Baaghi TV

Blog

  • رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے اسلامی جمہوریہ میں رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیل کے جوہری مرکز دیمونا کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی مداخلت یا حکومت گرانے کی سازش کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا ایسی صورت میں دیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر ایران کے ممکنہ اہداف میں سرفہرست ہوگا۔

    ایرانی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ تہران کے پاس ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے، ایران اپنی خودمختاری اور نظام کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

    "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    دوسری جانب ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی شعبدہ بازیوں کے باعث امریکی عوام کو ایران کے خلاف ایک ظالمانہ جنگ میں دھکیل دیا ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق علی لاریجانی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مسخرہ پن پر مبنی حرکات سے متاثر ہوئے اور انہوں نے امریکی عوام کو ایران کے خلاف غیر منصفانہ جنگ میں گھسیٹ لیا، اب اُنہیں حساب لگانا ہوگا کہ صرف چند دنوں میں 500 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا امریکا اب بھی پہلے نمبر پر ہے یا اسرائیل؟-

    کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    علی لاریجانی، جو ماضی میں ایران کے سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر رہ چکے ہیں اور اس وقت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں نے ایک مبہم پیغام میں خبردار کیا کہ کہانی ابھی جاری ہے۔

    ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی میں شدت آتی جا رہی ہے یہ جنگ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے، ان کے ساتھ کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز بھی مارے گئے، جنہوں نے جون 2025 کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں اپنے پیش روؤں کی ہلاکت کے بعد عہدے سنبھالے تھے۔

    ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    حکومتی اندازوں کے مطابق اب تک چار روزہ جھڑپوں میں تقریباً ایک ہزار پچاس ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں جنوبی ایرانی شہر میناب کے 165 اسکول کے بچے بھی شامل ہیں۔ بچوں کی ہلاکت پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کو وسطی تہران میں واقع ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں ان کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے، جن میں ان کی اہلیہ، بیٹی، بہو، داماد اور پوتے پوتیاں شامل تھے ایرانی قیادت نے خامنہ ای کی شہادت کا سخت انتقام لینے کا عزم ظاہر کیا اور اسرائیل و مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں پیر کے روز جاری بیان میں علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران نے طویل جنگ کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے۔

    شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

  • "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    ایک بار پھر عسکری تاریخ اہم باب کی شاہد بنی جب "آپریشن غضب للحق” کے عنوان سے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتار کارروائیاں انجام دیں۔ یہ محض ایک عسکری پیش قدمی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے باب میں ایک دوٹوک اعلان تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق کارروائیوں کا مرکز تاریخی شہر قندھار تھا، جہاں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا گیا، جب کہ متعدد کالعدم تنظیموں سے وابستہ شدت پسند مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں ان عناصر کو نشانہ بنایا گیا جو القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تھے۔ بعض تنصیبات کو شدت پسندوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ انہیں ممکنہ فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی۔ یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست اپنی خودمختاری، سرحدی وقار اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ عسکری ماہرین کے نزدیک یہ کارروائیاں نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں بلکہ ایک سفارتی اشارہ بھی ہیں کہ خطے میں امن کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار موجود شدت پسند ڈھانچوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

    یہ تمام تر پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور امن کی کوششوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ توقع رکھتا ہے کہ ہمسایہ ممالک بھی اسی اصول کی پاسداری کریں۔”آپریشن غضب للحق” اسی اصول کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے، ایک ایسا اعلان جو بتاتا ہے کہ شاہین جب پرواز کرتے ہیں تو وہ محض فضا نہیں چیرتے، بلکہ قومی عزم کی لکیر بھی کھینچ دیتے ہیں۔

    برِصغیر کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ قومی غیرت اور خودمختاری کی علامت بن جاتے ہیں۔ "آپریشن غضب للحق” بھی ایسا ہی ایک باب ہے جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔اس موقع پر پوری قوم اپنی مسلح افواج، بالخصوص پاک فوج اور پاک فضائیہ کے شاہینوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ یہ وہ سپوت ہیں جو سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کی شبانہ روز محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی دیوار ناقابلِ تسخیر ہے۔پاک فوج کے جوان برف پوش چوٹیوں سے لے کر تپتے ریگزاروں تک وطن کی حرمت کے نگہبان ہیں۔ ان کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے، اور یہ اعتماد ہے کہ وہ ہر چیلنج کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہیں گے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ پیغام واضح ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”آپریشن غضب للحق” صرف ایک عسکری کارروائی نہیں، بلکہ عزم و استقلال کی علامت ہے ، ایک ایسا اعلان کہ جب وطن کی حرمت کا سوال ہو تو شاہینوں کی پروازیں تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں، اور قوم اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔

  • کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور قیصر شریف نے لاہور ڈویژن کی انتظامی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً 3 کروڑ آبادی پر مشتمل 4 اضلاع میں پرائس کنٹرول کی صورتحال تشویشناک حد تک غیر تسلی بخش ہے۔

    قصیر شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران کمشنر لاہور ڈویژن کی جانب سے صرف 3 فیلڈ وزٹس کیے گئے، جو کہ مہنگائی کے موجودہ طوفان کے مقابلے میں نہایت ناکافی ہیں۔سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے قیصر شریف نے اعداد و شمار جاری کیے، جن کے مطابق تقریباً 3 کروڑ کی آبادی اور 4 اضلاع پر مشتمل لاہور ڈویژن میں گزشتہ 15 دنوں کے دوران پرائس کنٹرول کے حوالے سے کمشنر کی جانب سے صرف 3 دورے کیے گئے ہیں۔ ضلع لاہور میں صرف دو اور ننکانہ میں ایک دورہ کیا جبکہ قصور اور شیخوپورہ کے اضلاع میں کوئی دورہ نہیں کیا گیا۔

    https://x.com/Qaisarsharif555/status/2029277798829842731

    قیصر شریف نے کہا کہ رمضان المبارک میں بھی آٹا، چینی، سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عوام شدید ذہنی دباؤ اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، مگر انتظامیہ کی فیلڈ میں موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس اور بیانات اپنی جگہ، مگر عملی اقدامات اور اچانک چھاپوں کی کمی نے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر لاہور ڈویژن سمیت پورے صوبے میں پرائس کنٹرول نظام کی ازسرنو نگرانی کریں اور فیلڈ افسران کی کارکردگی کا سختی سے جائزہ لیں۔قیصر شریف نے مزید کہا کہ اگر حکومتی مشینری عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہے تو محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، اگر ہم ایران پرحملہ نہ کرتے تو ایران ہم پرحملہ کردیتا۔

    صدر ٹرمپ نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایرانی کے حملے سے پہلے ہم نے ایران پر حملہ کردیا، ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ایران کے میزائلوں اور لانچروں کا صفایا کیا جا رہا ہے، ہم نے 47 سال سے جاری قتل عام کو روکا ہے، ایران اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو بھی نشانہ بنارہا ہے، ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جارہا ہے، ایران میں جو لیڈر بننا چاہتا ہے مارا جاتا ہے، سابق امریکی صدر اوباما کی ایران سے جوہری ڈیل بہت بری تھی، وینزویلا سے تیل کی آمد شروع ہو گئی ہے، جب پاگل لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے ہیں تو بری چیز ہوتی ہے، ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، کسی نے مجھ سے پوچھا کہ 10 میں سے کتنے نمبر دیں گے؟تو میں نے کہا 15 نمبر دوں گا، ہم جنگی محاذ پر بہت اچھا کر رہے ہیں صورتحال دھوکہ سے بھی بہتر ہے

  • شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    "آپریشن غضب للحق” کے تحت پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں کارروائیاں کرتے ہوئے قندھار میں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران افغانستان کے 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ متعدد کالعدم تنظیموں کے شدت پسند ہلاک ہوئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شاہینوں نے قندھار میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کو نشانہ بنایا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان نے اپنی بعض تنصیبات میں شدت پسندوں کو پناہ دے رکھی تھی تاکہ انہیں فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    دوسری جانب پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طورخم بارڈر کے مقام پر پاک فوج کے ٹینکوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق لنڈی کوتل کے آبادی والے علاقوں کی سمت مارٹر گولے بھی داغے گئے، قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں پاک سیکیورٹی فورسز نے ہیوی گنز کے ذریعے کسٹمز ہاؤس اور مبینہ طور پر افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق شدید گولہ باری کے بعد مخالف فورسز نے پوزیشنیں خالی کر دیں۔ تھانہ آدم خان اور ایک نیا قائم کیا گیا تھانہ بھی تباہ کر دیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • پاکستانی قوم و افواج دشمن کے قدم ڈگمگا دیں گی،خالد مسعود سندھو

    پاکستانی قوم و افواج دشمن کے قدم ڈگمگا دیں گی،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان پر اسرائیل کی ممکنہ جارحیت ایک خواب ثابت ہوگی اور پاکستانی قوم و افواج دشمن کے قدم ڈگمگا دیں گی،موجودہ حالات میں امت کے اتحاد کی اشد ضرورت ہے، صیہونی قوتوں کا مقابلہ باہمی اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کی جانب سے صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پرترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم ،مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کے صدر عقیل لغاری ،عبد الواحدسمیت دیگر قیادت نے شرکت کی ،خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے،ایٹمی پاکستان کی جانب کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،9 مئی کو پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو وہ سبق سکھایا جس کی گونج آج بھی عالمی دنیا میں موجود ہے ،امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے قابل مذمت ہیں،ایران کو جوابی کاروائی میں اپنے دشمن پرفوکس کرنا چاہیے، ہر وہ ریاست جہاں ظلم، جبر یا قبضہ ہو، وہ اس کی مذمت کرتے رہیں گے،ہم ہر ظالم کے خلاف اور ہر مظلوم کے ساتھ ہیں گے۔مرکزی ترجمان تابش قیوم کاکہنا تھا کہ ملک کی سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر قائم نہیں رہتیں، جس کی وجہ سے وہ ڈیلیور نہیں کر پائیں۔ ، دشمن جانتا ہے کہ اگر پاکستان پرامن اور مستحکم ہو تو وہ مسلم ممالک کی مدد کر سکتا ہے، اسی لیے پاکستان پر نظریں رکھی جا رہی ہیں، پاکستان میں امن، ترقی اور خوشحالی مرکزی مسلم لیگ کا مشن ہے اور اسی مقصد کے لیے میدانِ سیاست میں سرگرم عمل ہیں۔مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کے صدر عقیل لغاری،ترجمان مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد عبدالواحد کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کا منشور معاشرے کی تشکیل اور تربیت ہے تاکہ شہری ایک قوم بن سکیں، مرکزی مسلم لیگ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے یونین کونسل سطح پر انٹرا پارٹی الیکشن کروائے ہیں، اور جب اقتدار گراس روٹ لیول سے آئے گا تو سیاسی حالات بہتر ہوں گے.

  • سحرکامران ،پلوشہ خان ودیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کا ایرانی سفارتخانے کا دورہ

    سحرکامران ،پلوشہ خان ودیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کا ایرانی سفارتخانے کا دورہ

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے کا دورہ کیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا۔

    وفد میں پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سحر کامران کے ساتھ سینیٹر پلوشہ خان بھی شریک تھیں۔ رہنماؤں نے سفارتخانے میں تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے اور ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اپنے پیغام میں انہوں نے آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی مثالی جرات، بصیرت، اسلامی اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی اور قیامِ امن کے لیے ان کی زندگی بھر کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بابرکت زندگی امتِ مسلمہ کے لیے رہتی دنیا تک روشنی، حوصلے اور رہنمائی کا سرچشمہ بنی رہے گی۔

    رہنماؤں نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سفارتی عمل کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب جوہری معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا تھا، جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر، ان کے اہلِ خانہ اور متعدد بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ مزید برآں، مناب میں ایک گرلز اسکول کو نشانہ بنانے کے واقعے کی بھی سخت مذمت کی گئی جس میں معصوم بچیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

    بیان میں اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور مسلم دنیا کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی شہداء کے اہلِ خانہ، ایرانی عوام اور دنیا بھر میں سپریم لیڈر کے چاہنے والوں کے ساتھ کھڑی ہے۔وفد نے مسلم امہ کے اتحاد، امن کے قیام اور انصاف و خودمختاری کے دفاع کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ خطے میں امن و استحکام قائم فرمائے۔

  • اسپین نے امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی،وائیٹ ہاؤس،اسپین کی تردید

    اسپین نے امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی،وائیٹ ہاؤس،اسپین کی تردید

    وائیٹ ہاؤس نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم اسپین کی حکومت نے اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت پیغام کے بعد اسپین نے “امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔” ان سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔لیوٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اس وقت اسپین میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ “تمام یورپ اور ہمارے یورپی اتحادی اس مشن میں تعاون کریں گے۔” انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی حکومت یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    تاہم اسپین کے وزیر خارجہ نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں وائٹ ہاؤس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ “ہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔”اسی طرح اسپین کے وزیر اعظم ، جو یورپ میں ٹرمپ پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں، نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ اسپین کسی ایسی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا جو “دنیا کے لیے نقصان دہ ہو یا ہمارے اقدار اور مفادات کے خلاف ہو، صرف اس لیے کہ کسی کے انتقامی اقدامات سے بچا جا سکے۔”

    ادھر امریکی محکمہ دفاع کے سربراہ نے جنوبی ایران کے شہر مناب میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر مبینہ حملے کی تحقیقات کی تصدیق کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔کارولین لیوٹ نے اس حوالے سے کہا، “جہاں تک ہمیں علم ہے، امریکا شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔” ان کا کہنا تھا کہ امریکا صرف “باغی ایرانی حکومت” کو نشانہ بنا رہا ہے اور ایران پروپیگنڈا مہم کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔

    پریس بریفنگ کے دوران لیوٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے “ضرورت سے زیادہ صلاحیت اور اسلحہ موجود ہے۔” ان کے مطابق امریکا نہ صرف موجودہ فوجی آپریشن کو کامیابی سے جاری رکھ سکتا ہے بلکہ “اس سے کہیں آگے جانے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔”یہ بیان صدر ٹرمپ کے اُس سوشل میڈیا پیغام کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ امریکا کے پاس اسلحہ کا اچھا ذخیرہ موجود ہے لیکن “ہم وہاں نہیں ہیں جہاں ہم ہونا چاہتے ہیں۔”لیوٹ نے وضاحت کی کہ صدر کا اشارہ سابق انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے گئے اسلحہ کی طرف تھا، نہ کہ موجودہ فوجی تیاریوں میں کسی کمی کی طرف۔

  • قبرص میں برطانوی اڈے پر حملہ کرنے والا ڈرون ایران سے نہیں لانچ کیا گیا،برطانیہ

    قبرص میں برطانوی اڈے پر حملہ کرنے والا ڈرون ایران سے نہیں لانچ کیا گیا،برطانیہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران بحیرۂ روم کے جزیرے سائپرس میں واقع برطانوی فوجی اڈے پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملے کے بعد نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    برطانیہ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اڈے کو نشانہ بنانے والا یک طرفہ (ون وے) حملہ آور ڈرون ایران سے لانچ نہیں کیا گیا تھا۔برطانوی وزارتِ دفاع نے بدھ کے روز جاری بیان میں ڈرون کی اصل جائے پرواز کی وضاحت نہیں کی، تاہم اسے "شاہد طرز” (Shahed-like) قرار دیا۔ واضح رہے کہ "شاہد” سیریز کے ڈرون ایران میں ڈیزائن اور تیار کیے جاتے ہیں اور حالیہ برسوں میں مختلف علاقائی تنازعات میں ان کا استعمال رپورٹ ہو چکا ہے۔

    قبرصی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ڈرون کا رخ لبنان کی جانب سے تھا۔ قبرص کے نائب حکومتی ترجمان نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ قومی گارڈ اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ڈرون لبنان سے داغا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون "ون وے اٹیک ڈرون” تھا، یعنی اسے ہدف سے ٹکرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور واپسی کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ اس قسم کے ڈرون عموماً بارودی مواد سے لیس ہوتے ہیں اور کم لاگت کے باوجود مؤثر ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔

    برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے ایران سے براہِ راست تعلق کی تردید اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ خطے میں پہلے ہی ایران، اسرائیل اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اگر ڈرون حملے کا براہِ راست تعلق ایران سے جوڑا جاتا تو اس کے سفارتی اور عسکری اثرات مزید سنگین ہو سکتے تھے۔دفاعی ماہرین کے مطابق "شاہد طرز” کی اصطلاح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو ڈرون ایرانی ڈیزائن سے متاثر تھا یا اسی طرز کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، تاہم اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اسے ایران ہی سے لانچ کیا گیا ہو۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران سے براہِ راست تعلق کی تردید کر دی گئی ہے، لیکن لبنان سے مبینہ لانچنگ بھی خطے میں جاری پراکسی کشمکش کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

  • امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ،ایران کے جوابی حملے،مختلف ممالک میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار

    امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ،ایران کے جوابی حملے،مختلف ممالک میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی نے خطے کو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مختلف ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جوابی کارروائیوں میں بھی متعدد ممالک متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران میں کم از کم 1,097 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں 168 بچے اور 14 اساتذہ بھی شامل ہیں، جو ہفتے کے روز ایک امریکی،اسرائیلی حملے میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر بمباری کے دوران جان سے گئے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانے سے ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔

    لبنان میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 74 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ تک یہ تعداد سامنے آئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مقامی نمائندے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین پیرا میڈکس بھی شامل ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کویت میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان میں چھ امریکی فوجی اہلکار شامل ہیں، جبکہ کویتی فوج نے دو مقامی سروس ممبران کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیل میں ہفتے سے جاری حملوں کے دوران کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی ہنگامی سروس ے مطابق مختلف شہروں میں میزائل حملوں کے نتیجے میں شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    عراق کے صوبہ دیالی میں امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم چار پاپولر موبلائزیشن فورس کے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ملیشیا کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے مطابق یہ حملہ اتوار کو کیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات میں ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کا تعلق پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کو روکنے کی کوشش کی گئی تاہم کچھ ڈرون اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

    بحرین کے سلمان انڈسٹریل سٹی میں ایک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے بعد اس کا ملبہ ایک غیر ملکی بحری جہاز پر گرا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ بحرینی سرکاری میڈیا کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ماہرین کے مطابق حالیہ تنازع مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن اب تک کسی فوری جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں شہری آبادی کو نشانہ بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔