Baaghi TV

دورۂ چین: امریکی وفد کا کھانا پانی امریکا سے آیا، ٹرمپ اور ٹیم نے چینی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا

trump xijinping

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے بعد سوشل میڈیا پر امریکی وفد سے متعلق مختلف دعوے زیرِ گردش ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا-

ریاستیں ایک دوسرے کیساتھ تعلقات بھی رکھتی ہیں اپنا مفاد بھی رکھتی ہیں اور اپنی اناء بھی رکھتی ہیں بظاہر چین اور امریکہ میں بہت سرد مہری پائی جاتی ہے لیکن دونوں ممالک کی آپس میں تجارت بھی ہے دونوں ممالک کئی معاملات میں ایک دوسرے سے متفق بھی ہیں اور کئی معاملات کیں ایک دوسرے سے اختلاف بھی رکھتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے سربراہان اپنے اپنے ملک کی سفارتی، عسکری، تجارتی اور ریاستی خودمختاری کو بھی سامنے رکھتی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ چین کے دورے پر گئے اور اپنے ساتھ امریکہ کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون سے لے کر ٹیکنالوجی کمپنی تک کے سربراہان تک کو ساتھ لیکر گئے لیکن جب واپس اپنے ملک جانے لگے تو ائیرپورٹ پر پہنچ کر موبائل سے لے کر سوئی اور چین کی طرف سے دئیے گئے تمام تحائف ائیرپورٹ کے باہر ایک باسکٹ میں ڈالتے گئے جبکہ امریکی وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا جبکہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے چینی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے کھانے کو ہاتھ تک نہیں لگایا-

رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق امریکی وفد نے دورے کے دوران تمام خوراک اور پانی امریکا سے منگوایا جبکہ چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے تحائف بھی اپنے ساتھ واپس نہیں لے جائے گئے، بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے تحائف کو سیکیورٹی خدشات کے باعث قبول کرنے سے گریز کیا۔

تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی وائٹ ہاؤس یا امریکی حکام کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا ہو کہ وفد نے چینی کھانا استعمال نہیں کیا یا پانی امریکا سے ایئر لفٹ کیا گیا تاہم امریکی وفد نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر چین میں استعمال ہونے والی بعض عارضی ڈیوائسز، بیجز اور دیگر سامان واپس روانگی سے قبل تلف ضرور کیے تھے مبصرین کے مطابق یہ اقدام سائبر سیکیورٹی پروٹوکول کا حصہ ہوسکتا ہے۔

وجہ صرف اتنی تھی کہ چین کے دورے سے واپسی پر ہمارے پاس ایسا کچھ نہ ہو جو ہماری سیکیورٹی کو رسک میں ڈال دے اور جواب میں چین نے بھی اپنی ریاستی انا برقرار رکھی اور جیسے ہی آخری امریکی جہاز کیں بیٹھا چین نے ریڈ کارپٹ سے لیکر واپسی استقبالیہ ٹھہرے بچوں سمیت اپنی پروٹوکول فورس تک کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں لپیٹ کر چل دئیے جبکہ امریکی جہاز ابھی بھی ائیرپورٹ پر موجود تھا۔

ریاستیں اپنی سیکیورٹی کو اس حد تک محفوظ کرتی ہیں کہ امریکی وفد نے چین سے واپسی پر سوائے اپنے کپڑوں کے باقی سب وہیں چین میں ہی چھوڑ دیا اور خود دار ریاستیں اپنی عزت اور اناء کا اس حد تک خیال کرتی ہیں کہ ابھی امریکی جہاز ائیرپورٹ پر موجود ہے جبکہ چین نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ائیرپورٹ کو خالی کر دیا۔

سوشل میڈیا پر ان خبروں کو امریکا اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

More posts