Baaghi TV

سان ڈیاگو میں واقع اسلامی مرکز پر فائرنگ، مشتبہ حملہ آوروں سمیت 5 افراد ہلاک

attack

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر میں پیر کے روز ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 2 مشتبہ حملہ آور بھی مارے گئے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دو مسلح حملہ آوروں نے اسلامک سینٹر میں داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کی، مسجد کی حفاظت پر مامور گارڈ نے نمازیوں اور بچوں کو بچانے کی کوشش کی تاہم وہ بھی فائرنگ کی زد میں آ کر جان کی بازی ہارگیا واقعے میں مجموعی طور پر پانچ افراد ہلاک ہوئے جن میں دو مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہیں، جب کہ کئی افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پا کرعلاقے کو محفوظ قرار دے دیا ہے۔

حکام اس واقعے کو ابتدائی طور پر نفرت انگیز جرم قرار دے کر تحقیقات کر رہے ہیں سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ واہل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کلیئرمونٹ کے علاقے میں واقع اسلامک سینٹر سے فائرنگ کی اطلاع موصول ہونے پر پولیس نے کارروائی کی، جہاں مرکز کے باہر 3 افراد کی لاشیں ملیں، مسجد کے ڈائریکٹر امام طحہٰ حسن کے مطابق جاں بحق افراد میں ایک سیکیورٹی گارڈ اور اسلامی اسکول کے 2 عملے کے ارکان شامل ہیں، پولیس نے تاحال مقتولین کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

پولیس چیف کے مطابق 2 مشتبہ حملہ آور، جن کی عمریں 17 اور 19 برس بتائی گئی ہیں، قریب ہی کھڑی ایک گاڑی کے اندر مردہ پائے گئے ابتدائی تحقیقا ت کے مطابق دونوں نے خود کو گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کیا،یک مشتبہ شخص نے ایک مالی پر بھی فائرنگ کی، تاہم وہ محفوظ رہا اسلامک سینٹر کو نشانہ بنائے جانے کے باعث ہم اس واقعے کو اس وقت تک ہیٹ کرائم تصور کر رہے ہیں جب تک اس کے برعکس شواہد سامنے نہ آئیں۔

پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر ایک خاتون نے اپنے کم عمر بیٹے کے گھر سے فرار ہونے کی اطلاع دی تھی،اس کا بیٹا ذہنی دباؤ کا شکار اور خودکشی کے رجحانات رکھتا تھا جبکہ گھر سے متعدد آتشیں اسلحہ بھی غائب تھا نوجوان کے ساتھ ایک اور شخص موجود تھا جو فوجی طرز کے لباس میں ملبوس تھا۔

تحقیقات کے دوران پولیس کو ایک نوٹ بھی ملا جو مبینہ طور پر نوجوان نے چھوڑا تھا، تاہم حکام نے اس کے مندرجات ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے مشتبہ افراد کی گاڑی سے اسلام مخالف تحریریں بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ ایک ہتھیار پر ‘ہیٹ اسپیچ’ کے الفاظ درج تھے۔

واقعے کے بعد قریبی اسپتال شارپ میموریل ہاسپٹل نے ایمرجنسی اقدامات نافذ کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج کی تصدیق کی۔

واقعے کی تحقیقات میں فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن بھی مقامی پولیس کی معاونت کر رہی ہےوائٹ ہاؤس حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واقعے پر بریفنگ دی گئی ہے، انہوں نے اس حملے کو انتہائی افسوسناک صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔

More posts