Baaghi TV

Blog

  • اسلام آباد پولیس کی کارروائی:بین الصوبائی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار

    اسلام آباد پولیس کی کارروائی:بین الصوبائی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار

    اسلام آباد: اینٹی موٹر سائیکل لفٹنگ یونٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بین الصوبائی موٹر سائیکل چور گینگ کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق گرفتار گینگ، جسے ’مانو گینگ‘ کہا جاتا ہے، کے 3 ارکان کو لیڈر سمیت حراست میں لیا گیا ہے،ملزمان میں کاشف عر ف مانو، جلال حیدر اور محمد ذیشان شامل ہیں،جو موٹر سائیکل چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث اور سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں ملزمان سے لاکھوں روپے ما لیت کے 13 چوری شدہ موٹر سائیکل، جعلی کرنسی اور اسلحہ و ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے موٹر سائیکل 10 سے زائد مقدمات میں چوری کیے گئے تھے، یہ گینگ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہا ہے ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کا کہنا ہے کہ پولیس منظم اور متحرک جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

  • عرب امارات پر حملوں کی مذمت،جنگ بندی کا احترام کیا جائے، وزیراعظم شہباز

    عرب امارات پر حملوں کی مذمت،جنگ بندی کا احترام کیا جائے، وزیراعظم شہباز

    وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ رات متحدہ عرب امارات میں ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہ یو اے ای میں ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں پر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں،پاکستان اس مشکل وقت میں یوے ای کی حکومت اور اماراتی بہن بھائیوں کے ساتھ مضبوطی سےکھڑا ہے،انتہائی ضروری ہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور اس کا احترام کیا جائے، خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے مذاکرات کو ضروری سفارتی گنجائش فراہم کی جانی چاہیے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز یو اے ای پر 3 میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تھے،اس حوالے سے اماراتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ایران سے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز امارات پر داغے گئے، یو اے ای جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے ایران سے امارات پر حملوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حملے پر امریکا کو جوابدہ ٹھہرایا جائے کیونکہ واقعہ امریکی فوجی مہم جوئی کے باعث پیش آیا۔

  • ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور ان کے خلاف عدم پسندیدگی کی شرح 62 سے 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے حالیہ پول کے مطابق، 62 فیصد امریکی ٹرمپ کی صدارت سے غیر مطمئن ہیں، جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں سب سے بلند ترین سطح ہے دیگر رپورٹس میں یہ شرح 67 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی اور معاشی مسائل کے بعد، 66 فیصد امریکیوں نے ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی کو ناپسند کیا ہے۔

    رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق، معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں صرف 23 فیصد امریکی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ان کے اقدامات سے خوش ہیں، جبکہ 76 فیصد نے ان کی معاشی پالیسیوں پر ناگواری کا اظہار کیا ہے سروے میں شامل دو تہائی (تقریباً 66 فیصد) امریکیوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے-

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے سروے کے مطابق، 59 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد نے جسمانی صحت کو قیادت کے تقاضوں کے مطابق نامناسب قرار دیا اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔

    انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔

    سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہےیہ صورتحال نومبر 2026ء میں ہونے والے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے شدید سیاسی مشکلات کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے-

  • مزید حملے ہوئے تو ایران یو اے ای کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔پاسداران انقلاب

    مزید حملے ہوئے تو ایران یو اے ای کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔پاسداران انقلاب

    ایران کی پاسداران انقلاب نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کا اعتراف کرلیا۔

    پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یو اے ای ایران پر حالیہ حملوں میں ملوث ہے، متحدہ عرب امارات پر کارروائی جوابی ردعمل تھا۔پاسداران نے یہ بھی کہا کہ مزید حملے ہوئے تو ایران اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔

    علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے ملکی سلامتی کیلئے براہ راست خطرہ اور سنگین کشیدگی کی نشانی ہیں، اپنی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے، کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ترجمان اماراتی وزارت خارجہ نے ایرانی حملوں پر رد عمل جاری کردیا، بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے شہری مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایرانی حملوں کا بھرپور جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

    دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی، آبنائے ہرمز پر امریکا کا پروجیکٹ فریڈم جاری ہے، ایرانی سویلین کشتیوں کو نشانہ بنا ڈالا، 5 شہری شہید ہوگئے۔ایرانی فوج نے بھی امریکی جہاز پر میزائل داغ دیے تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے تردید کردی۔ کہا امریکی بحری جہاز پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔پاسداران انقلاب نے بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کیلئے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ جاری کردیا۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دے دی۔ خبردار کیا کہ ایران نے امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو اس کا نام ونشان مٹادیں گے۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر چند دن میں ایران کیخلاف فوجی کارروائی کی منظوری دے سکتے ہیں۔

  • ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایران کے جنوبی صوبے بوشہر کی بندرگاہِ دیر (Dayyer Port) میں لنگر انداز متعدد تجارتی بحری جہازوں (لانچوں) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے –

    ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق یہ آگ بندرگاہ کے کمرشل ایریا میں لگی جس سے وہاں موجود تجارتی سامان کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اس وقت فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں،واقعے کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں اور کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔

    دیر پورٹ کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ماجد عمرانی نے بھی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مہر نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں فی الحال اس حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے اس واقعے کی وجہ کا اعلان فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران نے متحدہ عرب امارات پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔

  • ایران کی جانب سے سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات پر حملے کی دھمکی

    ایران کی جانب سے سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات پر حملے کی دھمکی

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے سعودی عرب اور عمان کو آگاہ کیا تھا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ متحدہ عرب امارات کو اپنے جوابی حملوں میں "بھاری نشانہ” بنائے گا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے سعودی حکام کے ساتھ ایک بات چیت میں ریاض اور ابوظہبی کے درمیان موجودہ اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے امارات کو "کچلنے” کی دھمکی دی تھی،ایران نے مبینہ طور پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ارکان کو یہ پیغام دیا کہ امارات کی جانب سے ایرانی اہداف کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی (بشمول امریکی/اسرائیلی فورسز کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دینا) کی صورت میں، یو اے ای کو سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یہ اقدام بظاہر جی سی سی کے اندر، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی دراڑ کو وسیع کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات اب مختلف سمتوں میں جا رہے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، 2026ء کی ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل آرڈر کو بدل دیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اب روایتی عرب صف بندی کے بجائے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ زیادہ قریب ہو گیا ہے سعودی حکام نے اس دھمکی آمیز زبان کو ناپسند کیا اور وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ 2026ء کے اوائل میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے، جس سے ان ملکوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوا۔

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی، امریکا اور ایران کے متضاد دعوے

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی، امریکا اور ایران کے متضاد دعوے

    آبنائے ہرمز میں حالیہ حملوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان بیانات اور جوابی دعوؤں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج نے ایک امریکی جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جب اس نے آبنائے ہرمز میں داخل نہ ہونے کی وارننگ کو نظر انداز کیا۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد مذکورہ جہاز ایرانی بندرگاہ جاسک کے قریب سے واپس مڑ گیا۔

    دوسری جانب امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے کسی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اب بھی خلیج میں معمول کے مطابق سرگرم ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج نے سات چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا، جب ایران نے ایسے جہازوں پر فائرنگ کی جو جنگ سے متعلق نہیں تھے، جن میں جنوبی کوریا کا ایک جہاز بھی شامل تھا۔

    ادھر تہران کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی میں ایران کی جانب جانے والی دو سویلین کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔دریں اثنا، جنوبی کوریا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے پرچم بردار جہاز میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور جہاز میں سوار تمام 24 افراد محفوظ ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے کی اصل وجہ کا تعین جہاز کے معائنے کے بعد کیا جائے گا۔

    ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے "پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے ایک نیا منصوبہ بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس آپریشن میں 100 سے زائد زمینی اور بحری طیارے، بشمول ایف-16 لڑاکا طیارے، حصہ لے رہے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ آپریشن دفاعی نوعیت کا ہے جس کا مقصد امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔دوسری جانب ایران نے اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "پروجیکٹ ڈیڈلاک” قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔

    آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    ’وائٹ ہاؤس‘ کے قریب فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ایک مشکوک مسلح شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

    امریکی خفیہ ادارے ’سیکرٹ سروس‘ نے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے قریب تعینات اہلکاروں کا ایک مسلح اور مشکوک شخص سے سامنا ہوا جس نے اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں زخمی ہو گیا،اس واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں تھوڑی دیر کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

    سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بیرونی حصوں پر گشت کرنے والے اہلکاروں نے ایک ایسے شخص کی نشاندہی کی جو مشکوک لگ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے پاس اسلحہ ہے جب سیکرٹ سروس کے افسران اس شخص کے قریب پہنچے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے پیدل بھاگا اور اس نے اہلکاروں کی سمت میں گولی چلائی، اس کے بعد سیکرٹ سروس نے مشتبہ شخص پر جوابی فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہو گیا اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    میتھو کوئن نے انکشاف کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ اس واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے اس علاقے سے گزرا تھا، تاہم ابھی تک ایسے کوئی اشار ے نہیں ملے کہ مشتبہ شخص کا ارادہ نائب صدر کے قافلے تک پہنچنا تھا اس واقعے کے دوران ایک کم عمر راہگیر بھی مشتبہ شخص کی گولی کا نشانہ بنا لیکن اسے کوئی جان لیوا چوٹ نہیں آئی اور اس کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

    مشتبہ شخص وائٹ ہاؤس کی حدود کے اندر موجود نہیں تھا بلکہ باہر تھا، حملہ آور کا رخ صدر کی طرف تھا یا نہیں، اس وقت میں نہیں جانتا لیکن ہم جلد ہی اس کا پتہ لگا لیں گے مشتبہ شخص سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔

  • امریکا کسی کے کہنے پر دوبارہ جنگ کے دلدل میں نہ پھنسے۔ایران

    امریکا کسی کے کہنے پر دوبارہ جنگ کے دلدل میں نہ پھنسے۔ایران

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے مذاکرات میں پیشرفت ہورہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی بحران کا فوجی حل نہیں ہوتا، امریکا کسی کے کہنے پر دوبارہ جنگ کے دلدل میں نہ پھنسے۔عباس عراقچی نے یو اے ای کو بھی تنبیہ کی کہ متحدہ عرب امارات بھی محتاط رہے، پروجیکٹ فریڈم دراصل پروجیکٹ ڈیڈلاک ہے۔

    دوسری جانب ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، امریکا اوراتحادیوں نےجہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔باقر قالیفاب کا کہنا تھا آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نئی حکمتِ عملی اب مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

    علاوہ ازی ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ائیرکرافٹ کیرِیئر کی آبنائے ہُرمُز کی طرف بڑھنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ ایک بیان میں کمانڈر ان چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایران نے دشمن سے نمٹنے کے لیے کروز میزائل اور لڑاکا ڈرون تعینات کردیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ائیرکرافٹ کیریئر سمجھتا ہے کہ وہ خفیہ رہ سکنے والے ریڈار کی مدد سے آبنائے ہُرمُز تک پہنچ جائے گا۔ لیکن انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ایران کا جواب "فائر” ہوگا۔ ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایرانی فوج خلیج فارس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی سمندروں کے ایک ایک انچ کا دفاع کیا جائے گا۔

  • فجیرہ بندرگاہ پر بڑا سائبر حملہ، لاکھوں خفیہ دستاویزات چوری ہونے کا دعویٰ

    فجیرہ بندرگاہ پر بڑا سائبر حملہ، لاکھوں خفیہ دستاویزات چوری ہونے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کی اہم تجارتی گزرگاہ فجیرہ بندرگاہ کے خلاف مبینہ طور پر ایک بڑے سائبر حملے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں ہیکرز کی جانب سے لاکھوں خفیہ دستاویزات چوری کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق "حنظلہ” نامی ہیکر گروپ نے فجیرہ بندرگاہ کو نشانہ بناتے ہوئے ایک منظم سائبر آپریشن کیا۔ دعوے کے مطابق اس کارروائی کے دوران شپنگ، مالیاتی معاملات اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق 4 لاکھ 30 ہزار سے زائد حساس دستاویزات حاصل کی گئیں۔رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ حاصل کردہ خفیہ معلومات کو فجیرہ بندرگاہ پر ممکنہ ٹارگٹڈ حملوں میں معاونت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ہیکر گروپ "حنظلہ” نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تعاون ان کی نگرانی میں ہے اور اس کے "سنگین نتائج” برآمد ہو سکتے ہیں۔

    تاہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خلیجی خطے میں سائبر سکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔