Baaghi TV

Blog

  • بی ایل اے کا اہم کمانڈرافغانستان میں ہلاک

    بی ایل اے کا اہم کمانڈرافغانستان میں ہلاک

    کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے) سے وابستہ ایک اہم کمانڈر افغانستان کے صوبہ قندھار میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے کالعدم بی ایل اے کمانڈر کی شناخت نعیم کے نام سے ہوئی ہے جو ’ڈاکٹر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور اسے تنظیم کے اہم ترین کمانڈروں میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رکن ماہ رنگ بلوچ کا قریبی رشتہ بھی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مذکورہ کارکن یا ان کے نمائندوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    نعیم عرف ڈاکٹر طویل عرصے سے دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور تنظیم کے عسکری نیٹ ورک میں ایک اہم کردار ادا کر رہا تھاوہ تنظیم کے ایک فعال دھڑے کالعدم ’مجید بریگیڈ‘ سے بھی وابستہ رہا ہے جو حالیہ برسوں میں کئی دہشتگردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔

    ہواوے مصنوعات استعمال کرنے والوں کے لیےسیکیورٹی الرٹ جاری

    حکام کے مطابق یہ بریگیڈ تنظیم کے سب سے زیادہ فعال اور خطرناک آپریشنل ونگز میں شمار کی جاتی ہے اس یونٹ کو اکثر خودکش حملوں، دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز سمیت اہم سرکاری اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نعیم عرف ڈاکٹر کو تنظیم کے اندر ایک اہم کمانڈر کی حیثیت حاصل تھی اور وہ مختلف حملوں کی منصوبہ بندی اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے وہ اس وقت ہلاک ہوا جب افغانستان کے صوبہ قندھار میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک کارروائی کی گئی، تاہم حکام کی جانب سے اس آپریشن کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں-

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ نیٹ ورکس کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ایسے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے سیکیورٹی ادارے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔

  • ہواوے مصنوعات استعمال کرنے والوں کے لیےسیکیورٹی الرٹ جاری

    ہواوے مصنوعات استعمال کرنے والوں کے لیےسیکیورٹی الرٹ جاری

    سعودی قومی سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے تحت قائم قومی رہنمائی مرکز برائے سائبر سیکیورٹی نے ہواوے مصنوعات استعمال کرنے والوں کے لیے انتہائی سنگین نوعیت کا سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا۔

    مرکز برائے سائبر سیکیورٹی نے صارفین کو فوری طور پر اپنے آلات کو تازہ ترین سیکیورٹی اپڈیٹ پر منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ پرانے ورژنز میں موجود ممکنہ سائبر خطرات اور کمزوریوں سے بچا جا سکے، ہواوے نے ان خامیوں کے تدارک سے متعلق تفصیلی وضاحت اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کر دی ہے جبکہ صار فین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری سیکیورٹی اپڈیٹس نصب کریں تاکہ نظام، ڈیٹا اور ذاتی معلومات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم فراہمی اور جوہری ٹیکنالوجی تعاون پر پاکستان کا تشویش کا اظہار

    ایران کےخلاف جنگ :اسرائیلی معیشت کو ایک ہفتے میں 9 ارب شیکل سے زائد نقصان

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

  • بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم فراہمی اور جوہری ٹیکنالوجی تعاون پر  پاکستان کا تشویش کا اظہار

    بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم فراہمی اور جوہری ٹیکنالوجی تعاون پر پاکستان کا تشویش کا اظہار

    وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم کی طویل المدتی فراہمی کے معاہدے اور جوہری ری ایکٹروں کی جدید ٹیکنالوجی میں ممکنہ تعاون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق یہ انتظام سول جوہری شعبے میں ایک ملک کے لیے متعصبانہ استثنیٰ کی مثال ہے بھارت نے 1974 میں جوہری تجربہ اس پلوٹونیم سے کیا تھا جو کینیڈا نے پرامن مقاصد کے لیے فراہم کیا تھا، اور یہ تجربہ جوہری فراہم کنندگان کے گروپ کے قیام کا سبب بنا تھا اب وہی ریاست تر جیحی رسائی حاصل کر رہی ہے۔

    وزارت خارجہ نے بتایا کہ بھارت نے اپنی تمام سول جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی نظام کے تحت نہیں رکھا اور نہ ہی ایسا کرنے کا پابند عہد کیا ہے، متعدد تنصیبات اب بھی بین الاقوامی معائنہ کے دائرۂ کار سے باہر ہیں ساتھ ہی یہ بھی واضح نہیں کہ اس معاہدے کے ساتھ جوہری عدم پھیلاؤ کی کوئی ضمانت منسلک ہے یا نہیں۔

    اکاؤنٹ آفس قصور میں لوگوں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ،نوٹس کی اپیل

    ترجمان نے کہا کہ اس انتظام کے تزویراتی مضمرات بھی تشویش ناک ہیں، کیونکہ بیرونی ذرائع سے یورینیم کی دستیابی بھارت کے داخلی ذخائر کو عسکری مقاصد کے لیے دستیاب بنا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قابل انشطار مواد میں اضافہ، جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں تیزی سے توسیع، اور جنوبی ایشیا میں پہلے سے موجود تزویراتی عدم توازن میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    پاکستان نے دوہرایا کہ سول جوہری تعاون کو غیر امتیازی اور معیاری طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے، جو ان تمام ریاستوں پر یکساں طور پر نافذ ہو جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی فریق نہیں ہیں،متعصبانہ استثنائی انتظامات عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو مجروح کرتے ہیں اور خطے میں مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔

    آذربائیجان کے نخچیوان ائیرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، 2 افراد زخمی

  • اکاؤنٹ آفس قصور میں لوگوں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ،نوٹس کی اپیل

    اکاؤنٹ آفس قصور میں لوگوں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ،نوٹس کی اپیل

    ایڈیٹر اکاؤنٹ آفس قصور غلام مصطفیٰ کے رویے اور غیر قانونی طرزِ عمل سے عوام پریشان
    ایڈیٹر صاحب سائلین کے جائز کام بھی بلاوجہ تاخیر کا شکار کرتے ہیں اور دفتر آنے والے افراد کو بار بار چکر لگواتے ہیں نیز کام نمٹانے سے گریز کرتے ہیں
    موصوف کی جانب سے سرکاری اوقات کار کے دوران غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ایڈیٹر صاحب نے مختلف کاموں کے مختلف ریٹ مقرر کر رکھے ہیں
    انہوں نے ایڈیٹر کی سیٹ کو کمائی کا ناجائز ذریع بنایا ہوا ہے
    اس کے علاوہ
    فائلوں کو بلاوجہ روک کر رکھنا اور دانستہ طور پر تاخیر کرنا،سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق رہنمائی فراہم نہ کرنا،فون کالز اور تحریری درخواستوں کا جواب نہ دینا
    دفتر کے اوقات میں غیر حاضری, یا غیر ضروری تاخیر سے آنا ان کا معمول ہے
    شہریوں نے اربابِ اختیار سے نوٹس کی اپیل کی ہے

  • ایران کےخلاف جنگ :اسرائیلی معیشت کو ایک ہفتے میں  9 ارب شیکل سے زائد نقصان

    ایران کےخلاف جنگ :اسرائیلی معیشت کو ایک ہفتے میں 9 ارب شیکل سے زائد نقصان

    ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملے اور جنگ کے اثرات اسرائیلی معیشت پر بھی پڑنےلگے ہیں۔

    اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق ایران کےخلاف جنگ میں اسرائیل کی معیشت کو پہنچنے والا نقصان ایک ہفتے میں 9 ارب شیکل (تقریباً 3 ارب ڈالر) سے زیادہ ہو سکتا ہے کم پابندیوں والی صورتحال میں بھی اسرائیلی معیشت کو 4.3ارب شیکل نقصان فی ہفتہ ہوسکتاہے۔

    دوسری جانب جنگ کے باعث اسرائیل میں اسکول بند ہیں، اجتماعات پر پابندی ہے جب کہ افرادی قوت کی سرگرمیاں ممنوع ہیں اور زیادہ تر ملازمین گھر سے کام کر رہے ہیں۔

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    دوسری جانب ایران کے حملوں کے پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے، جس میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز، F-15E اسٹرائیک ایگل طیارے اور ریڈار سسٹمز شامل ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اہم نقصانات میں شامل ہیں:

    AN/FPS-132 ایرلی وارننگ ریڈار، القاعدہ ایئر بیس، قطر: $1.1 بلین
    تین F-15E سٹرائیک ایگل کو کویتی فضائی دفاع کی دوستانہ فائر میں نقصان: $282 ملین
    2 سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز AN/GSC-52Bs، بحرین: $20 ملین
    AN/TPY-2 THAAD ریڈار، متحدہ عرب امارات: $500 ملین

    آذربائیجان کے نخچیوان ائیرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، 2 افراد زخمی

    ایران نے کم از کم 7 امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں شامل ہیں: بحرین میں 5ویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر، کویت کے کیمپ عریفجان اور کیمپ بیورنگ، عراق میں اربیل بیس، دبئی میں جبل علی پورٹ، اور قطر کا القاعدہ ایئر بیس۔

    سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارت خانے بھی حملوں کی زد میں آئے سعودی عرب میں ریاض میں امریکی سفارتخانہ پر 2 ڈرون حملے، کویت سٹی میں امریکی سفارتخانہ پر ڈرون اور میزائل حملے، دبئی میں امریکی قونصل خانہ پر ڈرون سے آگ لگی، تاہم فوری قابو پایا گیا۔

    سندھ میں رواں سال کا پہلا پولیو کیس رپورٹ

  • ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے، افغان سرزمین پربی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد تنظیموں کےخلاف ٹھوس کارروائی کی جائے-

    سینیٹ اجلاس میں وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان سے متعلق تحریری جواب جمع کروایا گیا وزارت خارجہ کے مطابق بطور پڑوسی پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان نے افغان طالبان رجیم کے ساتھ مستحکم مصروفیت کی پالیسی اپنائی، افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے، افغان سرزمین پربی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد تنظیموں کےخلاف ٹھوس کارروائی کی جائے، افسوسناک ہےکہ افغان رجیم کی جانب سے ہماری کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

    جواب میں لکھا گیا کہ افغان رجیم کے اگست2021میں برسراقتدار آنے کے بعدافغان سرزمین سے کارروائیاں بڑھیں، گزشتہ برس افغانستان سے 5300 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 1200 جانیں ضائع ہوئیں، افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ ہیں، افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں علاقائی اورعالمی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں-

    آذربائیجان کے نخچیوان ائیرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، 2 افراد زخمی

    وزارت خارجہ کے تحریری جواب کے مطابق اکتوبر2025میں افغان رجیم نے ٹی ٹی پی ٹھکانوں سےپاکستان کے خلاف جارحیت کی، ہم اپنی کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں امن اور سفارتکاری کا حامی ہونے کی وجہ سےپاکستان مزیدکشیدگی نہیں چاہتا، ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں، مذاکرات درست راستہ ہے،تنہائی نہیں، پاکستان کی سلامتی اور مختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    سعودیہ اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنےکی بات بھول جائیں، سابق سربراہ سعودی انٹیلی جنس

  • آذربائیجان کے نخچیوان ائیرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، 2 افراد زخمی

    آذربائیجان کے نخچیوان ائیرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، 2 افراد زخمی

    آذربائیجان کے نخچیوان ائیرپورٹ پر ایرانی ڈورن حملے میں 2 افراد زخمی ہوگئے۔

    آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے مطابق 2 ایرانی ڈرون سرحد عبور کر کے ملک میں داخل ہوئے، ایک ڈرون نخچیوان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر گرا جبکہ دوسرا ڈرون قریبی گاؤں میں ایک اسکول کی عمارت کے قریب گرا۔

    واقعے کی ویڈیو میں ایئرپورٹ کے قریب سیاہ دھواں اٹھتا اور ٹرمینل عمارت کے نقصان پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے،آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز ایرانی سفارت خانے کے ساتھ باضابطہ احتجاج درج کراتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے منافی ہے، ایران جلد از جلد اس واقعے کی وضاحت کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

    سعودیہ اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنےکی بات بھول جائیں، سابق سربراہ سعودی انٹیلی جنس

    سندھ میں رواں سال کا پہلا پولیو کیس رپورٹ

    سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

  • سعودیہ اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنےکی بات بھول جائیں، سابق سربراہ سعودی انٹیلی جنس

    سعودیہ اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنےکی بات بھول جائیں، سابق سربراہ سعودی انٹیلی جنس

    سابق سربراہ سعودی انٹیلی جنس شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنےکی بات بھول جائیں۔

    ایک بیان میں انہوں نے مشرقی وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ نیتن یاہو کی جنگ ہے، نیتن یاہو نے ٹرمپ کو قائل کرلیا تھا کہ وہ ان کے رائے کی حمایت کریں،سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنےکی بات بھول جائیں۔

    برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سابق سربراہ جان سوارز نے کہا ہےکہ ایران کے خلاف غیرضروری جنگ لڑی جارہی ہے،امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران سے جنگ کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ ایران کی جانب سے پیشگی حملے کا کوئی خطرہ ہی نہیں تھا۔

    سندھ میں رواں سال کا پہلا پولیو کیس رپورٹ

    ایم آئی سکس کے سابق سربراہ نے کہا کہ اب ایران میں اگر بہت بہتر صورتحال بھی ہوئی تو وہ وینزویلا جیسی ہوگی مگر اس سے کہیں زیادہ خطرناک صورتحال پیدا ہونےکا بھی خدشہ ہے،ادھر ڈیمو کریٹ سینیٹر کرس مرفی نے بھی حکومت کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ٹرمپ کچھ کہہ رہے ہیں اور ان کے وزیر خارجہ کچھ ، سمجھ ہی نہیں آرہا کہ آخر امریکا نے ایران جنگ شروع کیوں کی۔

    سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

  • سندھ میں رواں سال کا پہلا پولیو کیس رپورٹ

    رواں سال کا پہلا پولیو کیس ضلع سجاول، سندھ سے رپورٹ ہوا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بیلو یونین کونسل، سجاول ضلع سندھ سے تعلق رکھنے والے چار سالہ بچے میں 2026 کے پہلے وائلڈ پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہے،این ای او سی کے مطابق یہ کیس پولیو سرویلنس نیٹ ورک کے ذریعے رپورٹ کیا گیا،اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے کے لیے ریجنل ریفرنس لیبارٹری کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔

    سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    پاسداران انقلاب کا شمالی خلیج میں امریکی ٹینکر پر حملہ

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

  • محمد مصدق کی برطرفی تیل، طاقت اور 1953 کی بغاوت،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    محمد مصدق کی برطرفی تیل، طاقت اور 1953 کی بغاوت،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    (پاکستانیوں کے لیے ایک چشم کشا حقیقت)

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدیدیت پر تخصص رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    اگست 1953 میں محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنا سرد جنگ کے دور کی سب سے اہم خفیہ مداخلتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے ایران کی سیاسی سمت کو بدل دیا، محمد رضا شاہ پہلوی کے تحت بادشاہت کو مضبوط کیا اور مغرب کے ساتھ ایران کے تعلقات میں عدم اعتماد کی ایسی میراث چھوڑ دی جو آج تک محسوس کی جاتی ہے۔

    مصدق کا عروج: قوم پرستی اور تیل کی خودمختاری
    1940 کی دہائی کے آخر اور 1950 کی دہائی کے آغاز میں ایران کی تیل کی صنعت پر عملاً برطانیہ کے زیرِ کنٹرول اینگلو ایرانی آئل کمپنی (AIOC) کا قبضہ تھا، جسے بعد میں بی پی (BP) کا نام دیا گیا۔1951 سے پہلے ایران کے تیل کی پیداوار اور منافع کا تقریباً 85 فیصد حصہ برطانوی مفادات کے قبضے میں تھا، جبکہ ایران کو اس آمدنی کا نسبتاً بہت کم حصہ ملتا تھا۔

    یہ عدم توازن ایرانی قوم پرستوں کے لیے ایک بڑا نعرہ بن گیا۔
    محمد مصدق، جو ایک بااثر اور کرشماتی سیاسی رہنما تھے اور جنہیں پارلیمنٹ کی مضبوط حمایت حاصل تھی، اقتصادی خودمختاری اور قومی وقار کی تحریک کی علامت بن کر سامنے آئے۔1951 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد انہوں نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس اقدام نے ایرانی عوام میں زبردست جوش پیدا کیا لیکن برطانیہ کو شدید غصہ دلایا۔

    برطانوی حکومت نے اس کے جواب میں ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائیں، ایرانی تیل کا عالمی بائیکاٹ کروایا اور بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی جنگ شروع کر دی۔ان دباؤ کے باعث ایران کی معیشت متاثر ہونے لگی، مگر مصدق اپنے ملک میں غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر مقبول رہے۔

    سرد جنگ کے حساب کتاب اور مغربی خدشات
    ابتدائی طور پر برطانیہ نے مصدق کو سفارتی اور معاشی دباؤ کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن جب یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو لندن نے واشنگٹن سے مدد طلب کی۔اس وقت سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اور سوویت یونین کے پھیلاؤ کا خوف مغربی دنیا کو مسلسل پریشان رکھتا تھا۔ اس تناظر میں ایران ایک انتہائی اہم اسٹریٹیجک ملک سمجھا جاتا تھا۔اگرچہ مصدق کمیونسٹ نہیں تھے، مگر مغربی پالیسی سازوں کو خدشہ تھا کہ سیاسی عدم استحکام سے ایران کی کمیونسٹ تودہ پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ خدشات، تیل کے مفادات اور جغرافیائی سیاسی حساب کتاب نے مل کر ایک خفیہ مداخلت کی بنیاد رکھ دی۔

    آپریشن ایجیکسOperationAjax
    (سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی بغاوت)
    اگست 1953 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برطانیہ کی ایم آئی سکس نے ایک مشترکہ خفیہ آپریشن شروع کیا۔ اسے تاریخ میں 1953 کا ایرانی فوجی انقلاب یا آپریشن ایجیکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس منصوبے کا مقصد مصدق کو اقتدار سے ہٹانا اور شاہ ایران کی طاقت کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
    اس منصوبے کے اہم عناصر یہ تھے:
    ہنگامہ آرائی پیدا کرنے کے لیے سڑکوں پر احتجاج اور مظاہرے منظم کرنا
    سیاستدانوں، صحافیوں اور فوجی افسران کو رشوت دینا
    پروپیگنڈا کے ذریعے مصدق کو غیر مستحکم اور کمیونسٹ نواز ظاہر کرنا
    ایرانی فوج کے بعض حصوں کے ساتھ مل کر اہم سرکاری مقامات پر قبضہ کرنا
    ابتدائی کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ مصدق کو سازش کی خبر ہو گئی اور شاہ کو عارضی طور پر ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

    تاہم 19 اگست 1953 کو مظاہروں اور فوجی کارروائیوں کی ایک دوسری منظم لہر کامیاب ہو گئی۔ شاہ کے وفادار ٹینکوں اور مسلح دستوں نے مصدق کی رہائش گاہ کو گھیر لیا۔ شدید جھڑپوں کے بعد ان کی حکومت گر گئی۔
    شاہ ایران فاتحانہ انداز میں تہران واپس آئے اور ان کی حکمرانی اب بڑی حد تک امریکی حمایت سے جڑی ہوئی تھی۔

    مصدق کا انجام
    محمد مصدق کو گرفتار کر لیا گیا، ان پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں تین سال قیدِ تنہائی کی سزا سنائی گئی۔
    رہائی کے بعد انہیں ان کے آبائی گاؤں میں سخت نظر بندی میں رکھا گیا، جہاں وہ سیاسی طور پر مکمل طور پر الگ تھلگ رہے اور 1967 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    وہ دوبارہ کبھی عوامی عہدے پر واپس نہیں آئے، لیکن ایرانی عوام کی یادداشت میں وہ ایک قومی ہیرو بن گئے—خودمختاری اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی علامت۔
    اسٹریٹیجک نتائج
    اس بغاوت کے گہرے اثرات مرتب ہوئے:

    بادشاہت کا استحکام:
    شاہ کی حکومت مزید آمرانہ ہوتی گئی اور اس نے مغربی حمایت اور خفیہ سکیورٹی اداروں پر انحصار بڑھا دیا۔

    مغرب مخالف جذبات:
    غیر ملکی مداخلت کے تاثر نے ایرانی معاشرے میں شدید مغرب مخالف جذبات کو جنم دیا، جو بعد میں 1979 کے ایرانی انقلاب کی ایک اہم وجہ بنے۔

    سرد جنگ کی مثال
    آپریشن ایجیکس بعد میں دنیا کے دیگر حصوں میں خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے لیے ایک ماڈل بن گیا۔
    کئی مورخین کے مطابق 1953 کی بغاوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح اقتصادی مفادات، جغرافیائی سیاست اور خفیہ کارروائیاں مل کر کسی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔

    نتیجہ
    محمد مصدق کی کہانی صرف تیل کی نہیں بلکہ خودمختاری، طاقت کی سیاست اور غیر ملکی مداخلت کے دیرپا اثرات کی کہانی ہے۔1953 میں ان کی برطرفی نے ایران کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل دیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم باب بن گئی۔

    سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس بغاوت کا سایہ آج بھی علاقائی اتحادوں، اسٹریٹیجک عدم اعتماد اور خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے اخلاقی و سیاسی مباحث میں نمایاں طور پر موجود ہے۔