Baaghi TV

Blog

  • آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر جاری آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

    یہ آپریشن 26 فروری 2026 کو ٹی ٹی اے کی جانب سے شروع کی گئی کارروائیوں کے جواب میں جاری ہے اور سرحدی علاقوں میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 مارچ کی درمیانی شب بلوچستان کے سرحدی علاقوں قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، نوشکی اور چلتن سیکٹرز میں پاکستان کی فورسز نے بھرپور جوابی فائرنگ کی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دوران مختلف کیلیبر کے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سرحد پار موجود ٹی ٹی اے کے ٹھکانوں اور عسکری پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔کارروائیوں کے دوران 3 فزیکل چھاپے مارے گئے،36 فائر ریڈز کی گئیں،ان حملوں کا مقصد دشمن کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

    خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں خیبر، کرم اور ملحقہ سیکٹرز میں بھی براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔سکیورٹی فورسز نے طورخم کے قریب دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی اور سرحد کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ژوب سیکٹر میں واقع تقریباً 32 مربع کلومیٹر کے گدوَانہ انکلیو پر پاکستان فورسز کا مضبوط کنٹرول برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق قریبی دشمن چوکیوں کو خالی کر دیا گیا ہے جبکہ پسپا ہونے والے عناصر کی جانب سے سفید جھنڈے بھی لہرائے گئے۔

    آپریشن کے تازہ مرحلے میں افغانستان کے اندر 35 سے زائد دشمن ٹھکانوں کو مربوط زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ٹی ٹی اے کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ہے۔تصدیق شدہ نقصانات کے مطابق 502 افغان اہلکار ہلاک،710 سے زائد زخمی ہوئے،234 چیک پوسٹیں تباہ،38 پوسٹیں قبضہ میں لی گئی،206 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ ہوئے،56 مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل شکست کے باوجود ٹی ٹی اے کے پروپیگنڈا چینلز پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور زیادہ جانی نقصان کے جھوٹے دعوے پھیلا رہے ہیں۔ تاہم زمینی صورتحال پاکستان کے حق میں ہے اور دشمن کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرحد پر موجود دشمن کے عزائم کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔

  • پاکستان کی بہتری،تعمیروترقی کے لئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    پاکستان کی بہتری،تعمیروترقی کے لئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان کی بہتری اور اس کی تعمیر و ترقی کیلئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہوگا ،ہم لسانی اختلافات ختم کرکے خود کو پاکستانی سمجھیں، ہماری شناخت صرف پاکستانی ہے، 1947میں پاکستان بنتے ہی مسئلہ کشمیر کھڑاکردیا گیا تاکہ خطے میں امن نہ ہو اور ٹھیک ایک سال بعد صہیونی ریاست اسرائیل قائم کردی گئی ، اس وقت سے آج تک اس خطے میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان کی عبوری حکومت نےدہشتگردوں کا ساتھ دے کر خود تباہی کا راستہ اختیار کیا،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں سینئر صحافیوں کے اعزازمیں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان اور ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم نے بھی خطاب کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست اسرائیل نے خطہ عرب میں جنگ و جدل کا نظام برپا کیا ہوا، دوسری جانب ہمارا خطہ افغانستان، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش ،یہاں بھی منصوبہ بندی کے تحت امن دور کیا گیا،اگر سب کا جائزہ لیا جائے تو صیہونیت، ہندوتوا کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے، ایک طرف پاکستان دشمنوں کو کھٹکتا ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ، دفاعی طور پر بہترین پوزیشن میں ہے،پاکستان کا اپنامیزائل ، دفاعی سسٹم ہے، دوسری طرف اسلامی ممالک بھی یہ امید رکھتے ہیں پاکستان واحد ایسا ملک ہےجودفاعی اعتبار سے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا،دنیا کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے،اسی لیے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے دشمن کے پاس تقسیم، دہشتگردی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،کبھی فرقہ واریت، کبھی لسانیت، کبھی علاقائیت،اس طرح ملک کو تقسیم کر کے، بدامنی پھیلا کر دہشتگردی کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،تاہم ہماری ذمہ داری ہے ملک کو مضبوط بنانے کے لئے کام کریں، ایک قوم بن جائیں اور تمام اختلافات بھلا کر اپنے آپ کو پاکستانی سمجھیں،ہماری شناخت صرف اور صرف پاکستان ہے،اس ملک کی ترقی کے لئے بہتری کے لئے ملکر کام کرنا ہو گا، مرکزی مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ ملک کی خدمت کریں،خدمت کی سیاست ہم کر رہے ہیں

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا پر معاشرہ یقین کرتا ہے، میڈیا قوم کی آواز بنتا ہے اور میڈیا کی آواز سے بیانیہ بنتا ہے، قوم، معاشرے کی تعمیر نو میں میڈیا کا اہم کردار ہے، دنیا میں امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کے حقوق، آزادی کا خیال کریں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان پاکستان کی جنگ بھی سب کے سامنے ہے، پاکستان نے چالیس سال افغانوں کی خدمت کی،مہمان نوازی کی اور اس کا صلہ آج دہشتگردی کی صورت میں مل رہا ہے،امام بارگاہوں، مساجد میں دھماکے، پاکستانی سیکورٹی فورسز کے جوان ، افسر،عام شہری شہید ہو رہے ہیں، ایک سازش کے تحت شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مار دی جاتی ہے، پاکستان کی سیکورٹی فورسز نےافغانستان کے حملے کا بھر پور جواب دیا اور بتایا کہ مذاکرات کی بات کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم جب جواب دینے پر آتے ہیں تو بھر پور طریقے سے دیتے ہیں، ہم نے ایک قوم بن کر اپنے دفاع، اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تا کہ مشکل وقت سے ملک کو نکالا جائے، ملک خوشحال ہو اور ترقی کرے،

  • تباہ میزائل کا ملبہ ابوظہبی مرینا کے پاس گرنے کی اطلاع

    تباہ میزائل کا ملبہ ابوظہبی مرینا کے پاس گرنے کی اطلاع

    متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک ہوٹل کے نزدیک میزائل کے ملبے کے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائل کو تباہ کرنے کے بعد اس کا کچھ ملبہ یاس مرینا کے قریب ایک ہوٹل کے نزدیک زمین پر گرتا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر سیکیورٹی ٹیمیں اور ہنگامی امدادی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق دبئی میں بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر ایئر ریڈ سائرن بجنے کی آوازیں سنی گئیں،متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع اور مقامی حکام نے عوام کو پرامن رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام مسلسل فعال ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

  • 
برج خلیفہ میں آگ لگنے کی ویڈیو جعلی قرار، اے آئی سے تیار کی گئی ویڈیوانڈین پراپیگنڈہ

    
برج خلیفہ میں آگ لگنے کی ویڈیو جعلی قرار، اے آئی سے تیار کی گئی ویڈیوانڈین پراپیگنڈہ

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وہ ویڈیو جس میں دبئی کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کو آگ میں جلتا ہوا دکھایا گیا، حقیقت میں جعلی اور انڈیا کا پراپیگنڈہ قرار دی گئی ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ہے اور اس کا حقیقی واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
    رپورٹس کے مطابق ایک آن لائن ڈیٹیکشن ٹول نے اس ویڈیو کو 99.9 فیصد امکان کے ساتھ اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا ہے۔ ویڈیو کو بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے امریکا کے ایران پر حملے کے تناظر میں شیئر کیا جا رہا تھا۔
    ‎خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے دوران متحدہ عرب امارات میں دبئی کے قریب دھماکوں کی اطلاعات ضرور سامنے آئیں، تاہم برج خلیفہ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی عمارت میں آگ لگنے کی کوئی تصدیق ہوئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے پھیلائی جاتی ہیں، اس لیے عوام کو غیر مصدقہ مواد پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق کرنی چاہیے۔

  • 
ایران امریکی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خارجہ عباس عراقچی

    
ایران امریکی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خارجہ عباس عراقچی

    انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کی کسی بھی ممکنہ زمینی فوجی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکی زمینی فوج سے کوئی خوف نہیں بلکہ وہ اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ نے ایسی کارروائی کی تو اس کے نتائج امریکہ کے لیے بہت تباہ کن ہوں گے۔
    ‎عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے کسی سے بھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی شخصیات اسٹیو وٹکوف یا جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

  • ‎مہنگی توانائی لینے سے بہتر ہے لوڈ مینجمنٹ کرلیں، مارچ تک سسٹم میں کوئی مسئلہ نہیں: وزیر پیٹرولیم

    ‎مہنگی توانائی لینے سے بہتر ہے لوڈ مینجمنٹ کرلیں، مارچ تک سسٹم میں کوئی مسئلہ نہیں: وزیر پیٹرولیم

    
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ قطر نے پاکستان کو مائع قدرتی گیس ایل این جی کی سپلائی عارضی طور پر روک دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جس کے اثرات کئی ممالک تک پھیل رہے ہیں۔
    علی پرویز ملک کے مطابق قطر کی جانب سے پاکستان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ فی الحال مزید ایل این جی کارگو فراہم نہیں کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مہنگی توانائی خریدنے کے بجائے بہتر ہے کہ گیس کی طلب کو متوازن رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کی جائے۔
    ‎وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ مارچ تک گیس کے نظام میں کسی بڑے مسئلے کی توقع نہیں ہے جبکہ حکومت نے تیل کے حوالے سے مناسب ذخائر بھی محفوظ کر لیے ہیں۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی پٹرول پمپ ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • مشرق وسطیٰ سے امریکیوں کا انخلاء تیز؛ 18 ہزار شہری واپس، مزید انخلاء کے لیے ہنگامی کوششیں جاری

    مشرق وسطیٰ سے امریکیوں کا انخلاء تیز؛ 18 ہزار شہری واپس، مزید انخلاء کے لیے ہنگامی کوششیں جاری

    مشرق وسطیٰ میں جاری شدید عسکری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے خطے سے اپنے شہریوں کو نکالنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اب تک 18 ہزار امریکی شہری بحفاظت اپنے ملک واپس پہنچ چکے ہیں، تاہم امریکی حکام کے لیے خطے میں مقیم 2 لاکھ سے زائد امریکی شہریوں کی حفاظت اور انخلاء اب بھی ایک بہت بڑا اور پیچیدہ چیلنج بنا ہوا ہے۔
    ‎امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک میں مقیم امریکی شہریوں کی تعداد کچھ یوں ہے:
    سعودی عرب: 80,000 امریکی
    متحدہ عرب امارات: 50,000 امریکی
    کویت: 30,000 امریکی
    قطر: 15,000 امریکی
    ‎امریکی حکام تمام سفارتی ذرائع اور وسائل بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ باقی ماندہ شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کا انخلاء اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ خطے میں طویل المدتی غیر یقینی صورتحال کی توقع کر رہا ہے۔ نقل و حمل کے اس وسیع آپریشن کے دوران زمینی اور فضائی دونوں راستوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

  • ایرانی میزائل نے آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا،بحرین

    ایرانی میزائل نے آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا،بحرین

    بحرین کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل ملک کی ایک اہم آئل ریفائنری سے ٹکرا گیا۔

    حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں ریفائنری کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور ریفائنری معمول کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔بحرینی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملے کے بعد BAPCO Energies کی ریفائنری کے ایک یونٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ فائر فائٹرز اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل قابو پا لیا۔بیان کے مطابق،“آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ ریفائنری کی آپریشنل سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس واقعے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔”

    ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر میزائل کے ریفائنری کے قریب گرنے کا لمحہ اور اس کے بعد بھڑکنے والی آگ دیکھی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں تیل کی تنصیبات پر اس نوعیت کے حملے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ ریفائنری کے بنیادی نظام محفوظ ہیں اور تیل کی پیداوار یا ترسیل متاثر نہیں ہوئی۔

  • کریملن کی تردید: ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی

    کریملن کی تردید: ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی

    کریملن کی جانب سے ایک اہم سفارتی بیان سامنے آیا ہے جس میں روسی
    صدارتی محل نے ان تمام افواہوں کی تردید کی ہے جن میں ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی درخواست کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بھی باضابطہ درخواست روس کو موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے پر روس کا مؤقف مستقل اور واضح ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
    یہ بیان بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یہ واضح تردید دراصل ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہے، جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ روس اس علاقائی تنازع میں براہِ راست فریق بننے سے گریزاں ہے۔ اس بیان نے خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح اشارہ دیا ہے کہ روس فی الحال عسکری اتحادوں کی سیاست سے فاصلہ رکھنے کو ترجیح دے رہا ہے۔

  • خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں،ٹرمپ

    خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں “شامل ہونا چاہیے”، جبکہ انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ جانشینی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای کے بیٹے کو ایران کی قیادت کے لیے زیر غور لانا “وقت کا ضیاع” ہے اور وہ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے کہا “خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں۔ ہم ایران میں ایسا رہنما چاہتے ہیں جو ہم آہنگی اور امن لائے۔”ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری میں امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کا موازنہ وینزویلا کی سیاست سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے امریکہ نے Delcy Rodríguez کے اقتدار میں آنے کے معاملے میں کردار ادا کیا، ویسا ہی کردار ایران کے معاملے میں بھی ہونا چاہیے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں ایسا رہنما منتخب کیا گیا جو سابق پالیسیوں کو جاری رکھے تو امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال “پانچ سال کے اندر ایک اور جنگ” کا باعث بن سکتی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے ایک روز قبل اشارہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔ تاہم ٹرمپ کے تازہ ریمارکس سے خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کی آئندہ قیادت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔دوسری جانب ایران کی قیادت کی جانب سے ابھی تک نئے سپریم لیڈر کے بارے میں باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں مختلف نام زیر غور بتائے جا رہے ہیں۔