یورپی دورے کا ہر نیا دن بھارت کے لیے نئی سفارتی شرمندگی لے آیا- مودی کی “Wall of Shame” مزید طویل ہوتی جا رہی ہے- مودی یورپ کی ٹھنڈی فضاؤں سے لطف اندوز ہونے نکلے تھے مگر اقلیت مخالف پالیسیوں نے پورا دورہ جہنم بنا دیا،ہالینڈ سے شروع ہونے والی شرمندگی ناروے اور سویڈن تک پہنچ گئی،ہر ملک میں مودی کو انسانی حقوق کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا، دورہ ہالینڈ میں ، ہالینڈ کے وزیراعظم راب جیٹن نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اقلیتوں پر انسانیت سوز مظالم پر تشویش ظاہر کی۔ راب جیٹن نے کہا کہ ہالینڈ انسانی حقوق کا مسئلہ بھارت سے پہلے بھی اٹھاتا رہا ہے ، ناروے میں بھارتی وزیر اعظم کی پریس بریفنگ صحافی ہیلے لِنگ کے تلخ سوالات کی نظر ہو گئی،
“ناروے بھارت پر کیوں اعتماد کرے ، جبکہ آپکا دامن انسانی حقوق کی پامالی سے داغدار ہے ؟؟” بھارتی وفد کے پاس اس ایک سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ بھارتی وزیر اعظم ناروے کے صحافیوں سے چھپتے نظر آئے، بھارتی وزیر اعظم سکھوں اور کشمیری مظاہرین سے بھی بھاگتے رہے ،
ہالینڈ اور ناروے میں سکھوں نے خالصتان کا پرچم لہرا کر مودی کا استقبال کیا،سکھوں نے خالصتانی لیڈرز کے قتل پر قاتل مودی کے نعرے اور پوسٹ کارڈ اٹھا رکھے تھے ، اوسلو سٹی ہال کے باہر خالصتان ریفرنڈم کے حامی سکھ کارکنوں نے مودی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے “مودی، ہندوتوا دہشتگردی کا چہرہ” کے نعرے بلند کیے۔، سکھ مظاہرین نے بھارتی جھنڈے پھاڑ دیے جبکہ خالصتان کے جھنڈے لہرا کر “مودی دہشت گرد ” اور “مودی گو بیک” کے نعرے لگائے۔ ناروے کی پارلیمنٹ کے سامنے تحریکِ کشمیر ناروے نے بھی بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا ،مقررین نے مودی حکومت کے مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلم دشمن اقدامات پر شدید تنقیدکی۔ مودی حکومت صرف کشمیریوں یا مسلمانوں ہی نہیں بلکہ بھارت کی ہر اقلیت کو ہندوتوا نظریے کے تحت دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔کشمیریوں کے مظاہرے میں ناروے کی سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی ،مظاہرین کا کہنا تھا کہ عالمی برادری مودی حکومت کو کشمیر اور اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں پر جوابدہ بناے۔ احتجاج میں “India Leave Kashmir “، “Butcher of Gujrat” اور “Modi Terrorist ” جیسے نعرے مسلسل گونجتے رہے، سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ، کشمیریوں کی جبری گمشدگیاں اور مساجد و گرجا گھروں پر حملے مودی کا عالمی تعارف بنتے جا رہے ہیں، یورپی دارالحکومتوں میں مودی کے خلاف احتجاج بھارت کے “شائننگ انڈیا” بیانیے کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں، مودی حکومت کی شدت پسند پالیسیوں نےبھارت کی سیکولر شناخت کو عالمی سطح پر مشکوک بنا دیا، یورپ میں مودی کے ہر دورے کے ساتھ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا مسئلہ دوبارہ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے، خالصتان، کشمیر اور مذہبی آزادی کے معاملات اب بھارت کا مستقل سفارتی تعاقب بن چکے ہیں، مودی کی خارجہ مہم اب اقتصادی سفارتکاری سے زیادہ امیج بچاؤ مہم دکھائی دینے لگی ہے، یورپ میں مودی کے خلاف بڑھتا ردعمل ثابت کر رہا ہے کہ داخلی شدت پسندی اب بھارت کے لئے عالمی سفارتی بوجھ بنتی جا رہی ہے، مودی کا دورہ یورپ انکی “وال آف شیم” پر ایک کی بعد ایک تصویر کا اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے







