افریقی ملک کانگو میں ایبولا وائرس سے صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے جہاں اموات کی تعداد 131 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سینکڑوں مشتبہ کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے صورتحال کے پیش نظر کانگو کیلئے سب سے سخت سطح چار کی سفری وارننگ جاری کر دی ہے اور اپنے شہریوں کو فوری طور پر کانگو کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی ڈاکٹر سمیت چھ امریکی شہریوں میں بھی ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس مرتبہ پھیلنے والے وائرس سے نمٹنا زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اس کے تدارک کیلئے مؤثر ویکسین دستیاب نہیں۔
ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو وائرس مزید افریقی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔
دوسری جانب پڑوسی ملک یوگنڈا نے بھی ایبولا کیسز میں اضافے کے بعد بعض اضلاع میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
طبی حکام کے مطابق ایبولا ایک انتہائی خطرناک وائرس ہے جو جسمانی رطوبتوں کے ذریعے تیزی سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔
عالمی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ مختلف ممالک نے ہنگامی طبی اقدامات اور نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
Blog
-

کانگو میں ایبولا سے اموات 131 تک پہنچ گئیں، امریکا کی سخت سفری وارننگ
-

بجلی صارفین کیلئے 63 ارب روپے سے زائد ریلیف کا امکان
ملک بھر کے بجلی صارفین کیلئے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، نیپرا میں ہونے والی سماعت کے بعد صارفین کو مجموعی طور پر 63 ارب 94 کروڑ روپے ریلیف ملنے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے سال 2026 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جنوری سے مارچ تک کی ایڈجسٹمنٹ درخواستوں پر سماعت مکمل کر لی ہے۔
سماعت کے دوران ڈسکوز، پیسکو اور میپکو حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف مدوں میں اخراجات کم ہونے کے باعث بجلی صارفین کو بڑا ریلیف دینا ممکن ہوا ہے۔
حکام کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران کپیسٹی چارجز میں 36 ارب 83 کروڑ 70 لاکھ روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ یوز آف سسٹم چارجز اور مارکیٹ آپریشن فیس میں بھی 11 ارب 24 کروڑ روپے کمی آئی۔
اسی طرح انکریمنٹل یونٹس کی مد میں 23 ارب 51 کروڑ روپے کمی کی درخواست بھی دی گئی ہے۔
میپکو نے اپنی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 6 اعشاریہ 3 ارب روپے کمی کی درخواست دیتے ہوئے بتایا کہ انڈسٹری کو بجلی کی فروخت میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پیسکو نے بھی 8 اعشاریہ 6 ارب روپے کمی کی درخواست دی جس میں کپیسٹی پیمنٹ اور سسٹم چارجز میں نمایاں کمی شامل ہے۔
سماعت کے دوران بجلی کی قیمت میں ایک روپے 93 پیسے فی یونٹ تک کمی کے امکان پر صارفین اور صنعتکاروں نے اطمینان کا اظہار کیا۔
صنعتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر توانائی مہنگی ہونے کے باوجود پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں کمی خوش آئند پیش رفت ہے۔
نیپرا سماعت میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آیا کہ ملک میں اس وقت 45 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ ضرورت کے مطابق صرف 25 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔
صارفین نے سوال اٹھایا کہ اضافی پیداواری صلاحیت موجود ہونے کے باوجود نئے پاور پلانٹس کیوں لگائے جا رہے ہیں جبکہ موجودہ نظام کو بہتر بنا کر بجلی مزید سستی کی جا سکتی ہے۔ -

ایران کی 14 نکاتی نئی امن تجاویز، جوہری پروگرام منجمد کرنے پر آمادگی
العربیہ نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے 14 نکاتی نئی امن تجاویز تیار کر لی ہیں اور یہ تجاویز پاکستانی ثالثوں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے سخت مؤقف میں اہم نرمی دکھاتے ہوئے طویل مدت کیلئے اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
العربیہ نیوز اور ایرانی میڈیا کے مطابق ایران جوہری پروگرام مکمل ختم کرنے کے بجائے اسے عارضی طور پر روکنے پر راضی ہوا ہے۔
تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر امریکا کے بجائے روس منتقل کرنے کیلئے تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگی نقصانات کے معاوضے کے مطالبے سے بھی پیچھے ہٹتے ہوئے اپنی توجہ اقتصادی مراعات اور پابندیوں میں نرمی پر مرکوز کر دی ہے۔
نئی تجاویز میں آبنائے ہرمز سے متعلق خصوصی فریم ورک بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور عالمی تجارت و تیل کی سپلائی محفوظ رہ سکے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے بھی ان تجاویز پر مثبت اشارے دیے ہیں اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت مذاکرات جاری رہنے تک امریکا ایرانی تیل پر عائد بعض پابندیوں سے عارضی دستبرداری اختیار کر سکتا ہے تاکہ ایرانی معیشت کو ریلیف مل سکے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کا مقصد عالمی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، خطے میں تناؤ کم کرنا اور ایک پائیدار معاہدے تک پہنچنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پیش رفت کامیاب رہی تو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ -

ایم ڈی کیٹ 2026 کی تاریخ کا اعلان، امتحان 16 اگست کو ہوگا
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ایم ڈی کیٹ 2026 کے امتحان کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
جاری کردہ پبلک نوٹس کے مطابق ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کیلئے لازمی قرار دیا گیا ایم ڈی کیٹ امتحان 16 اگست 2026 بروز اتوار منعقد ہوگا۔
پی ایم ڈی سی نے طلبہ و طالبات کو سہولت فراہم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس سال بھی گزشتہ برس والا ہی سلیبس لاگو ہوگا اور نصاب میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔
کونسل کے مطابق امیدوار اسی سلیبس کے مطابق اپنی تیاری جاری رکھ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ پاس کرنا قانونی طور پر لازمی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ہونے والے ایم ڈی کیٹ امتحان میں 47 ہزار 772 امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔
180 نمبرز کے امتحان میں 42 ہزار 48 امیدوار 50 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
اسی طرح 39 ہزار 648 طلبہ نے 55 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے، جو ایم بی بی ایس پروگرام میں داخلے کیلئے کم از کم مقررہ معیار ہے۔
پی ایم ڈی سی نے تمام صوبائی داخلہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ امتحانی مراکز، سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کی تیاری ابھی سے شروع کر دی جائے تاکہ امتحان شفاف اور منظم انداز میں منعقد کیا جا سکے۔ -

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 22 دہشتگرد ہلاک
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن کیا جس کے دوران 22 دہشتگرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ایریا سینیٹائزیشن آپریشن 17 مئی 2026 سے جاری ہے اور کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے دہشتگرد بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی “فتنہ الخوارج” تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اور علاقے میں متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔
فورسز نے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ باقی دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ شواہد سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دہشتگرد مقامی آبادی کو ڈرا دھمکا کر اپنے لیے محفوظ راستے حاصل کرتے تھے اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
پاک فوج نے اس عمل کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ “عزمِ استحکام” وژن کے تحت ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشتگردی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی۔ -

کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والے جعلی انجکشنز پر پابندی عائد
ملک میں ایڈوانسڈ اسٹیج کینسر کے علاج کیلئے استعمال ہونے والے دو اہم انجکشنز کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ عالمی برانڈز کے نام پر جعلی کینسر انجکشنز مارکیٹ میں سپلائی کیے جا رہے تھے، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ان پر ملک گیر پابندی لگا دی گئی۔
یہ کارروائی ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنی آسٹرازینیکا کی شکایت پر کی گئی۔
ڈریپ کی جانب سے جاری ریپڈ الرٹ کے مطابق “امفنزی” اور “انہرٹو” نامی کینسر انجکشنز کے مخصوص بیچز جعلی قرار دیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق “Imfinzi 500mg/10ml” کا بیچ نمبر ASCB جبکہ “Enhertu 100mg” کا بیچ نمبر DK1262 جعلی پایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جعلی ادویات کے پیکٹس پر آسٹرازینیکا جاپان اور سویڈن کے جعلی پتے درج کیے گئے تھے تاکہ انہیں اصلی ظاہر کیا جا سکے۔
لاہور کے مختلف اسپتالوں کے ڈاکٹرز نے مریضوں میں ادویات کے اثرات ظاہر نہ ہونے پر ان انجکشنز کے جعلی ہونے کی نشاندہی کی تھی۔
ڈریپ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ادویات پھیپھڑوں، جگر، مثانے، معدے، مختلف ٹیومرز اور خواتین میں چھاتی کے کینسر کے علاج کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ان جعلی انجکشنز کی طبی افادیت یا تو صفر ہے یا غیر واضح، اور ان کا استعمال مریضوں کیلئے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈریپ نے پنجاب حکومت کو فوری تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے سپلائی چین میں شامل عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔
ملک بھر کے اسپتالوں، فارمیسیز اور بلڈ بینکس کو متاثرہ بیچز فوری طور پر فروخت سے روکنے اور اسٹاک الگ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ -

خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں کی تردید
حکومتِ پاکستان نے خلیجی ممالک سے پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی خلیجی ملک سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل، انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں اور غیر قانونی شناختی کارڈز کے معاملے پر اہم بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران حکومتی ارکان نے کہا کہ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں گردش کرنے والی خبروں کے برعکس کسی خلیجی ملک نے پاکستانی شہریوں کی اجتماعی بے دخلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کی سخت پالیسیوں اور نگرانی کے باعث غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی کوششوں میں 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر جعلی دستاویزات اور پاسپورٹس کی شناخت کیلئے جدید مشینیں نصب کی جا چکی ہیں جبکہ جعلی کاغذات پر سفر کرنے والوں کو فوری طور پر آف لوڈ کیا جاتا ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق ایف آئی اے عملے کی تربیت بھی جاری ہے اور انہی اقدامات کی بدولت عالمی سطح پر پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ میں بہتری آ رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض مقامی افراد نے ذاتی مفاد کیلئے غیر ملکیوں کو اپنے فیملی ٹری میں شامل کروا کر انہیں پاکستانی شناختی کارڈز دلوائے۔
اجلاس میں پیش کی گئی سرکاری دستاویز کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران سات خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی محنت کشوں کی جانب سے مجموعی طور پر 9 ہزار 233 شکایات درج کروائی گئیں۔ -

متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا: ایران کا دعویٰ
ایران کی وزارت خارجہ نے جرمنی کے چانسلر کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے جوہری پلانٹ کے قریب حملے میں ایران کے مبینہ کردار کے الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جرمن زبان میں جاری بیان میں جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس پر “دوغلے پن” کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ ان کا جواز بھی پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ تنصیبات عالمی ایجنسی کی نگرانی میں محفوظ قرار دی گئی تھیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ جس واقعے کو انہوں نے “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا، اس کی ذمہ داری خود متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر عائد نہیں کی، لیکن اس کے باوجود مغربی رہنما اچانک بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کی باتیں کرنے لگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جوہری تنصیبات پر حملے واقعی خطے کیلئے خطرہ ہیں تو یہ اصول سب ممالک پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سیاسی مفادات کے مطابق۔
دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس نے ایک روز قبل ایران کی جانب سے امارات اور دیگر ممالک پر مبینہ فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جوہری تنصیبات پر حملہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ابوظہبی کے قریب براکہ جوہری پلانٹ کے باہر ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی کے جنریٹر میں آگ لگ گئی تھی۔ -

80 روز بعد ایرانی اسٹاک مارکیٹ دوبارہ کھل گئی
ایران کی اسٹاک مارکیٹ 80 روز بعد آج دوبارہ کھول دی گئی ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران اسٹاک ایکسچینج مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے ٹریڈنگ کیلئے کھولی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی اسٹاک مارکیٹ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد غیر یقینی صورتحال اور سکیورٹی خدشات کے باعث بند کر دی گئی تھی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی بحالی کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ معمول پر لانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ کھلنے کے بعد سرمایہ کاروں کے رویے پر عالمی توجہ مرکوز ہے کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات ایرانی معیشت پر بدستور موجود ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو ایرانی مالیاتی منڈیوں کو دوبارہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ -

بانی پی ٹی آئی کو مرضی کے اسپتال میں علاج کی سہولت دی جائے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی مرضی کے اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
اسلام آباد کی چونگی نمبر 26 پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ آج بھی پرامن طریقے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی، وکلا اور ذاتی ڈاکٹروں سے ملاقاتیں بھی یقینی بنائی جانی چاہئیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ان کا کوئی غیرقانونی یا غیرآئینی مطالبہ نہیں بلکہ وہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی مخالفین کے علاج کے معاملے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا تھا، اس لیے انہیں بھی علاج کی مکمل سہولت دی جانی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ منتخب صوبائی قیادت کا راستہ روکنا امتیازی سلوک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور پوری کابینہ کو راستے میں روکنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے جبکہ کارکنوں نے ہر موقع پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اسلام آباد کی چونگی نمبر 26 پر روک دیا گیا تھا جہاں وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے جا رہے تھے۔