بھارتی شہر ممبئی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پھل فروشوں نے پھلوں پر چوہا مار زہر لگایا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک رہائشی نے ویڈیو شواہد کے ساتھ پولیس میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے کارروائی کے دوران فروٹ اسٹال سے راٹول نامی زہریلا مادہ برآمد کیا، جس میں یلو فاسفورس شامل تھا۔ اسٹال کو سیل کر دیا گیا اور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
تحقیقات میں ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ رات کے وقت پھلوں کو چوہوں سے بچانے کے لیے یہ زہر استعمال کرتے رہے۔
Blog
-

پھلوں میں چوہا مار زہر لگانے والے پھل فروش گرفتار
-

پنجاب اسمبلی میں 10 ارب روپے کے طیارے پر ہنگامہ، اپوزیشن کا احتجاج
پنجاب اسمبلی میں صوبائی حکومت کے نئے ہوائی جہاز کے معاملے پر ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔ وقفہ سوالات کے دوران محکمہ اطلاعات کے امور زیر بحث آئے، لیکن ماحول اس وقت کشیدہ ہو گیا جب پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ عابد نے سوال کیا کہ وزیر اعلیٰ راجن پور کے دورے کے لیے 11 ارب روپے کے جہاز کا استعمال کریں گی؟
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے جواب دیا کہ بلاول بھٹو سندھ حکومت کے جہاز پر جا سکتے ہیں، یہ پنجاب حکومت کا جہاز ہے اور ان کی مرضی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے نیا طیارہ تقریباً 10 ارب روپے میں خریدا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے اس کی ضرورت اور خریداری کی مد کے بارے میں سوال کیا، جس پر اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً کاغذی جہاز ایوان میں لہرائے۔
اسپیکر نے کہا کہ جواب دینا ہوتا تو خریداری کو درست قرار دیتا، تاہم یہ میرا کام نہیں۔ اپوزیشن نے عمران خان کی صحت اور قید پر بھی بات کی، جس پر رانا ارشد نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو اپنے دور کی کارکردگی بھی دیکھنی چاہیے۔
حکومتی رکن احسن رضا نے بانی پی ٹی آئی کو نشئی قیدی کہا، جس پر ایوان غیر پارلیمانی القابات سے گونج اٹھا۔ اسپیکر نے فوری طور پر غیر پارلیمانی الفاظ حذف کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ قائدین کے خلاف غلط الفاظ استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ -

رویت ہلال ریسرچ کونسل کی عیدالفطر سے متعلق پیشگوئی
لاہور:رویت ہلال ریسرچ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات 19 مارچ 2026ء کی شام شوال کا چاند نظر آنے کا امکان نہیں، جس کے باعث پاکستان میں عیدالفطر ہفتہ 21 مارچ 2026ء کو ہونے کی توقع ہے۔
کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی کے مطابق نیا چاند 19 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 23 منٹ پر پیدا ہوگا تاہم اسی روز غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر رویت کے لیے درکار 19 گھنٹوں سے کم یعنی 13 گھنٹوں سے بھی کم ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ غروب شمس اور غروب قمر کے درمیان فرق جو کم از کم 40 منٹ ہونا ضروری ہوتا ہے وہ کراچی میں 26 منٹ جبکہ پشاور میں 30 منٹ رہے گا اس لیے مطلع صاف ہونے کی صورت میں بھی چاند کی رویت ننگی آنکھ، دوربین یا ٹیلی سکوپ سے ممکن نہیں، شوال 1447ھ کا آغاز رمضان المبا رک کے 30 روز مکمل ہونے کے بعد ہفتہ 21 مارچ 2026 سے ہوگا اور اسی روز ملک بھر میں عیدالفطر منائے جانے کا امکان ہے-
جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق بڑی غلطی ،بل گیٹس نے فلاحی تنظیم کے عملے سے معذرت کرلی
نرخنامہ ردی کی ٹوکری میں قصابوں کی ہڑتال سے شہر یرغمال
آئینی عدالت نے سیکرٹری دفاع کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی روک دی
-

جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق بڑی غلطی ،بل گیٹس نے فلاحی تنظیم کے عملے سے معذرت کرلی
بل گیٹس نے بدنام زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلق کو ’بڑی غلطی‘ قرار دیتے ہوئے اپنی فلاحی تنظیم کے عملے سے معذرت کرلی ہے۔
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق بل گیٹس نے ایک داخلی اجلاس میں اعتراف کیا کہ ایپسٹین سے ملاقاتوں نے گیٹس فاؤنڈیشن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور منفی تاثر پیدا کیا ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا ایک بہت بڑی غلطی تھی میں اس غلطی کے باعث متاثر ہونے والے تمام افراد سے معذرت خواہ ہوں۔
بل گیٹس نے وضاحت کی کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی کام نہیں کیا اور نہ ہی ایپسٹین کی متاثرہ خواتین سے کبھی رابطہ رکھا متنازع تصاویر درا صل ایپسٹین کے دفتر میں لی گئیں، جہاں انہیں عملے کے ساتھ تصویر بنوانے کی درخواست کی گئی تھی ان کی ایپسٹین سے پہلی ملاقات 2011 میں ہوئی جبکہ 2013 سے ان کی سابقہ اہلیہ میلِنڈا فرانسیسی گیٹس نے اس تعلق پر تحفظات کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی سابقہ اہلیہ کے خدشات درست ثابت ہوئے۔
ہیٹ ویو اور گلشیئر پگھلنے سے مارچ تا ستمبر سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019 میں نیویارک کی حراست میں انسانی اسمگلنگ کے مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا، 2008 میں امریکی ریاست فلوریڈا میں وہ کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کے الزام میں سزا یافتہ بھی رہ چکا تھا،بل گیٹس نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اقدامات نے ان کی فلاحی تنظیم کے بنیادی اصولوں سے متصادم تاثر پیدا کیا، جس پر وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
-

نرخنامہ ردی کی ٹوکری میں قصابوں کی ہڑتال سے شہر یرغمال
مٹن 2500 اور بیف کی 1400 تک دھڑلے سے فروخت جبکہ سرکاری نرخ 1800 اور 900 ہوا میں تحلیل جرمانوں کی دھمکی پر دکانیں بند
بلیک میلنگ یا کاروباری مجبوری؟ کیا اس بار بھی طاقتور حلقے بازی لے جائیں گے؟ یا انتظامیہ واقعی سرکاری نرخ نافذ کر کے دکھائے گی؟
گوجرخان(قمرشہزاد) گوجرخان ایک بار پھر گوشت بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں سرکاری ریٹ لسٹ کاغذوں تک محدود اور بازار عملاً بے لگام دکھائی دے رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے حکومتی احکامات کے تحت مٹن کی 1800 اور بیف 900 روپے فی کلو فروخت یقینی بنانے کے لیے بھاری جرمانوں، دکانوں کی سیلنگ اور مقدمات کے اندراج کی گونج ابھی سنائی ہی دے رہی تھی کہ قصاب برادری نے دکانوں کے شٹر گرا کر شہر کو عملاً یرغمال بنا لیا۔یہ محض نرخوں کا جھگڑا نہیں، ریاستی رٹ اور بازار کی من مانی کے درمیان کھلی جنگ بن چکا ہے۔ ایک طرف انتظامیہ جرمانوں اور مقدمات کی دھمکیاں دے رہی ہے، تو دوسری طرف قصاب جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، چارہ، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، ایسے میں سرکاری نرخ زمینی حقائق سے متصادم ہیں کا جواز پیش کر کے اجتماعی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ عام شہری مہنگائی، قلت اور غیر یقینی صورتحال کے شکنجے میں جکڑا کھڑا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر نرخ ناقابلِ عمل ہیں تو پھر کھلے عام 2500 روپے فی کلو مٹن اور 1400 روپے کلو بیف دھڑلے سے فروخت کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ شہری اس کشمکش کو محض انتظامیہ اور قصابوں کی چپقلش نہیں بلکہ ایک منظم دباؤ کی سیاست قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال یہی اسکرپٹ دہرایا جاتا ہے پہلے چھاپے، پھر جرمانے، اس کے بعد ہڑتال، اور آخرکار سیاسی پنڈتوں کی مداخلت کے ذریعے خاموش سمجھوتہ نتیجہ؟ عوام کی جیب پر ڈاکہ، شہریوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر حکومت اور مقامی انتظامیہ کو آخرکار گھٹنے ہی ٹیکنے ہیں تو نرخناموں کا نمائشی ڈھول بجانا بند کیا جائے۔ بصورتِ دیگر ریاست اپنی رٹ قائم کرے اور سرکاری ریٹ لسٹ پر بلاامتیاز گوشت کی دستیابی یقینی بنائے۔ گوجرخان کے بازار اس وقت سنسان ہیں مگر سوال گونج رہا ہے کیا اس بار بھی طاقتور حلقے بازی لے جائیں گے؟ یا انتظامیہ واقعی سرکاری نرخ نافذ کر کے دکھائے گی؟ فیصلہ جو بھی ہو، اس رسہ کشی کا سب سے بڑا خمیازہ عام شہری ہی بھگت رہا ہے۔ -

100 سال قبل انگریز حکومت کو قرضہ دینے والے خاندان کا برطانیہ پر مقدمہ
100 سال قبل انگریز حکومت کو قرضہ دینے والے خاندان نے برطانیہ پر مقدمہ درج کر دیا-
بھارتی میڈیا کے مطابق 1917 میں جب دنیا پہلی جنگِ عظیم کی لپیٹ میں تھی اسی دوران سہور کے معروف تاجر سیٹھ جمعہ لال رتھیا نے مبینہ طور پر برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے بطور قرض دیے تھے اس دور میں یہ ایک بہت بڑی رقم تھی، جو کئی جاگیروں اور سلطنتی منصوبوں کو تبدیل کر سکتی تھی۔
رتھیا خاندان کا کہنا ہے کہ یہ رقم آج تک واپس نہیں کی گئی سیٹھ جمعہ لال کے پوتے، وویک رتھیا کے مطابق خاندان نے حال ہی میں اپنے پرانے کاغذات، وصیت ناموں اور خطوط میں وہ ثبوت دریافت کیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ برطانوی حکومت نے یہ رقم ایک ’’وار لون‘‘ کے طور پر لی تھی تاکہ بھوپال ریاست میں انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔
آئینی عدالت نے سیکرٹری دفاع کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی روک دی
وویک رتھیا کا کہنا ہے کہ میرے دادا نے 1917 میں برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے قرض دیئے تھے آج ایک صدی گزرنے کے باوجود وہ رقم واپس نہیں ملی، ان کے پاس اس قرض سے متعلق سرکاری تصدیقی دستاویزات موجود ہیں، اور اب وہ برطانوی حکومت کو باضابطہ قانونی نوٹس بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس تاریخی قرض کی واپسی ممکن ہو سکے۔
سیٹھ جمعہ لال رتھیا کا انتقال 1937 میں ہوا، مگر ان کے بعد یہ معاملہ رفتہ رفتہ پسِ پشت چلا گیا خاندان کا دعویٰ ہے کہ اگر اس رقم کو آج کے حساب سے سونا یا دیگر مالی قدر میں تبدیل کیا جائے تو یہ کروڑوں روپے کے برابر بنتی ہے۔
پنجاب بھر میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی
بھارتی میڈیا کے مطابق آزادی سے پہلے رتھیا خاندان سہور اور بھوپال کے سب سے معزز اور امیر خاندانوں میں شمار ہوتا تھا ان کے پاس وسیع زمینیں تھیں جن میں سے آج بھی کہا جاتا ہے کہ سہور کی 20 سے 30 فیصد آبادی ان کی سابقہ زمینوں پر آباد ہے خاندان اب بھی بھوپال، اندور اور سہور میں جائدادوں کا مالک ہے اور کھیتی باڑی، ہوٹلنگ اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ہے، اگرچہ کئی پرانی زمینوں کے کرایوں اور ملکی تنازعات میں پھنسے ہونے کے سبب انہیں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا بھی رہتا ہے۔
پنجاب بھر میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی
قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ ایسے تاریخی دعوے نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں، لیکن اگر کسی خاندان کے پاس مستند دستاویزی ثبوت ہوں تو یہ مقدمہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک غیر معمولی قانونی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر جب معاملہ کسی نوآبادیاتی دور کے معاہدے سے جڑا ہو۔
-

آئینی عدالت نے سیکرٹری دفاع کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی روک دی
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کارروائی سے روک دیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کیس میں حکام کے خلاف کارروائی کے فیصلے پر اپیل کی سماعت کی،وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کارروائی سے روک دیا،عدالت نے سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر، ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کیخلاف کارروائی پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع اور دیگر افسران کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں، جسٹس باقر نجفی نے استفسار کہا کہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم کس بنیاد پر دیا گیا؟ کیا تعین ہوگیا تھا کہ لاپتہ شخص سرکاری تحویل میں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے کہا کہ عدالت کے پاس ایسا کوئی مواد نہیں تھا جس سے یہ تعین ہوتا، عدالت میں لاپتہ شخص کے اہلخانہ نے سرکاری تحویل میں ہونے کا بیان حلفی دیا تھا، متعلقہ افسران نے جوابی حلف نامے بھی دیئے تھے کہ لاپتہ شخص سرکاری تحویل میں نہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت نے حبس بیجا کے کیس میں افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا، محکمانہ کارروائی نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی بھی جاری ہے، حبس بیجا کے کیس میں ہائیکورٹ اس نوعیت کا حکم نہیں دے سکتی، افسران کی انٹراکورٹ اپیل ہائی کورٹ نے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی،بعدازاں آئینی عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری ساجد الرحمان کی سرکاری تحویل سے رہائی اور افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا
-

ہیٹ ویو اور گلشیئر پگھلنے سے مارچ تا ستمبر سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شمالی علاقوں میں غیر معمولی درجہ حرارت کے باعث مارچ تا ستمبر کے دوران ہیٹ ویو اور گلشیئر کے تیز پگھلنے کے خدشات پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث ممکنہ طور پر ہیٹ ویو اور گلیشیئر پگھلنے کے عمل میں تیزی کا خدشہ ہےشمالی علاقہ جات کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر مارچ تا ستمبر کے دوران گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی جاری ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق مارچ سے جون کے دوران تیزی سے پگھلتے گلیشیئر کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، گلیشائی جھیلوں کے ممکنہ سیلاب کے باعث آبادیوں اور زرعی اراضی کو شدید نقصان کا اندیشہ ہےگلگت بلتستان کے احمد آباد، فیض آباد، مجاور، وادی اشکومن، گلکن، گلمت بوبر اور وہند سمیت متعدد علاقے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں خیبر پختونخوا کے ریشون، کمراٹ، یارخن ویلی، لشٹ،استاچ، ڈزق اور بریپ کے علاقو ں میں گلیشائی جھیلوں کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
پنجاب بھر میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی
پی ڈی ایم اے، جی بی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 سمیت تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہ کر دیا گیا ہے،ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی انخلا کے لائحہ عمل اور پیشگی انتباہی نظام فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے عوام موسم کے حوالے سے بر وقت آگاہی یقینی بنائیں اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں دریا کے کناروں اور گلیشیائی ندی نالوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ عوام ممکنہ خطرے کی صورت میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں، مستند معلومات اور بروقت الرٹس کے لیے ’’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘‘ ایپ سے راہنمائی لیں۔
قصور میں ڈیجیٹل بلیک میلنگ سے تنگ 22 سالہ نوجوان طالبہ کی خودکشی
-

پنجاب بھر میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی
پنجاب بھر میں ڈرونز کے ذریعے سیکیورٹی میں خلل ڈالنے کے خدشات کے پیش نظر صوبہ بھر میں 30 دن کے لیے آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر فوری اور مکمل پابندی عائد کردی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بڑھتے اور غیر منظم ڈرون استعمال سے عوامی سلامتی، سرکاری و نجی املاک کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں مستند اطلاعات اور موجودہ حالات کے پیش نظر ڈرونز کا بے قابو استعمال سرکاری امور میں رکاوٹ، سیکیورٹی خدشات اور صوبے کے پرامن ماحول میں خلل کا باعث بن سکتا ہے، لہٰذا عوام کے جان و مال اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیر تھے۔
محکمہ داخلہ نے یہ پابندی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144(6) کے تحت نافذ کی ہے حکم کے مطابق یہ پابندی پنجاب کے تمام اضلاع میں فوری طور پر لاگو ہوگی اور 30 روز تک مؤثر رہے گی، یا اس سے پہلے واپس لیے جانے تک برقرار رہے گی۔
سندھ ،ائیر پورٹ پک اینڈ ڈراپ پر 2 افراد سے زائد کے آنے پر پابندی عائد
حکم نامے میں چند استثنائی نکات بھی واضح کیے گئے ہیں، ہالز یا مارکیز جیسے محدود اور بند مقامات میں تقریبات کی اندرونی کوریج کے لیے چھوٹے ڈرون کے استعمال کی اجازت ہوگی تاہم اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ ان ڈرونز کا استعمال محفوظ طریقے سے ہو، جس کی مکمل ذمہ داری تقریب کے منتظمین پر عائد ہوگی،اس کے علاوہ، انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈرون استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی، تاکہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کریں۔
پیشے جو ملازمین کو خودکشی پر مجبور کردیتے ہیں ،ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات کی تحقیق میں انکشافات
محکمہ داخلہ نے متعلقہ اداروں، پولیس حکام، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو حکم پر عملدرآمد کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کسی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام اور صوبے میں امن و سکون کو یقینی بنانا ہے۔
-

سندھ ،ائیر پورٹ پک اینڈ ڈراپ پر 2 افراد سے زائد کے آنے پر پابندی عائد
سندھ حکومت نے ائیر پورٹ پک اینڈ ڈراپ پر 2 افراد سے زائد کے آنے پر پابندی عائد کردی۔
صوبائی وزیرِ داخلہ کی زیرِ صدارت سکیورٹی تھریٹس سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ افسران نے تفصیلی بریفنگ دی،اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہاکہ ماضی کے واقعات اور حادثات کے پیشِ نظر ہمیں سخت فیصلے کرنے ہوں گے، جائے حادثہ پر کوئیک رسپانس کے لیے جامع ایس او پیز بنائے جائیں، ائیر پورٹ پر زیادہ رش کی وجہ سے سکیورٹی کو فول پروف بنانا ہوگا، ائیر پورٹ پک اینڈ ڈراپ پر ایک سے دو افراد کی اجازت ہوگی، پولیس کو قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں سے روابط کو مضبوط بنانا ہوگا، سندھ کی تمام جیلوں میں تلاش ایپ ڈیوائس کی دستیابی یقینی بنائی جائے، صوبائی سطح پر داخلی و خارجی پوائنٹس پر لیڈی سرچر کا ہونا لازمی ہے، تمام اہم اور حساس تنصیبات کا سکیورٹی آڈٹ کیا جائے، اسلحے کی نمائش کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے اور نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر اس کی روح کے مطابق عمل یقینی بنایا جائے۔