Baaghi TV

دبئی اور ابوظہبی کے درمیان کشیدگی، اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” کے خدشات

abudahbi

رواں سال 2026ء کے ابتدائی مہینوں میں متحدہ عرب امارات (UAE) میں دبئی اور ابوظہبی کی قیادت کے درمیان سٹریٹجک اور اقتصادی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” (تبدیلیوں) کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے اندر ایک بڑا سیاسی اختلاف جنم لے رہا ہے دبئی کے حکمران اور ابوظہبی کے حکمران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی برسوں کے دوران سب سے بڑی اندرونی تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے، اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہےتو اس سے پورے خلیج کا طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

دوسری طرف شارجہ کا حکمران اسرائیل سے تعلقات و موجودگی ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں تحفظات رکھتا ہے کہ اس میں متحدہ عرب امارات کو امریکا اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دینی چاہیے تھی اور متحدہ عرب کا عالمی تیل تنظیم سے نکلنا بھی درست نہیں ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شارجہ متحدہ عرب امارات سے الگ ہو کر ایک الگ سے جمہوریہ یا شارجہ نام و پرچم کے ساتھ وطن بنانے کا منصوبہ زیر غور رکھتا ہے،

رپورٹس اور سیاسی تجزیوں کے مطابق، ان خدشات کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

1. سٹریٹجک خود مختاری اور خارجہ پالیسی:
ابوظہبی، جس کی قیادت صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کر رہے ہیں، اپنی "سٹریٹجک خود مختاری” (Strategic Autonomy) پر زور دے رہا ہے، جو بعض اوقات دبئی کی کاروباری اور بین الاقوامی پالیسیوں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ اختلافات علاقائی تنازعات، جیسے سوڈان اور یمن، میں کردار کے حوالے سے بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

2. اوپیک (OPEC) سے علیحدگی اور تیل کی پالیسی:
اپریل 2026ء میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک (OPEC) اور اوپیک پلس (OPEC+) سے علیحدگی کا اعلان ابوظہبی اور ریاض کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے، جس نے یو اے ای کے اندرونی اتحاد کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ اقدام بظاہر ابوظہبی کی اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے کی خواہش کے تحت کیا گیا۔

3. اقتصادی اور کاروباری مسابقت:
دبئی اور ابوظہبی کے درمیان غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیلنٹ، اور کارپوریٹ ہیڈکوارٹرز کو راغب کرنے کی مسابقت میں شدت آ گئی ہے۔ ابوظہبی نے اپنی معاشی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی فرموں کو اپنی طرف راغب کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

4. علاقائی سیکیورٹی صورتحال (2026ء):
فروری/مارچ 2026ء میں ایران کی جانب سے یو اے ای کے سیکیورٹی انفراسٹرکچر پر حملوں (ڈرون اور میزائل حملوں) نے دبئی کے ایک محفوظ تجارتی مرکز (Safe Haven) کی حیثیت کو چیلنج کیا ہے اس صورتحال نے دبئی کی معیشت اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مستقبل پر اثر ڈالا ہے، جس سے انتظامی ترجیحات پر سوالات اٹھے ہیں۔

5. قیادت کا ردعمل:
اگرچہ 11 اپریل 2026ء کو سرکاری خبر رساں اداروں نے یہ رپورٹ کیا کہ شیخ محمد بن زاید اور شیخ محمد بن راشد نے ملاقات کی اور قومی یکجہتی پر زور دیا، لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اختلافات انتظامی سطح پر موجود ہیں۔

ان اطلاعات کے مطابق، دبئی اور ابوظہبی کے درمیان اب یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں، بلکہ ایک کھلی مسابقت اور سٹریٹجک تضاد بن چکا ہے، جو مستقبل میں متحدہ عرب امارات کی پالیسی سازی، کابینہ یا انتظامی ڈھانچے میں کسی بڑے شیک اپ کی بنیاد بن سکتا ہے۔

More posts