Baaghi TV

Blog

  • دبئی اور ابوظہبی کے درمیان کشیدگی، اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” کے خدشات

    دبئی اور ابوظہبی کے درمیان کشیدگی، اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” کے خدشات

    رواں سال 2026ء کے ابتدائی مہینوں میں متحدہ عرب امارات (UAE) میں دبئی اور ابوظہبی کی قیادت کے درمیان سٹریٹجک اور اقتصادی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” (تبدیلیوں) کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

    اطلاعات ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے اندر ایک بڑا سیاسی اختلاف جنم لے رہا ہے دبئی کے حکمران اور ابوظہبی کے حکمران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی برسوں کے دوران سب سے بڑی اندرونی تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے، اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہےتو اس سے پورے خلیج کا طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

    دوسری طرف شارجہ کا حکمران اسرائیل سے تعلقات و موجودگی ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں تحفظات رکھتا ہے کہ اس میں متحدہ عرب امارات کو امریکا اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دینی چاہیے تھی اور متحدہ عرب کا عالمی تیل تنظیم سے نکلنا بھی درست نہیں ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شارجہ متحدہ عرب امارات سے الگ ہو کر ایک الگ سے جمہوریہ یا شارجہ نام و پرچم کے ساتھ وطن بنانے کا منصوبہ زیر غور رکھتا ہے،

    رپورٹس اور سیاسی تجزیوں کے مطابق، ان خدشات کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

    1. سٹریٹجک خود مختاری اور خارجہ پالیسی:
    ابوظہبی، جس کی قیادت صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کر رہے ہیں، اپنی "سٹریٹجک خود مختاری” (Strategic Autonomy) پر زور دے رہا ہے، جو بعض اوقات دبئی کی کاروباری اور بین الاقوامی پالیسیوں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ اختلافات علاقائی تنازعات، جیسے سوڈان اور یمن، میں کردار کے حوالے سے بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

    2. اوپیک (OPEC) سے علیحدگی اور تیل کی پالیسی:
    اپریل 2026ء میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک (OPEC) اور اوپیک پلس (OPEC+) سے علیحدگی کا اعلان ابوظہبی اور ریاض کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے، جس نے یو اے ای کے اندرونی اتحاد کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ اقدام بظاہر ابوظہبی کی اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے کی خواہش کے تحت کیا گیا۔

    3. اقتصادی اور کاروباری مسابقت:
    دبئی اور ابوظہبی کے درمیان غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیلنٹ، اور کارپوریٹ ہیڈکوارٹرز کو راغب کرنے کی مسابقت میں شدت آ گئی ہے۔ ابوظہبی نے اپنی معاشی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی فرموں کو اپنی طرف راغب کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    4. علاقائی سیکیورٹی صورتحال (2026ء):
    فروری/مارچ 2026ء میں ایران کی جانب سے یو اے ای کے سیکیورٹی انفراسٹرکچر پر حملوں (ڈرون اور میزائل حملوں) نے دبئی کے ایک محفوظ تجارتی مرکز (Safe Haven) کی حیثیت کو چیلنج کیا ہے اس صورتحال نے دبئی کی معیشت اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مستقبل پر اثر ڈالا ہے، جس سے انتظامی ترجیحات پر سوالات اٹھے ہیں۔

    5. قیادت کا ردعمل:
    اگرچہ 11 اپریل 2026ء کو سرکاری خبر رساں اداروں نے یہ رپورٹ کیا کہ شیخ محمد بن زاید اور شیخ محمد بن راشد نے ملاقات کی اور قومی یکجہتی پر زور دیا، لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اختلافات انتظامی سطح پر موجود ہیں۔

    ان اطلاعات کے مطابق، دبئی اور ابوظہبی کے درمیان اب یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں، بلکہ ایک کھلی مسابقت اور سٹریٹجک تضاد بن چکا ہے، جو مستقبل میں متحدہ عرب امارات کی پالیسی سازی، کابینہ یا انتظامی ڈھانچے میں کسی بڑے شیک اپ کی بنیاد بن سکتا ہے۔

  • ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی  انٹیلیجنس

    ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلیجنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار وقت میں پچھلے سال کے مقابلے میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے،حالانکہ گزشتہ سال ماہرین کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اس عمل کو ایک سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق یہ اندازے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی دو ماہ کی جنگ کے باوجود وہیں برقرار ہیں، جبکہ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکنا تھا28 فروری سے جاری حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زیادہ تر ایران کے روایتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اسرائیل نے چند اہم ایٹمی تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے وقت میں تبدیلی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی بڑی رکاوٹ ڈالنی ہے تو اس کے لیے تہران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنا یا وہاں سے ہٹانا ضروری ہوگا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ امریکا کا مقصد یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    اس سے قبل انٹیلی جنس اداروں کا خیال تھا کہ ایران 3 سے 6 ماہ میں ایٹمی بم بنا سکتا ہے، لیکن جون میں نطنز، فردو اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر امر یکی حملوں کے بعد یہ اندازہ 9 ماہ سے 1 سال تک بڑھا دیا گیا تھاتاہم اقوام متحدہ کے ایٹمی نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش معطل ہونے کی وجہ سے 60 فیصد تک افزودہ 440 کلوگرام یورینیم کے ٹھکانے کی تصدیق نہیں کر سکا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اصفہان میں زیر زمین سرنگوں میں چھپا یا گیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، وہیں آپریشن ایپک فیوری نے ایران کے اس دفاعی صنعتی ڈھانچے کو ختم کر دیا جسے وہ اپنے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے ،صدر ٹرمپ نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور وہ محض باتیں نہیں کرتے۔

    اگرچہ اسرائیل نے ایٹمی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، لیکن امریکا نے زیادہ توجہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت پر مرکوز رکھی ہےسابق امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں میں تبدیلی نہ آنا حیران کن نہیں ہے کیونکہ حالیہ حملوں میں ایٹمی تنصیبات کو ترجیح نہیں دی گئی، جہاں تک ہمیں معلوم ہے، ایران کے پاس اب بھی تمام ایٹمی مواد موجود ہے جو غالباً ایسی گہری زیر زمین جگہوں پر ہے جہاں امریکی بموں کی رسائی نہیں ہے۔

    دوسری جانب سابق انسپکٹر ڈیوڈ البرائٹ کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کے قتل نے تہران کی بم بنانے کی صلاحیت کو مشکوک بنا دیا ہے سب اس بات پر متفق ہیں کہ علم کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن کام کرنے کی مہارت کو ضرور تباہ کیا جا سکتا ہے۔

  • وادی رومبور میں 104 مستحق افراد میں الیکٹرک چولہوں کی تقسیم، فلاحی اقدام کو سراہا گیا

    وادی رومبور میں 104 مستحق افراد میں الیکٹرک چولہوں کی تقسیم، فلاحی اقدام کو سراہا گیا

    وادی رومبور میں فلاحی کاموں کا سلسلہ جاری، اے وی ڈی پی (AVDP) اور اے کے آر ایس پی (AKRSP) کے تعاون سے ویلج کونسل رومبور میں مستحق افراد کے لیے ایک اہم تقریب منعقد کی گئی، جس میں 104 مستحق خاندانوں میں الیکٹرک چولہے تقسیم کیے گئے۔تقریب کی نگرانی چیئرمین ویلج کونسل سلطان نے کی، جنہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے فلاحی منصوبے نہ صرف غریب عوام کی مشکلات کم کرتے ہیں بلکہ ان کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بناتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک چولہوں کی فراہمی سے مہنگے ایندھن پر انحصار کم ہوگا، ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی اور گھریلو اخراجات بھی کم ہوں گے۔ یہ اقدام خاص طور پر خواتین کے لیے آسانی اور تحفظ فراہم کرے گا۔تقریب کے اختتام پر مستفید افراد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اداروں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے فلاحی منصوبے جاری رہیں گے۔

  • ایران پر  امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    ایران پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا اور برطانوی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا اور اسرائیل کے ایران پر اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں حملے کا شدید امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملہ متوقع ہے حالیہ واقعات نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اب ایک مربوط فوجی جواب پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

    یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں ایک تیل کی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا اور دبئی کی فضاؤں میں میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق 50 سے زائد ایرانی اہداف نشانے پر ہیں، جبکہ امریکی سینٹ کام نے پہلے ہی 6 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے،ایران میں بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ایرانی پاسداران انقلاب نے کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کی تیاری کر رکھی ہے،اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں ایران کے وسطی اور مغربی حصوں میں 140 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

    اسی حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی فورسز کی سات کشتیاں تباہ کی ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہی تھیں ایران نے جنوبی کوریا کے مال بردار جہاز سمیت دیگر غیر متعلقہ ممالک کے جہازوں پر حملے کیے ہیں، اب شاید وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی ہمارے مشن کا حصہ بن جائے۔

    صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت وارننگ دی کہ اگر ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں، یا تو مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو جائے یا پھر مکمل فوجی کارروائی کی طرف واپسی ہو۔

    اس کشیدگی کے معاشی اثرات بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں آبنائے ہرمز جو کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، وہاں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں پانچ ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔

  • چین میں آتش بازی فیکٹری میں دھماکا، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی

    چین میں آتش بازی فیکٹری میں دھماکا، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی

    چین کے صوبہ ہونان کے شہر لیویانگ میں ایک آتش بازی فیکٹری میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک جبکہ 61 زخمی ہو گئے۔

    چینی میڈیاکے مطابق ہواشینگ فائر ورکس پلانٹ میں یہ دھماکا پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 40 منٹ پر ہوا، جس کے بعد امدادی ٹیمو ں نے فیکٹری کے گرد 3 کلومیٹر کے علاقے کو خالی کرا لیا، قریباً 500 اہلکاروں کو ریسکیو آپریشن کے لیے تعینات کیا گیا جبکہ عمارت کے ملبے تلے دبے افرا د کو تلاش کرنے کے لیے روبوٹس کی بھی مدد لی گئی، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور فیکٹری کے ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں موجود بارود کے 2 گودام امدادی سرگرمیوں کے دوران شدید خطرہ بنے ہوئے تھے، جس کے باعث مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، جن میں علاقے کو نم رکھنا بھی شامل تھا تاکہ کسی دوسرے حادثے سے بچا جا سکے،دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ قریبی رہائشی عمار توں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ کھڑکیوں کے فریم اور دروازے بھی شدید متاثر ہوئے، زخمی ہونے والوں کی عمریں 20 سے 60 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، جن میں سے بعض افراد ملبے کے ٹکڑوں سے ٹکرا کر ہڈیوں کی چوٹوں کا شکار ہوئے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتا افراد کی تلاش اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لیویانگ شہر دنیا میں آتش بازی کی مصنوعات کی سب سے بڑی پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے، تاہم اس صنعت سے وابستہ فیکٹریوں میں حادثات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، گزشتہ فروری میں بھی صوبہ ہوبے میں ایک آتش بازی کی دکان میں دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  • تیز آندھی ،متعدد فیڈرز بند،تاحال بجلی کی فراہمی معطل،لوگ پریشان

    تیز آندھی ،متعدد فیڈرز بند،تاحال بجلی کی فراہمی معطل،لوگ پریشان

    قصور
    تیز آندھی سے متعدد فیڈرز ٹرپ، بجلی کی فراہمی تاحال متاثر

    تفصیلات کے مطابق قصور میں گزشتہ شام آنے والی شدید آندھی کے باعث بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہو گیا جس کے نتیجے میں متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے اور شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی

    تیز ہواؤں کے باعث بجلی کی ترسیلی لائنوں اور سسٹم کو نقصان پہنچا، جس سے اچانک کئی فیڈرز بند ہو گئے
    بجلی کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گرمی کے باعث صورتحال مذید سنگین ہو گئی ہے

    متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے شکایت کی ہے کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بجلی بحال نہیں ہو سکی جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں

  • خیبر پختونخوا : معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت قاتلانہ حملے میں شہید،2 سیکیورٹی اہلکار زخمی

    خیبر پختونخوا : معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت قاتلانہ حملے میں شہید،2 سیکیورٹی اہلکار زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مسلح افراد کے حملے میں معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت اور جے یو آئی کے سابق رکنِ اسمبلی، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھ تعینات 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔

    چارسدہ پولیس نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی سفید رنگ کی گاڑی پر مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار مولانا محمد ادریس شدید زخمی ہو گئے، مولانا صبح کے وقت گھر سے اتمانزئی دارالعلوم جا رہے تھے کہ اس دوران انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کا نشانہ مولانا ادریس تھے ان کے مطابق حملے میں مولانا کو متعدد گولیاں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ شہید گئےواقعے کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا لاش اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں فائرنگ کے بعد کارکنان کی بڑی تعداد بھی پہنچ گئی۔

    ڈپٹی کمشنر چارسدہ بھی واقعے کے بعد اسپتال پہنچ گئے اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کےشہید ہونے پر افسوس کا اظہار کیا،انہوں نے کارکنان کو یقین دلایا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا ڈپٹی کمشنر نے کار کنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

  • 
آبنائے ہرمز میں ایرانی بارودی سرنگیں تباہ، امریکا کا دعویٰ

    
آبنائے ہرمز میں ایرانی بارودی سرنگیں تباہ، امریکا کا دعویٰ

    ‎امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں زیر سمندر موجود ایرانی بارودی سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے۔
    ‎ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے ایک راستہ بارودی سرنگوں سے صاف کیا، جس سے تجارتی جہاز رانی کے لیے حالات بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ ان بارودی سرنگوں کو جدید سمندری ڈرونز کی مدد سے ناکارہ بنایا گیا، جو اس نوعیت کی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    ‎امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی تجارت کے اہم بحری راستے کو محفوظ بنانا اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا خطرہ عالمی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد خطے میں صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے، جہاں پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔

  • 
بزنس فورم کی بجٹ تجاویز، سپر ٹیکس ختم اور کاروباری لاگت کم کرنے کا مطالبہ

    
بزنس فورم کی بجٹ تجاویز، سپر ٹیکس ختم اور کاروباری لاگت کم کرنے کا مطالبہ

    ‎پاکستان بزنس فورم نے مالی سال 2026-27 کے لیے اپنی بجٹ تجاویز وزارت خزانہ کو ارسال کر دی ہیں، جن میں معیشت کو گروتھ کی سمت پر ڈالنے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
    ‎پاکستان بزنس فورم کے صدر خواجہ محبوب کا کہنا ہے کہ اس وقت کاروباری برادری شدید مایوسی کا شکار ہے اور حکومت کو بجٹ میں ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو کاروبار کو سہارا دے سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپر ٹیکس کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ عارضی بنیادوں پر نافذ کیا گیا تھا لیکن اب اسے مستقل بنا دیا گیا ہے، جو کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں اور کارپوریٹ ٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔ ان کے مطابق ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے تاجروں پر ماہانہ 10 ہزار روپے فکس ٹیکس عائد کیا جائے، جس کے بعد ان سے مزید پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ یہ فکس ٹیکس بجلی کے بلوں میں شامل کیا جائے تاکہ وصولی کا عمل آسان ہو جائے۔
    ‎خواجہ محبوب نے ٹیکسٹائل سیکٹر کے حوالے سے کہا کہ مقامی کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر عائد سیلز ٹیکس ختم کیا جائے، کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں اس ٹیکس کے باعث پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
    ‎انہوں نے گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کو فروغ دینے کے لیے سات سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی بھی تجویز دی، جبکہ تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری واپس لانے کے لیے سیکشن 7E کے خاتمے اور سیکشن 8 اور 8B میں ترامیم کا مطالبہ کیا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں صرف ریونیو بڑھانے کے بجائے معاشی ترقی پر توجہ دی جائے، نان فائلرز پر پابندیاں سخت کی جائیں اور انڈر انوائسنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

  • 
کراچی میں بینک ڈکیتی، ملزمان 50 لاکھ روپے لوٹ کر فرار

    کراچی کے علاقے منگھوپیر روڈ پر واقع ایک نجی بینک میں ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جہاں مسلح ملزمان لاکھوں روپے لوٹ کر فرار ہو گئے۔

    پولیس حکام کے مطابق تین مسلح افراد بینک کے اندر داخل ہوئے جبکہ ان کے دو ساتھی باہر موجود تھے۔ ملزمان نے داخل ہوتے ہی سیکیورٹی گارڈ کو قابو کیا اور اس سے پستول اور رائفل چھین لی۔

    ڈی آئی جی کے مطابق ملزمان بینک سے تقریباً 40 سے 50 لاکھ روپے نقدی لوٹ کر فرار ہوئے۔ واردات کے بعد انہوں نے بینک کا دروازہ باہر سے موٹر سائیکل کے تار والے لاک سے بند کر دیا، جس کے باعث فوری تعاقب ممکن نہ ہو سکا۔

    واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آ گئے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بینک کے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لیے گئے ہیں اور ملزمان کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    شہریوں نے شہر میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔