بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کیلئے کوئی فیملی ممبر یا پارٹی رہنما اڈیالہ جیل نہ پہنچ سکا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کا مقررہ وقت ختم ہوگیا تاہم ملاقات کی فہرست میں شامل رہنما بھی وقت پر اڈیالہ جیل نہیں پہنچ سکے۔
ملاقات کیلئے بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، چنگیز خان کاکڑ، انتظار پنجوتھہ، علی رحمان اور علی اعجاز بٹر کے نام بھجوائے گئے تھے۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کیلئے میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔
جیل ذرائع کے مطابق میڈیکل ٹیم میں پروفیسر ندیم قریشی اور ڈاکٹر عارف خان شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کا جائزہ لیا جبکہ معائنے کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق سیاسی حلقوں میں مسلسل بحث جاری ہے۔
Blog
-

عمران خان سے ملاقات کیلئے کوئی فیملی ممبر اور پارٹی رہنما اڈیالہ جیل نہیں پہنچا۔
-

وزیراعظم شہباز شریف کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فیکلٹی اور زیر تربیت افسران سے خطاب کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاریوں اور ملکی سلامتی کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں اور مادر وطن کے دفاع کیلئے افواج پاکستان کے عزم کو سراہا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے “معرکۂ حق” کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی تاریخی کامیابی کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے باوجود پاکستان نے ذمہ دارانہ رویہ اور تحمل کا مظاہرہ کیا جسے عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ “آپریشن غضبُ للحق” پوری قوت کے ساتھ جاری ہے تاکہ افغان طالبان سے منسلک دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں کی جا سکیں اور معصوم شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کشمیری اور فلسطینی عوام کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
وزیراعظم نے دوست ممالک سے آئے ہوئے افسران کی موجودگی کو سراہتے ہوئے عسکری سفارتکاری اور دفاعی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کیلئے “نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر” کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزرائے دفاع، داخلہ، اطلاعات اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔
قبل ازیں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج پہنچنے پر وزیراعظم کا استقبال فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیا۔ -

ایران امریکا جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں، خطے میں نئی کشیدگی کا خدشہ
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے جبکہ خطے میں نئی کشیدگی کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی دھمکی دی، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات جاری ہونے کی وجہ سے ممکنہ حملے فی الحال روک دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی واضح اشارہ دیا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے مرحلے میں ایران تقریباً تین ماہ طویل لڑائی کیلئے تیار تھا، اسی وجہ سے اس نے اسرائیل اور دیگر اہداف پر اپنے میزائل حملے محدود رکھے تاکہ طویل عرصے تک کارروائیاں جاری رکھی جا سکیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی قیادت سمجھتی ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو یہ مختصر مگر انتہائی شدید نوعیت کی ہو گی، جس میں ایران کی توانائی تنصیبات اور حساس مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ممکنہ نئی جنگ میں ایران روزانہ درجنوں یا سیکڑوں میزائل داغ سکتا ہے تاکہ جنگ کا توازن تبدیل کیا جا سکے۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کی تیل تنصیبات، ریفائنریز اور بندرگاہیں بھی حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں، جس سے عالمی تیل مارکیٹ اور معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق ایران آبنائے باب المندب پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش بھی کر سکتا ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم آبی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور یمن میں حوثی گروپ کے زیر اثر علاقوں کے قریب واقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھی تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ سمیت عالمی تجارت اور توانائی سپلائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ -

اوکاڑہ میں عیدالاضحیٰ انتظامات کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس، مویشی منڈیوں میں بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات
اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت عیدالاضحیٰ کے انتظامات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج، ممبران صوبائی اسمبلی میاں محمد منیر اور چوہدری جاوید علاؤالدین سمیت ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنی اور میونسپل کمیٹی کے حکام نے مویشی منڈیوں کے قیام اور انتظامات پر بریفنگ دی، جبکہ منیجنگ ڈائریکٹر ستھرا پنجاب کمپنی چوہدری عبدالجبار گجر نے صفائی ستھرائی اور ویسٹ مینجمنٹ پلان سے آگاہ کیا۔عوامی نمائندوں نے مویشی منڈیوں میں مقامی بیوپاریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے ہدایت جاری کی کہ عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے منڈیوں میں بہترین انتظامات یقینی بنائے جائیں اور افسران باقاعدگی سے مانیٹرنگ کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید کہا کہ کیٹل مینجمنٹ کمپنی بیوپاریوں اور خریداروں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرے، جبکہ متعلقہ افسران کیمپس میں سہولیات اور ڈیوٹی اہلکاروں کی نگرانی جاری رکھیں۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ عیدالاضحیٰ کے مائیکرو پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، منڈیوں میں پینے کے پانی کی باقاعدہ ٹیسٹنگ کروائی جائے اور سیکیورٹی پلان پر سختی سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عید کے موقع پر صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
-

امریکا ایران مذاکرات کیلئے مزید وقت درکار ہے، قطر
قطر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے مزید وقت درکار ہے جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا گیا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ قطر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے پرامن حل کیلئے مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور حل تلاش کرنے کیلئے سنجیدہ سفارتی کوششیں کی ہیں اور قطر ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں فوری نتائج کی توقع کے بجائے مذاکراتی عمل کو وقت دینا ضروری ہے تاکہ پائیدار پیش رفت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کیا جا سکے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قطر اور پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ عالمی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ -

اب صرف کہانی سنانا کافی نہیں، فلم کو ناظرین کو جھنجھوڑنا بھی پڑتا ہے،سیف علی خان
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے رومینٹک کامیڈی فلموں سے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے ناظرین ایسے کرداروں سے زیادہ لگاؤ محسوس نہیں کرتے جو ہر سہولت رکھنے کے باوجود الجھن کا شکار دکھائے جائیں یہ صنف اب ناظرین سے وہ تعلق قائم نہیں کر پا رہی جو ماضی میں کیا کرتی تھی اور موجودہ دور میں یہ ایک ناکام تجربہ محسوس ہوتی ہے۔
ایک حالیہ گفتگو میں اداکار سیف علی خان نے کہا کہ رومینٹک کامیڈی فلمیں میرے کیریئر کا اہم حصہ رہی ہیں، مگر وقت کے ساتھ ناظرین کی پسند بدل چکی ہےمجھے رومینٹک کامیڈی فلمیں کرنا بہت پسند تھا، لیکن اب لگتا ہے کہ یہ بھارتی سنیما میں ایک عجیب سا مرحلہ تھا، جو شاید میرے ساتھ ہی شروع ہوا اور ختم بھی ہو گیا، آج کے ناظرین ایسے کرداروں سے زیادہ لگاؤ محسوس نہیں کرتے جو ہر سہولت رکھنے کے باوجود الجھن کا شکار دکھائے جائیں۔
اداکار کے مطابق رومینٹک کامیڈی میں اکثر ایک ایسا مراعات یافتہ شخص دکھایا جاتا ہے جس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، لیکن پھر بھی وہ کنفیوژ ہوتا ہے اور اب لوگ اس سے خود کو قریب تر محسوس نہیں کر پاتےاب فلموں کی کہانی سنانے کا انداز پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے، خاص طور پر ایکشن اور ڈرامہ فلموں میں، اب صرف کہانی سنانا کافی نہیں، فلم کو ناظرین کو جھنجھوڑنا بھی پڑتا ہے۔
سیف علی خان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں فلموں میں تشدد کو بھی حقیقت پسندانہ انداز میں بطور اظہار پیش کیا جا رہا ہے، جو معاشرتی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہےتاہم رومینٹک کامیڈی فلمیں اب بھی میرے دل کے قریب ہیں اور میں مستقبل میں اس صنف میں واپسی کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کرتا۔
-

مجھے خود کو مکمل کرنے کیلئے کسی اور کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی،سارہ علی خان
بالی ووڈ اداکارہ سارہ علی خان نے شادی اور رشتوں کے حوالے سے اپنی سوچ کھل کر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں صرف شادی کے لیے شادی کرنے پر یقین نہیں رکھتی، صحیح انسان کا انتظار کرنا بہتر سمجھتی ہوں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں سارہ علی خان نے کہا کہ انسان اپنے تجربات اور اردگرد دیکھے گئے حالات سے سیکھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ شادیاں ناکام بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ صحیح شخص کا انتظار کیا جائے ان تجربات نے مجھے سکھایا کہ صرف ایک پارٹنر ہونے کے لیے رشتے میں آنا ضروری نہیں، اگر شادی نہ بھی ہو تو میں اس کے ساتھ ٹھیک ہوں، جب صحیح وقت آئے گا تب ہی شادی ہونی چاہیے،مجھے خود کو مکمل کرنے کے لیے کسی اور کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، میں کسی ایسے شخص کی تلاش میں نہیں ہوں جو مجھے مکمل کرے خود سے مطمئن اور خوش رہنا سب سے اہم چیز ہے۔
واضح رہے کہ سارہ کے والد سیف علی خان اور والدہ امریتا سنگھ نے 1991ء میں شادی کی تھی، اس وقت سیف علی خان کی عمر 21 برس جبکہ امریتا سنگھ 33 سال کی تھیں، دونوں کے درمیان 12 سال کا فرق تھا اور ان کے 2 بچے سارہ اور ابراہیم علی خان ہیں دونوں کی شادی 2004ء میں طلاق پر ختم ہو گئی، بعد ازاں سیف علی خان نے کرینہ کپور سے دوسری شادی کر لی تھی جبکہ امریتا سنگھ نے دوبارہ شادی نہیں کی۔
-

خاتون کا آشناکے ملکر شوہر کا قتل، لاش نہر میں پھینک دی
بھارت:ایک خاتون نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کر دیا۔
یہ سنسنی خیز واقعہ بھارتی ریاست گجرات میں پیش آیا،بھارتی میڈیا کے مطابق احمد آباد کرائم برانچ نے کئی ماہ کی تفتیش کے بعد قتل کی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا،مقتول شانتی گیری گوسوامی کی لاش نہر سے ملی تھی جسے ابتداء میں حادثاتی موت قرار دیا گیا تاہم بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اسے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت قتل کیا گیا تھا۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ مقتول کی بیوی جاگرتی گوسوامی پہلے اپنے شوہر سکھ دیو گیری گوسوامی کے ساتھ رہتی تھی اور ان کے 2 بچے بھی تھے، لیکن بعد میں وہ اپنے دیور شانتی گیری کے ساتھ فرار ہو کر اس سے شادی کر کے الگ رہنے لگی۔
شانتی گیری ٹرک ڈرائیور تھا اور اکثر کئی دن گھر سے باہر رہتا تھا، اسی دوران جاگرتی کے کانتی لال عرف بھارت بھائی سباریا نامی شخص کے ساتھ تعلقات قائم ہو گئے دونوں نے پہلے 25000 روپے دے کر ایک شخص کو قتل کی ذمے داری سونپی مگر وہ خوفزدہ ہو کر قتل کیے بغیر ہی شانتی گیری کی تصویر بھیج کر رقم وصول کر کے فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق منصوبہ ناکام ہونے کے بعد جاگرتی اور کانتی لال نے مل کر شانتی گیری کو گھر میں گلا دبا کر قتل کر دیا،بعد ازاں لاش کو چھپانے کے لیے دیپک عرف منّا نامی ایک اور شخص کی مدد لی گئی جو مبینہ طور پر جاگرتی کیساتھ تعلق میں تھا، تینوں ملزمان لاش کو گاڑی میں ڈال کر نہر میں پھینک آئے تا کہ واقعہ حادثہ معلوم ہو۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقات کے دوران سچ سامنے آنے پر کرائم برانچ نے 18 مئی کو جاگرتی گوسوامی اور کانتی لال سباریا کو قتل، سازش اور شواہد مٹا نے کے الزام میں گرفتار کر لیا جبکہ دیگر ملزمان سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔
-

انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
منشیات کے جرم میں گرفتار انمول عرف پنکی کو مختلف مقدمات میں عدالت نے 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو سخت سیکیورٹی حصار میں سماعت کے لیے سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا، جہاں اسے درخشاں اور گزری تھانوں میں درج 8 مقدمات کے سلسلے میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا، پولیس نے عدالت سے انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاکہ مقدمات سے متعلق مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ ملزمہ کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں، پنکی شہر کے پوش علاقوں میں بھی آن لائن منشیات فروخت کرتی تھی، منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتھا جس جس کی ویڈیو سامنے آگئی۔
منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتا رہا،منشیات منگوانے والے ایک کسٹمر نے کچھ ماہ قبل ایک خفیہ ویڈیو بھی بنالی تھی رائیڈرز اس بات سے لاعلم ہوتے تھے کہ پارسل میں منشیات موجود ہے،ویڈیو میں رائیڈر سے کسٹمر کو پارسل وصول کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
رائیڈر نے پارسل دینے کے بعد صرف ڈلیوری چارجز وصول کیے پارسل کے اندر ایک پیکٹ سے آئس برآمد ہوتے ہوئے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
-

سینیٹ نے فیملی کورٹس ترمیمی بل منظور کرلیا
سینیٹ نے فیملی کورٹس ترمیمی بل منظور کرلیا، نان و نفقہ کے مقدمات میں خواتین اور بچوں کو بڑا ریلیف مل گیا، عدالتوں کو پہلی ہی پیشی پر نان نفقہ مقرر کرنے کا پابند کردیا گیا۔
نان و نفقہ کے مقدمات میں خواتین اور بچوں کیلئے بڑا ریلیف، سینیٹ سے فیملی کورٹس ترمیمی بل 2026ء منظور کرلیا گیا۔،خواتین کی بڑی مشکل آسان کر دی گئی،اسلام آباد کی حد تک فیملی کورٹس ایکٹ 1964ء میں بڑی ترمیم منظور کرلی گئی۔ترمیم کے مطابق ہر مہینے کی 14 تاریخ تک نان نفقہ ادا نہ کرنے پر شوہر کا حق دفاع ختم ہوجائے گا، خرچہ ادا نہ کرنے پر فیملی کورٹ خاتون کے حق میں ڈگری جاری کرے گی۔
علاوہ ازیں سینیٹر کامران مرتضی نے آئینِ پاکستان میں 28ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیا۔ ترمیمی بل میں آئین کے آرٹیکل 260 میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت آئین میں "سرکاری گزٹ” کی باضابطہ تعریف شامل کی جائے گی۔ بل کے متن کے مطابق "اوتھ” یعنی حلف کی تعریف کے بعد "سرکاری گزٹ” کی تعریف درج کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی اتھارٹی کے تحت شائع ہونے والے گزٹ کو "سرکاری گزٹ” قرار دیا جائے گا۔ بل میں یہ بھی تجویز ہے کہ کسی صوبے، ریاست یا وفاقی علاقے کی اتھارٹی سے شائع ہونے والا گزٹ بھی آفیشل گزٹ تصور ہوگا۔ بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ آئین، قوانین اور مختلف آرڈرز میں "آفیشل گزٹ” کی اصطلاح بار بار استعمال ہوئی ہے، تاہم آئین میں اس کی واضح تعریف موجود نہیں، جو ایک غیر معمولی قانونی ابہام ہے۔ ترمیمی بل کا مقصد اسی قانونی سقم کو دور کرنا ہے۔ کامران مرتضی نے یہ بل نجی حیثیت میں جمع کرایا۔