Baaghi TV

Blog

  • ساہیوال، سی ٹی ڈی کی کاروائی،فتنہ الخوارج  کا مبینہ کارندہ گرفتار

    ساہیوال، سی ٹی ڈی کی کاروائی،فتنہ الخوارج کا مبینہ کارندہ گرفتار

    محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ساہیوال ریجن میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان المعروف فتنہ الخوارج کے مبینہ کارندے کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر پاکپتن کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں کی گئی، جہاں دہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت آغا محمد کے نام سے ہوئی ہے جو جنوبی وزیرستان کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار شخص کالعدم تنظیم کی تشہیر میں ملوث تھا اور مختلف ذرائع سے لوگوں کو تنظیم میں شمولیت کی ترغیب دے رہا تھا۔حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد، کالعدم تنظیم سے متعلق کتابیں، نقدی رقم اور اے ٹی ایم کارڈ برآمد کیے گئے ہیں۔ برآمد شدہ مواد کو قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس حوالے سے ڈیجیٹل آلات کا بھی فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ تھا یا انفرادی طور پر سرگرم تھا۔حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی ٹیم مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی ہے جن میں فنڈنگ کے ذرائع، رابطوں کا دائرہ کار اور ممکنہ سہولت کاروں کی نشاندہی شامل ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں کالعدم تنظیموں اور شدت پسند عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے اور کسی کو بھی ریاست مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

  • افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کاگٹھ جوڑ

    افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کاگٹھ جوڑ

    ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبہ قندھار میں کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سرغنہ بشیر زیب بلوچ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر غازی خراسانی کے درمیان ایک خفیہ ملاقات کی اطلاعات سامنے ائی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں پاکستان، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں منظم اور مشترکہ دہشتگرد حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بشیر زیب اس وقت قندھار کے علاقے عینو مینہ میں ایک انتہائی محفوظ سیف ہاؤس میں موجود ہے۔ جبکہ اس مقام کے اطراف میں سیکورٹی کے لئےبڑی تعداد میںمسلح افراد تعینات ہیں جبکہ بیرونی نگرانی افغان طالبان کے اہلکار کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ سیف ہاؤس کے اندر موجود سیٹلائٹ سسٹم کے ذریعے مبینہ طور پر مجید بریگیڈ کا دہشتگرد پروپیگنڈا مواد اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بشیر زیب کی موجودگی کی تصدیق انٹرسیپٹڈ کالز، انسانی مخبروں اور ڈرون فوٹیج سے ہوئی ہے۔

  • پنجاب : شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دیدی گئی

    پنجاب : شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دیدی گئی

    لاہور: پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرسکون موت دے دی گئی،جبکہ یہ اقدام کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

    ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرز سینٹرل پنجاب مدثر حسن نے بتایا کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 9 شیروں کو یوتھنائز کیا گیا یہ شیر طویل عرصے سے مختلف بیماریوں اور معذوری کا شکار تھے اور مسلسل تکلیف میں مبتلا تھے شیروں کی کلنگ چند ہفتے قبل کی گئی تھی،بہاولپور چڑیا گھر، لاہور سفاری زو اور لاہور زو میں موجود بیمار اور لاعلاج شیروں کی کلنگ کی گئی، متعلقہ ویٹرنری ماہرین کی رائے اور طے شدہ قواعد کے مطابق یہ عمل مکمل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ 23 جنوری 2026 کو کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی نے پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور ناقابل علاج شیروں کو پرسکون موت دینے کے فیصلے کی منظوری دی تھی اجلاس میں ایسے شیروں کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور جن کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔

    کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ قانون کے تحت نہ صرف بگ کیٹس بلکہ ایسے تمام جنگلی جانور، جو انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے ممکنہ خطرہ ہوں یا شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، کو طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق پرسکون موت دی جا سکتی ہے۔

  • ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے پاکستانی طالبات کے لیے اسکالرشپ پروگرام کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ان کی خواہش تھی کہ وہ ان لڑکیوں کے لیے کچھ کریں جو تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اس اسکالرشپ کے تحت پاکستانی خواتین کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا، خاص طور پر ان طالبات کو ترجیح دی جائے گی جو تعلیم کے ذریعے پاکستان میں مثبت تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جو پاکستانی خواتین آکسفورڈ میں ماسٹرز کرنے کا خواب رکھتی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آ کر معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں، یہ پروگرام ان کے لیے بہترین موقع ہے،اسکالرشپ کے لیے درخواستیں آکسفورڈ پاکستان پروگرام کی ویب سائٹ oxpakprogramme.org کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں، ملالہ نے کہا کہ وہ نئی طالبات کو آکسفورڈ میں خوش آمدید کہنے کی منتظر ہیں۔

  • عمران خان  کا جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار

    عمران خان کا جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار

    بیرسٹر سلمان صفدر کی سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مندرجات سامنے آ گئے

    عمران خان نے جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا، سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں عمران خان نے کہا کہ گرمیوں میں سیل میں شدید حبس ہو جاتی ہے، اتنے مچھر، کیڑے مکوڑے آجاتے ہیں نہ ٹھیک سے آرام کر پاتا ہوں نہ سو پاتا ہوں، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کی 10 سیکورٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے اور ایک کیمرا شاور ایریا باتھ روم تک کو کور کرتا ہے،بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق میں نے مشاہدہ کیا عمران خان مکمل بینائی یعنی دیکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے عمران خان کی آنکھ سے مسلسل پانی نکل نکل رہا تھا عمران خان باربار ٹشو استعمال کر رہے تھے عمران خان شدید تکلیف میں تھے،

    بیرسٹر سلمان صفدر کی تفتیش میں جیل سپریڈنٹ نے بتایا کہ عمران خان اس وقت پمز کے ڈاکٹر عارف کے زیر نگرانی ہیں اس کے علاؤہ جیل ڈاکٹر عمران خان کے شوگر اور بلڈ پریشر کا چیک اپ روانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں لیکن جب بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹس مانگیں تو جیل انتظامیہ نے عمران خان کے کسی ٹیسٹ کی کوئی رپورٹ شئیر نہیں کی.عمران خان نے بتایا اکتوبر 2025 سے آنکھ میں مسئلہ ہوا، جیل حکام کو بتانے کے باوجود علاج نہیں کرایا گیا، دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہونے کے بعد ڈاکٹرز کو بلایا گیا، علاج کے باوجود 15% تک دکھائی دیتا ہے۔

  • بنگلہ دیش انتخابات: ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈال دیا

    بنگلہ دیش انتخابات: ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈال دیا

    بنگلادیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے لیے آج ملک بھر میں پولنگ شروع ہو گئی یہ انتخابات ملک کی جمہوریت کے لیے اہم امتحان قرار دیے جا رہے ہیں۔

    جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنے حلقے میں ووٹ کاسٹ کر دیا ہے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور آج کا دن بنگلہ دیش کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ‘بی این پی’ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور ان کے حامی بھی پُرامید دکھائی دے رہے ہیں۔

    ملک کے 299 حلقوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی، قومی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے اور حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی ڈیوٹی پر تعینات ہیں جبکہ فوج بھی اہم مقامات پر موجود ہے ووٹنگ کا عمل جمعرات بھر جاری رہے گا جبکہ نتائج کا اعلان جمعہ کو متوقع ہے۔

    یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہو رہے ہیں، جو 2024 میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں ان کی جماعت کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزا دے ہیں اور 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ دسمبر میں وطن واپس آئے، انہوں نے جمہوری اداروں کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور معیشت کی بہتر ی کا وعدہ کیا ہے۔

    دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی میدان میں ہے، یہ جماعت شیخ حسینہ کے دور میں پابندی کا شکار رہی، تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد اس کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ بعض حلقوں، خصوصاً خواتین اور اقلیتوں میں اس اتحاد کی ممکنہ کامیابی پر تشویش پائی جاتی ہے۔

    انتخابات عبوری حکومت کے تحت ہو رہے ہیں جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت تقریباً 500 بین الاقوامی مبصرین اور صحافی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    بنگلادیش کی پارلیمنٹ 350 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں سے 300 نشستوں پر براہِ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ اس بار تقریباً 50 لاکھ نئے ووٹرز بھی پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گے انتخابات کے ساتھ ساتھ سیاسی اصلاحات سے متعلق ایک ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے، جس میں وزیر اعظم کی مدت کی حد مقرر کرنے اور اختیارات کے توازن کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابات بنگلادیش کی داخلی سیاست اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

  • طالبان رجیم کی جبر،ناانصافی اورشدت پسندی ، افغانستان تباہی کے دہانے پر

    طالبان رجیم کی جبر،ناانصافی اورشدت پسندی ، افغانستان تباہی کے دہانے پر

    طالبان رجیم حکومت نہیں، ایک مسلح آمریت ہے جو مذہب کی آڑ میں نااہلی، سفاکی اور تنگ نظری کی اصل تصویر ہے

    عالمی جریدے نے افغان طالبان رجیم کے مظالم، شدت پسندی اور نااہلی کو بے نقاب کر دیا،امریکی جریدہ یوریشیا ریویو کے مطابق؛افغانستان سنگین بحرانوں سے دوچار ہے اورطالبان رجیم کو نہ ہی بین الاقوامی سطح پر اور نہ ہی عوام کا اعتماد حاصل ہے ، طالبان رجیم کی جانب سےمخالفین ،سابق سکیورٹی اہلکاروں اورعام شہریوں کاقتل عام مسلسل جاری ہے ،طالبان قیادت میں دراڑیں برقرار ،افغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت20سے زائد دہشتگرد گروپ فعال ہیں،گذشتہ سال ،افغانستان سب سے زیادہ منشیات پیدا کرنے والا ملک رہا ،

    ماہرین کے مطابق طالبان کا یہ نظام نہ اسلام کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے اور نہ ہی انسانی اقدار کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے،طالبان رجیم کی انتہا پسندی اور ریاستی جبر افغانستان کو انسانی، معاشی اور سلامتی کے بحران میں جھونک رہا ہے

  • مودی کی سفاک سرکار کا انتہا پسند ایجنڈا بے نقاب، بابری مسجد پر اشتعال انگیز اعلان

    مودی کی سفاک سرکار کا انتہا پسند ایجنڈا بے نقاب، بابری مسجد پر اشتعال انگیز اعلان

    مودی کی سفاک سرکار کا انتہا پسند ایجنڈا بے نقاب، بابری مسجد پر اشتعال انگیز اعلان سامنے آ گیا

    "بابری مسجد دوبارہ بننے نہیں دیں گے”بی جے پی کی مسلمان دشمنی ایک بارپھر عیاں ہو گئی،انتہا پسند ہندووں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کے34 سال بعد بھی بی جے پی کی مسلمان دشمنی کم نہ ہوئی،بھارت میں انتہا پسند بی جےپی نے نفرت انگیزہندوتوا بیانیہ پر طویل عرصہ سے اقتدارقائم کررکھا ہے،انڈیا ٹوڈے کے مطابق وزیراعلیٰ اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نےبھارتی مسلمانوں کو اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ بابری مسجد قیامت تک دوبارہ نہیں بننے دیں گے،ہم نے بابری مسجد کی جگہ رام مندربنانے کا وعدہ پورا کیا،1992میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت پر فسادات کے دوران ہزاروں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے تھے

    ماہرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں پرمظالم اور عبادت گاہوں پرحملے اسکے نام نہاد جمہوری چہرے پرسیاہ داغ ہے، مودی حکومت میں مسلمانوں اورمسیحیوں سمیت تمام اقلیتیں وحشیانہ مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں،امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی بھارت میں مذہبی آزادی سلب ہونے پر تشویش ظاہرکی ہے

  • نوجوان نسل کو   انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا،وزیراعظم

    نوجوان نسل کو انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےا تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر کہا ہے کہ آج تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم ہر قسم کی انتہاپسندی، دہشت گردی، نفرت و عفریت اور تشدد آمیز نظریات کے خلاف اپنی قومی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی اور تشدد کے نظریات نہ صرف معاشروں کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یہ انسانیت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام جیسی بنیادی انسانی اقدار کو بھی کمزور کرتے ہیں۔پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے بہادر سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیاں ہمارے قومی عزم کی روشن مثال اور باعث فخر ہیں۔اسلام ایک امن پسند دین ہے جو اعتدال، رواداری، مکالمے اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے۔ ہمیں نوجوان نسل کو تعلیم، مواقع اور مثبت سوچ فراہم کر کے انہیں انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا۔ سماجی انصاف، معاشی شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔
    اس تناظر میں پاکستان اس امر پر بھی زور دیتا ہےکہ دنیا میں جاری ناانصافیاں، طویل تنازعات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں انتہاپسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہیں۔عالمی منظر نامہ پر طویل حل طلب تنازعات بشمول مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں معصوم شہریوں کے خلاف ریاستی ظلم و جبر اور بنیادی حقوق کی پامالی بھی انتہا پسندانہ رویہ کی عکاس ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے موثر اقدامات کرے۔پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے اور ایک منصفانہ و پرامن عالمی نظام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔آئیے آج کے دن ہم سب مل کر ایک پرامن، محفوظ اور ہم آہنگ معاشرے کی تعمیر کا عہد کریں۔

  • آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ  پروگرام، طلبا کا آزاد جموں و کشمیرمیں لائن آف کنٹرول کا دورہ

    آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام، طلبا کا آزاد جموں و کشمیرمیں لائن آف کنٹرول کا دورہ

    نوجوان نسل کی قومی تربیت کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام ملک بھر میں جاری ہیں۔

    تفصیلات کےمطابق آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام کے دوران طلباء کیلئے آزاد جموں و کشمیر کے مطالعاتی و تفریحی دورہ کا انعقاد کیا گیا آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام کے تحت آزاد کشمیر کے طلباء نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔

    دورے کا مقصد شرکاء کو زمینی حقائق، سیکیورٹی چیلنجز اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا اس موقع پر طلبا نے اظہارِ خیال کر تے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے براہ راست سیشنز کےساتھ مطالعاتی دوروں کا انعقاد نہایت مثبت اقدام ہے۔

    طلباء کے مطابق ایسے پروگرام کتابی علم کو عملی تجربے سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،طلباء نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے معلوماتی اور تربیتی پروگراموں کے تسلسل کی امید کا اظہار کیا۔