Baaghi TV

Blog

  • فرح گوگی کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج

    فرح گوگی کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج

    فرحت شہزادی عرف فرح گوگی اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے خلاف تھانہ صدر میں فراڈ اور دھوکا دہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں مسلم لیگ (ن) کے سابق صوبائی وزیر چوہدری اقبال گجر کو بھی نامزد کیا گیا ہے، چوہدری اقبال گجر فرح گوگی کے سسر اور احسن جمیل کے والد ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں چوہدری اقبال گجرکے بیٹے، بھائی اور بھتیجے بھی نامزد ہیں جبکہ سوسائٹی کے منیجر اور ملازمین بھی ملزم نامزد ہیں،ایف آئی آر کے مطابق سوسائٹی 2005 میں بنائی گئی، جی ڈی اے سے پی ٹی آئی دور حکومت میں منظوری لی گئی، ملزمان نے سوسائٹی میں پارک، اسکول اور قبرستان کے لیے مختص اراضی کو فروخت کیا،ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے جعلی دستاویزات تیار کرکے سرکاری اراضی فروخت کی۔

  • 10 ارب سے زائد مالیت کا طیارہ،مریم نواز شدید تنقید کی زد میں

    10 ارب سے زائد مالیت کا طیارہ،مریم نواز شدید تنقید کی زد میں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے نیا طیارہ خرید لیا گیا،گلف اسٹریم جی 500 طیارے کی قیمت 10 ارب روپے کے قریب بتائی جارہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق طیارے کا نمبر این 144 ایس اور قیمت تقریباً 10 ارب روپے ہے، اس طیارے کا پاکستان میں سفر کا ریکارڈ بھی ہے، یہ طیارہ ابھی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہوا، یہ امریکی رجسٹریشن پر ہے،طیارے کی خریداری پر پنجاب حکومت کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ عوام کے پیسے عوام پر لگائے جائیں، قومی خزانے سے لگژری طیارہ خریدنا زیب نہیں دیتا۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا مؤقف ہےکہ ائیر پنجاب کے لیے ایک فلیٹ بنانا ہے جس میں ہرطرح کے جہاز ہوں گے، مختلف جہاز خرید رہے ہیں کچھ لیزپرلیں گے، یہ اسی سلسلےکی کڑی ہے، جیسے ہی معاملات حتمی شکل اختیار کریں گے آپ کو بتا دیں گے، مفتاح اسماعیل کو ادھوری بات کرنےکا بہت شوق ہے، ہم بہت ساری ٹیکس چوریوں سے متعلق بات کریں گے تو یہ سیاسی انتقام ہوجائےگا۔

    دوسری جانب پنجاب ائیر لائن کی پہلی پرواز اپریل سے شروع ہوگی جس کے لیے پہلے مرحلے میں7 جہاز خریدے جا رہے ہیں،ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق پنجاب ائیرلائن صوبے کی اپنی ائیرلائن ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 2 سال تک صرف اندرون ملک پروازیں چلائی جائیں گی، پنجاب ائیرلائن 2 سال بعد انٹرنیشنل فلائٹس بھی شروع کرےگی۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کا موجودہ ہیلی کاپٹر بھی پنجاب ائیرلائن کا حصہ بنا دیا جائےگا، وزیراعلیٰ سرکاری سفر کے لیے پنجاب ائیرلائن کے جہاز استعمال کریں گی، ان کے لیے الگ سے خصوصی جہاز نہیں خریدا جائےگا۔ذرائع کے مطابق قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہ ڈالنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، موجودہ اور نئے جہازوں کو مکمل طور پر منافع کے حصول کے لیے استعمال کیا جائےگا، نئے جہاز مسافروں اور وزیراعلیٰ دونوں کے استعمال میں آئیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب ائیر لائن کا جہاز استعمال کریں گی تو اس کا کرایہ دیا جائےگا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور پنجاب کی “اونچی اُڑان” پر سوالات کھڑے ہو گئے ،قومی ایئرلائن Pakistan International Airlines جس کے پاس 18 آپریشنل اور 30 قابلِ مرمت جہاز تھے، اسے تقریباً 10 ارب میں فروخت کر دیا گیا۔دوسری طرف 19 نشستوں والا ایک طیارہ 11 ارب میں خرید لیا گیا۔قومی ایئرلائن ختم کرکے صوبائی ایئرلائن بنانے کی دانشمندی کیا ہے؟ عوام جواب چاہتے ہیں۔

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کی طرف سے یہ موقف پیش کیا جا رہا ہے کہ مبینہ گلف اسٹریم طیارہ “ایئر پنجاب” کے فلیٹ کے لیےُ لیاجا رہا ہے، مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ گلف اسٹریم کوئی کمرشل پسنجر جہاز نہیں بلکہ ایک لگژری پرائیویٹ جیٹ ہے جو دنیا بھر میں وی آئی پی موومنٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ تاثر پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ یہ سہولت موجودہ یا آئندہ وزرائے اعلیٰ کے استعمال کے لیے ہوگی۔ اس پر بھونڈی صفائیاں دینے کے بجائے سچ واضح کرنا چاہیے کیونکہ مسئلہ صرف ایک جہاز کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔

    ایک ایسا صوبہ جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، ہزاروں فیکٹریاں بند اور لاکھوں افراد بے روزگار ہوں، جہاں نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہوں اور کاروباری سرگرمیاں سکڑتی جا رہی ہوں، وہاں سرکاری وسائل کا رخ روزگار، صنعت اور ریونیو جنریشن کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ نمائشی منصوبوں کی طرف۔ یہ پیسہ آخر عوام کا ہے، کوئی ذاتی جاگیر نہیں کہ جس پر دل چاہے تجربات کیے جائیں۔مزید تضاد یہ ہے کہ وفاقی سطح پر یہی جماعت نجکاری کا درس دیتی ہے، کہتی ہے حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ ریگولیٹ کرنا ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آنا چاہیے۔ مگر دوسری طرف صوبائی حکومت خود ایئرلائن بنانے نکل پڑی ہے۔ ایک ہی جماعت کے اندر پالیسی کا یہ تضاد آخر کس منطق کے تحت ہے؟ ایک طرف “پرائیویٹائزیشن”، دوسری طرف “سرکاری بزنس ایکسپینشن” عوام کو آخر کون سا بیانیہ ماننا چاہیے؟

    اگر واقعی حکومت اپنی کمرشل اہلیت اور گورننس ماڈل ثابت کرنا چاہتی ہے تو میدان کھلا ہے۔ پنجاب کی ڈسکوز نجکاری کے عمل میں جا رہی ہیں انہیں سنبھال کر دکھائیں، اپنے نظم و نسق سے چلا کر عوام اور صنعت دونوں کو ریلیف دیں، لائن لاسز کم کریں، بجلی سستی کریں، ریکوری بہتر کریں۔ اصل امتحان وہ ہے جہاں عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔

    حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں فضائی سفر عام آدمی کی ضرورت نہیں بلکہ ایک محدود طبقے کی سہولت ہے۔ اندازاً صرف دو فیصد آبادی سالانہ فضائی سفر کرتی ہے، جبکہ بجلی سو فیصد پاکستانی استعمال کرتے ہیں۔ ہر گھر، ہر دکان، ہر اسپتال، ہر صنعت اور پوری معیشت بجلی پر چلتی ہے۔ اب فیصلہ خود کریں کہ زیادہ اہم کیا ہے ایک ایئرلائن یا بجلی کا نظام؟ اگر کمرشل کاروبار کرنے کا واقعی شوق ہے تو اس شعبے میں آئیں جہاں سو فیصد عوام کو ریلیف ملے، جہاں گورننس بہتر ہو تو نرخ کم ہوں، سروس بہتر ہو اور معیشت مضبوط ہو۔ورنہ یہ سب کچھ محض نمائشی منصوبے لگتے ہیں جو وقتی سرخی تو بنا سکتے ہیں مگر عوام کی زندگی نہیں بدل سکتے۔ قوم اب نعروں سے نہیں، ترجیحات سے فیصلے کرے۔

  • اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل  اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فلسطین سے متعلق بریفنگ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئےاسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں کنٹرول کے دائرہ کار میں توسیع، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں،مذکورہ اسرائیلی اقدامات کو فوری طور پر روکا اور واپس لیا جانا چاہیے۔

    وزیرِ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ مؤثر پیش رفت کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں نمایاں اضافہ اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔

    انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا حصول ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین شدہ سیاسی عمل کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے، جو بین الاقوامی قانونی جواز اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو اس عمل کا اختتام 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی، آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر منسلک ریاستِ فلسطین کے قیام پر ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

    پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، اور عالمی برادری کو فوری، مؤثر اور اجتماعی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ خونریزی کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • عطا اللہ تارڑ کی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے خبروں کی سخت تردید

    عطا اللہ تارڑ کی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے خبروں کی سخت تردید

    وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی ڈیل یا رعایت کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے-

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر شئیر کئے گئے اپنے پیغام میں وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ عمران خان کے حوالے سے نا کوئی ڈیل ہے اور نا ہی کوئی ڈھیل، کسی بھی قسم کی رعایت کا تاثر دینا بالکل غلط ہے،عمران خان عدالتوں سے سزا یافتہ مجرم ہیں اور رعایت کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں، ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں۔

    سہیل آفریدی کی ٹک ٹاک بنوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،صارفین کی شدید تنقید

    چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    پی ایچ ایف صدر مستعفیٰ،کپتان پر دو سال کی پابندی عائد کر دی

  • انڈین آرمی کی  فریڈم فائٹرز نے دوڑیں لگو ادیں

    انڈین آرمی کی فریڈم فائٹرز نے دوڑیں لگو ادیں

    مودی ہے تو ممکن ہے !!! منی پور ہوا آزاد ۔۔۔
    ارنب گوسوامی بدحال ، بنگلہ دیش کو کوسنے لگا

  • افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی،افغان حکام کی دفترخارجہ طلبی

    افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی،افغان حکام کی دفترخارجہ طلبی

    پاکستان نے 16 فروری کوباجوڑ میں دہشت گرد حملے میں 11 فوجیوں کی شہادت پرافغان طالبان حکومت سے سخت احتجاج کیا ہے،افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا ۔

    دفتر خارجہ نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔دفتر خارجہ نے فتنہ الخوارج ، ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک حملے کر رہے ہیں،پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوری، سخت اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ افغان طالبان حکومت پر واضح کیا گیا ہےکہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان اپنے فوجیوں اور شہریوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا،دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، فتنہ الخوارج کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • امن کا پرچاراور جنگ کے سائے،امریکہ کیاچاہتاہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کا پرچاراور جنگ کے سائے،امریکہ کیاچاہتاہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بورڈ آف پیس کانفرنس تک محدود،فلسطینیوں کا قتل عام جاری
    امریکہ ،ایران کشیدگی نے خطے کاامن دائو پر لگادیا،دنیا خاموش کیوں؟
    دنیا کو نعروں سے زیادہ بصیرت کی ضرورت،اعتماد سازی بھی ناگزیر
    تجزیہ،شہزادقریشی
    ایک طرف امن کاپرچاردوسری طرف جنگ کے سائے،دنیا ایک عجیب دو راہے پر کھڑی ہے،امریکہ میں امن کے نام پر کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں،پالیسی ساز مستقبل کے نقشے بنا رہے ہیں،تھنک ٹینکس عالمی استحکام کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے افق پر بارود کی بو تیز ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ امن کی محفلیں واقعی جنگ کو روکنے کے لئے ہیں یا آنے والے کسی بڑے تصادم کی تمہید؟امریکہ میں ہونے والی حالیہ ’’بورڈ آف پیس‘‘نوعیت کی کانفرنسیں دراصل عالمی طاقتوں کی صف بندی کا حصہ ہیں،یہاں فیصلے کم اور سمت کا تعین زیادہ ہوتا ہے،بیانات میں امن کی بات کی جاتی ہے مگر پس منظر میں طاقت کا توازن،دفاعی حکمتِ عملی اور اتحادیوں کی ترجیحات زیرِ غور آتی ہیں، امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ دو ستونوں پر کھڑی رہی ہے، سفارت کاری اور دباؤ، مسکراتے چہروں کے پیچھے سخت فیصلوں کی تیاری بھی جاری رہتی ہے،دوسری جانب ایران ہے،جو گزشتہ چار دہائیوں سے امریکی پالیسی کا مرکزی نکتہ بنا ہوا ہے،ایرانی انقلاب کے بعد سے اعتماد کی خلیج کبھی پوری نہ ہو سکی،ایٹمی پروگرام، خطے میں اثر و رسوخ، اسرائیل کے ساتھ تناؤ اور خلیجی سیاست،یہ سب وہ عوامل ہیں جو واشنگٹن اور تہران کو آمنے سامنے رکھتے ہیں، 2015 کا جوہری معاہدہ امید کی ایک کرن تھا، مگر پابندیوں کی واپسی نے فضاء پھر مکدر کر دی،کیا امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟نظریاتی طور پر ہاں، عملی طور پر یہ فیصلہ آسان نہیں،ایران پر براہِ راست حملہ پورے خطے کو جنگ میں دھکیل سکتا ہے،خلیج کی تیل گزرگاہیں، عالمی منڈیاں اور پہلے سے کمزور عالمی معیشت شدید متاثر ہوں گی،مزید یہ کہ ایران روایتی اور غیر روایتی دونوں انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،یہی وجہ ہے کہ مکمل جنگ کے امکانات کم اور محدود کارروائیوں، سائبر حملوں یا پراکسی کشمکش کے امکانات زیادہ سمجھے جاتے ہیں،اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی،چین اور روس جیسے ممالک طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،ایسے ماحول میں امریکہ کسی بھی بڑے عسکری قدم سے پہلے عالمی ردعمل اور اتحادیوں کی حمایت کا حساب ضرور لگائے گا،ایران بھی سفارتی تنہائی کے باوجود مکمل طور پر تنہا نہیں،

    یہ تمام صورتحال ہمیں ایک نئے دور کی یاد دلاتی ہے،سرد جنگ کا نہیں بلکہ ’’سرد کشیدگی‘‘ کا دور، جہاں مکمل جنگ سے گریز کیا جاتا ہے مگر دباؤ، پابندیاں اور محدود تصادم جاری رہتے ہیں،امن کی کانفرنسیں ہوتی رہیں گی،بیانات جاری ہوتے رہیں گے،مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں تصادم کے دہانے سے پیچھے ہٹنے کا حوصلہ رکھتی ہیں؟دنیا کو اس وقت نعروں سے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے،اگر امن کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں طاقت کے استعمال سے زیادہ اعتماد سازی پر زور دینا ہوگا،ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں اکثر کانفرنس ہالوں کی خاموشیوں میں جنم لیتی ہیں اور میدانوں کی گرج میں پروان چڑھتی ہیں۔

  • سہیل آفریدی کی ٹک ٹاک بنوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،صارفین کی شدید تنقید

    سہیل آفریدی کی ٹک ٹاک بنوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،صارفین کی شدید تنقید

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ٹک ٹاک بنوانے پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے-

    سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں سڑک پر کھڑا دیکھا جا سکتا ہے اور اردگرد کیمرا مین مختلف اینگلز سے تصاویر اور ویڈیوز بنا رہے ہیں،ویڈیو کی وائرل ہونے کےصارفین کی جانب سے وزیر اعلیٰ پر شدید تنقید کی گئی۔

    معید پیرزادہ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈرامے کی ضرورت پڑ گئی؟ ایک صارف نے کہا کہ اُدھر عمران خان کی آنکھ جا رہی ہے اور اِدھر ٹک ٹاک کی شوٹنگ ہو رہی ہےہر اینگل سے کیمرہ والا بیٹھا ہوا ہے، کمال نہیں ہو گیا-

    ایک اور صارف نے کہا کہ میں نے کبھی سہیل آفریدی پر تنقید نہیں کی لیکن آج یہ شوٹنگ دیکھ کر مجھے بھی تکلیف ہوئی ہے ہم مریم نواز کو ٹک ٹاکر کہتے ہیں لیکن یہاں ہمارے اپنے وزیراعلیٰ جو بہت بڑی ذمہ داری رکھتے ہیں وہ ٹک ٹاک بنا رہے ہیں انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔

    ایک صارف نے لکھا کہ سہیل آفریدی صاحب اگر یہی گند گھولنا ہے تو مہربانی فرمائیں گھر بیٹھ جائیں،جبکہ ایک صارف نے تو ویڈیو کو عنوان بھی دے دیا لکھا کہ فلم کا نام عشق عمران ہے-

    ایک سوشل مٰڈیا صارف نے سہیل آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی نے ہی نہیں بلکہ سبھی وزیر اعلیٰ نے شوٹنگ اور فوٹو شوٹ کے لیے باقاعدہ سوشل میڈیا ٹیمیں رکھی ہوئی ہیں جو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جن میں ٹک ٹاک بھی شامل ہیں ان پر ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔

  • پی ایچ ایف صدر مستعفیٰ،کپتان پر دو سال کی پابندی عائد کر دی

    پی ایچ ایف صدر مستعفیٰ،کپتان پر دو سال کی پابندی عائد کر دی

    لاہور: پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر طارق بگٹی نے ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ پر پابندی عائد کرکے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    لاہور میں پریس کانفرنس میں آسٹریلیا میں پاکستان ہاکی ٹیم کے ساتھ بد انتظامی کے واقعے پر طارق بگٹی نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے درخواست کرتا ہوں کہ کمیٹی بنائی جائے جو تحقیقات کرے اور تحقیقات میں پرولیگ بے نظمی کا جو ذمہ دار ہو اسے سزا دی جائے،پی ایس بی کی وجہ سے دورہ آسٹریلیا میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور ہاکی فیڈریشن کے پاس اتنے فنڈز نہیں تھے کہ وہ اس وقت وہاں سب مینج کرتے، آسٹریلیا میں ہوٹل بکنگ کے لیے پاکستان اسپورٹس بورڈ نے رقم وقت پر ادا نہیں کی، پی ایس بی میں خود گیا کہ ہمارے پیسے بھیج دو مگروہ کہتے ہیں کہ دو ماہ لگیں گے۔

    طارق بگٹی نے کہ پورا شیڈول رانا مجاہد نے اسپورٹس بورڈ کے سامنے رکھا ہے اور ہم جس کوالیفائی راؤنڈ کے لیے جا رہے ہیں، ٹیم اچھا پرفارم کرے گی، ہماری ورلڈ رینکنگ 18 ویں تھی اب 13 ویں پوزیشن ہے جو ہماری اچیومنٹ ہے، میں فلیڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے ہمیں بہت سپورٹ کیا جب کہ وزیراعظم کا شکر گزار ہوں انہوں نے 2 سال مجھے موقع دیا، وزیراعظم نے ہاکی کے لیے 25 کروڑ رکھے اور ریلیز کیے۔

    طارق بگٹی نے کہا کہ اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا ہے اور کپتان عماد بٹ پر 2 سال کی پابندی لگادی ہے، وہ اس عرصے میں ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کہیں نہیں کھیلیں گے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہےکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے انکوائری مکمل کرلی ہے اور 3 رکنی کمیٹی نے انکوائری رپورٹ تیار کی ہے جسے وزیر اعظم آفس بھیج دیا گیا ہے رپورٹ میں کئی مالی معاملات کا ذکر کیا گیا ہے اور اس انکوائری رپورٹ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

  • چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    اسلام آباد: چھوٹو گینگ کے سربراہ سمیت دیگر ملزمان کی سزاوں کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی-

    سپریم کورٹ میں بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت دیگر ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔

    شہزاد نے ریمارکس دیے کہ سزائے موت کا مقدمہ 2 رکنی بینچ نہیں سن سکتا،جس پر پروسیکیوٹر رائے اختر حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ مشہور چھوٹو گینگ کا ہے،جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دیے کہ چھوٹو گینگ تو پنجاب میں بڑا مشہور تھا، ویسے اب تو سی سی ڈی نے سب ختم کر دیا ہے اور سی ٹی ڈی والے تو مقدمات لڑنے والے وکیل عمران کو بھی لے گئے تھے۔

    وکیل سردار عثمان کھوسہ نے کہا کہ میں بھی چھوٹو گینگ کی طرف سے پیش ہو رہا ہوں تاہم محفوظ ہوں وکیل نے استدعا کی کہ کیس کی اگلی سماعت منگل کے روز کی جائے،جسٹس شہزاد احمد ملک نے استفسار کیا کہ منگل کی تاریخ مانگ رہے ہیں استخارہ تو نہیں کرکے آئے؟

    وکیل سردار عثمان نے کہا کہ منگل نہیں تو رمضان کی کوئی تاریخ دے دیں، بابرکت مہینہ ہے اسی مہینے ورلڈ کپ جیتا تھا جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیے کہ اس ورلڈ کپ کا ذکر نہ کیا کریں، جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ کچھ لوگوں کو اس ورلڈ کپ کا ذکر ناگوار گزرتا ہے-

    وکیل چھوٹو گینگ نے کہا کہ چمپیئنز ٹرافی بھی رمضان میں جیتی گئی تھی،جسٹس ملک شہزاد نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو نہیں اٹھائے گئے، ایسا نہ ہو اب کچھ ہو جائے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی-

    واضح رہے کہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت 4 ملزمان نے اپنی سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔