Baaghi TV

ایران پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

israel

امریکی میڈیا اور برطانوی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا اور اسرائیل کے ایران پر اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں حملے کا شدید امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملہ متوقع ہے حالیہ واقعات نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اب ایک مربوط فوجی جواب پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں ایک تیل کی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا اور دبئی کی فضاؤں میں میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 50 سے زائد ایرانی اہداف نشانے پر ہیں، جبکہ امریکی سینٹ کام نے پہلے ہی 6 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے،ایران میں بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ایرانی پاسداران انقلاب نے کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کی تیاری کر رکھی ہے،اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں ایران کے وسطی اور مغربی حصوں میں 140 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

اسی حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی فورسز کی سات کشتیاں تباہ کی ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہی تھیں ایران نے جنوبی کوریا کے مال بردار جہاز سمیت دیگر غیر متعلقہ ممالک کے جہازوں پر حملے کیے ہیں، اب شاید وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی ہمارے مشن کا حصہ بن جائے۔

صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت وارننگ دی کہ اگر ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں، یا تو مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو جائے یا پھر مکمل فوجی کارروائی کی طرف واپسی ہو۔

اس کشیدگی کے معاشی اثرات بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں آبنائے ہرمز جو کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، وہاں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں پانچ ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔

More posts