Baaghi TV

Blog

  • امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ،ایران کے جوابی حملے،مختلف ممالک میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار

    امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ،ایران کے جوابی حملے،مختلف ممالک میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی نے خطے کو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مختلف ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جوابی کارروائیوں میں بھی متعدد ممالک متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران میں کم از کم 1,097 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں 168 بچے اور 14 اساتذہ بھی شامل ہیں، جو ہفتے کے روز ایک امریکی،اسرائیلی حملے میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر بمباری کے دوران جان سے گئے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانے سے ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔

    لبنان میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 74 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ تک یہ تعداد سامنے آئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مقامی نمائندے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین پیرا میڈکس بھی شامل ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کویت میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان میں چھ امریکی فوجی اہلکار شامل ہیں، جبکہ کویتی فوج نے دو مقامی سروس ممبران کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیل میں ہفتے سے جاری حملوں کے دوران کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی ہنگامی سروس ے مطابق مختلف شہروں میں میزائل حملوں کے نتیجے میں شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    عراق کے صوبہ دیالی میں امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم چار پاپولر موبلائزیشن فورس کے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ملیشیا کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے مطابق یہ حملہ اتوار کو کیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات میں ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کا تعلق پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کو روکنے کی کوشش کی گئی تاہم کچھ ڈرون اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

    بحرین کے سلمان انڈسٹریل سٹی میں ایک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے بعد اس کا ملبہ ایک غیر ملکی بحری جہاز پر گرا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ بحرینی سرکاری میڈیا کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ماہرین کے مطابق حالیہ تنازع مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن اب تک کسی فوری جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں شہری آبادی کو نشانہ بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • پاک افغان سرحد ،پاکستان کی بڑی کارروائی، 55 سے زائد ٹھکانے نشانہ

    پاک افغان سرحد ،پاکستان کی بڑی کارروائی، 55 سے زائد ٹھکانے نشانہ

    پاکستانی مسلح افواج نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد کے ساتھ صوبہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے اسے “ڈیبیلی ٹیٹنگ پنشمنٹ” کا نام دیا ہے۔

    اس کارروائی کا مقصد کالعدم تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی سہولت کاری کو نشانہ بنانا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے تحت 55 سے زائد ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر ٹی ٹی اے کی پوسٹوں اور بلوچ لبریشن آرمی ے لیے پناہ گاہوں یا لانچنگ پیڈز کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ “فتنہ الہندوستان” کےعناصر سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کے ہتھیار،اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ،راکٹ لانچرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر،ہلکی اور بھاری توپ خانے کی گولہ باری،مین بیٹل ٹینکس ،مربوط حملوں کے لیے سوارم ڈرونزشامل ہیں،مزید بتایا گیا ہے کہ بعض منتخب مقامات پر زمینی دستے بھی پیش قدمی کر رہے ہیں تاکہ مبینہ ٹھکانوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

    حکام کے مطابق مختلف سرحدی سیکٹرز میں مرحلہ وار کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں وارسالہ سب سیکٹر،ٹی ٹی اے کی پوسٹس 5 تا 9 کو نشانہ بناہا گیا،ژوب، سمبازہ اور گھدوانہ سیکٹرز بشمول بلال پوسٹ نشانہ بنایا گیا،قلعہ سیف اللہ اور پشین سیکٹر (کلیگئی، بیانزئی اور رحیم تھانے)،لوئے بند سیکٹر (کوچی، رحیم، علا جرگہ، تور کچھ اور تروکئی تھانے)،بادینی سیکٹر (تھند، جمعہ خان اور زنجیر تھانے)،او جی جی سیکٹر (خار، سپنگئی، سرزنگل اور یونس تھانے)،چلتن رینجز، ششکہ اور خارا سیکٹر (تھانہ 1، 2 اور 3)،ریاض سیکٹر (پاستا اور سرتاشان تھانہ)،نوشکی اور گردونواح میں حمید قلعہ، ثناء اللہ آغا، شینہ خیل، انی، جانی، ترکاشی، ظلمی، سوالی، غزالی قلعہ اور اوطاق سیکٹرزکو نشانہ بنایا گیا،

    حکام کے مطابق کارروائی کا دائرہ کار وسیع ہے اور مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ مبینہ نیٹ ورک کو منتشر کیا جا سکے۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردی کے مبینہ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو فیصلہ کن نقصان پہنچانا ہے۔ حکام کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خطرات کو غیر مؤثر بنا کر سرحدی علاقوں میں ڈیٹرنس (بازدار قوت) بحال نہیں کر دی جاتی۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔

  • ایرانی سائبر حملوں کا خطرہ،  اسرائیلی وزراء کو موبائل لوکیشن سروسز بند کرنے کی ہدایت

    ایرانی سائبر حملوں کا خطرہ، اسرائیلی وزراء کو موبائل لوکیشن سروسز بند کرنے کی ہدایت

    ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیلی حکام نے وزراء اور ان کے قریبی ساتھیوں کو موبائل فون کی لوکیشن سروسز فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار اور معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق ایرانی سائبر خطرات میں نمایاں اضافے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔بدھ کے روز بھیجے گئے خصوصی پیغام میں وزراء کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ایپلی کیشن یا سروس جی پی ایس کے ذریعے ان کی موجودہ لوکیشن تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ ہدایت نامے میں خاص طور پر تصاویر، Facebook اور Google Maps سمیت دیگر ایپس کا ذکر کیا گیا۔ پیغام میں خبردار کیا گیا کہ ایرانی انٹیلی جنس ادارے سینئر اسرائیلی قیادت کا سراغ لگانے کے لیے باہمی تعاون کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل نے کئی شہریوں کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر کے فردِ جرم عائد کی ہے۔ گزشتہ ماہ ایک اسرائیلی شہری کو سابق وزیرِ دفاع Yoav Gallant کے بارے میں حساس معلومات جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی Shin Bet نے کی تھی۔فروری میں Shin Bet اور قومی سائبر ڈائریکٹوریٹ نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے اسرائیلی حکام کے موبائل فون ہیک کرنے کی "سینکڑوں” کوششوں کو ناکام بنایا۔ بیان کے مطابق خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد ایرانی سائبر سرگرمیوں میں "نمایاں اضافہ” دیکھا گیا، جس میں نجی گوگل اکاؤنٹس، کمیونیکیشن ایپلی کیشنز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ صحت نے بھی ایک بیان میں تمام طبی اداروں کو سائبر حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنی تیاریوں میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ صحت کے ادارے سائبر سیکیورٹی کے دوسرے بلند ترین درجے پر منتقل ہو جائیں تاکہ ممکنہ حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

  • امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجودتہران میں غم کا ماحول ٹوٹ چکا ،سی این این

    امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجودتہران میں غم کا ماحول ٹوٹ چکا ،سی این این

    ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجود شہری پرسکون، پرامید ہیں،بیشتر کاروباری مراکز بند تا ہم دکانیں کھلی ہیں، عوام میں کوئی خوف نہیں،سی این این نے ایرانی شہریوں سے بات کی ہے

    امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں بظاہر سکون ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔80 لاکھ سے زائد آبادی والے تہران میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صرف کریانہ اور خوراک کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بیکریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام میں مایوسی یا خوف کا نمایاں تاثر دکھائی نہیں دے رہا۔“لوگوں کے چہروں پر اداسی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ غم کا ماحول ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُرامید نظر آتے ہیں،” شہری نے کہا۔

    تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عوامی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے۔ “اگر یہ صورتحال لمبی چلی تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، مگر فی الحال ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آ رہی۔”

  • ایران پر حملوں کے چار مقاصد ہیں،زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں،وائیٹ ہاؤس

    ایران پر حملوں کے چار مقاصد ہیں،زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں،وائیٹ ہاؤس

    وائیٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے چار بنیادی مقاصد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کا دائرہ کار واضح ہے اور انتظامیہ اپنے مؤقف پر قائم ہے، چاہے اتحادی ممالک کی جانب سے حالیہ حملوں کے حوالے سے ابہام کیوں نہ پایا جاتا ہو۔

    بدھ کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران لیویٹ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے اہداف ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنا،خطے میں ایران کی بحری موجودگی کو “نیست و نابود” کرنا،ایران سے منسلک مسلح گروہوں اور مبینہ پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا، جنہیں واشنگٹن کے مطابق امریکی اتحادی افواج پر حملوں اور خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے،ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کی مزید کوششوں سے روکنا ہے،
    پریس سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کی علی الصبح شروع ہونے والا آپریشن، جسے “Operation Epic Fury” کا نام دیا گیا ہے، اب تک “غیر معمولی حد تک کامیاب” رہا ہے۔لیویٹ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر امریکا بطور کمانڈر اِن چیف مستقبل کے ممکنہ فوجی آپشنز کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔

    ان کے بیان سے قبل جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل Dan Caine نے کہا تھا کہ امریکی افواج ایرانی سرزمین کے اندر “بتدریج مزید گہرائی تک” حملے شروع کریں گی۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں بظاہر سکون ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔80 لاکھ سے زائد آبادی والے تہران میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صرف کریانہ اور خوراک کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بیکریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام میں مایوسی یا خوف کا نمایاں تاثر دکھائی نہیں دے رہا۔“لوگوں کے چہروں پر اداسی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ غم کا ماحول ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُرامید نظر آتے ہیں،” شہری نے کہا۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عوامی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے۔ “اگر یہ صورتحال لمبی چلی تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، مگر فی الحال ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آ رہی۔”

  • افغانستان کی جانب سے شدت پسند عناصر کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں

    افغانستان کی جانب سے شدت پسند عناصر کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں

    جنگ اور امن کے معاملات میں ہر ذمہ دار ریاست کے لیے اصول و قواعد متعین ہوتے ہیں، مگر افغانستان کی جانب سے بعض شدت پسند اور دہشت گرد عناصر کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں نہ تو پشتون روایات کے مطابق ہیں اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔

    اس کے برعکس، پاکستان نے ٹی ٹی اے کے ہلاک شدہ جنگجوؤں کی لاشوں کو پوری عزت کے ساتھ افغانستان کے حوالے کیا اور زندہ گرفتار دہشت گردوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق پیش آیا، جو جنگی اصولوں کی پاسداری کا واضح ثبوت ہے۔جبکہ ٹی ٹی اے کے کارندے اسلامی تعلیمات اور پشتون روایات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر انسانی اور وحشیانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

  • آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہے گی، ٹرمپ کا بحری تجارت کے تحفظ کا اعلان

    آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہے گی، ٹرمپ کا بحری تجارت کے تحفظ کا اعلان

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھنے اور خلیج سے گزرنے والی بحری تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے خلیج سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے دوہرے تحفظ کا حکم دیا ہے۔ ان کے مطابق ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ کے جنگی جہاز کمرشل اور تجارتی جہازوں کی نگرانی کریں گے اور انہیں محفوظ راستہ فراہم کریں گے۔
    ‎امریکی صدر نے خلیج میں سفر کرنے والے تیل بردار جہازوں کو انشورنس اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ اس فیصلے کے تحت امریکا تجارتی جہازوں کو انشورنس کی ضمانت فراہم کرے گا تاکہ کشیدہ صورتحال کے باوجود عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
    ‎اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دنیا بھر میں توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنائے گا اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج سے گزرنے والی توانائی کی سپلائی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا تاکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

  • ‎ایران کے سعودی عرب پر کروز میزائل اور ڈرون حملے، دفاعی نظام نے تباہ کر دیے

    ‎ایران کے سعودی عرب پر کروز میزائل اور ڈرون حملے، دفاعی نظام نے تباہ کر دیے

    ‎ایران کی جانب سے سعودی عرب پر دو کروز میزائل اور متعدد ڈرونز فائر کیے گئے، تاہم سعودی دفاعی نظام نے ان میں سے بیشتر کو تباہ کر دیا۔
    ‎سعودی وزارت دفاع کے مطابق راس تنورا میں واقع آرامکو ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎حکام کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں داغے گئے کروز میزائلوں کو بھی فضائی دفاعی نظام نے فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
    ‎خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے پیر کے روز سی آئی اے کے ایک اسٹیشن کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
    ‎دوسری جانب ترکیہ کی جانب بھی پہلی بار میزائل فائر کیا گیا جسے نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ترک حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔
    ‎ترک وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے فون پر رابطہ کر کے اس واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ نیٹو نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔

  • ایران آپریشن میں امریکا 20 سے زائد ہتھیاری نظام استعمال کر رہا ہے، سینٹ کام

    ایران آپریشن میں امریکا 20 سے زائد ہتھیاری نظام استعمال کر رہا ہے، سینٹ کام

    ‎امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق ایران میں جاری آپریشن کے دوران امریکا فضائی، بحری، زمینی اور میزائل دفاعی افواج سمیت 20 سے زائد ہتھیاری نظام استعمال کر رہا ہے۔
    ‎امریکا بی-1 بمبار طیارے، بی-2 اسٹیلتھ بمبار، ایف-35 لائٹننگ II اسٹیلتھ لڑاکا طیارے، ایف-22 ریپٹر جیٹ، ایف-15 طیارے اور ای اے-18 جی گرولر طیارے استعمال کر رہا ہے۔
    ‎اس کے علاوہ ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹرائک سسٹم بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں لو کاسٹ اَن مینڈ کامبیٹ اٹیک سسٹم (LUCAS) کے ون وے ڈرونز، ایم کیو-9 ریپر ڈرونز، ایم-142 ہائی موبیلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (ہائمارس) اور ٹوماہاک کروز میزائل شامل ہیں۔
    ‎مزید برآں امریکا فضائی دفاعی نظام جیسے پیٹریاٹ، ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) بیٹریاں اور ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (اواکس AWACS) طیارے بھی استعمال کر رہا ہے۔
    ‎امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ ایران پر حملے کے آغاز کے وقت مشرقِ وسطیٰ میں موجود تھے۔

  • رافیل طیاروں نے یو اے ای کی طرف بڑھنے والے ایرانی ڈرونز مار گرائے، فرانسیسی وزیر خارجہ

    رافیل طیاروں نے یو اے ای کی طرف بڑھنے والے ایرانی ڈرونز مار گرائے، فرانسیسی وزیر خارجہ

    ‎فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فرانس کے رافیل لڑاکا طیاروں نے متحدہ عرب امارات کی طرف بڑھنے والے ایرانی ڈرونز کو مار گرایا۔
    ‎ایک بیان میں فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ رافیل طیاروں نے یو اے ای کی جانب آنے والے ایرانی ڈرونز کو تباہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں فرانسیسی بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کے سینکڑوں اہلکار تعینات ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ابوظبی کے قریب الظفرہ ایئر بیس پر موجود رافیل طیارے ایرانی حملوں کے خدشے کے پیش نظر فضائی نگرانی اور دفاعی مشن پر مامور ہیں۔
    ‎اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے تین بیلسٹک میزائل اور 129 ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، جبکہ آٹھ ڈرون اماراتی سرزمین پر گرے۔
    ‎واضح رہے کہ فرانس نے متحدہ عرب امارات میں فضائی سلامتی کے آپریشنز کے لیے رافیل لڑاکا طیارے تعینات کر رکھے ہیں۔ اس مشن کا مقصد یو اے ای میں قائم فرانسیسی فوجی اڈے کی حفاظت کرنا ہے جہاں فرانسیسی فوجی تعینات ہیں۔ یہ تعیناتی یکم مارچ 2026 کو فرانسیسی اڈے کے ایک ہینگر پر ہونے والے ڈرون حملے کے بعد کی گئی تھی۔
    ‎ادھر قطر کی فوج نے بھی کہا ہے کہ آج صبح ایران کی جانب سے 10 ڈرونز اور دو کروز میزائلوں سے حملے کی کوشش کی گئی تاہم اس کے تمام پروجیکٹائلز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک لیا گیا۔