Baaghi TV

Blog

  • راولپنڈی فرنچائز نے اپنے نئے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا

    راولپنڈی فرنچائز نے اپنے نئے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا

    پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن سے قبل راولپنڈی فرنچائز نے اپنے نئے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

    فرنچائز کو اب ’پنڈیز‘ کا نام دیا گیا ہے،یہ اعلان 25 سیکنڈ کی ایک ویڈیو کے ذریعے کیا گیا پس منظر میں پرجوش موسیقی شامل تھی ویڈیو کے ساتھ پیغام دیا گیا کہ ٹیم بااعتماد، چیلنج قبول کرنے والی اور کھیل کا انداز بدلنے کے لیے تیار ہے، ساتھ ہی فرنچائز نے جلد آفیشل لوگو جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

    فرنچائز کا نام پہلے ملتان سلطانز تھا تاہم سابق مالک علی ترین نے گزشتہ سیزن کے بعد ملکیت کا معاہدہ تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے عارضی طور پر فرنچائز کے معاملات سنبھالے راولپنڈی فرنچائز کو ولی ٹیکنالوجیز نے لاہور کے ایکسپو سینٹر میں ہونے والی نیلامی میں 2 ارب 45 کروڑ روپے میں حاصل کیا تھا اب کمپنی کے مالک احسن طاہر نے فرنچائز کو راولپنڈی سے منسوب کرتے ہوئے نیا نام دینے کا فیصلہ کیا۔

    بنگلہ دیشٌ: فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں

    واضح رہے کہ پی ایس ایل کا 11واں ایڈیشن 26 مارچ سے 3 مئی تک کھیلا جائے گا، جس میں 8 ٹیمیں حصہ لیں گی اس دوران 2 نئی فرنچائزز بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں ’حیدرآباد ہیوسٹن کنگزمین‘ اور ’سیالکوٹ اسٹالینز‘ شامل ہیں۔

    ایم کیو ایم کی سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست مسترد

  • دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کے بیانیے کے پیچھے چھپی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی بے نقاب ہو گئی

    31جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں میں لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل سلیم بلوچ بھی ملوث تھا ،فتنہ الہندوستان اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سلیم بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ،فتنہ الہندوستان کا سرغنہ سلیم بلوچ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے حملوں میں سیکیورٹی فورسز سے لڑتے ہوئے تربت میں جہنم واصل ہوا ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہرنگ لانگو اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دہشتگرد سلیم بلوچ کو لاپتہ قرار دیگر پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے ،یہ پہلا موقع نہیں جب کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ، ماہ رنگ لانگو اور دیگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں لاپتہ افراد کا پروپیگنڈا کرتی رہی ہیں،اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل رہے ہیں

    مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی جہنم واصل ہوئے تھے.بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی فہرست میں دہشگرد عبدالحمیداور راشد بلوچ بھی شامل تھے جنہیں جہنم واصل کیا گیا ،2025 میں قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو اور مارچ 2024 کو گوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے ، نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا

    سلیم بلوچ اور اس جیسے دیگر دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کی تصدیق ہے کہ ;نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کر نے کی سازش ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو احساس محرومی کے گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کردیتی ہے،فتنہ الہندوستان ان بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں مسلح بغاوت اور دہشتگردی کیلئے استعمال کرتی ہے

    ماہرین کی رائے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا سافٹ چہرہ فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد کارروائیوں کو لاپتہ افراد کے بیانیے سے تحفظ دیتا ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ’’را‘‘ اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی حاصل ہے، نام نہادلاپتہ افراد کی فہرست میں شامل دہشتگردوں کی ہلاکت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بے بنیاد پروپیگنڈا زمین بوس ہو چکا ہے,

  • بنگلہ دیشٌ: فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں

    بنگلہ دیشٌ: فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں

    بنگلہ دیش کی نومنتخب حکومت نے سول اور عسکری انتظامیہ کے اہم عہدوں پر مرحلہ وار ردوبدل کا آغاز کر دیا ہے یہ تبدیلیاں بتدریج کی جائیں گی اور وسیع پیمانے پر اچانک تبادلوں سے گریز کیا جائے گا۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق سول بیوروکریسی کے 2 اعلیٰ ترین عہدوں پر پہلے ہی تبدیلی کی جا چکی ہے، جبکہ اتوار کے روز بنگلہ دیش آرمی کے 8 سینئر عہدوں پر تقرریاں اور تبادلے کیے گئے اسی طرح پولیس کے اعلیٰ عہدوں اور جامعات کے وائس چانسلرز کے حوالے سے بھی آئندہ ہفتوں میں فیصلوں کا امکان ہے۔

    ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق، تبدیلیاں مرحلہ وار کی جائیں گی اور تقرریوں و ترقیوں میں میرٹ، اہلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو بنیاد بنایا جائے گاحکومت کے قیام کے 5 دن کے اندر آرمی ہیڈکوارٹرز نے 8 سینئر عہدوں پر ردوبدل کے احکامات جاری کیے لیفٹیننٹ جنرل مینور رحمان کو چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) مقرر کیا گیا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن، جو آرمڈ فورسز ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف آفیسر (PSO) تھے، کو وزارتِ خارجہ کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں سفارتی ذمہ داری بطور سفیر سونپی جا سکے میجر جنرل میر مشفق الرحمٰن کو نیا PSO مقرر کیا گیا ہےبریگیڈیئر جنرل قیصر رشید چوہدری کو ترقی دے کر میجر جنرل بنایا جا رہا ہے اور انہیں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (ڈی جی ایف آئی) کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا جائے گا۔

    موجودہ ڈی جی ایف آئی سربراہ میجر جنرل محمد جہانگیر عالم کو بھی سفارتی تقرری کے لیے وزارتِ خارجہ بھیجا جا رہا ہےدیگر تقرریوں میں میجر جنرل جے ایم امداد الاسلام کو ایسٹ بنگال رجیمنٹل سینٹر (EBRC) کا کمانڈنٹ اور میجر جنرل فردوس حسن کو 24 انفنٹری ڈویژن کا جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC) مقرر کیا گیا ہے اسی طرح نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن میں تعینات دفاعی مشیر بریگیڈیئر جنرل ایم ڈی حفیظ الرحمٰن کو ترقی دے کر میجر جنرل بنایا گیا ہے اور انہیں 55 انفنٹری ڈویژن کا GOC مقرر کیا گیا ہے۔

    سیکریٹریٹ حکام کے مطابق سول انتظامیہ میں اصلاحات حکومت کے متوقع 180 روزہ ایکشن پلان کے تحت کی جائیں گی، جسے آئندہ چند روز میں حتمی شکل دی جائے گی حکومت کی تشکیل سے قبل نئے کابینہ سیکریٹری کی تقرری کی گئی تھی، جبکہ اے بی ایم عبد الستار کو وزیرِاعظم کا پرنسپل سیکریٹری مقرر کیا گیا-

    بنگلہ دیش کی اعلیٰ قیادت میں بھی ردوبدل کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیرِداخلہ صلاح الدین احمد نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر جلد تبدیلیاں متوقع ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (IGP) بہار العالم، جنہیں عبوری حکومت کے دوران کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا تھا، کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق عہدہ خالی ہونے کی صورت میں کئی سینئر افسران زیرِ غور ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگست 2024 کی عوامی تحریک کے بعد فورس اب بھی استحکام کے عمل سے گزر رہی ہے، اس لیے حکومت وسیع پیمانے کی تبدیلیوں کے بجائے کیس ٹو کیس بنیاد پر فیصلے کر سکتی ہے۔

    انتظامی تبدیلیوں کا دائرہ سرکاری جامعات تک بھی پھیل سکتا ہے 2024 میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد متعدد وائس چانسلرز مستعفی ہو گئے تھے اور عبوری دور میں نئی تقرریاں کی گئی تھیں نئی حکومت کے قیام کے بعد بعض موجودہ وائس چانسلرز اپنی مدتِ ملازمت کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

    وزارتِ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اچانک برطرفیوں کے حق میں نہیں، جبکہ ماہرینِ تعلیم نے مطالبہ کیا ہے کہ جامعات کی قیادت سے متعلق فیصلے شفاف اور غیر سیاسی انداز میں کیے جائیں،نئی حکومت کی جانب سے مرحلہ وار اصلاحات کے اس عمل کو ملک میں انتظامی استحکام اور پیشہ ورانہ معیار کی بہتری کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب بنگلہ دیش کی آرمڈ فورسز ڈویژن میں نئے پرنسپل اسٹاف آفیسر نے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل میر مشفیق الرحمان نے پرنسپل اسٹاف آفیسر (پی ایس او) کے عہدے کا چارج سنبھال لیا پیر کے روز منعقدہ ایک تقریب میں وزیرِاعظم طارق رحمان نے انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کے رینک انسگنیا لگائے تقریب میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل واکر الزمان، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ایم ناظم الحسن اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل حسن محمود خان بھی موجود تھے۔

    army

    لیفٹیننٹ جنرل میر مشفیق الرحمان 21 جون 1991 کو بنگلہ دیش آرمی کے کور آف انفنٹری میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ اپنے کیریئر کے دوران وہ 24 انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ، ملٹری سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل ڈیفنس پرچیز ڈائریکٹوریٹ سمیت کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

  • جیل میں تو  آنکھ تک کا علاج نہیں دل کا علاج کیا کریں گے،جسٹس عقیل عباسی

    جیل میں تو آنکھ تک کا علاج نہیں دل کا علاج کیا کریں گے،جسٹس عقیل عباسی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں قتل کے مقدمے میں گرفتار مجرم کو میڈیکل سہولیات کی فراہمی سے متعلق اہم درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے قیدی کے علاج کے حوالے سے اہم ریمارکس دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دیں۔

    سماعت جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں ہوئی۔ دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور جیل میں مناسب طبی سہولیات دستیاب نہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ “میرا موکل سنگین قلبی مرض میں مبتلا ہے، جیل میں تو ڈسپرین کے علاوہ کچھ نہیں ملتی، ایسے میں اُس کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔”جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “جیل میں تو آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے۔” عدالت نے استفسار کیا کہ کیا قیدی کا باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کرایا گیا ہے اور کیا متعلقہ اسپتال کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے۔

    وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ قیدی کی حالت تشویشناک ہے اور فوری طور پر ماہر امراضِ قلب سے علاج کی ضرورت ہے، لہٰذا اسے کسی مستند کارڈیالوجی مرکز منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد قیدی کو پشاور کارڈیالوجی سینٹر منتقل کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے متعلقہ جیل حکام اور صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ قیدی کو فوری طور پر مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔

  • ایم کیو ایم کی سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست مسترد

    ایم کیو ایم کی سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست مسترد

    ایم کیو ایم پاکستان نے سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست کردی۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے فی الحال درخواست لینے سے معذرت کرلی۔

    سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشنل کمیشن کی سماعت جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جاری ہے، ایم کیو ایم نے کمیشن سے فریق بننے کی درخواست کردی۔جسٹس آغا فیصل نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار کی درخواست لینے سے فی الحال معذرت کرلی۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم اس کمیشن میں فریق بننا چاہتے ہیں۔ جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ فی الحال معذرت چاہتے ہیں، سماعت جاری ہے، آپ اس حوالے سے صحیح طور پر درخواست دائر کریں۔وکیل ایم کیو ایم نے کہا کہ درخواست اس سے پہلے ہی دائر کردی گئی ہے۔ جس پر جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا کہ درخواست آپ نے دی، فی الحال کچھ نہیں ہوسکتا،

    ایم کیوایم پاکستان نے گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کردہا،فاروق ستار نے کہا کہ سب سے پہلے ایم کیوایم نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاہم جس طرح تحقیقات ہورہی ہیں ہم مطمئن نہیں ہیں،

    ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی،ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے،انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،اعجاز شیخ کا کہنا تھا بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزیں انکوائری کا حصہ ہیں،ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔

    کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے، دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں،ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی، عام دنوں میں 10 بجے گل پلازہ کے دروازے بند کر دیتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے ٹائم بڑھایا ہوا تھا، ایسوسی ایشن کو انتظامات کرنے چاہیے تھے، ریسکیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے، ریسکیو کے کام میں لوگوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ایک ماہ پہلے گرین لائن کا کام شروع ہوا، گل پلازہ کی ایک طرف روڈ 12 فٹ اور دوسری طرف 15 فٹ ہے، ہمارے پاس شہر بھر میں 5200 کی نفری ہے، جب واقعہ پیش آیا تو مختلف جگہوں پر ہماری نفری موجود تھی۔

    ڈائریکٹر سول ڈیفنس کا گل پلازہ کمیشن تحقیقات کے دوران انکشاف، اپنے ادارے کی حالت زار بتادی،جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ کیا ہر سال عمارتوں کی انسپکشن کرنی ہوتی ہے؟ ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے کہا کہ سول ڈیفنس کے پاس عملے اور گاڑیوں کی کمی ہے، سالانہ انسپکشن نہیں کرسکتے ،

  • کوہاٹ میں لیڈی ڈاکٹر قتل، ڈاکٹرز کا شدید احتجاج

    کوہاٹ میں لیڈی ڈاکٹر قتل، ڈاکٹرز کا شدید احتجاج

    کوہاٹ: کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے ڈبل روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک لیڈی ڈاکٹر جاں بحق ہو گئیں، واقعے کے بعد شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ طبی برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق مقتولہ لیڈی ڈاکٹر ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد رکشہ کے ذریعے گھر واپس جا رہی تھیں کہ کے ڈی اے ڈبل روڈ پر پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں اور موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ ملزمان واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور جائے وقوعہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔

    دوسری جانب واقعے کے خلاف ڈاکٹرز برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ بعض مقامات پر او پی ڈیز کی جزوی بندش بھی دیکھنے میں آئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ طبی عملہ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کا شکار ہے اور اس طرح کے واقعات ان کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کے قتل میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکیورٹی کی فراہمی میں ناکام رہے تو احتجاج کا دائرہ کار صوبہ بھر تک بڑھایا جا سکتا ہے،ڈاکٹرز رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اسپتالوں اور طبی عملے کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے اور اس افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک،سرمایہ کار ،مزدور نشانے پر

    افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک،سرمایہ کار ،مزدور نشانے پر

    افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک؛ چینی سرمایہ کار اور مزدور شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں

    افغان طالبان رجیم دہشتگرد گروہوں کیخلاف غیر ملکی افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں، افغان طالبان رجیم کی ناکامی بے نقاب، سیکیورٹی کے دعوے کھوکھلے ثابت،چینی سرمایہ کاری کے منصوبے اور کارکن شدت پسند گروہوں کی زد میں ہیں،امریکہ کی اسٹمسن انسٹی ٹیوٹ کی محقق سارہ گوڈاک کے مطابق افغان طالبان رجیم چینی کارکنان کو مقامی شدت پسندوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے ،طالبان رجیم کی نااہلی نے افغانستان-تاجکستان بارڈر پر موجود سونے کی کانوں کو چینی مزدوروں کیلئے مہلک محاذ بنادیا ہے،ستمبر 2024 سے 2026 کے آغاز تک، افغانستان-تاجکستان سرحدی علاقے میں کم از کم سات حملے ہوئے، جس میں نو چینی شہری ہلاک اور 10 زخمی ہوئے،بھاری منافع کے عوض چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی حفاظت طالبان رجیم نے سنبھالی ہے، مگر چینی کارکن اب بھی شدت پسند گروہوں کے آسان ہدف پر ہیں،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی سرپرستی کے بجائے اپنے داخلی معاملات، سیکیورٹی اور عوامی تحفظ پر توجہ دینی چاہیے،چینی مزدوروں پر بار بار حملے واضح ثبوت ہیں کہ طالبان غیر ملکی کارکنان کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہیں،

  • میکسیکو: فوجی آپریشن میں بدنام زمانہ  ڈرگ لارڈ ہلاک

    میکسیکو: فوجی آپریشن میں بدنام زمانہ ڈرگ لارڈ ہلاک

    میکسیکو میں منشیات کا بڑا سرغنہ ال مینچو (El Mencho) فوجی آپریشن میں مارا گیا-

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایل مینچو طاقتور جیلسکو نیو جنریشن کارٹل (سی جے این جی) کا سربراہ تھا، جس نے مختصر عرصے میں عالمی سطح پر منشیات اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک کی شکل اختیار کرلی تھی اور حریف سینالوا کارٹل سے مقابلہ کر رہا تھا، جس کی قیادت گرفتار ڈرگ لارڈ جواکین ایل چیپو گزمان کر چکا ہے۔

    ایل مینچو کے سر کی قیمت ڈیڑھ کروڑ ڈالر مقرر تھی، ڈرگ لارڈ کی ہلاکت کے بعد میکسیکو بھر میں صورتحال کشیدہ ہے اور مسلح افراد نے کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ہے،اور مسلح افراد نے شاہراہیں بند کردیں، جالسکو کے گورنر پابلو لیموس ناورو نے شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی جبکہ امریکی حکام نے بھی احتیاطی الرٹ جاری کیا،جبکہ امریکی سفارتخانے نے بھی اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    حوصلے کی مثال، عزم کی پہچان، دوسروں کیلئے مشعل راہ، بلوچستان کی بیٹی شازیہ بتول

    یہ کارروائی میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین باؤم کی حکومت پر امریکی دباؤ کے تناظر میں کی گئی، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منشیات کے خلاف سخت اقدامات کے مطالبات سامنے آئے تھے۔

    دوسری جانب ایل مینچو کی ہلاکت پر امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ال مینچو کی ہلاکت بڑی پیشرفت ہے جو میکسیکو، امریکا، لاطینی امریکا اور دنیا کے لیے اہم ہے مغربی ریاست جالسکو میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران ال مینچو شدید زخمی ہوا اور میکسیکو سٹی منتقل کیے جانے کے دوران ہلاک ہوگیا۔

    امریکا میں بدترین طوفان، دو کروڑ سے زائد لوگوں کے متاثرہونے کا خدشہ، ہزاروں پروازیں منسوخ

    وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے آپریشن میں معلومات فراہم کیں، یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکی انتظامیہ کی جانب سے میکسیکو پر منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا تھا۔

    دوسری جانب تشدد کے خدشات کے باعث ایئر کینیڈا نے ساحلی شہر پوئرٹو ولارٹا کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کردی ہیں۔

  • نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی،انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی کے چھٹے ایڈیشن کا شاندار انعقاد

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی،انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی کے چھٹے ایڈیشن کا شاندار انعقاد

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی کے چھٹے ایڈیشن کا شاندار انعقاد کیا گیا،

    یہ بین الاقوامی ورکشاپ انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز ریسرچ اینڈ انیلسز کے زیر اہتمام منعقد ہوئی،عالمی سطح پر امن، خوشحالی اور تعاون کے فروغ کیلئے ورکشاپ میں 50 ممالک کے 100سے زائد مندوبین نے شرکت کی،ورکشاپ میں دنیا بھر کے دانشور، سفارت کار اور پالیسی سازوں نے خطہ کے مسائل کا حل کیلئے سیر حاصل گفتگو کی، بین الاقوامی ورکشاپ کا مقصد جغرافیائی سیاسی چیلنجز، اقتصادی استحکام اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر پالیسی سازی کرنا ہے،یہ ورکشاپ نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرتی ہے بلکہ پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر کرتی ہے، ورکشاپ میں بین الاقوامی شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ ورکشاپ این ڈی یو کا احسن اقدام ہے جو دنیا بھر کے لیڈرز کومسائل کے حل پر بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے،

    شرکاء کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی جیسے شاندار اقدام اور بہترین مہمان نوازی پر پاکستان کے بھرپور شکر گزار ہیں،

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا یہ شاندار اقدام علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کی روشن مثال ہے.

  • حوصلے کی مثال، عزم کی پہچان، دوسروں کیلئے مشعل راہ، بلوچستان کی بیٹی شازیہ بتول

    حوصلے کی مثال، عزم کی پہچان، دوسروں کیلئے مشعل راہ، بلوچستان کی بیٹی شازیہ بتول

    حوصلے کی مثال، عزم کی پہچان، دوسروں کیلئے مشعل راہ، بلوچستان کی بیٹی شازیہ بتول

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی شازیہ بتول نے معذوری کو شکست دیکر تعلیمی اور سماجی میدان میں اپنا نمایاں اور باوقار مقام بنایا،فخر پاکستان شازیہ بتول ( تمغہ امتیاز ) کہتی ہیں کہ ہمیشہ مشکلات کو کمزوری نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی طاقت سمجھا ہے ،عزم، صبر اور مستقل مزاجی وہ اوصاف ہیں جن سے ہی ناممکن کو ممکن بنایاجاسکتا ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے “پرائیڈ آف آنر”ملنا ان کی نمایاں خدمات کا قومی سطح پر اعتراف ہے، اگر ہمت جواں ہو تو جسمانی رکاوٹیں خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں،میری کامیابی ہر اس فرد کیلئے پیغام ہے جو مشکلات کا بہادری سے سامنا کر رہا ہے اور ہمت نہیں ہارتا، مشکلات کو بالائے طاق رکھ کر ہمت، ایمان اور محنت کے ذریعے ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے،

    حکومت کی جانب سے نمایاں افراد کی حوصلہ افزائی باصلاحیت لوگوں کو مواقع اور اعتراف فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ ہے