Baaghi TV

Blog

  • قازقستان کا ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کا اعلان

    قازقستان کا ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کا اعلان

    وسطی ایشیاء کے مسلم اکثریتی ملک قازقستان نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی تعلقات کی بہتری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    یہ اعلان اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورۂ قازقستان کے موقع پر سامنے آیا، جہاں انہوں نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن اور بین الاقوامی تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔صدر قاسم جومارت توقایف نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں استحکام، اقتصادی روابط اور بین الاقوامی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    ابراہیمی معاہدے دراصل ایسے سفارتی معاہدے ہیں جن کے تحت عرب اور مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لاتے ہیں۔ ان معاہدوں کا بنیادی مقصد خطے میں امن کا قیام، تجارتی و اقتصادی روابط کا فروغ اور سکیورٹی تعاون کو بڑھانا ہے۔واضح رہے کہ وسطی ایشیاء کے ممالک، جن میں قازقستان بھی شامل ہے، 1990ء کی دہائی سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔ تاہم ابراہیمی معاہدے میں باضابطہ شمولیت کو ایک نئی سفارتی سمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں علاقائی سیاست پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

  • سیاحت  ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی،مریم اورنگزیب

    سیاحت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی،مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینیئر وزیر نے کہا ہے کہ اب سیاحت صرف ایک سافٹ سیکٹر نہیں رہی بلکہ آنے والے چند سالوں میں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے خودکفیل ہو نے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے پنجاب میں سیاحت اور ورثے کی بحالی پر 28 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ ایکو ٹورزم اور وائلڈ لائف ٹورزم کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، مجموعی طور پر 78 ارب روپے کے وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ‘میگنیفیسنٹ پنجاب’ ایپ میں پورے صوبے کے سیاحتی مقامات کے بارے میں جامع معلومات فراہم کی گئی ہیں،اب سیاحت صر ف ایک سافٹ سیکٹر نہیں رہی بلکہ آنے والے چند سالوں میں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی،سیاحتی مقامات کو پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شر یف کے وژن کے تحت ‘میگنیفیسنٹ پنجاب’ منصوبے کے ذریعے بحال کیا گیا ہے،گزشتہ 8 ماہ کے دوران لاہور سیاحتی سرگرمیوں کے حوالے سے خطے میں نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔

    انہوں نے اپنی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہت جلد مزید سیاحتی مقامات کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا،طلبہ چھانگا مانگا سمیت مختلف جنگلات اور تفریحی مقامات کا دورہ کر سکیں گے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوٹلنگ اور ٹورازم سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں پہلی مرتبہ پنجاب ٹورزم اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے،یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد پنجاب میں سیاحت کو عالمی معیار کے مطابق فروغ دینا ہے۔

  • بیوی کو زہریلا محلول پلا کر قتل کرنے والا بے رحم شوہر گرفتار

    بیوی کو زہریلا محلول پلا کر قتل کرنے والا بے رحم شوہر گرفتار

    تھانہ ٹاؤن شپ پولیس کی بروقت کارروائی، سنگین واردات میں ملوث ملزم گرفتار کر لیا گیا

    بیوی کو زہریلا محلول پلا کر قتل کرنے والا بے رحم شوہر گرفتار کر لیا گیا، ملزم وقار رسول کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا مقتولہ نادیہ رمضان کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، ٹاؤن شپ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ملزم سے مزید تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے، اہم شواہد اکٹھے کر لیے گئے قائم مقام ایس پی صدر عبداللہ عمران چیمہ کا کہنا ہے کہ مظلوم خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا، قانون ہاتھ میں لینے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ،

    2 افراد کی 12 سالہ بچے سے اجتماعی ذیادتی کا واقعہ کاہنہ پولیس نے ہیومن انٹیلی جنس سے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا، ملزمان 12 سالہ حسنین کو ورغلا کر مہلنوال کے علاقے میں لے گئے، ملزمان نے زبردست کھیتوں میں لیجا کر اجتماعی ذیادتی کا نشانہ بنایا ملزمان بچے کو گھر کے قریب چھوڑ کو فرار ہو گئے ، ایس ایچ او کاہنہ کا کہا ہے کہ گرفتار ملزمان میں عدنان اور عمران شامل ہیں ، ایس پی ماڈل ٹاؤن اسد علی کا کہنا ہے کہ بچوں کا استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں،

  • پاکستانی ہندو خاندان کو بھارت میں  مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا

    پاکستانی ہندو خاندان کو بھارت میں مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا

    بہتر مستقبل کی تلاش میں 2 سال قبل بھارت جانے والا 24 رکنی پاکستانی ہندو خاندان پیر کے روز واہگہ بارڈر کے راستے واپس پاکستان پہنچ گیا-

    سندھ سے ایک 24 رکنی پاکستانی ہندو خاندان دو سال بھارت میں رہنے کے بعد واہگہ کے راستے پاکستان واپس آگیا، خاندان نے کہا کہ احمد آباد میں قیام کے دوران اسے مشکلات، امتیازی سلوک اور بنیادی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا خاندان کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ سے ہے اور وہ بھارت کے شہر احمد آباد میں مقیم تھا –

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خاندان کے سربراہ رانو نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ، 2 شادی شدہ بیٹوں اور ان کے اہلِخانہ سمیت بہتر طرزِ زندگی کی امید میں بھارت گئے تھے پاکستانی شناخت کے باعث انہیں روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کے بقول بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے، راشن کے حصول اور سرکاری ڈسپنسریوں سے ادویات لینے میں بھی رکاوٹیں پیش آئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد بھارت میں مقیم پاکستانی شہریوں کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا، حتیٰ کہ بعض افراد پر جاسوسی کے الزامات بھی لگائے گئے وطن واپسی پر خاندان کے افراد نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک واپس آ کر سکون محسوس کر رہے ہیں، خاندان کے زیادہ تر افراد بچے ہیں جبکہ ان کی حالتِ زار مالی مشکلات کی عکاسی کر رہی تھی۔

  • ام رباب کی سندھ ہائیکورٹ میں اپیل، ملزمان کی بریت چیلنج کر دی

    ام رباب کی سندھ ہائیکورٹ میں اپیل، ملزمان کی بریت چیلنج کر دی

    دادو کے تین افراد کے قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مدعیہ ام رباب نے اپنے والد، چچا اور دادا کے قتل میں نامزد ملزمان کی بریت کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔

    ام رباب نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی خصوصی اجازت سے کراچی میں اپیل جمع کرائی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دادو کی ماڈل کورٹ نے کیس کے اہم حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ملزمان کو بری کیا، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہیں اپنی جان کو خطرات لاحق ہیں، اسی وجہ سے اپیل کی سماعت دادو کے بجائے کراچی میں کی جائے۔ ام رباب نے استدعا کی کہ عدالت ملزمان کی بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس کی دوبارہ سماعت کا حکم دے۔

    یاد رہے کہ دادو کی ماڈل کورٹ نے اس مقدمے میں اراکین سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت آٹھ ملزمان کو بری کر دیا تھا، جس کے بعد متاثرہ خاندان کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

  • گوجر خان، سگے ماموں نے بھانجے کی زندگی کا چراغ گل کر دیا

    گوجر خان، سگے ماموں نے بھانجے کی زندگی کا چراغ گل کر دیا

    تھانہ جاتلی کے علاقے دیوی میں لرزہ خیز واردات:سنگدل ماموں کی فائرنگ سے 35 سالہ بھانجا جاں بحق، ملزم فرار
    دیوی داتا میں جائیداد کی دشمنی نے رشتوں کا تقدس پامال کر دیا، بھانجے کے قتل پر پولیس کی کارروائی، ملزم کی تلاش جاری
    گوجرخان (قمر شہزاد) تھانہ جاتلی کے علاقے دیوی داتا کی ڈھوک دھمیال میں زمین کے دیرینہ تنازعے نے ایک ہنستے بستے گھر کو ماتم کدہ بنا دیا۔ سگے ماموں نے جائیداد کی ہوس میں اپنے ہی بھانجے کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ مقتول کی شناخت 35 سالہ راجہ گلبدین کے نام سے ہوئی ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ ملزم اظہر مسعود اور مقتول گلبدین کے درمیان عرصے سے زمین کا تنازعہ چل رہا تھا، جس پر کئی بار تلخ کلامی بھی ہوئی، تاہم گزشتہ روز یہ جھگڑا اس وقت خونی رنگ اختیار کر گیا جب ماموں نے طیش میں آکر فائرنگ کر کے اپنے بھانجے کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ جاتلی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ سے اہم شواہد جمع کیے۔ ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیم نے نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کیا۔ پولیس نے مقتول کے لواحقین کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس اور سوگ کی فضا برقرار ہے۔

  • بلدیہ گوجرخان سفید ہاتھی، ٹیکسوں کی بھرمار مگر پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترستے شہری

    بلدیہ گوجرخان سفید ہاتھی، ٹیکسوں کی بھرمار مگر پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترستے شہری

    سی او بلدیہ کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور جھوٹے دلاسے بے نقاب نئے ٹیوب ویلز کا خواب چکنا چور، عوام کو مضرِ صحت زہریلا پانی پلایا جانے لگا
    ریٹائرڈ کرپٹ انجینئر کا بلدیہ پر بدستور قبضہ عوامی حلقوں کا وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سے سیاہ و سفید کے مالک مافیا کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ۔
    گوجرخان (قمر شہزاد) بلدیہ گوجرخان شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جہاں بھاری بھرکم ٹیکس وصول کرنے کے باوجود عوام پینے کے صاف پانی کے لیے دربدر ہو رہے ہیں۔ گرمی کی لہر ابھی شباب پر بھی نہیں آئی لیکن میونسپل کمیٹی کی مجرمانہ غفلت نے ابھی سے پیاس کا عذاب مسلط کر دیا ہے۔سی او بلدیہ کی کارکردگی صرف باتوں اور لفاظی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ عملی میدان میں کام صفر ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے نئے ٹیوب ویل اور موٹروں کی تنصیب کا جھوٹا لولی پاپ دیا جا رہا ہے، ٹینڈر ہونے کے باوجود ٹھیکیدار نے تاحال کام شروع نہیں کیا جو انتظامیہ کی رٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

    عوامی سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے سی او نے نااہلی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ افسر شاہی صرف دلاسوں سے بہلا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جن علاقوں میں تھوڑا بہت پانی فراہم کیا جا رہا ہے وہ اس قدر بدبودار اور مضرِ صحت ہے کہ جیسے اس میں کوئی مردار گرا ہو۔ یہ پانی شہریوں میں ہیپاٹائٹس اور دیگر مہلک بیماریاں بانٹ رہا ہے۔ سب سے تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ ایک سابق کرپٹ انجینئر، جو ریٹائر ہو چکا ہے، آج بھی بلدیہ کے معاملات کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پورے پنجاب میں کوئی اور انجینئر نہیں جو اس ریٹائرڈ شخص کو اب بھی نوازا جا رہا ہے؟ اسی شخص کی سابقہ کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی کا خمیازہ آج پورا شہر بھگت رہا ہے۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان بلدیہ کو اس عذاب سے نجات دلائی جائے، کرپٹ گٹھ جوڑ کا خاتمہ کر کے فرض شناس افسران تعینات کیے جائیں اور پانی کی فراہمی کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے ورنہ شدید گرمی میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ اگر موجودہ صورتحال بدستور قائم رہی تو اہلیان گوجرخان بلدیہ دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  • وزیراعظم  سے یورپی یونین کے سینئر حکام،کاروباری نمائندوں کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے یورپی یونین کے سینئر حکام،کاروباری نمائندوں کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے یورپی یونین کے سینئر حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں کے وفد نے آج صبح وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ وفد کی قیادت یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر (ایشیا پیسفک) مسٹر پیٹرس اسٹبس کررہے تھے.

    وفد میں ڈائریکٹر انٹرنیشنل پارٹنرز ، یورپین انویسٹمنٹ بینک تھوریا تریکی (Thourya Triki) ، ایڈیڈاز (Adidas)کے نائب صدر مینیول پاؤزر (Manuel Pauser) ، ایندراتز (Andritz)کے نائب صدر کارل شلوگل باؤر ( Karl Shloegelbauer) آئیکیا (IKEA) کے ریجنل ڈائریکٹر ڈائیٹر میٹکے (Dieter Metkke) شامل تھے۔ وفد میں پاکستان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر عزت مآب ریمنڈس کیروبلس بھی موجود تھے.

    وزیراعظم نے یورپی یونین کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پاکستان سے برآمدات کے سب سے زیادہ حجم کی منزل ہے۔ یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سمیت علاقائی چیلنجوں کے باوجود معیشت کے استحکام کے لیے کام جاری رکھنے کے لیے حکومت پاکستان کے پختہ عزم کا یقین دلایا۔ اس سلسلے میں، وزیر اعظم نے خاص طور پر یورپی یونین کونسل کے صدر عزت مآب انتونیو کوسٹا، کے ساتھ اپنی دو حالیہ ٹیلی فونک روابط کا ذکر کیا جن میں علاقائی سلامتی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہء خیال کیا گیا تھا۔

    خطے میں امن کی کوششوں میں وزیراعظم کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے یورپی یونین کے وفد نے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کی میزبانی میں بھرپور تعاون کرنے پر حکومت کی تعریف کی۔ وفد کے اراکین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اپنے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان توانائی، مواصلات، آئی ٹی وغیرہ سمیت مختلف شعبوں میں B2B تعلقات کو مزید فروغ دینے کے قوی امکانات ہیں۔پاکستان کی جانب سے ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونین خصوصی سید طارق فاطمی اور ہارون اختر خان کے علاوہ سینئر حکومتی حکام بھی موجود تھے۔

  • طالبان کی بلا اشتعال جارحیت،پاکستانی سیکورٹی فورسز کابھرپورجواب،چوکیاں تباہ

    طالبان کی بلا اشتعال جارحیت،پاکستانی سیکورٹی فورسز کابھرپورجواب،چوکیاں تباہ

    پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت پر بھرپور کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو تباہ کردیا ہے جبکہ افغان طالبان کی سرشان، المرجان، ایدھی پوسٹ، گاڑی اور دیگر تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کا دفاعِ وطن کے لیے عزم غیرمتزلزل ہے، دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے عزائم خاک میں ملا دیے جائیں گے، آپریشن غضب للحق تمام مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

  • آر ایل این جی کی عدم دستیابی، گیس بحران شدت اختیار کر گیا

    آر ایل این جی کی عدم دستیابی، گیس بحران شدت اختیار کر گیا

    ملک بھر میں گیس کا بحران آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس سے صنعتی اور گھریلو صارفین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سوئی ناردرن کے پاس موجود آر ایل این جی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث پاور اور کھاد کے شعبوں کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ توانائی بحران کے اس نئے مرحلے نے صنعتی پیداوار کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کی مجموعی سپلائی کم ہو کر 700 ملین کیوبک فٹ یومیہ رہ گئی ہے، جبکہ ایران،امریکا کشیدگی سے قبل یہ مقدار تقریباً 1200 ملین کیوبک فٹ یومیہ تھی۔ اس طرح ملک کو یومیہ بنیاد پر 600 ملین کیوبک فٹ سے زائد گیس کی کمی کا سامنا ہے۔مزید برآں، گھریلو صارفین کے لیے بھی گیس کی فراہمی میں کمی کر دی گئی ہے، جس کے باعث شہری علاقوں میں کھانا پکانے کے اوقات میں مشکلات بڑھ گئی ہیں اور عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    تاہم سوئی گیس حکام کا مؤقف اس صورتحال سے مختلف ہے۔ حکام کے مطابق گھریلو صارفین کو کھانے کے تینوں اوقات میں گیس کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور نظام کو متوازن رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر آر ایل این جی کی بروقت درآمد نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات معیشت اور عوامی زندگی دونوں پر پڑیں گے۔