Baaghi TV

Blog

  • 
ایران کا کویت سرحد پر امریکی ایف 15 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، امریکا کی تردید

    
ایران کا کویت سرحد پر امریکی ایف 15 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، امریکا کی تردید

    
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے کویت کی سرحد کے قریب ایک اور امریکی جدید جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب نے جنوب مغربی سرحدی علاقے میں امریکی ایف 15 ایگل طیارے کو نشانہ بنایا۔
    ایرانی حکام کے مطابق کویت کی سرحد کے قریب اب تک تین امریکی جنگی طیارے گرائے جا چکے ہیں اور یہ کارروائیاں خطے میں جاری کشیدگی کے دوران کی گئیں۔
    ‎دوسری جانب امریکی سینٹ کام نے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی امریکی طیارے کے تباہ ہونے کی اطلاع درست نہیں ہے۔

  • ایران کا ‘آپریشن وعدہ صادق 4’: خرمشہر-4 بیلسٹک میزائلوں سے اسرائیل کے اہم اسٹریٹجک اہداف پر حملہ

    ایران کا ‘آپریشن وعدہ صادق 4’: خرمشہر-4 بیلسٹک میزائلوں سے اسرائیل کے اہم اسٹریٹجک اہداف پر حملہ

    پاسدارانِ انقلابِ ایران کی جانب سے ‘آپریشن وعدہ صادق 4’ کے تحت اسرائیل کے خلاف ایک بڑی عسکری کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، اس آپریشن میں پہلی بار ایران کے جدید ترین ‘خرمشہر-4’ اسٹریٹجک بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان میزائلوں نے اسرائیل کے انتہائی حساس مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں تل ابیب کا مرکز، بن گوریون ایئرپورٹ اور اسرائیلی فضائیہ کا 27واں اسکواڈرن اڈہ شامل ہیں۔
    خرمشہر-4 میزائل: تکنیکی تفصیلات
    اس میزائل کو ایران کے میزائل ذخیرے میں ایک "گیم چینجر” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
    وزن اور لمبائی: یہ میزائل تقریباً 13 میٹر لمبا اور 30 ٹن وزنی ہے۔
    پیل لوڈ: یہ ایک ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد لے جانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
    رفتار: اس میزائل کی رفتار آواز کی رفتار سے 16 گنا زیادہ ہے، جو اسے انتہائی تیز رفتار بناتی ہے۔
    فلائٹ ٹائم: اپنی غیر معمولی رفتار کے باعث، یہ میزائل ہدف تک پہنچنے میں صرف 10 سے 12 منٹ کا وقت لیتا ہے، جس سے دشمن کے دفاعی نظاموں (مثلاً آئرن ڈوم یا دیگر) کے لیے مؤثر ردعمل دینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
    جدید وارہیڈ (MaRV): خرمشہر-4 کا وارہیڈ ‘منوورایبل’ (Maneuverable) ہے، یعنی یہ پرواز کے دوران اپنی سمت تبدیل کر سکتا ہے، جس سے اسے ٹریس کرنا اور مار گرانا دفاعی نظاموں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

  • 
کم جونگ ان کا 5000 ٹن وزنی جدید جنگی بحری جہاز کا دورہ، میزائل تجربے کی نگرانی

    
کم جونگ ان کا 5000 ٹن وزنی جدید جنگی بحری جہاز کا دورہ، میزائل تجربے کی نگرانی

    
شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے پانچ ہزار ٹن وزنی جدید جنگی بحری جہاز کا دورہ کیا اور اسی جہاز سے کیے گئے میزائل تجربے کا خود معائنہ کیا۔
    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے سی این اے کے مطابق میزائل تجربے کے موقع پر کم جونگ ان نے کہا کہ ملک کی بحریہ اب طاقتور جارحانہ صلاحیت حاصل کر چکی ہے اور سمندری دفاع کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
    ‎کم جونگ ان نے بحرالکاہل میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا اپنی بحری طاقت کو مزید جدید بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
    ‎نمپو شپ یارڈ کے دورے کے دوران انہوں نے نئی قومی حکمت عملی کے تحت ہدایات جاری کیں کہ آئندہ پانچ سالہ منصوبے میں ہر سال اسی طرز کے یا اس سے بڑے دو جنگی بحری جہاز تیار کیے جائیں۔
    ‎سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ ان نے اسی بحری جہاز سے داغے گئے اسٹریٹجک کروز میزائل کے تجربے کی بھی نگرانی کی۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ کی جدید کاری کا مقصد ملکی خود مختاری کا دفاع کرنا اور سمندری حدود میں کسی بھی دشمن کو بھرپور جواب دینا ہے۔

  • 
چین کا مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ

    
چین کا مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ

    
چین نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔
    بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چین کی چودہویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس کے ترجمان لو کنجیان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چین ایک ذمہ دار بڑے ملک کے طور پر خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ چین موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔
    ‎ترجمان کے مطابق تمام ممالک کے درمیان باہمی احترام اور برابری ضروری ہے چاہے وہ بڑے ممالک ہوں یا چھوٹے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی اصول تاریخ کی ترقی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیادی روح کے مطابق ہے۔
    ‎لو کنجیان نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی معاملات میں بالادستی قائم کرنے، دوسرے ممالک کے مستقبل کے فیصلے کرنے یا ترقی کے فوائد پر اجارہ داری قائم کرنے کا حق حاصل نہیں۔

  • 
ایران سے 1979 افراد تفتان کے راستے پاکستان پہنچ گئے، 37 سفارتکار بھی شامل

    
ایران سے 1979 افراد تفتان کے راستے پاکستان پہنچ گئے، 37 سفارتکار بھی شامل

    
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران اب تک 1979 افراد تفتان بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ چکے ہیں جن میں 37 سفارتکار بھی شامل ہیں۔
    انہوں نے بتایا کہ ایران میں جاری کشیدہ حالات کے باعث حکومت بلوچستان کی تمام متعلقہ مشینری کو الرٹ رکھا گیا ہے جبکہ پاکستان ایران سرحد کے ذریعے پاکستانی شہریوں اور غیر ملکیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق تفتان بارڈر پر آنے والے تمام افراد کو ضروری سہولیات اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک مجموعی طور پر 1979 افراد اس سرحدی راستے سے پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں۔
    ‎دوسری جانب ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے بیان میں کہا ہے کہ ایران میں موجود وہ پاکستانی شہری جو وطن واپس آنا چاہتے ہیں فوری طور پر پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہری تہران میں پاکستانی سفارتخانے یا مشہد اور زاہدان کے قونصل خانوں سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔
    ‎مدثر ٹیپو کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے پاکستانی شہری بروقت رابطہ کریں تاکہ ان کے محفوظ اور جلد انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ادھر وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں ایران سے پاکستانیوں کے انخلا کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایران سے پاکستانی شہری محفوظ طریقے سے وطن واپس پہنچ رہے ہیں جبکہ آذربائیجان میں پاکستانی سفارتخانہ بھی مکمل طور پر متحرک ہے۔وزیراعظم نے اس حوالے سے آذربائیجان کی مدد پر اظہار تشکر بھی کیا۔

  • پشاور میں شوہر کے قتل کیس میں خاتون اور ساتھی کو سزائے موت

    پشاور میں شوہر کے قتل کیس میں خاتون اور ساتھی کو سزائے موت

    ‎پشاور کی عدالت نے شوہر کے قتل کے مقدمے میں ملوث خاتون اور اس کے ساتھی کو سزائے موت سنا دی۔ عدالت نے دونوں مجرموں کو جرم ثابت ہونے پر سخت سزا سناتے ہوئے مقتول کے اہل خانہ کو ایک ملین روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
    ‎استغاثہ کے مطابق ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت خاتون کے شوہر کو قتل کیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر جرم ثابت ہونے پر فیصلہ سنایا گیا۔
    ‎عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دینا ضروری ہے تاکہ معاشرے میں ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • عرب ممالک کو گوشت کی برآمدات بند، پاکستان میں قیمتوں میں کمی کا امکان

    عرب ممالک کو گوشت کی برآمدات بند، پاکستان میں قیمتوں میں کمی کا امکان

    ‎عرب ممالک کی فضائی حدود اور سمندری راستوں کی بندش کے باعث پاکستان سے مٹن اور بیف کی برآمدات مکمل طور پر معطل ہوگئی ہیں جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں گوشت کی قیمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق عرب ممالک کی فضائی اور بحری راستوں کی بندش کو پانچواں روز ہو گیا ہے جس کے باعث پاکستان سے گوشت کی بیرون ملک ترسیل رک گئی ہے۔ برآمدات معطل ہونے سے گوشت کے بڑے تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا ہے جبکہ مقامی صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
    ‎مارکیٹ ذرائع کے مطابق عرب ممالک کو سپلائی بند ہونے سے مقامی منڈیوں میں گوشت کی مقدار بڑھ جائے گی جس کے باعث مٹن کی قیمت میں تقریباً 800 روپے اور بیف کی قیمت میں 500 روپے فی کلو تک کمی کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کو گوشت کی فراہمی پہلے ہی بند ہو چکی ہے۔
    ‎دوسری جانب لاہور اور کراچی کے بعض ہول سیل ڈیلرز نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھانا شروع کر دی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث قیمتیں قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
    ‎اس وقت اوپن مارکیٹ میں بکرے کا گوشت 2600 سے 3000 روپے فی کلو جبکہ گائے کا گوشت 1200 سے 1600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ گوشت کے برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش کے باعث تیار مال خراب ہونے کا خدشہ ہے جس سے تاجروں کے ساتھ ساتھ ملکی زرمبادلہ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کیلئے کورونا دور کا فارمولا واپس لانے کی تجویز

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کیلئے کورونا دور کا فارمولا واپس لانے کی تجویز

    ‎اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے کورونا دور میں استعمال ہونے والا طریقہ کار دوبارہ نافذ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور قیمتوں میں ممکنہ عدم استحکام سے بچنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین اب ماہانہ یا پندرہ روزہ بنیادوں کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ذخیرہ اندوزی کو روکنا اور مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہونے سے بچانا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ قیمتوں میں ممکنہ بڑے اضافے کی خبروں کے بعد ڈیلرز تیل ذخیرہ کر سکتے ہیں جس سے مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎مشاورت کے دوران کورونا وبا کے دوران اپنائے گئے فارمولے کو دوبارہ نافذ کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر فوری طور پر مقامی قیمتوں میں منتقل کیا جا سکے۔
    ‎ذرائع کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 20 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 45 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔

  • ایران کا توانائی تنصیبات پر حملوں کا دائرہ وسیع ،اہم تیل پائپ لائن نشانہ

    ایران کا توانائی تنصیبات پر حملوں کا دائرہ وسیع ،اہم تیل پائپ لائن نشانہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے مبینہ طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی تیز کر دی ہے، جس کے تحت قفقاز کے علاقے میں واقع اہم تیل پائپ لائن Baku‑Tbilisi‑Ceyhan pipeline کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یہ پائپ لائن آذربائیجان کے خام تیل کو Georgia کے راستے ترکی کی بحیرۂ روم کی بندرگاہ تک پہنچاتی ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے جانے والا تیل اسرائیل کی تیل کی ضروریات کا تقریباً 30 فیصد پورا کرتا ہے، جس کے باعث اس حملے کو خطے میں جاری جنگی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اسٹریٹجک اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے صرف آبنائے ہرمز تک محدود رہنے کے بجائے توانائی کی سپلائی لائنز کو مرحلہ وار نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت خلیج فارس سے لے کر قفقاز اور پھر بحیرۂ روم تک ان راستوں کو متاثر کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے ایران کے مخالف اتحاد کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ محض جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم معاشی دباؤ کی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد ان ممالک کے لیے جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھانا ہے جو ایران پر حملوں میں شامل رہے ہیں۔

    توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کار اور کمپنی FGE کے مشرقِ وسطیٰ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کے پیداواری میدانوں اور پائپ لائنوں پر حملے جاری رہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ان کے مطابق ابھی تک صورتحال اپنی انتہا تک نہیں پہنچی اور آئندہ دنوں میں مزید سنگین پیش رفت کا امکان موجود ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران مستقبل میں خطے کی دیگر اہم توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے،

  • سونے اور چاندی  کی قیمتوں میں کمی

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں تیزی سے کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 2800 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں ایک تولہ سونا 5لاکھ 37ہزار 162روپے کا ہوگیا ہے 10 گرام سونے کی قدر2 ہزار 401روپے گھٹ کر 4لاکھ 60ہزار 529روپے ہوگئی ہے،بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعرات کے روز فی اونس سونے کی قیمت 28ڈالر کی کمی سے 5ہزار 144ڈالر کی سطح پر آگئی ۔

    مقامی مارکیٹ میں آج فی تولہ چاندی کی قیمت 194 روپے کی کمی سے 8ہزار 810 روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 166روپے کی کمی سے 7ہزار 553روپے کی سطح پر آگئی۔

    بی ایل اے کا اہم کمانڈرافغانستان میں ہلاک

    بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم فراہمی اور جوہری ٹیکنالوجی تعاون پر پاکستان کا تشویش کا اظہار

    ایران کےخلاف جنگ :اسرائیلی معیشت کو ایک ہفتے میں 9 ارب شیکل سے زائد نقصان