Baaghi TV

Blog

  • وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اجلاس ہوا

    اجلاس کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان-کیمرہ بریفنگ دی گئی.اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا. شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا، انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں. ملک سے دھشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام شرکاء نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا. شرکاء نے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا اور انکا شکریہ ادا کیا.

    اجلاس میں چئیرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل، وفاقی وزراء، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عبدالعلیم خان (استحکام پاکستان پارٹی)، خالد حسین مگسی (بلوچستان عوامی پارٹی)، خالد مقبول صدیقی (متحدہ قومی موومنٹ)، چوہدری سالک حسین (پی ایم ایل ق)، سید مصطفی کمال (متحدہ قومی موومنٹ)، رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ (بلوچستان عوامی پارٹی)، پرویز رشید (پاکستان مسلم لیگ ن)، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری (متحدہ قومی موومنٹ)، جان محمد (نیشنل پارٹی)، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، امین الحق (متحدہ قومی موومنٹ)، پولین بلوچ (نیشنل پارٹی) شریک ہیں.

  • ایران کی پیٹھ میں بھارت کا ایک اور وار،بھارتی پانیوں میں ایرانی جہازنشانہ بن گیا

    ایران کی پیٹھ میں بھارت کا ایک اور وار،بھارتی پانیوں میں ایرانی جہازنشانہ بن گیا

    ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز IRIS Dena بھارت میں منعقدہ فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد جب بھارتی سمندری حدود میں سفر کر رہا تھا تو اسے ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد اہلکار لاپتہ ہو گئے۔

    ایرانی بحری جہاز IRIS Dena نے حالیہ دنوں میں بھارتی ساحل پر منعقدہ بین الاقوامی فلیٹ ریویو میں شرکت کی تھی، جس کی میزبانی بھارتی بحریہ نے کی۔ اس تقریب میں مختلف ممالک کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا تھا اور اسے خطے میں بحری تعاون کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ جہاز کو بھارتی پانیوں میں ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا۔ بھارتی بحریہ نے تلاش و بچاؤ (Search & Rescue) آپریشن نہیں کیا بلکہ سری لنکن نے 78 ایرانی ملاحوں کو بچایا۔

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مرمت و دیکھ بھال معاہدہ موجود ہے جس کے تحت امریکی بحری جہاز بھارتی شپ یارڈز میں لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی امریکی جہاز نے بھارتی بندرگاہ یا پانیوں کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا؟امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ چند برسوں میں مضبوط ہوا ہے، تاہم کسی بھی ملک کے خلاف براہ راست عسکری کارروائی کے لیے دوسرے ملک کی سرزمین یا پانیوں کے استعمال کا معاملہ انتہائی حساس اور بین الاقوامی قوانین کے تابع ہوتا ہے۔

    سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب امریکی حملے سے ایرانی جہاز ڈوبنے سے متعلق سری لنکن بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سمندر سے متعدد افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں،ترجمان سری لنکا بحریہ کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے ملنے والی لاشیں جہاز کے عملے کی ہیں، تصدیق کا عمل جاری ہے، واقعہ سری لنکا کی سمندری حدود سے باہر پیش آیا، سری لنکا مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، متاثرہ جہاز ایرانی بحریہ کا ہے،سری لنکن بحریہ کا کہنا ہے کہ دیگر تفصیلات اور وجوہات سے متعلق تحقیقات بعد میں جاری کی جائیں گی، اس مرحلے پر ہلاک افراد کی درست تعداد نہیں بتائی جا سکتی، جہاز ڈوبنے کی وجوہات سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہیں، امدادی کارروائی کے دوران متاثرہ علاقے میں کسی اور جہاز کی موجودگی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا،خبر ایجنسی نے بتایا کہ سری لنکن وزارت دفاع اور بحریہ کے ذرائع کے مطابق ایرانی جہاز آئرس ڈینا آبدوز کے حملے کا نشانہ بنا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک سری لنکن اپوزیشن رہنما نے سوال پوچھا کہ آیا جہاز کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے حصے کے طور پر نشانہ بنایا گیا تھا؟ تاہم حکومت نے اس سلسلے میں اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔

  • ایران کی زیرِ زمین "میزائل سٹی” کی نمائش

    ایران کی زیرِ زمین "میزائل سٹی” کی نمائش

    ایران نے ایک وسیع و عریض زیرِ زمین سرنگی نیٹ ورک کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں قطار در قطار میزائل اور ڈرونز دکھائے گئے ہیں۔ یہ مناظر سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے نشر کیے، جسے ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    ویڈیو میں طویل سرنگوں کے اندر شاہد سیریز کے ڈرونز اور مختلف بیلسٹک میزائل نمایاں ہیں، جبکہ پس منظر میں ڈرامائی انداز اپنایا گیا ہے۔ ایک منظر میں مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی دیوارگیر تصویر بھی دکھائی گئی ہے۔ سرنگوں کی چھتوں سے ایرانی پرچم آویزاں ہیں اور کچھ مناظر میں ٹرکوں پر نصب شاہد ڈرون لانچرز بھی دکھائے گئے، جن میں ہر ایک پر چار ڈرون نصب تھے۔رپورٹس کے مطابق شاہد ڈرونز کی تیاری پر دسیوں ہزار ڈالر لاگت آتی ہے اور انہیں نسبتاً کم وقت میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل کی قیمت 40 سے 50 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے، جبکہ تھاڈ (THAAD) بیٹری کی لاگت تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر فی یونٹ ہو سکتی ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی کے Stimson Center سے وابستہ سکیورٹی ماہر کرسٹی گریئکو کے تجزیے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کے داغے گئے 541 ڈرونز میں سے 92 فیصد مار گرائے۔ اندازوں کے مطابق ایران نے ان ڈرونز پر 1 کروڑ 10 لاکھ سے 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جبکہ دفاعی اخراجات 25 کروڑ 30 لاکھ سے 75 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں ، یعنی دفاع پر حملے سے کئی گنا زیادہ لاگت آئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار سے فضائی دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ چند دنوں میں ختم ہو سکتا ہے، کیونکہ انٹرسیپٹرز غیر معمولی تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں۔

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز پر “مکمل کنٹرول” حاصل کر لیا ہے۔ یہ وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ کشیدگی کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جولائی 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ پانچویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ ایران اب بھی میزائل داغنے کی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیل نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ یروشلم کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2 ہزار ڈرون داغ چکا ہے۔ امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج تقریباً 2 ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں اور ایران کے سینکڑوں میزائل، لانچرز اور ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک 11 سالہ بچی شیل کے ٹکڑے لگنے سے ہلاک ہوئی۔ امریکی سفارت خانوں اور فوجی اڈوں کے قریب بھی حملوں کی خبریں ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے مہنگے اور پیچیدہ دفاعی نظام برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ ایران نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے طویل المدتی دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور سکیورٹی منظرنامے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

  • ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی  قلت کا خدشہ نہیں،محمد اورنگزیب

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ نہیں،محمد اورنگزیب

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جہاں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے،مارچ کے اختتام تک پیٹرولیم ذخائر دستیاب ہیں، سپلائی کو منظم رکھا جائے گا اور توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کا 28 دن کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ خام تیل آئندہ 10 روز اور ایل پی جی 15 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دستیاب ہے،قطر سے ایل این جی کی درآمد تعطل کا شکار ہے تاہم مقامی گیس کے ذریعے طلب پوری کر لی جائے گی اور متبادل توانائی ذرائع پر بھی غور جاری ہے۔

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    انہوں نے مزید کہاکہ اگر علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی اختیار کی جائے گی آئی ایم ایف مشن کی روانگی کو انہوں نے ادارہ جاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ فنڈ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں،پیٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کی ضرورت نہیں، بہتر نظم و نسق کے ذریعے صورتحال کو سنبھالا جائے گا۔

  • آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    پاکستان کا افغان طالبان رجیم کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن غضب للحق جاری ہے، اور اب تک مختلف کارروائیوں میں 481 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 696 سے زیادہ زخمی ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کیے ہیں،عطااللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں اب تک مختلف کارروائیوں میں 481 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 696 سے زیادہ زخمی ہیں اس کے علاوہ 226 چیک پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں، جبکہ 35 پر پاکستان نے قبضہ کرلیا ہے، 198 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ افغانستان بھر میں 56 مقامات کو مؤثر انداز میں فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کیخلاف فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکیاں

    واضح رہے کہ افغان طالبان نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں عسکری کارروائیاں کی تھیں، جس کے جواب میں پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کا اعلان کیا،پاکستان نے افغانستان پر واضح کیا ہے کہ اسے کالعدم ٹی ٹی پی یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

  • ایران کیخلاف فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکیاں

    ایران کیخلاف فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکیاں

    اسپین نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے-

    امریکی صدر نے دھمکی دی کہ اگر اسپین نے ایران پر حملوں سے متعلق مشنز کے لیے اپنی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا اسپین کے ساتھ تمام تجارتی معاملات ختم کر دے گا، اگر وہ چاہیں تو اسپین میں جا کر ان کا فوجی اڈہ استعمال کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی نہیں روک سکتا ہے۔

    تاہم امریکی صدر کی دھمکی کے بعد کہا ہے کہ امریکا کو بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے، اسپین کے وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکر ا ت پر زور دے رہے ہیں۔

    پی ایس ایل 11 کا آفیشل لوگو جاری

    اسپین کے وزیر خارجہ حوزے مینول البیرس نے واضح کیا کہ ملک کے فوجی اڈے جو امریکا کے ساتھ مشترکہ طور پر چلائے جاتے ہیں وہ ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوں گے۔

    اس فیصلے کے بعد امریکا نے جنوبی اسپین کے روٹا اور مورون فوجی اڈوں سے 15 طیارے، جن میں ایندھن بردار ٹینکر بھی شامل تھے، منتقل کر دیے، جبکہ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسپین نے برا رویہ اختیار کیا ہے اور انہوں نے اپنے وزیر خزانہ کو ہدایت دی ہے کہ اسپین کے ساتھ تمام لین دین ختم کر دیا جائے۔

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

    اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکا کو اسپین کے ساتھ تجارت میں 4.8 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل تھا۔

  • پی ایس ایل 11 کا آفیشل لوگو جاری

    پی ایس ایل 11 کا آفیشل لوگو جاری

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11 ویں ایڈیشن کے لیے آفیشل لوگو باضابطہ طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔

    لیگ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے لوگو شیئر کیا گیا جس میں اردو میں ’گیارہ‘ کے ساتھ ساتھ ہندسہ 11 بھی نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے اس سال پی ایس ایل میں مجموعی طور پر 8 ٹیمیں حصہ لیں گی جو اپنے بہترین کھیل کے لیے تیار ہیں شائقین بھی لیگ کے آغاز کے لیے بے حد پرجوش ہیں اور ہر ٹیم کی کارکر دگی دیکھنے کے منتظر ہیں۔

    پی ایس ایل 11 کا باقاعدہ آغاز 26 مارچ سے لاہور میں ہو گا جہاں افتتاحی میچ میں لاہور قلندرز نئی فرنچائز حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین کے مدمقابل ہوں گے، افتتا حی تقریب لاہور میں منعقد کی جائے گی،اس سیزن میں لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کی گئی ہیں، حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین اور پنڈیز، جبکہ سیالکوٹ اسٹالینز کو ملتا ن سلطانز کے نام سے ری برانڈ کیا گیا ہےاس سیزن میں کچھ میچ پہلی بار پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں بھی کھیلے جائیں گے۔

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

    ایرانی حملے:پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان

    ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق رکھتے ہیں،سعودی عرب

  • جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

    محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے 3 ملین سے زائد صفحات پر مشتمل جیفری ایپسٹین کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مشہور فنانسر اور بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مرتکب ایپسٹین نے سائنسی حلقے سے روابط قائم کرنے کی کوشش کی۔

    ان دستاویزات میں سائنٹفک امریکن نامی معروف سائنسی جرنل کے حوالے کم از کم 260 مرتبہ دیکھے گئے، جبکہ نیشنل جیوگرافک تقریباً 200 دستاویزات میں شامل تھاایپسٹین اور اس کی سابقہ ساتھی گیسلین میکس ویل نے سائنس میگزین سیڈ کے بورڈ میں بھی جگہ لی تھی، جس کا ذکر 78 دستاویزات میں آیا۔

    اس کے علاوہ، کئی معروف سائنسدان جیسے اسٹیفن ہاکنگ، لیسا رینڈل، جارج چرچ، ڈینی ہلس، مارٹن نوواک، لارنس کراس، نیتھن وولف ایپسٹین کے ساتھ کسی نہ کسی طور جڑے رہے۔ کوئی بھی سائنسدان ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے لیے مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

    ایرانی حملے:پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان

    ڈاکٹر رینڈل کے مطابق، وہ ایپسٹین کے ذاتی اور مالی تعاون سے متاثر نہیں ہوئیں۔ اسی طرح، ڈینی ہلس، مارٹن نوواک اور دیگر سائنسدانوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایپسٹین کا سائنٹفک امریکن کے ادارتی مواد پر کوئی اثر نہیں تھا۔

    دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایپسٹین نے سائنسدانوں کے ساتھ متعدد پیشکشیں کیں، جن میں مصنوعی ذہانت، بایو سائنس اور حتیٰ کہ نسلی سائنس جیسے متنازع موضوعات شامل تھے۔ ایپسٹین نے سائنسدانوں کو مالی امداد بھی فراہم کی، جس میں ہارورڈ یونیورسٹی، ایم آئی ٹی اور سانٹا فی انسٹیٹیوٹ شامل تھے۔

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    سائنٹفک امریکن کے سابق ایڈیٹر ماریئٹ ڈی کرِسٹینا نے واضح کیا کہ ایپسٹین نے کبھی بھی میگزین کی اشاعت یا انتخاب میں مداخلت نہیں کی، اور اس کے دورے صرف سیکھنے اور تحقیق کے مقصد کے لیے تھے۔

    واضح رہے کہ ایپسٹین 2019 میں وفاقی جیل میں انتقال کر گئے، لیکن ان کے سائنسدانوں اور میڈیا کے ساتھ تعلقات کے اثرات آج بھی زیرِ بحث ہیں، اور یہ معاملہ سائنس اور اخلاقیات کے دائرے میں اہم سوالات کھڑا کر رہا ہےیہ دستاویزات متعدد سائنسدانوں کا ذکر کرتی ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ لازماً ایپسٹن کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے یا ان سے آگاہ تھے تعلیمی اور اخلاقی نقطہ نظر سے ان سائنسدانوں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    بل کلنٹن کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات

  • ایرانی حملے:پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان

    ایرانی حملے:پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان

    ایران کے حملوں کے پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے، جس میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز، F-15E اسٹرائیک ایگل طیارے اور ریڈار سسٹمز شامل ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اہم نقصانات میں شامل ہیں:

    AN/FPS-132 ایرلی وارننگ ریڈار، القاعدہ ایئر بیس، قطر: $1.1 بلین
    تین F-15E سٹرائیک ایگل کو کویتی فضائی دفاع کی دوستانہ فائر میں نقصان: $282 ملین
    2 سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز AN/GSC-52Bs، بحرین: $20 ملین
    AN/TPY-2 THAAD ریڈار، متحدہ عرب امارات: $500 ملین

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    ایران نے کم از کم 7 امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں شامل ہیں: بحرین میں 5ویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر، کویت کے کیمپ عریفجان اور کیمپ بیورنگ، عراق میں اربیل بیس، دبئی میں جبل علی پورٹ، اور قطر کا القاعدہ ایئر بیس۔

    سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارت خانے بھی حملوں کی زد میں آئے سعودی عرب میں ریاض میں امریکی سفارتخانہ پر 2 ڈرون حملے، کویت سٹی میں امریکی سفارتخانہ پر ڈرون اور میزائل حملے، دبئی میں امریکی قونصل خانہ پر ڈرون سے آگ لگی، تاہم فوری قابو پایا گیا۔

    بل کلنٹن کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ کارروائیاں امریکی فوجی اور سفارتی تنصیبات پر بھاری نقصان اور تناؤ پیدا کر رہی ہیں، جبکہ امریکی عملہ اور سفارتی اہلکاروں کی حفاظت کے اقدامات جاری ہیں۔

  • ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق  رکھتے ہیں،سعودی عرب

    ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق رکھتے ہیں،سعودی عرب

    سعودی عرب نے کہا ہےکہ وہ بزدلانہ حملوں کے بعد ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق منگل کی شب سعودی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی،اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی و استحکام پر اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا کابینہ نے کہا کہ مملکت بزدلانہ حملوں کے بعد ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتی ہے۔

    اجلاس میں مملکت کے ائیرپورٹس پر پھنسے خلیجی شہریوں کی مہمان نوازی اور سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا،کابینہ نے سعودی اینٹی کرپشن اتھارٹی اور پاکستان کے احتساب ادارے نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) کے درمیان بدعنوانی کی روک تھام اوراس سے نمٹنے کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشتوں کی بھی منظوری دی۔

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    بل کلنٹن کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات
    ایران پر حملے سے قبل دورہ اسرائیل:مودی کو کڑی تنقید کا سامنا