Baaghi TV

Blog

  • 
سری لنکا میں قرض کی رقم ہیکرز کے اکاؤنٹ میں منتقل

    
سری لنکا میں قرض کی رقم ہیکرز کے اکاؤنٹ میں منتقل

    ‎سری لنکا میں ایک سنگین مالیاتی غفلت یا سائبر حملے کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں آسٹریلیا کو ادا کی جانے والی 25 لاکھ ڈالر کی قرض قسط اصل قرض دہندہ کے بجائے ہیکرز کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ابتدائی طور پر اسے سائبر فراڈ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق یہ رقم آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان جاری قرض پروگرام کے تحت ادا کی جانی تھی، جو ستمبر 2025 میں مکمل ہونا تھا۔ تاہم انکشاف ہوا ہے کہ یہ رقم جنوری کے دوران کسی وقت ہیکرز کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی، جس کا علم بعد میں سامنے آیا۔
    ‎سری لنکا کے وزیر خزانہ ہرشنا سوریاپروما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ادائیگی تو کی گئی تھی مگر سائبر مجرموں نے مداخلت کرتے ہوئے رقم کو اصل وصول کنندہ کے بجائے کسی اور بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا۔ ان کے مطابق اس معاملے میں سنگین غفلت یا تکنیکی خامی کا امکان بھی زیر غور ہے۔
    ‎حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پبلک ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے چار سینئر افسران کو معطل کر دیا ہے جبکہ بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ رقم کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہیکرز نے ای میل کے ذریعے دی جانے والی ادائیگی ہدایات میں رد و بدل کیا اور رقم کو اپنے اکاؤنٹس کی طرف موڑ دیا۔ تاہم اس بات کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے کہ یہ عمل کس طریقے سے انجام دیا گیا۔
    ‎یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب آسٹریلوی قرض دہندہ نے شکایت کی کہ اسے متوقع ادائیگی موصول نہیں ہوئی۔ اس کے بعد حکام نے معاملے کی چھان بین شروع کی جس میں اس بڑی مالی بے ضابطگی کا انکشاف ہوا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سرکاری اداروں میں سائبر سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

  • 
ایرانی ریال کی مانگ میں اضافہ، قیمتیں بلند

    
ایرانی ریال کی مانگ میں اضافہ، قیمتیں بلند

    ‎پاکستان کی غیر سرکاری اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث اس کی قیمتوں میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 28 اپریل 2026 کو کراچی، کوئٹہ اور لاہور کی مارکیٹس میں ریال کی قدر میں واضح اضافہ سامنے آیا ہے۔
    ‎کرنسی ڈیلرز کے مطابق کیش مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کا بنڈل 8 ہزار سے 10 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان فروخت ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر ایرانی ریال کی قدر کم ہونے کے باوجود پاکستان میں اس کی قیمت کئی گنا زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔
    ‎اوپن مارکیٹ کے مطابق ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 1000 ایرانی ریال کے برابر ہے، جبکہ 1000 روپے کے بدلے تقریباً 10 لاکھ ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح 8 ہزار سے 10 ہزار روپے میں ایک کروڑ ریال کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔
    ‎اس کے برعکس بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4725 ایرانی ریال کے برابر ہے، جس کے مطابق ایک کروڑ ریال کی قیمت تقریباً 2 ہزار 100 روپے بنتی ہے۔ اس طرح پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال عالمی ریٹ کے مقابلے میں تین سے چار گنا مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس فرق کی بڑی وجوہات میں سرحدی تجارت، غیر رسمی لین دین اور بینکنگ چینلز کی کمی شامل ہیں، جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلوچستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے کاروباری روابط بھی اس رجحان کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔

  • آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا فتح ٹو میزائل  کا کامیاب تجربہ

    آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا فتح ٹو میزائل کا کامیاب تجربہ

    آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ایویونکس اور جدید ترین نیویگیشنل معاون نظام سے لیس ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس تربیتی تجربے کا مقصد افواج کی تربیت، مختلف تکنیکی پہلوؤں کی توثیق اور بہتر درستگی اور بڑھتی ہوئی بقا کی صلاحیت کے لیے شامل مختلف ذیلی نظاموں کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا،تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ اور پاک فوج کے سینیئر افسران نے کیا، جبکہ اس موقع پر اسٹریٹجک اداروں کے سائنسدان اور انجینیئرز بھی موجود تھے۔

    فورم نے فتح سیریز کے مقامی طور پر تیار کردہ میزائل کے کامیاب تربیتی تجربے کو سراہا،جبکہ دوسری جانب صدر مملکت، وزیر اعظم پاکستان، چیف آف ڈیفنس فورسز اور سروسز چیفس نے میزائل کے کامیاب تربیتی تجربے میں حصہ لینے والے تمام افراد کی تکنیکی مہارت، لگن اور عزم کو سراہا۔

  • امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی، ایران

    امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی، ایران

    گفتگو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع اجلاس میں ایران کی نمائندگی کر رہے ہیں گفتگو کرتے ہوئےایرانی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ امریکا اب آزاد اور خود مختار ملکوں کی پالیسی متعین کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا-

    ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ امریکا اب آزاد ملکوں پر اپنی پالیسی مسلط نہیں کر سکتا ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی، عالمی برادری اب امریکا اور اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

    ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں ’ایس سی او‘ کر فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے ترجمان وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں دیگر خودمختار ممالک، خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو دنیا کو یک قطبی نظام سے نکال کر کثیر قطبی نظام کی طرف لے جانے کی عکاسی کرتا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بشکیک میں ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کرغزستان، روس، پاکستان اور بیلاروس کے وزرائے دفاع سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں باہمی تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • جامعہ ملیہ اسلامیہ میں  آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے پروگرام کیخلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج

    جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے پروگرام کیخلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج

    جامعہ ملیہ اسلامیہ (JMI) میں آر ایس ایس (RSS) سے وابستہ تنظیموں کے پروگرام کے خلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

    آر ایس ایس نے آج منگل کو جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ‘یووا کمبھ’ (یوتھ کنکلیو) کا انعقاد کیا ہے۔ اس پروگرام کے خلاف کئی طلبہ تنظیمیں احتجاج کررہی ہیں۔ طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کیا۔ این ایس یو آئی سے وابستہ طلبہ نے اس تقریب کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔

    (آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں AISA اور دیگر ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے یونیورسٹی میں آر ایس ایس کی موجودگی کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کیمپس میں منعقدہ "یووا کمبھ” کے عنوان سے آر ایس ایس کے پروگرام کے خلاف احتجاج کیا ہے

    اے آئی ایس اے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس اس بینر تلے مختلف یونیورسٹیوں میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کرتی ہے، جو قوم کی تعمیر اور ترقی کے سو سال کی میراث کا دعویٰ کرتی ہے۔ اے آئی ایس اے نے دلیل دی کہ آر ایس ایس – جس نے آزادی کی جدوجہد میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اور یہاں تک کہ انگریزوں کے ساتھ کھل کر تعاون کیا – آج صرف اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے "قوم پرستی کا کارڈ” کھیل رہی ہے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمارے شہیدوں اور آزادی کے جنگجوؤں کی وراثت – جنہوں نے ایک جمہوری، سیکولر ہندوستان کے لیے جدوجہد کی – آج آر ایس ایس کے خلاف متحد ہے، چاہے وہ جامعہ میں ہو یا کہیں اور۔

    انہوں نے آر ایس ایس کو کھلی دعوت دینے پر جامعہ کی انتظامیہ پر بھی تنقید کی جبکہ مبینہ طور پر ترقی پسند گروپوں کو تعلیم، جمہوریت اور آئینی اقدار پر پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا مظاہرین نے مزید دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس فرقہ وارانہ ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے جو کہ تفرقہ انگیز ہے اور اس لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ یا کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے،احتجاجی طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے کیمپس میں ایسی تنظیموں کی موجود گی پر روک لگانے اور جامعہ کی شناخت کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا

    احتجاج کے دوران، طلباء تنظیموں بشمول AISA اور دیگر طلباء تنظیموں نے نعرے لگائے اور اس تقریب اور اس کے پیغام رسانی کی مخالفت کرنے والے پوسٹرز آویزاں کیے، اس بات پر زور دیا کہ وہ کیمپس میں ایسے پروگراموں کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جہاں آزادی پسندوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، ان کے مطابق آر ایس ایس نے قومی تحریک کے برعکس کام کیا۔

    صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے دہلی پولیس کے جوانوں کو جامعہ میں تعینات کیا گیا ہے سیکورٹی فورسز یونیورسٹی کے احاطے کے اندر اور باہر دونوں جگہ چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے گیٹ نمبر ایک کے باہر دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں کی ایک بڑی نفری کو تعینات کیا گیا ہے، جب کہ این ایس یو آئی کے طلباء یونیورسٹی کیمپس کے اندر احتجاج کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔

    دریں اثناء جامعہ انتظامیہ نے الزامات یا جاری احتجاج پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا ہے مظاہرے جاری رہنے کے باعث کیمپس میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

  • پی آئی اے نجکاری:عارف حبیب کنسورشیم 100 فیصد شیئرز کا مالک بن گیا

    پی آئی اے نجکاری:عارف حبیب کنسورشیم 100 فیصد شیئرز کا مالک بن گیا

    عارف حبیب کنسورشیم نے پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کے بقیہ 25 فیصد شیئرز خریدنے کے لیے رقم جمع کرا دی ہے، جس کے بعد اب ایئرلائن کی مکمل ملکیت اس کنسورشیم کو منتقل ہوگئی ہے۔

    عارف حبیب کنسورشیم کے مطابق معاہدے کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے 45 ارب روپے کی بینک گارنٹی جمع کرا دی گئی ہے،حکومتِ پاکستان نے نجکاری معاہدے کے تحت عارف حبیب کنسورشیم کو بقیہ 25 فیصد شیئرز خریدنے کا آپشن فراہم کیا تھا، جسے کنسورشیم نے استعمال کر لیا ہے اس سے قبل یہ گروپ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کا مالک تھا، عارف حبیب کنسورشیم نے بقیہ 25 فیصد شیئرز کے لیے لیٹر آف کریڈٹ جمع کرا دیا ہے جب کہ اسٹینڈ بائی ایل سی اور بینک گارنٹی نجکاری کمیشن کو سونپ دی ہے۔

    عارف حبیب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پی آئی اے کو جلد ٹیک اوور کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں 28 اپریل آخری تاریخ تھی اور آج باقی شیئرز کے لیے پیشکش بھیج دی ہے، نجکاری کمیشن کو کہا ہے کہ ایف بی آر سے جہازوں کے لیے این او سی فوری دلوایا جائے۔

    مکمل کنٹرول سنبھالنے کے بعد عارف حبیب کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے خسارے میں کمی آئے گی اور طیاروں کی تعداد میں اضافے سمیت بین الاقوا می روٹس پر سروسز کو بہتر بنایا جا سکے گا، اور یہ ملکی معیشت اور ہوا بازی کی صنعت کے لیے ایک سنگ ہے۔

    پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام مالیاتی اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد توقع ہے کہ مئی 2026 میں عارف حبیب کنسورشیم پی آئی اے کا مکمل انتظامی کنٹرول سنبھال لے گا۔

  • ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    فاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے-

    ایچ آئی وی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے 2024 سے 2026 کے لیے فنڈ 65 ملین ڈالر مختص تھا، جس کی مدت جون 2026 میں ختم ہو جائے گی،65 ملین ڈالر میں سے حکومت پاکستان کو 3.9 ملین ڈالر دیے گئے، جبکہ باقی رقم نئی زندگی اور یو این ڈی پی کو فراہم کی گئی۔

    مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار مریضوں کا علاج جاری ہے جبکہ 24 ہزار مریض لاپتا ہیں 2025 میں ملک میں اے آر ٹی سینٹرز کی تعداد 97 ہو گئی، جبکہ 2020 تک پورے ملک میں صرف 49 اے آر ٹی سینٹرز تھے تونسہ میں ایچ آئی وی کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جو واقعہ رپورٹ ہوا وہ 2024 کا ہے اسلام آباد میں اس وقت ایچ آئی وی کے کل 618 رجسٹرڈ کیسز ہیں، جن میں سے 210 کیسز اسلام آباد کے ہیں، جبکہ باقی 408 کیسز راولپنڈی اور دیگر علاقوں کے رجسٹرڈ ہیں،ایچ آئی وی کی کوئی دوا مارکیٹ میں دستیاب نہیں، یہ ادویات صرف سرکاری اداروں سے فراہم کی جاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معرکۂ حق میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے، 100 سال کی سفارتکاری میں بھی ایسی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی تھی،پاکستان نے تیسری جنگ عظیم رکوانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ ملک کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں-

  • ملک بھر میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 8900 روپے سستا ہو گیا ہے۔

    ملک میں فی تولہ سونا 8900 روپے کمی کے بعد 485,062 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 7630 روپے کمی کے بعد 415,862 روپے کا ہو گیاہے اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 381,220 روپے ہوگئی جبکہ عالمی بازار میں سونا 89 ڈالر کمی کے بعد 4627 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

    گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا فی تولہ سونا 800 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 93 ہزار 962 روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 686 روپے اضافے کے ساتھ 4 لاکھ 23 ہزار 492 روپے ہو گئی تھی۔

  • پی ایس ایل11 کوالیفائر میچ : کراچی میں ٹریفک پلان جاری

    پی ایس ایل11 کوالیفائر میچ : کراچی میں ٹریفک پلان جاری

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 میں آج نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان ہونے والے مقابلے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا گیا ہے۔

    کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق سر شاہ سلیمان روڈ کے دونوں اطراف کے روڈ ٹریفک کے لیے کھلے رہیں گے جبکہ میچ دیکھنے آنے والے شائقین کے لیے مختلف مقامات پر پارکنگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، کارساز سے آنے والے شائقین حبیب ابراہیم رحمت اللہ روڈ ، اسٹیڈیم فلائی اوور کے نیچے سے ہوتے ہوئے سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر اور چائنا گراؤنڈ میں اپنی گاڑیاں پارک کر سکیں گے۔

    ملینیئم سے آنے والے اسٹیڈیم روڈ ، پیر صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ سے ہوتے ہوئے اسٹیڈیم فلائی اوور کے نیچے سے دائیں جانب سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر اور چائنا گراؤنڈ پر اپنی گاڑی پارک کرسکیں گے،جبکہ نیو ٹاؤن کی جانب سے آنے والے شائقین اسٹیڈیم روڈ سے ہوتے ہوئے آغا خان اسپتال کے بعد بائیں جانب مڑ کر نیشنل کوچنگ سینٹر اور چائنا گراؤنڈ میں گاڑی پارک کریں گے،اسی طرح سہراب گوٹھ سے نیپا، لیاقت آباد 10 نمبر سے حسن اسکوائر، پی پی چورنگی سے جانب یونیورسٹی روڈ، کارساز سے اسٹیڈیم ، ملینیم مال سے نیو ٹاؤن، اسٹیڈیم سگنل تا حسن اسکوائر تک ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کے لیے داخلہ ممنوع ہوگا۔

    کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی زحمت سے بچنے کے لیے ٹریفک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں-

    واضح رہے کہ وزیراعظم نے پی ایس ایل کے پلے آف مرحلے میں بھی شائقین کرکٹ اسٹیڈیم کو جانے کی اجازت دیدی ہے،تاہم وزیراعظم کی جانب سے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ شائقین میچز میں شرکت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں یا ایندھن کے کم سے کم استعمال کو یقینی بنائیں، تاکہ قومی کفایت شعاری مہم کے اہداف کو مدنظر رکھا جا سکے۔

  • آسیان ممالک کا وفد لاہور اور پنجاب کی ثقافت سے متاثر

    آسیان ممالک کا وفد لاہور اور پنجاب کی ثقافت سے متاثر

    عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پنجاب کا کلچر اور روایات نہایت خوبصورت ہیں اور حکومت ان کے تحفظ اور ترویج کے لیے سرگرم عمل ہے-

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے آسیان ممالک کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں خطے کے درمیان ثقافتی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،ملاقات میں پنجاب اور آسیان ممالک کے درمیان کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی –

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبے کی ثقافت اور تہذیب کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، پنجاب کا کلچر اور روایات نہایت خوبصورت ہیں اور حکومت ان کے تحفظ اور ترویج کے لیے سرگرم عمل ہے مریم نواز کی قیادت میں پنجاب تمام شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے۔

    وزارت اطلاعات و ثقافت پنجاب کی جانب سے آسیان وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا، جہاں عظمیٰ بخاری اور سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی نے وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیاانڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسی نے آسیان وفد کی قیادت کی اس موقع پر وفد کو واہگہ بارڈر اور شالیمار باغ کا دورہ بھی کروایا گیا تاکہ وہ پنجاب کے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے آگاہ ہو سکیں۔

    انڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسی نے پنجاب حکومت کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب اور لاہور کی ثقافت سے بہت متاثر ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے لوگ نہایت مہمان نواز اور عزت دینے والے ہیں،عظمیٰ بخاری نے آسیان وفد کے شرکاء کو شیلڈز بھی پیش کیں جبکہ وفد نے پنجاب حکومت کی عمدہ مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔