امریکا میں ہونے والے ایک نئے سروے نے نوجوان نسل کی بدلتی عادات اور اسمارٹ فون پر بڑھتے انحصار سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے لائے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہر تین میں سے ایک امریکی کالج طالبعلم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ جنسی تعلق کے دوران بھی موبائل فون استعمال کرتا ہے۔
یہ سروے سوشل میڈیا ایپس “یک یاک” اور “سائیڈ چیٹ” کے ذریعے کیا گیا، جس میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے ایک لاکھ امریکی طلبہ نے حصہ لیا۔ نتائج کے مطابق تقریباً 35 فیصد طلبہ نے کہا کہ وہ تعلق کے دوران کبھی نہ کبھی ٹیکسٹ میسج بھیجنے، سوشل میڈیا چیک کرنے یا ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھنے کے لیے فون استعمال کرچکے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ نئی نسل اسکرینز اور ڈیجیٹل دنیا پر کس قدر انحصار کرچکی ہے۔ تحقیق میں شامل نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اعتراف کیا کہ موبائل فون اب ان کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، حتیٰ کہ انتہائی ذاتی لمحات میں بھی وہ اس سے دور نہیں رہ پاتے۔
سروے میں نوجوانوں کی نجی زندگی اور تعلقات سے متعلق دیگر سوالات بھی پوچھے گئے۔ حیران کن طور پر 23 فیصد طلبہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے روم میٹ کی موجودگی میں بھی اپنے پارٹنر کے ساتھ تعلق قائم کیا۔ اس کے علاوہ 72 فیصد طلبہ نے کہا کہ ان کی موجودہ یا حالیہ محبت یا رومانوی تعلق آن لائن کے بجائے حقیقی زندگی میں ملاقات کے ذریعے قائم ہوا۔تحقیق کے نتائج ان دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ “جنریشن زی” یا نوجوان نسل “سیکس ریسیشن” یعنی جنسی تعلقات میں کمی کے دور سے گزر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو عمر کے مختلف گروپس کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹس کے مطابق 22 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں جنسی تعلقات میں کمی زیادہ دیکھی گئی، جبکہ موجودہ سروے بنیادی طور پر کالج جانے والے نوجوانوں یعنی 18 سے 22 سال کے افراد پر مشتمل تھا۔ ماہرین کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ کورونا وبا بھی ہوسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جو نوجوان اس وقت 22 سے 34 برس کے درمیان ہیں، انہوں نے اپنی تعلیم اور ابتدائی ملازمت کے اہم سال کورونا لاک ڈاؤن اور آن لائن زندگی میں گزارے، جس کی وجہ سے ان میں سماجی میل جول اور تعلقات سے متعلق بے چینی بڑھی۔ اس کے برعکس موجودہ کالج طلبہ نسبتاً نارمل کیمپس زندگی کا تجربہ کررہے ہیں، جس کے باعث ان کے رویے مختلف نظر آتے ہیں۔
گزشتہ برس “نیشنل سروے آف فیملی گروتھ” کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا تھا کہ امریکا میں نوجوانوں کے ایک بڑے حصے میں جنسی تعلقات سے دوری بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 22 سے 34 سال کے 10 فیصد مرد اور 7 فیصد خواتین نے اعتراف کیا کہ وہ اب تک کنوارے ہیں۔امریکی ادارے “انسٹیٹیوٹ آف فیملی اسٹڈیز” نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران نوجوان مردوں میں جنسی تعلقات سے دوری کی شرح تقریباً دوگنی ہوچکی ہے، جبکہ خواتین میں اس میں تقریباً 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی عادت نوجوانوں کی توجہ، تعلقات اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کررہی ہے۔ ان کے مطابق حقیقی انسانی تعلقات میں مسلسل ڈیجیٹل مداخلت مستقبل میں سماجی رویوں کو مزید تبدیل کرسکتی ہے۔
