Baaghi TV

Blog

  • ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف مقدمے میں شکست

    ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف مقدمے میں شکست

    امریکہ کی وفاقی جیوری نے ارب پتی ایلون مسک کے اوپن اے آئی اور اس کے سی ای او سیم ایلٹمین کے خلاف دائر کردہ دعوے مسترد کر دیے،جیوری نے اپنے متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ ایلون مسک کا مقدمہ قانونی مدت گزر جانے کے باعث قابل سماعت نہیں تھا۔

    کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ کی وفاقی عدالت میں ہونے والی اس عدالتی کارروائی میں جیوری نے ایلون مسک کے دعوے مسترد کرتے ہوئے کمپنی کو ذمہ دار قرار دینے سے انکار کر دیا،جیوری نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ ایلون مسک نے مقدمہ دائر کرنے میں بہت تاخیر کی۔

    مقدمے کی سماعت 28 اپریل سے جاری تھی اور اسے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے مستقبل کے لیے اہم مقدمہ قرار دیا جا رہا تھا۔ مقدمے کے دوران اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ کی ساکھ بھی زیر بحث رہی، جبکہ فریقین نے ایک دوسرے پر مالی مفادات کو ترجیح دینے کے الزامات عائد کیے۔

    ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں، پیوٹن

    ایلون مسک (اوپن اے آئی کے شریک بانی) نے الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی اور اس کے ایگزیکٹوز نے پبلک گڈ اور نان پرافٹ (غیر منافع بخش) مشن سے انحراف کرتے ہوئے منافع کمانے والی کمپنی میں تبدیلی کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

    ایلون مسک کا مؤقف تھا کہ اوپن اے آئی اپنی اصل انسانی فلاح کی پالیسی سے ہٹ گئی ہے اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے پر توجہ دے رہی ہے انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مائیکروسافٹ کو شروع سے معلوم تھا کہ اوپن اے آئی مالی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔

    دوسری جانب اوپن اے آئی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ایلون مسک خود مالی مفادات کے تحت کارروائی کر رہے ہیں اور انہوں نے بہت دیر سے قانونی دعویٰ دائر کیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ مائیکرو سافٹ اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت داری میں 100 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکی ہے، جبکہ اوپن اے آئی مستقبل میں حصص کی عوامی فروخت کی تیاری بھی کر رہی ہے، جس سے کمپنی کی مالیت ایک کھرب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

    9 رکنی جیوری نے صرف دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں مشاورت مکمل کر کے متفقہ فیصلہ سنایا کہ ایلون مسک نے بہت تاخیر سے مقدمہ دائر کیا تھا، اس مقدمے میں جیوری نے کمپنی کو ذمہ دار قرار دینے سے انکار کیا اور جج نے مقدمے کو خارج کر دیا۔

    ایلون مسک کے وکلاء نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے اور اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی کی اسحاق ڈار سے ملاقات

  • ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر:  بینا علی

    ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر: بینا علی

    شہرِ اقتدار میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہونے کو ہے، مگر میرا دل آج بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہےاُس شہرِ رونقاں میں جسے میں آنکھوں میں نمی اور دل پر بوجھ لیے پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ شہر بدل لینے سے شاید یادوں کا تعاقب بھی چھوٹ جائے گا مگر یادیں تو سایوں کی مانند ہوتی ہیں؛ انسان جہاں بھی جائے وہ خاموشی سے اس کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ رات کی تنہائی میں جاگتی ہیں۔ میں اپنے ماضی کی کچھ اذیت ناک یادوں سے بچنے، خود کو گمنام کرنے اور ہجوم میں کھو جانے کی تمنا لیے اس اجنبی شہر میں آئی تھی۔ سوچا تھا کہ فاصلے شاید دل کے زخموں پر وقت کا مرہم رکھ دیں گے کہ نئی گلیاں، نئے چہرے، نئی خاموشیاں میرے اندر کے طوفان کو تھما دیں گی۔

    مگر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔یہاں آ کر احساس ہوا کہ بعض رشتے زمین کے فاصلے نہیں مانتے وہ روح کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں اور روح کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جس گھر میں نے خود کو گوشہ نشین کیا، اس کی مالکِ مکان سے پہلی ہی ملاقات میرے لیے غیر متوقع اور بے حد جذباتی ثابت ہوئی۔

    انہیں دیکھتے ہی دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ سانس اٹک گئی، آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک پردہ ہٹایا ہو اور میری مرحوم والدہ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی ہوں وہی نرمی، وہی اپنائیت، وہی بے لوث محبت ۔ان کا آہستہ آہستہ چلنا، بات کرتے ہوئے چہرے کے بدلتے تاثرات، بیٹھنے کا وہی سلیقہ سب کچھ امی جیسا۔

    حتیٰ کہ وہی بیماریاں، وہی احتیاطیں، وہی جسمانی کمزوری، اور اس کے باوجود دوسروں کے لیے وہی بےچین فکر مندی۔ گویا اللہ نے ایک بار پھر میری ماں کا سایہ کسی اور روپ میں میرے سر پر رکھ دیا ہو۔اور پھر ان کی محبت ،میں دروازے تک چھوڑنے جاتی وہ چند قدم واپس جاتیں، مگر دل نہ مانتا تو دوبارہ پلٹ آتیں۔

    پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دیتیں، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وہی سوال کرتیں جو میری ماں کی زبان سے بارہا سنا تھا:
    "بیٹی کچھ کھا لیا کرو،اپنا خیال رکھا کرو۔یہ چند سادہ سے الفاظ سنتے ہی دل کے بند ٹوٹنے لگتے ہیں۔ آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں اور ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں پھر سے اپنی ماں کے آغوشِ محبت میں لوٹ آئی ہوں ۔وہی تحفظ، وہی دعا، وہی بے لوث اپنائیت جس میں دنیا کے سارے غم پگھل جاتے ہیں۔تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے خوبصورت، سب سے نرم مظہر ہے۔

    ماں کی محبت نہ فاصلوں کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ محبت کا کوئی نہ کوئی روپ دھارے سامنے ہوتی ہے۔ مائیں جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں۔ نہ شہر ان کی محبت کو قید کر سکتے ہیں، نہ سمندر ان کی شفقت کو دور کر سکتے ہیں۔ انسان چاہے اجنبی دیس میں ہو یا اپنے ہی وطن میں، ماں کی محبت کسی نہ کسی صورت، کسی نہ کسی چہرے میں، اسے ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔شاید کائنات نے مجھے یہ احساس دلانے کے لیے اس خاتون سے ملوایا کہ:
    "بیٹی ماں کبھی بچھڑتی نہیں۔

    وہ اگر اس دنیا سے رخصت بھی ہو جائے، تو اپنی دعا، اپنی محبت اور اپنی شفقت کسی نہ کسی چہرے میں، کسی نہ کسی لمس میں تمہارے پاس بھیج دیتی ہے۔”آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ماں کو کھونا دراصل اسے مکمل طور پر کھونا نہیں ہوتا۔ وہ دل کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے، سجدوں کی دعاؤں میں بولتی ہے، اور بعض مہربان چہروں کے روپ میں ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ ماں واقعی ایک ایسی ہستی ہے جو مر کر بھی نہیں مرتی۔وہ زندگی کے ہر موڑ پر کسی دعا کی گونج، کسی ہاتھ کے لمس، کسی آواز کی نرمی، یا کسی شفقت بھرے سوال کی صورت میں اچانک سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور دل کو یہ یقین دلا جاتی ہے کہ:
    "میں کہیں نہیں گئی، بیٹی میں آج بھی تمہارے ساتھ ہوں۔ میرے دعا کے ہاتھ ہمیشہ تمہارے سر پر ہیں۔”

  • مودی کا دورہ یورپ مسلسل ناکامی سے دوچار،وال آف شیم مزید طویل

    مودی کا دورہ یورپ مسلسل ناکامی سے دوچار،وال آف شیم مزید طویل

    یورپی دورے کا ہر نیا دن بھارت کے لیے نئی سفارتی شرمندگی لے آیا- مودی کی “Wall of Shame” مزید طویل ہوتی جا رہی ہے- مودی یورپ کی ٹھنڈی فضاؤں سے لطف اندوز ہونے نکلے تھے مگر اقلیت مخالف پالیسیوں نے پورا دورہ جہنم بنا دیا،ہالینڈ سے شروع ہونے والی شرمندگی ناروے اور سویڈن تک پہنچ گئی،ہر ملک میں مودی کو انسانی حقوق کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا، دورہ ہالینڈ میں ، ہالینڈ کے وزیراعظم راب جیٹن نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اقلیتوں پر انسانیت سوز مظالم پر تشویش ظاہر کی۔ راب جیٹن نے کہا کہ ہالینڈ انسانی حقوق کا مسئلہ بھارت سے پہلے بھی اٹھاتا رہا ہے ، ناروے میں بھارتی وزیر اعظم کی پریس بریفنگ صحافی ہیلے لِنگ کے تلخ سوالات کی نظر ہو گئی،

    “ناروے بھارت پر کیوں اعتماد کرے ، جبکہ آپکا دامن انسانی حقوق کی پامالی سے داغدار ہے ؟؟” بھارتی وفد کے پاس اس ایک سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ بھارتی وزیر اعظم ناروے کے صحافیوں سے چھپتے نظر آئے، بھارتی وزیر اعظم سکھوں اور کشمیری مظاہرین سے بھی بھاگتے رہے ،

    ہالینڈ اور ناروے میں سکھوں نے خالصتان کا پرچم لہرا کر مودی کا استقبال کیا،سکھوں نے خالصتانی لیڈرز کے قتل پر قاتل مودی کے نعرے اور پوسٹ کارڈ اٹھا رکھے تھے ، اوسلو سٹی ہال کے باہر خالصتان ریفرنڈم کے حامی سکھ کارکنوں نے مودی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے “مودی، ہندوتوا دہشتگردی کا چہرہ” کے نعرے بلند کیے۔، سکھ مظاہرین نے بھارتی جھنڈے پھاڑ دیے جبکہ خالصتان کے جھنڈے لہرا کر “مودی دہشت گرد ” اور “مودی گو بیک” کے نعرے لگائے۔ ناروے کی پارلیمنٹ کے سامنے تحریکِ کشمیر ناروے نے بھی بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا ،مقررین نے مودی حکومت کے مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلم دشمن اقدامات پر شدید تنقیدکی۔ مودی حکومت صرف کشمیریوں یا مسلمانوں ہی نہیں بلکہ بھارت کی ہر اقلیت کو ہندوتوا نظریے کے تحت دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔کشمیریوں کے مظاہرے میں ناروے کی سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی ،مظاہرین کا کہنا تھا کہ عالمی برادری مودی حکومت کو کشمیر اور اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں پر جوابدہ بناے۔ احتجاج میں “India Leave Kashmir “، “Butcher of Gujrat” اور “Modi Terrorist ” جیسے نعرے مسلسل گونجتے رہے، سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ، کشمیریوں کی جبری گمشدگیاں اور مساجد و گرجا گھروں پر حملے مودی کا عالمی تعارف بنتے جا رہے ہیں، یورپی دارالحکومتوں میں مودی کے خلاف احتجاج بھارت کے “شائننگ انڈیا” بیانیے کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں، مودی حکومت کی شدت پسند پالیسیوں نےبھارت کی سیکولر شناخت کو عالمی سطح پر مشکوک بنا دیا، یورپ میں مودی کے ہر دورے کے ساتھ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا مسئلہ دوبارہ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے، خالصتان، کشمیر اور مذہبی آزادی کے معاملات اب بھارت کا مستقل سفارتی تعاقب بن چکے ہیں، مودی کی خارجہ مہم اب اقتصادی سفارتکاری سے زیادہ امیج بچاؤ مہم دکھائی دینے لگی ہے، یورپ میں مودی کے خلاف بڑھتا ردعمل ثابت کر رہا ہے کہ داخلی شدت پسندی اب بھارت کے لئے عالمی سفارتی بوجھ بنتی جا رہی ہے، مودی کا دورہ یورپ انکی “وال آف شیم” پر ایک کی بعد ایک تصویر کا اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے

  • ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں، پیوٹن

    ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں، پیوٹن

    چین کے دورے سے قبل جاری بیان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’پرانا اور اچھا دوست‘ قرار دیا،کہا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں-

    ایک ویڈیو پیغام میں پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین سیاست، معیشت، دفاع اور انسانی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، سمجھ بوجھ اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات، خودمختاری اور قومی اتحاد کے احترام پر مبنی ہیں،ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی کسی کے خلاف نہیں۔

    روسی صدر نے بتایا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’پرانا اور اچھا دوست‘ قرار دیا،کہا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں، 25 برس قبل دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ’معاہدۂ ہمسائیگی اور دوستا نہ تعاون‘ کے بعد روس اور چین نے ایک جامع تزویراتی شراکت داری قائم کی ہے،دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور زیادہ تر لین دین اب روبل اور یوآن میں کیا جا رہا ہے۔

    اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    روسی صدر نے روس اور چین کے درمیان ویزا فری نظام کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سیاحت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی روابط کو فروغ ملے گا،ماسکو چین کی تاریخ اور ثقافت کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور انسانی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

  • مودی کا دورہِ یورپ یا ہزیمت کا سفر؟ عالمی سطح پر مودی کی سفاکیت بے نقاب

    مودی کا دورہِ یورپ یا ہزیمت کا سفر؟ عالمی سطح پر مودی کی سفاکیت بے نقاب

    سیاسی تشہیر کیلئے جاری مودی کے دورہِ یورپ نے بھارت کا سفاک چہرہ عیاں کر دیا،مودی کا دورہِ یورپ یا ہزیمت کا سفر؟ عالمی سطح پر مودی کی سفاکیت بے نقاب ہو گئی

    نیدرلینڈز کے وزیرِاعظم نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، آزادیِ صحافت اور قانون شکنی پر مودی کو آئینہ دکھا دیا،ڈچ وزیرِاعظم سمیت یورپی یونین کو بی جے پی کے دورِ حکومت پر سخت تشویش ہے، ڈچ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں آزادیِ صحافت اور اقلیتوں کے حقوق بالخصوص مسلمان شدید دباؤ میں ہیں، آزاد تجارتی معاہدہ کے تحت بھارت میں انسانی حقوق اور جمہوریت پر بات کرنا ہوگی، مودی کے دورہ کے دوران نیدرلینڈز کی شہری انسیہ کا اغواء کیس ڈچ میڈیا میں نمایاں اہمیت کا حامل رہا، ناروے میں مودی اوراعلیٰ بھارتی عہدیدار انسانی حقوق پر سنگین سوالات کا جواب دینے سے کتراتے دکھائی دیئے، محض سیاسی اور ذاتی مفاد کیلئے جاری مودی کو دورہ یورپ میں سخت ہزیمت کا سامنا ہے ،عالمی ماہرین کے مطابق بھارت میں سیاسی اور انسانی حقوق پر سنگین سوالات مودی کے سیاہ ترین دور اقتدار پر طمانچہ ہے.

  • اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے متحدہ عرب امارات میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان نے اسلام آباد میں ریجنل ایمبیسیڈرزکانفرنس کے موقع پر ملاقات کی،ملاقات کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے،جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جانے چاہییں۔

    اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو بھی سراہا اور ہدایت کی کہ وہاں پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    امریکی صدر کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر کرنے کے فیصلے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان لوٹ آیا۔

    کاروبار کے آغاز کے چند ہی منٹوں میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2300 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاایک موقع پر انڈیکس 2,357.02 پوائنٹس یعنی 1.46 فیصد اضافے کے ساتھ 164,162.04 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

    مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی،اٹک ریفائنریز لمیٹڈ، حبکو، ماری انرجیز، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ سمیت انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ گرشتہ روز یعنی پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کا شکار رہی تھی،کے ایس ای 100 انڈیکس 3,791.05 پوائنٹس یعنی 2.29 فیصد کمی کے بعد 161,805.02 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

  • ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی کی اسحاق ڈار سے ملاقات

    ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی کی اسحاق ڈار سے ملاقات

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی نے تہران روانگی سے قبل ملاقات کی-

    ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم نے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے تجارت، علاقائی روابط، عوامی روابط اور علاقائی تعاون کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت سفارتی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے قریبی رابطہ اور باہمی اعتماد انتہائی اہم ہے،انہوں نے خطے میں امن، مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو بھی اجاگر کیا اور امید ظاہر کی کہ نامزد سفیر عمران احمد صدیقی پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے،نائب وزیر اعظم نے انہیں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

  • پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین نے رول 87 سی میں مجوزہ ترمیم مسترد کرنے کا مطالبہ کردیا

    پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین نے رول 87 سی میں مجوزہ ترمیم مسترد کرنے کا مطالبہ کردیا

    پاکستان بار کونسل کے 8 ارکان نے رول 87 سی میں مجوزہ ترمیم پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے اپنا تحریری مراسلہ پاکستان بار کونسل کو بھجوا دیا ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ ترمیم کے تحت بار کونسل کا اجلاس طلب کرنے کے لیے درکار ارکان کی تعداد 5 سے بڑھا کر 10 کی جا رہی ہے، جس کا مقصد اپوزیشن ارکان کو اجلاس ریکوزیشن کرنے سے روکنا ہے۔

    اعتراض کرنے والے ارکان کے مطابق یہ ترمیم بذریعہ سرکولیشن لائی گئی، جو بدنیتی پر مبنی اقدام ہے اور اس سے جمہوری عمل متاثر ہوگا موجودہ صورتحال میں 8 اپوزیشن ارکان اجلاس بلانے کی پوزیشن میں ہیں، لہٰذا قواعد میں تبدیلی مخصوص سیاسی مقاصد کے تحت کی جا رہی ہے۔

    پاکستان بار کونسل کے اپوزیشن ارکان نے رولز کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ ترمیم فوری طور پر واپس لی جائے۔

  • وزیراعظم ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    وزیراعظم ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے-

    کوئٹہ پہنچنے پر وزیراعظم کا استقبال گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کیا،وزیراعظم اپنے دورے کے دوران بلوچستان کی صوبائی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی بھی صدارت کریں گے، جس میں امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔