پنجاب کے ضلع اٹک کے سرحدی علاقے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ گاؤں منکور کے رہائشی 40 سالہ لیاقت علی ایک مشتبہ نوجوان کو روکنے کی کوشش کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔ واقعہ گیارہ مئی کی شام دریائے سندھ کے قریب پیش آیا جہاں مقامی افراد معمول کے مطابق اپنے مویشی چرا رہے تھے۔
منکور، تحصیل جنڈ کا ایک سرحدی گاؤں ہے جو دریائے سندھ کے قریب واقع ہے۔ دریا کے دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق لیاقت علی اپنے بڑے بھائی نوید علی اور دیگر دیہاتیوں کے ساتھ موجود تھے جب ایک نوجوان تیزی سے خوشحال گڑھ چیک پوسٹ کی طرف دوڑتا ہوا دکھائی دیا۔
نوید علی نے بتایا کہ نوجوان کی مشکوک حرکات دیکھ کر لیاقت علی فوراً اس کی طرف بڑھے اور راستہ روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق لیاقت علی نے نوجوان کے قریب پہنچ کر دونوں ہاتھ پھیلا کر اسے روک لیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور کہاں جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نوجوان کو پنجابی زبان سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ نوید علی کے مطابق اس شخص نے جواب دیا کہ اسے پنجابی نہیں آتی۔ موقع پر موجود افراد کے مطابق صورتحال کچھ لمحوں میں کشیدہ ہو گئی اور بعد ازاں افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں لیاقت علی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف پایا جا رہا ہے جبکہ سکیورٹی اداروں اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
مقامی لوگوں نے لیاقت علی کی جرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے علاقے اور لوگوں کی حفاظت کے لیے بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اہلِ علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
Blog
-

اٹک میں مشتبہ نوجوان کو روکنے والا شہری جان کی بازی ہار گیا
-

قطر کا ایران کو انتباہ، آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال نہ کیا جائے
قطر نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنے یا انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور عالمی سطح پر اہم بحری راستوں کی سکیورٹی پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
قطری وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اسے سیاسی دباؤ یا علاقائی تنازعات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکی دورے کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے منفی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق قطر نے امریکہ کو باور کرایا کہ جنگ یا تنازع کا پھیلاؤ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے مفاد کے خلاف ہوگا۔
قطری وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کی بھی حمایت کی جا رہی ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد از جلد سیاسی اور سفارتی حل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی اس اہم تجارتی بحری راستے کو کسی بھی تنازع میں “ہتھیار” کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اس گزرگاہ کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔
ہاکان فیدان نے مزید کہا کہ ترکی ان سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے جن کی قیادت پاکستان کر رہا ہے، تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتے بیانات خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔ -

"اوکاڑہ نہر میں گرنے والی کار نکال لی گئی، 3 افراد جاں بحق، 12 سالہ بچہ معجزانہ طور پر محفوظ”
اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کے علاقے بصیر پور میں واقع ہیڈ گلشیر راجوال لنک نہر میں گرنے والی کار کو ریسکیو 1122 نے کامیاب آپریشن کے بعد نکال لیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق نہر میں گرنے والی گاڑی میں سوار 4 افراد میں سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 12 سالہ بچہ مونم رسول معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری موقع پر پہنچ گئیں اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ آپریشن میں 30 ریسکیورز، 8 غوطہ خوروں اور 4 کشتیوں نے حصہ لیا جبکہ گوجرانوالہ واٹر ریسکیو ٹیم نے بھی معاونت فراہم کی۔ریسکیو ٹیموں نے جدید تکنیک جیسے سکوبا سرچنگ، سونار ریڈار، پلنجر سرچنگ اور وائر سویپنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے سے گاڑی کا سراغ لگایا۔ بعد ازاں سکوبا ڈرائیورز نے رسوں کی مدد سے گاڑی کو باہر نکالا اور تینوں افراد کی نعشیں ضروری کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔یہ واقعہ علاقے میں افسوس اور غم کی فضا چھوڑ گیا جبکہ بچے کے محفوظ رہنے کو ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔ -

کراچی میں منشیات فروش خاتون گرفتار، بغیر ہتھکڑی پیشی پر پولیس حکام برہم
کراچی میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں گرفتار خاتون ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد ایک نیا تنازع سامنے آ گیا۔ پولیس حکام نے ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کیے جانے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
پولیس کے مطابق گارڈن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جس کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، مختلف کیمیکلز، نشہ آور اشیا اور ایک پستول برآمد کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ شہر میں منشیات کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک کو چلا رہی تھی اور اس کے خلاف 10 مقدمات پہلے سے درج تھے جبکہ وہ کئی کیسز میں مطلوب بھی تھی۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ جدید طریقوں سے منشیات کی سپلائی میں ملوث تھی۔ وہ آن لائن آرڈرز کے ذریعے مخصوص رائیڈرز کے ذریعے منشیات پہنچاتی تھی جبکہ خواتین رائیڈرز کا استعمال بھی کیا جاتا تھا تاکہ پولیس کو شک نہ ہو۔
ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہاں اسے بغیر ہتھکڑی لائے جانے پر شدید سوالات اٹھے۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے واقعے میں غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب تفتیشی افسران اور اہلکاروں کو فوری معطل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
ترجمان سندھ پولیس کے مطابق معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے سینئر افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا کہ تمام پولیس افسران اور اہلکار قانون اور قواعد و ضوابط کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنا ایک سنگین غفلت ہے جس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ -

اسکولوں میں کتابوں پر پلاسٹک کور لگانے پر پابندی
قومی اسمبلی نے وفاقی دارالحکومت کے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں کتابوں پر پلاسٹک کور استعمال کرنے کے خلاف اہم قانون منظور کر لیا ہے۔ اس اقدام کو ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
منظور کیے گئے بل کے مطابق اب تعلیمی اداروں میں کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جبکہ اس کے متبادل کے طور پر کاغذ، کپڑے اور بائیو ڈیگریڈیبل مواد کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ماحول دوست پالیسی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال کو کم کیا جا سکے۔
بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کور بظاہر کتابوں کو محفوظ رکھنے کا آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ماحول اور انسانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پلاسٹک فضلہ زمین، پانی اور ہوا کو آلودہ کر رہا ہے جبکہ اس کے اثرات جنگلی حیات پر بھی پڑ رہے ہیں۔
قانون سازوں نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک فضلہ پیدا ہوتا ہے، جس میں بڑی مقدار ناقابلِ ری سائیکل مواد پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہی پلاسٹک بعد ازاں ندی نالوں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں شامل ہو کر آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ماحولیاتی ماہرین طویل عرصے سے پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
نئے قانون کے تحت تعلیمی اداروں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ طلبہ اور والدین میں ماحول دوست شعور اجاگر کریں اور کتابوں کے لیے ایسے کور استعمال کیے جائیں جو قدرتی طور پر تحلیل ہو سکیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے نئی نسل میں ماحول کے تحفظ کا شعور بڑھے گا اور پلاسٹک کے مضر اثرات میں کمی آئے گی۔
ماہرین تعلیم نے بھی اس قانون کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں سے اس مہم کا آغاز مستقبل میں ملک بھر میں ماحول دوست رجحان پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ -

امریکا اسرائیل کیجانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی پر غور کریں گے،ایران
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی جیسے سخت اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران ممکنہ طور پر یورینیم کی 90 فیصد تک افزودگی پر غور کرے گا اس معاملے کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا اور ایران کے ساتھ ہونے والی موجودہ جنگ بندی کے بارے میں کہا کہ یہ اس وقت لائف سپورٹ پر ہے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے انہوں نے ایران کی جانب سے بھیجی گئی امن تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایران نے ایک فضول دستاویز بھیجی ہے جسے پڑھنے کا بھی میرا دل نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پہلے اپنا یورینیم دینے پر راضی تھا لیکن اب وہ اس سے مکر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف امریکا اور چین ہی جوہری مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ ایران کے خلاف مکمل فتح حاصل کر کے رہیں گے۔
ایران نے بھی امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے کمر کس لی ہے اور بحری دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنی چھوٹی آبدوزیں روانہ کر دی ہیں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آبدوزیں آبنائے ہرمز کی چھپی ہوئی محافظ ثابت ہوں گی اور کسی بھی دشمن کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے کہ غلط فیصلوں اور غلط حکمت عملی کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے،ہم ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر امریکا نے کوئی غلطی کی تو اسے وہ نتائج بھگتنے پڑیں گے جو اسے حیران کر دیں گے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے ریئر ایڈمرل محمد اکبرزادہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے محافظوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کا مؤثر اور طاقتور کنٹرول موجود ہے،ایران آبنائے ہرمز کو صرف ایک محدود جغرافیائی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، جو دیگر ممالک کی سوچ سے مختلف ہےماضی میں آبنائے ہرمز کو صرف ہرمز اور جزائر کے اطراف موجود ایک محدود علاقہ تصور کیا جاتا تھا، تاہم اب صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ماضی میں اس آبی گزرگاہ کی چوڑائی 20 سے 30 میل سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، جو جاسک اور سیریک سے جزیرہ قشم اور تنبِ بزرگ سے آگے تک محیط ’چاند‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
محمد اکبرزادہ نےکہا کہ ایران کی خطے کے دیگر ملکوں کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم بعض حکومتیں ہمیشہ ایران مخالف رویہ اپناتی رہی ہیں بعض ممالک ایران کے ہر اقدام کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے ایران انہیں فتح کرنا چاہتا ہو، حالانکہ یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے اور ایران کے بارے میں یہ ایک منفی اور جھوٹی تصویر بنائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے توانائی، تجارتی سامان کی ترسیل اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں کبھی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ عالمی برادری کو وسیع خدمات فراہم کیں بعض مواقع پر ایران نے اپنے علاقائی پانیوں سے گزرنے والے جہازوں، حتیٰ کہ مخالف ممالک کے بحری جہازوں کو بھی سیکیورٹی فراہم کی اور یہ خدما ت مفت مہیا کی گئیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں ہونے والی تمام نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سمندری حدود اور قومی مفادات پر کسی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دے گا خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں نئی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں، جن کے اثرات دنیا جلد دیکھے گیانہوں نے ایرانی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔
-

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں آج بڑا اضافہ ہوا ہے-
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 41ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 701ڈالر کی سطح پر آگئی ،جس کے بعد پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 4100 روپے کا اضافہ ہوگیا،ملک میں فی تولہ سونا 4100 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت 4لاکھ 92ہزار 462روپے کی سطح پر آگئی،فی 10 گرام سونے کی قیمت 3ہزار 516روپے بڑھ کر 4لاکھ 22ہزار 206روپے کی سطح پر آگئی،اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 3 لاکھ 87 ہزار 36 روپے ہوگئی۔
علاوہ ازیں فی تولہ چاندی کی قیمت 395 روپے کے اضافے سے 8ہزار 906 روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 339روپے کے اضافے سے 7ہزار 637روپے کی سطح پر آگئی۔
-

ٹرالر حادثے میں لاپتا ماہی گیر 54 سال بعد گھر پہنچ گیا
بنگلہ دیش کے ساحلی علاقے میں 54 برس قبل لاپتا ہونے والا ایک 83 سالہ ماہی گیر اچانک اپنے گھر واپس پہنچ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سید احمد نامی ماہی گیر تقریباً 54 سال قبل کتب دیا کے ساحل کے قریب ایک ماہی گیری ٹرالر الٹنے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا کئی دہائیوں تک اس کا کوئی سراغ نہ ملنے پر اہلِ خانہ نے سمجھ لیا تھا کہ وہ سمندر میں جاں بحق ہوچکا ہے،تاہم اب بزرگ شخص 5 مئی کو ہاتیا میونسپلٹی کے علاقے پنچ بیگھا گاؤں میں واقع اپنے آبائی گھر واپس آیا، جس کے بعد علاقے میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور لوگوں میں تجسس پھیل گیا،مقامی لوگوں نے اس واقعے کو جذباتی اور حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق سمندری حادثے کے بعد سید احمد کسی طرح بھارت پہنچ گیا تھا، جہاں اس نے کئی دہائیاں مختلف علاقوں اور مذہبی اداروں میں گزاریں،حال ہی میں مبینہ طور پر ہاوڑہ ریلوے اسٹیشن کے قریب لٹنے کے بعد بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس نے اسے تحویل میں لیا،قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے بنگلہ دیش واپس بھیج دیا گیا۔
ابتدائی طور پر اہلِ خانہ کو اس کی شناخت پر یقین نہیں آیا، تاہم خاندان کے بزرگ افراد اور مقامی لوگوں نے ذاتی یادوں اور خاندانی تفصیلات کی بنیاد پر اسے پہچان لیااس غیرمعمولی واپسی کے بعد خاندان کے اندر تنازع بھی پیدا ہوگیا ہے، سید احمد کے بیٹے اکرم نے ہاتیا تھانے میں جنرل ڈائری (جی ڈی) درج کرائی ہے۔
شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ بعض رشتہ دار جائیداد اور مالی معاملات کے باعث اس کے والد کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں ہاتیا پو لیس اسٹیشن کے افسر انچارج کبیر حسین نے تصدیق کی کہ معاملہ پولیس کے علم میں آچکا ہے اور خاندان کے افراد کے درمیان بزرگ شخص کی دیکھ بھال اور رہائش کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
-

آزاد کشمیر انتخابات:ابھی تک کسی امیدوار کو پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا ،ن لیگ
پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر نے عام انتخابات کے لیے جماعتی ٹکٹوں سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئےکہا ہے کہ ابھی تک کسی امیدوار کو پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔
پارٹی کے سیکریٹری جنرل چوہدری طارق فاروق کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بعض میڈیا چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مختلف حلقوں کے لیے امیدواروں کے نام فائنل ہونے کی خبریں چلائی جا رہی ہیں، تاہم ان میں کوئی صداقت نہیں، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کا پارلیمانی بورڈ تاحال کسی حتمی فیصلے یا اعلان پر نہیں پہنچا، اس لیے میڈیا میں سامنے آنے والی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔
چوہدری طارق فاروق نے بعض میڈیا نمائندگان کے طرزِ عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریٹنگ اور توجہ حاصل کرنے کی خاطر تجزیوں کو خبر کا رنگ دینا صحافتی اصولوں اور اخلاقی ذمہ داریوں کے خلاف ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ میڈیا ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے گا اور صرف مصدقہ معلومات عوام تک پہنچائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف کی تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام کی صدارت میں ہوا تھا، جس میں آزاد کشمیر کی لیگی قیادت نے شرکت کی، ٹکٹوں سے متعلق سفارشات نواز شریف کو ارسال کی جائیں گی، جس کے بعد حتمی اعلان متوقع ہے۔
-

ایران نے مسلح بلوچ گروپ کے رکن کو پھانسی دے دی
ایران نے بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح بلوچ گروہ کے ایک مبینہ رکن کو پھانسی دے دی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران نے ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح بلوچ گروہ ’انصار الفرقان‘ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ رکن کو پھانسی دے دی ہے اس کارروائی کو ایران کے شورش زدہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلا ف ہونے والی مسلح بغاوت کو کچلنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے صوبہ سیستان بلوچستان طویل عرصے سے ایرانی سیکیورٹی فورسز اور مختلف مسلح گروہوں کے درمیان تصادم کا مرکز رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والے قیدی کی شناخت عبدالخلیل شاہ بخش کے نام سے ہوئی ہے جس پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف مسلح بغاوت اور ایک دہشت گرد گروہ کی رکنیت سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ عبدالخلیل شاہ بخش پر الزامات ثابت ہونے کے بعد عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تھی، جس کی بعد میں ملک کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کر دی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اکثر ایران میں ہونے والی ان سزاؤں پر تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے عدالتی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔