Baaghi TV

Blog

  • ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر  شئیر کردی

    ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر شئیر کردی

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےایران میں موجود ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

    مسعود پزشکیان نے درخت کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "سرو” کا یہ درخت ساڑھے 4 ہزار سال پرانا ہے اور ایشیا کا قدیم ترین جاندار ہے یہ اس دھرتی پر ہے جب ساڑھے 4 ہزار سال پہلے بھی ایران کے نام سے جانی جاتی تھی۔

    واضح رہے امریکی صدر کے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چین کے انتہائی خفیہ اور نایاب حکومتی باغ کا دورہ کروایا تھا اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے باغ کے 490 سال پرانے درخت بھی دکھائے تھے اور بتایا تھا کہ یہاں بعض درخت 1000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے جگہ کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے یہ ماحول بہت پسند آیا ہے۔’

    دوسری جانب ایرانی صدر کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا سلسلہ کیا جارہا ہےسوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہےکہ صدر پزشکیان نے ساڑھے چارہزار سال پرانے درخت کی تصویر اس لیے بھی شئیرکی کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کی تہذیب اجاڑنے کی دھمکی دی تھی۔

  • امریکا کا خفیہ بائیو لیب پروگرام  ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

    امریکا کا خفیہ بائیو لیب پروگرام ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

    امریکا کے خفیہ بائیو لیب پروگرام سے متعلق الزامات ایک بار پھر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بن چکے ہیں ، خاص طور پر امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان کے بعد،روس اور چین جیسے ممالک مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ امریکا دنیا کے 30 سے زائد ممالک میں ایسی لیبارٹریز فنڈ کر رہا ہے، جو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری یا ممنوعہ تحقیق کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

    تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا کہ امریکی معاونت سے 30 ممالک میں 120 سے زائد بائیولوجیکل لیبارٹریاں قائم ہیں، جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ یوکرین میں موجود ہیں امریکی ادارے اب ان لیبارٹریوں، ان میں موجود جراثیم اور وہاں ہونے والی تحقیق کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ خطرناک ’گین آف فنکشن‘ ریسر چ کو روکا جا سکے۔

    روس گزشتہ قریباً ایک دہائی سے امریکا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے قریب خفیہ حیاتیاتی تحقیق، ممکنہ حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور غیر قانونی تجربات میں ملوث ہے، تاہم امریکا اور مغربی ممالک ان دعوؤں کو مسلسل ’روسی پروپیگنڈا‘ قرار دیتے رہے۔

    یہ الزامات خاص طور پر اس وقت شدت اختیار کر گئے جب یوکرین کے تنازع کے دوران روس نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی فنڈنگ سے چلنے والی ایسی لیبارٹریوں کے ثبوت اکٹھے کیے ہیں چین نے بھی ان الزامات کی توثیق کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا کو اپنے ان غیر ملکی منصوبوں پر عالمی برادری کو شفاف جواب دینا چاہیے۔

    یہ معاملہ پہلی بار 2017 میں اس وقت منظرعام پر آیا جب ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ امریکی فضائیہ نے روسی شہریوں کے جینیاتی نمونے حاصل کرنے کے لیے مشتبہ ٹینڈر جاری کیا تھا۔ بعد ازاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی کہا تھا کہ مختلف نسلی گروہوں کے حیاتیاتی نمونے منظم انداز میں جمع کیے جا رہے ہیں۔

    2018 میں جارجیا کے سابق وزیرِ سلامتی ایگور گیورگادزے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی معاونت سے قائم رچرڈ لوگر سینٹر میں مشتبہ حیاتیاتی تجربات کیے گئے، جن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے روسی وزارت دفاع نے ان الزامات کی تحقیقات بھی کیں، تاہم امریکا اور جارجیا نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔

    2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد روس نے یوکرین میں قائم مختلف لیبارٹریوں سے ہزاروں دستاویزات قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ امریکا عالمی حیاتیاتی تحفظ کے نام پر دوہرے استعمال کی تحقیق کر رہا تھا، جس میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے اجزا بھی شامل تھے۔

    ماضی میں امریکی حکومت، محکمہ دفاع (پینٹاگون) اور اقوام متحدہ میں امریکی نمائندوں نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے واشنگٹن کا اصرار ہے کہ یہ لیبارٹریز عالمی سطح پر صحت کے تحفظ، وبائی امراض کی روک تھام اور پرامن سائنسی تحقیق کے لیے بنائی گئی ہیں اور یہ ‘حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن’ (Biological Weapons Convention) کے عین مطابق ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر غیر جانبدار آزاد سائنسدانوں اور ماہرین نے بھی اب تک ان الزامات کے حق میں کسی ٹھوس ثبوت کی تصدیق نہیں کی۔ آزاد مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ سہولیات زیادہ تر خطے کے حیاتیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے معیارات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    یہ تنازع اس لیے بھی عروج پر ہے کیونکہ امریکا کے اندر خود حکومتی سطح پر یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ بیرونِ ملک چلنے والے ایسے منصوبوں میں کتنی شفافیت اور حفاظتی اقدامات موجود ہیں امریکی اور یورپی حکام نے ان تمام دعوؤں کو بارہا ’پروپیگنڈا‘، ’مضحکہ خیز‘ اور ’غلط معلومات‘ قرار دیا، تاہم تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان نے اس تنازع کو دوبارہ عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

  • سعود ی عرب کی مسلسل تیسری بار آئی ایس ای ایف میں دنیا میں دوسری پوزیشن

    سعود ی عرب کی مسلسل تیسری بار آئی ایس ای ایف میں دنیا میں دوسری پوزیشن

    سعودی عرب نے عالمی سطح پر سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریجنیرون انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجینئرنگ فیئر (آئی ایس ای ایف) 2026 میں مسلسل تیسری بار دنیا بھر میں دوسرا مقام حاصل کر لیا ہے، جہاں امریکہ پہلے نمبر پر رہا۔

    سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ مقابلہ امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس میں 9 سے 15 مئی تک منعقد ہوا، جس میں 70 ممالک کے 1700 سے زائد طلبہ نے شرکت کی،سعودی ٹیم نے مجموعی طور پر 12 بڑے انعامات حاصل کیے، جن میں ایک پہلا انعام، 4 دوسرے، 5 تیسرے اور 2 چوتھے انعامات شامل ہیں اس کے علاوہ ٹیم کو 12 خصوصی ایوارڈز بھی دیے گئے۔

    رپورٹ کے مطابق 2007 سے اس مقابلے میں شرکت کے آغاز کے بعد سعودی عرب کے مجموعی انعامات کی تعداد 209 تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیتوں کا مظہر ہےاس سال 40 طلبہ پر مشتمل سعودی ٹیم نے مقابلے میں حصہ لیا، جن میں سے 23 نے موقع پر جبکہ 17 نے ریاض سے آن لائن شرکت کی، یہ طلبہ 357,000 سے زائد امیدواروں اور 34,000 سے زیادہ سائنسی منصوبوں میں سے منتخب کیے گئے تھے، جو سعودی عرب میں تحقیق، جدت اور تعلیم کے فروغ کو ظاہر کرتا ہے۔

  • پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    مبینہ منشیات فروش خاتون پنکی کو بچانے کے لیے بعض نامعلوم قوتوں کے متحرک ہونے کا انکشاف سامنے آگیا-

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، جس پر پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُس وقت بجلی موجود نہیں تھی، اسی وجہ سے ریکارڈنگ نہیں ہو سکی تاہم ذرائع کے مطابق معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم شواہد غائب کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے، البتہ کارروائیوں کے بعد اس کے کارندوں نے رابطے کے نمبرز تبدیل کر لیے ہیں،مبینہ طور پر منشیات خریدنے والوں کو پیغامات ارسال کیے گئے جن میں کہا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے دوست فراہم کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین دستیاب ہے پیغامات میں گولڈن اسٹف 25 ہزار روپے فی گرام جبکہ سلور اسٹف 15 ہزار روپے فی گرام فروخت کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ مبینہ خریداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ رقم اب فیاض کمیونی کیشنز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ کی جائے کیونکہ مذکورہ اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے، نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور رابطہ نمبرز کے ذر یعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا-

  • دورۂ چین: امریکی وفد کا کھانا پانی امریکا سے آیا، ٹرمپ اور ٹیم نے چینی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا

    دورۂ چین: امریکی وفد کا کھانا پانی امریکا سے آیا، ٹرمپ اور ٹیم نے چینی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے بعد سوشل میڈیا پر امریکی وفد سے متعلق مختلف دعوے زیرِ گردش ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا-

    ریاستیں ایک دوسرے کیساتھ تعلقات بھی رکھتی ہیں اپنا مفاد بھی رکھتی ہیں اور اپنی اناء بھی رکھتی ہیں بظاہر چین اور امریکہ میں بہت سرد مہری پائی جاتی ہے لیکن دونوں ممالک کی آپس میں تجارت بھی ہے دونوں ممالک کئی معاملات میں ایک دوسرے سے متفق بھی ہیں اور کئی معاملات کیں ایک دوسرے سے اختلاف بھی رکھتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے سربراہان اپنے اپنے ملک کی سفارتی، عسکری، تجارتی اور ریاستی خودمختاری کو بھی سامنے رکھتی ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ چین کے دورے پر گئے اور اپنے ساتھ امریکہ کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون سے لے کر ٹیکنالوجی کمپنی تک کے سربراہان تک کو ساتھ لیکر گئے لیکن جب واپس اپنے ملک جانے لگے تو ائیرپورٹ پر پہنچ کر موبائل سے لے کر سوئی اور چین کی طرف سے دئیے گئے تمام تحائف ائیرپورٹ کے باہر ایک باسکٹ میں ڈالتے گئے جبکہ امریکی وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا جبکہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے چینی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے کھانے کو ہاتھ تک نہیں لگایا-

    رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق امریکی وفد نے دورے کے دوران تمام خوراک اور پانی امریکا سے منگوایا جبکہ چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے تحائف بھی اپنے ساتھ واپس نہیں لے جائے گئے، بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے تحائف کو سیکیورٹی خدشات کے باعث قبول کرنے سے گریز کیا۔

    تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی وائٹ ہاؤس یا امریکی حکام کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا ہو کہ وفد نے چینی کھانا استعمال نہیں کیا یا پانی امریکا سے ایئر لفٹ کیا گیا تاہم امریکی وفد نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر چین میں استعمال ہونے والی بعض عارضی ڈیوائسز، بیجز اور دیگر سامان واپس روانگی سے قبل تلف ضرور کیے تھے مبصرین کے مطابق یہ اقدام سائبر سیکیورٹی پروٹوکول کا حصہ ہوسکتا ہے۔

    وجہ صرف اتنی تھی کہ چین کے دورے سے واپسی پر ہمارے پاس ایسا کچھ نہ ہو جو ہماری سیکیورٹی کو رسک میں ڈال دے اور جواب میں چین نے بھی اپنی ریاستی انا برقرار رکھی اور جیسے ہی آخری امریکی جہاز کیں بیٹھا چین نے ریڈ کارپٹ سے لیکر واپسی استقبالیہ ٹھہرے بچوں سمیت اپنی پروٹوکول فورس تک کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں لپیٹ کر چل دئیے جبکہ امریکی جہاز ابھی بھی ائیرپورٹ پر موجود تھا۔

    ریاستیں اپنی سیکیورٹی کو اس حد تک محفوظ کرتی ہیں کہ امریکی وفد نے چین سے واپسی پر سوائے اپنے کپڑوں کے باقی سب وہیں چین میں ہی چھوڑ دیا اور خود دار ریاستیں اپنی عزت اور اناء کا اس حد تک خیال کرتی ہیں کہ ابھی امریکی جہاز ائیرپورٹ پر موجود ہے جبکہ چین نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ائیرپورٹ کو خالی کر دیا۔

    سوشل میڈیا پر ان خبروں کو امریکا اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  • بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز  بیان پر پاک فوج کا سخت ردعمل

    بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز بیان پر پاک فوج کا سخت ردعمل

    آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف جنرل اوپندرا دویویدی کے اشتعال انگیز بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر ایک اہم ملک اور تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے۔

    آئی ایس پی آر نے اتوار کو جاری بیان میں بھارتی آرمی چیف کے پاکستان مخالف بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’جنون اور جنگی ذہنیت‘ قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کے نتائج خطے تک محدود نہیں رہیں گے-

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی آرمی چیف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے کہ نہیں۔

    بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہندوتوا سوچ کے برعکس پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ملک اور تسلیم شدہ ایک خودمختار، ایٹمی طاقت ہے، پاکستان جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا ناقابلِ تردید حصہ ہے بھارتی آرمی چیف کے ریمارکس اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ ہیں، جن کا مقصد جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران اور ممکنہ جنگ کی طرف دھکیلنا ہے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی قیادت کی سوچ اب بھی پاکستان کے وجود کو قبول کرنے میں ناکام ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے قیام کو آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، اس طرزِ فکر نے ماضی میں بھی خطے کو بارہا جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلا ہے کسی خودمختار ایٹمی ریاست کو ’جغرافیہ سے مٹانے ‘ کی دھمکی در اصل اسٹریٹجک سوچ نہیں بلکہ ’ذہنی افلاس، جنون اور جنگی ذہنیت‘ کی عکاس ہے بھارت یہ بخوبی جانتا ہے کہ کسی بھی جغرافیائی تصادم کے نتائج باہمی اور انتہائی تباہ کن ہوں گے،ذمہ دار ایٹمی ریاستیں اشتعال انگیز زبان کے بجائے تحمل، پختگی اور اسٹریٹجک سمجھداری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

    بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام کا باعث رہا ہے اور اس کا موجودہ جارحانہ رویہ بھی ناکامیوں اور مایوسی کا نتیجہ ہےبھارت کی قیادت کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیلنے کے بجائے پاکستان کے وجود اور حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی راہ اپنائے۔

  • مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں بیک وقت 17 زبانوں میں ترجمے کی سہولت

    مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں بیک وقت 17 زبانوں میں ترجمے کی سہولت

    مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں زائرین اور عازمین حج کی سہولت کے لیے 17 زبانوں میں بیک وقت ترجمے کی جدید سروس شروع کر دی گئی۔

    سعودی وزارت برائے مذہبی امور کے مطابق یہ جدید نظام آڈیو، ٹیکسٹ پروسیسنگ اور مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کی مدد سے فوری ترجمہ فراہم کرے گا، جس کے ذریعے دینی رہنمائی اور مذہبی سوالات کے جوابات مختلف زبانوں میں آسانی سے پہنچائے جا سکیں گےاس ٹیکنالوجی پر مبنی اقدام کا مقصد حج سیزن کے دوران مذہبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانا اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین تک حرمین شریفین کا اعتدال پسند پیغام مؤثر انداز میں پہنچانا ہے،جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے بین الاقوامی زائرین کو رہنمائی اور آگاہی کی سہولیات آسان، تیز اور مؤثر انداز میں فراہم کی جائیں گی۔

  • کیرالہ سے دہلی جانے والی راجدھانی ایکسپریس میں خوفناک آتشزدگی

    کیرالہ سے دہلی جانے والی راجدھانی ایکسپریس میں خوفناک آتشزدگی

    کیرالہ سے دہلی جانے والی راجدھانی ایکسپریس میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی-

    ریلوے حکام کے مطابق کیرالہ کے شہر ترواننت پورم سے دہلی جانے والی راجدھانی ایکسپریس کی ایک اے سی بوگی میں راجستھان کے شہر کوٹا کے قریب خوفناک آگ بھڑک اٹھی، تاہم تمام 68 مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

    آگ آج صبح قریباً 5 بج کر 15 منٹ پر وکرم گڑھ الوٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹرین کی بی-1 کوچ میں لگی واقعے کے فوراً بعد متاثرہ بوگی کو ٹرین سے الگ کر دیا گیا جبکہ حفاظتی اقدامات کے تحت اوور ہیڈ الیکٹرک سپلائی بھی معطل کر دی گئی تمام مسافروں کو بحفاظت دوسری بوگیوں میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنا سفر جاری رکھ سکیں، جبکہ کوٹا اسٹیشن پر ایک اضافی کوچ بھی ٹرین میں شامل کی جائے گی،آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں-

    12431 راجدھانی ایکسپریس جمعہ کے روز ترواننت پورم سے روانہ ہوئی تھی اور اسے آج دوپہر دہلی کے حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن پہنچنا تھادوسری جانب جمعہ کو ہی حیدرآباد میں حیدرآباد-جے پور اسپیشل ٹرین کی ایک خالی بوگی میں بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اس میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نیا میکینزم تیار کر لیا،میکینزم کے تحت خصوصی خدمات کی فیس لی جائے گی ، یہ راستہ نام نہاد ‘فریڈم پروجیکٹ’ آپریٹرز کے لیے بند رہے گا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے متعین کردہ روٹ پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے پیشہ ورانہ نظام تیار کیا ہے ، جس کا جلد اعلان کردیا جائے گا، اس سے ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تجارتی جہاز مستفید ہوں گے۔

    دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے حملے نہ ہونے کی ٹھو س ضمانت کے بغیر باضابطہ بات چیت دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی،

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو اصل تکلیف اس وقت شروع ہوگی جب امریکا کے قرض میں اضافہ ہوگا اور مارگیج کی شرح بڑھے گی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کی خواہش کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم امریکا کے حقیقی ارادوں پر اب بھی شدید عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس بات کی پختہ ضمانت دیں کہ مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملے نہیں کیے جائیں گے ماضی میں جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے دوران امریکا دو مرتبہ ایران پر حملے کر چکا ہے، جس کے باعث تہران کو واشنگٹن کی نیت پر تحفظات ہیں اگر سنجیدہ اور بااعتماد ماحول فراہم کیا گیا تو ایران سفارتی عمل آگے بڑھانے پر آمادہ ہوگا۔

  • منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    کراچی کے علاقے قائد آباد سے گرفتار خاتون منشیات سپلائر نرگس کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں.

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر منشیات کا خاندانی نیٹ ورک چلا رہی تھی گرفتار ملزمہ نرگس کا شوہر وکیل خان ریٹائرڈ پولیس اہلکار ہے، جو ماضی میں بھی منشیات کے مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے، جبکہ ان کا بیٹا طاہر خان بھی اس مبینہ نیٹ ورک میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔

    ذرائع کے مطابق ماں، باپ اور بیٹے پر مشتمل یہ گروہ کراچی کے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرنے میں ملوث تھا، جبکہ پوش علاقوں کے علاوہ جیلوں تک بھی منشیات پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے ملزمہ کا بیٹا طاہر خان جیل اہلکاروں سے رابطے میں تھا اور انہی روابط کے ذریعے مبینہ طور پر جیل کے اندر منشیات سپلائی کی جاتی تھی۔

    تفتیشی حکام کے مطابق کوئٹہ سے فضل ولی نامی شخص اس گروہ کو منشیات فراہم کرتا تھا، جسے کراچی لا کر گھر میں چھپایا جاتا اور بعد ازاں مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا،ملزمان نے ضلع ملیر میں مبینہ طور پر تین گھر بھی حاصل کر رکھے تھے، جہاں سے نیٹ ورک کی سرگرمیاں چلائی جاتی تھیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس منشیات نیٹ ورک کے مزید کرداروں اور سہولت کاروں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔