کے لیے توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم ہے، جس کے تحفظ کو یقینی بنانا عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

  • 
ایران نے آذربائیجان کی طرف ڈرون بھیجنے کی تردید کردی، الزام اسرائیل پر عائد

    
ایران نے آذربائیجان کی طرف ڈرون بھیجنے کی تردید کردی، الزام اسرائیل پر عائد

    
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے جمعرات کو جاری کیے گئے بیان میں آذربائیجان کی جانب کسی بھی ڈرون بھیجے جانے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی طرف سے آذربائیجان کی سمت کوئی ڈرون روانہ نہیں کیا گیا۔
    سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی حکام نے اس واقعے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے مسلم ممالک کے درمیان بداعتمادی اور کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلم ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے اس نوعیت کی سازشیں کوئی نئی بات نہیں ہیں اور ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔

  • 
روس کا پاک افغان کشیدگی پر اظہار تشویش، مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل

    
روس کا پاک افغان کشیدگی پر اظہار تشویش، مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل

    
روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔
    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاک افغان سرحد پر جاری جھڑپوں اور لڑائی کی اطلاعات تشویش کا باعث ہیں۔ بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں سرحدی علاقوں میں طیاروں اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ مسلح تصادم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
    ‎روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران سے واپس آنے والے افغان مہاجرین بھی اس کشیدہ صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں جس کے باعث انسانی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
    ‎بیان میں کابل اور اسلام آباد سے اپیل کی گئی کہ وہ فوجی تصادم سے گریز کریں اور باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
    ‎روس نے ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ایسے آثار نظر نہیں آ رہے کہ امریکا اور اسرائیل خطے میں تحمل یا خونریزی روکنے کے لیے تیار ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق جارحانہ کارروائیاں کرنے والے عناصر اسلامی دنیا میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    ‎روسی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ خطے میں مزید بگاڑ سے بچنے کے لیے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کی جائیں۔

  • 
پاکستان نے بگرام میں ہدف حاصل کرلیا، دہشت گردوں کا اسلحہ سپورٹ انفراسٹرکچر تباہ

    
پاکستان نے بگرام میں ہدف حاصل کرلیا، دہشت گردوں کا اسلحہ سپورٹ انفراسٹرکچر تباہ

    
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے علاقے بگرام میں اپنے اہم ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جہاں دہشت گردوں کے اسلحہ اور گولہ بارود کی سپورٹ سے متعلق انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کی جارہی ہیں۔
    ذرائع کے مطابق پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا میں ہونے والے دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغان طالبان رجیم کے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ اسی تناظر میں آپریشن غضب للحق جاری ہے جس کا مقصد افغان عوام نہیں بلکہ صرف دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جارہی ہیں اور کسی بھی مقام پر شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا جارہا۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ اسٹرائیکس کے دوران ٹی ٹی پی کی مڈ لیول قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ افغان طالبان رجیم کے خلاف اب تک پچاس سے زائد کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
    ‎ذرائع نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بائیس دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ باجوڑ، ترلائی مسجد اور وانا میں ہونے والے حملوں میں افغان طالبان کے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اب تک افغانستان میں ٹی ٹی پی کی دو سو چھبیس چیک پوسٹیں تباہ کرچکا ہے جبکہ چھتیس چیک پوسٹوں پر قبضہ بھی کیا جاچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
    ‎ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو اگر مکمل طور پر سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا جائے تو وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں کسی خاص حکومت سے سروکار نہیں بلکہ مقصد صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق تیراہ میں بڑے پیمانے پر کوئی آپریشن نہیں کیا جا رہا بلکہ وہاں بھی انٹیلی جنس بنیادوں پر محدود کارروائیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کی سرپرستی اور افغانستان میں موجود عناصر کا کردار بھی شامل ہے۔
    ‎ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ایران کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود ملک کی عسکری طاقت عالمی سطح پر مضبوط سمجھی جاتی ہے اور پاکستان کے چین، روس اور امریکا سمیت کئی اہم ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ افغانستان ہمسایہ ملک ہے اور اس کے ساتھ رابطہ بھی برقرار رہتا ہے۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق بگرام میں کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے اسلحہ سپورٹ کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا اور پاکستان نے اپنے طے شدہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک دہشت گردی کے خطرات ختم نہیں ہوتے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • 
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کا انگلینڈ کو 254 رنز کا ہدف

    
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم میچ میں بھارت نے انگلینڈ کے خلاف مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 254 رنز بنا کر بڑا ہدف دے دیا۔
    بھارتی بیٹرز نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے ابتدا ہی سے تیز رفتار بیٹنگ کی اور انگلینڈ کے بولرز پر دباؤ برقرار رکھا۔ میچ کے دوران کئی بڑی شراکتیں قائم ہوئیں جس کے باعث بھارتی ٹیم مقررہ اوورز کے اختتام تک 254 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔
    اب انگلینڈ کی ٹیم کو میچ جیتنے کے لیے 255 رنز درکار ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اس بڑے ہدف کے تعاقب میں کس طرح کی کارکردگی دکھاتی ہے۔

  • 
پنجاب میں جعلی اور غیرمعیاری ادویات کا انکشاف، ڈرگ کنٹرول بورڈ کا 5 ادویات پر الرٹ

    
پنجاب میں جعلی اور غیرمعیاری ادویات کا انکشاف، ڈرگ کنٹرول بورڈ کا 5 ادویات پر الرٹ

    
لاہور میں پنجاب کے مختلف میڈیکل اسٹورز پر جعلی اور غیرمعیاری ادویات کی فروخت سامنے آنے کے بعد پنجاب ڈرگ کنٹرول بورڈ نے پانچ ادویات کے بارے میں الرٹ جاری کردیا ہے۔
    حکام کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران معلوم ہوا کہ ادویات کے مخصوص بیچز معیار پر پورا نہیں اترتے اور بعض جعلی بھی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہڈیوں کی مضبوطی اور کیلشیم کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص ملٹی وٹامنز جعلی نکلے جنہیں اسلام آباد کی ایک فارماسوٹیکل کمپنی کے نام پر مارکیٹ میں فروخت کیا جارہا تھا۔
    ‎ڈرگ کنٹرول بورڈ کی رپورٹ کے مطابق کھانسی کے لیے استعمال ہونے والا ایک معروف سیرپ بھی غیرمعیاری اور ملاوٹ شدہ پایا گیا جبکہ درد کے علاج کے لیے استعمال ہونے والا ایک انجیکشن بھی معیار پر پورا نہیں اترا۔ ٹیسٹ کے دوران انجیکشن میں غیر ضروری ذرات کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق درد کا انجیکشن لاہور میں جبکہ کھانسی کا سیرپ کراچی میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جانوروں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے دو انجیکشن بھی غیرمعیاری قرار دیے گئے جن میں اصل اجزا کی مقدار مقررہ معیار کے مطابق نہیں پائی گئی۔ یہ ادویات لاہور اور کراچی کی فارماسوٹیکل کمپنیوں نے تیار کی تھیں۔
    ‎دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ ادویات کو تمام میڈیکل اسٹورز سے واپس منگوانے کا حکم دے دیا ہے تاکہ عوام کو ممکنہ نقصان سے بچایا جاسکے۔

  • 
ریاض سفارتخانہ اور جدہ قونصلیٹ 24 گھنٹے پاکستانیوں کی مدد کے لیے فعال

    
ریاض سفارتخانہ اور جدہ قونصلیٹ 24 گھنٹے پاکستانیوں کی مدد کے لیے فعال

    
پاکستانی سفارتی حکام نے کہا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ ریاض اور قونصلیٹ جدہ چوبیس گھنٹے شہریوں کی مدد کے لیے متحرک ہیں۔ ترجمان کے مطابق خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر دونوں سفارتی مشنز کو مکمل طور پر فعال رکھا گیا ہے۔
    ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی شہری، خصوصاً عمرہ زائرین اور وہ افراد جو کسی وجہ سے پھنس گئے ہیں، سفارتخانے اور قونصلیٹ سے ہر ممکن مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق فوری رہنمائی اور معاونت کے لیے خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ ہنگامی حالات میں پاکستانی شہریوں کو بروقت معلومات اور سہولت فراہم کی جا سکے۔
    ‎ترجمان نے پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریاض میں پاکستانی سفارتخانے یا جدہ میں قونصلیٹ سے رابطہ کریں تاکہ ان کی فوری مدد ممکن بنائی جا سکے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں موجود ہر پاکستانی شہری کی حفاظت اور سہولت پاکستانی سفارتی مشنز کی اولین ترجیح ہے۔