Baaghi TV

Blog

  • کراچی میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کی تقریب، گورنر سندھ کی شرکت

    کراچی میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کی تقریب، گورنر سندھ کی شرکت

    ‎کراچی میں ایرانی قونصل خانے میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب منعقد ہوئی، جس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے شرکت کی۔
    ‎تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان کو سب سے پہلے ایران نے تسلیم کیا تھا، جبکہ ایران میں اسلامی انقلاب کو سب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور پاکستان متحد ہو جائیں تو کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو یکجا ہو کر چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے۔
    ‎گورنر سندھ نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران پوری قوم متحد تھی اور اسی اتحاد کی بدولت کامیابی حاصل ہوئی۔

  • برطانیہ میں شدید بارشوں کے باعث 100 علاقوں میں سیلاب کا خطرہ

    برطانیہ میں شدید بارشوں کے باعث 100 علاقوں میں سیلاب کا خطرہ

    ‎برطانیہ میں مسلسل ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث تقریباً 100 علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیشنل انوائرمنٹ ایجنسی نے 98 سیلاب وارننگز اور 158 فلڈ الرٹس جاری کیے ہیں۔ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں کم از کم 300 گھر متاثر ہوئے ہیں، جبکہ اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں بھی سیلاب کے خطرات موجود ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مختلف شہروں میں ندی نالوں کے کنارے پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے، جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
    ‎سیلاب کے باعث ٹرانسپورٹ کے نظام پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، اور کئی سڑکیں اور پل بند کیے جا سکتے ہیں۔ نیشنل انوائرمنٹ ایجنسی نے عوام سے کہا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور خطرے کی صورت میں فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔

  • خالصتان حامیوں نے امرتسر میں پاکستانی پرچم والی پتنگیں اڑا دیں

    خالصتان حامیوں نے امرتسر میں پاکستانی پرچم والی پتنگیں اڑا دیں

    بھارتی پنجاب کے علاقےامرتسر میں بسنت کے تہوار کے دوران خالصتان تحریک کے حامیوں کی جانب سے پاکستانی قومی پرچم والی پتنگیں اُڑانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔

    مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہریوں نے بسنت کے موقع پر ایسی پتنگیں اڑائیں جن پر پاکستان کا قومی پرچم بنا ہوا تھا،باخبر ذرائع کے مطابق یہ اقدام روایتی بسنت منانے کے بجائے ایک علامتی احتجاج کے طور پر کیا گیا۔ خالصتان حامیوں نے اس عمل کو بھارتی پنجاب میں سکھوں کے حقوق سے متعلق مبینہ مسائل اور شکایات کو اجاگر کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    یاد رہے کہ خالصتان تحریک سکھوں کے لیے علیحدہ ریاست کے قیام سے متعلق ایک نظریہ ہے، جو ماضی میں شدت اختیار کر چکا ہے اور آج بھی وقفے وقفے سے اس کے حامی اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

  • ایران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تہران میں ہزاروں افراد کی مارچ

    ایران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تہران میں ہزاروں افراد کی مارچ

    ‎ایران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت تہران کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔
    ‎مارچ کے دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی جانچ پڑتال کے لیے تیار ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ایران ایٹم بم بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
    ‎تہران کے آزادی اسکوائر پر صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران مغربی ممالک کے ’ضرورت سے زیادہ‘ مطالبات کے سامنے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور جوہری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھے گا۔

  • "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    بسنت جیسے خونی تہوار کی اجازت اقتدار میں بیٹھی ہوئی عورت نے دے کر فضا میں موت کے پروانے آزاد کر دیے۔ چھتوں پر اڑتی پتنگیں ،،سڑکوں پر چلنے والوں کی موت کا سامان ھیں میڈیا پر بسنت کے جشن اور اس خونی تہوار کے نام پر کاروباری سطح پراربوں کے منافع اور دیگر تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں مگر تمام چینلز اور میڈیا پتنگ بازی کے باعث کئی زخمی اور مرنے والے بے زبان معصوم پرندوں ، چھت سے گر کر ، کرنٹ لگنے سے اور گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے انسانوں کے متعلق بات کرنے سے قاصر ہیں۔ کیا اربوں روپے کسی مرنے والے ایک بھی شخص کو واپس لا سکتے ہیں؟

    کیا پتنگ بازی کا شوق انسانی جان سے زیادہ اہم ہے؟ڈور کی صورت فضا میں موت کا رقص کوئی تہوار یا جشن کہلا سکتا ہے؟ انسانی جانیں گنوا کر پیسہ کمانا منافع کہلا سکتا ہے؟ اقتدار میں بیٹھا ٹولہ ان متاثرین کے درد کا مداوا کر سکتا ہے؟ افسوس ہے ایسی بے حسی پر اور ایسی غافل غلام عوام پر جو اپنے حقوق کے بارے میں سوال نہیں اٹھا سکتے وہ ایسے تماشوں پر تین روز تک ناچتے رہے۔ یاد رکھیں ڈور سے مرنے والوں کے قاتلوں میں اپ سبھی شامل ہیں۔

  • اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اخلاق حیدرآبادی ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس ،رکن مرکزی مجلس عاملہ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ (ادارہ مصنفین پاکستان)

    اردو اس خطے کی تہذیبی روح اور عوامی اظہار کی سب سے توانا علامت رہی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں اس کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔ ریاستی نظام میں رائج لسانی ترجیحات نے عام شہری اور اقتدار کے مراکز کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔ جب حکمرانی اور فیصلے عوام کی فہم سے باہر زبان میں کیے جائیں تو محرومی اور بیگانگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ لسانی ناانصافی صرف زبان کا مسئلہ نہیں بل کہ سماجی مساوات اور شہری حقوق سے جڑا ہوا ایک سنگین معاملہ ہے۔ زیر نظر تجزیہ اسی المیے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے تاکہ زبان اور اقتدار کے اس نابرابر رشتے کو سمجھا جا سکے۔

    آئینی حیثیت کے باوجود اردو کی نظراندازی: قومی زبان اور عملی تضاد
    (آئینِ پاکستان، عدالتی فیصلے اور سرکاری وعدے بمقابلہ عملی صورتِ حال)
    آئینِ پاکستان اردو کو قومی زبان کا درجہ دیتا ہے اور واضح طور پر یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی امور، سرکاری مراسلت اور عدالتی کارروائیاں اسی زبان میں انجام پائیں مگر عملی سطح پر یہ آئینی شق محض کاغذی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلوں کی زبان، قوانین کے مسودے، احکامات اور نوٹیفکیشنز ایسی زبان میں مرتب کیے جاتے ہیں جو عام شہری کی فہم سے بالاتر ہے۔ اس صورتِ حال میں قومی زبان کا حق تسلیم کیے جانے کے باوجود اس سے مسلسل انحراف ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ عوام جنھوں نے ریاست کو وجود بخشا، وہی اپنے ہی ملک میں سرکاری زبان کے ذریعے اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ آئین کا مقصد یہ تھا کہ زبان کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان قربت پیدا ہو مگر موجودہ طرزِ عمل نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔ اردو کی نظراندازی صرف ایک لسانی مسئلہ نہیں بل کہ یہ شہری حقوق کی پامالی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جب قانون، فیصلہ اور ہدایت عوام کی زبان میں نہ ہوں تو وہ ان کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ آئینی وعدے محض رسمی ہیں اور ان پر عمل درآمد ریاست کی ترجیح نہیں۔ قومی زبان کو نظر انداز کرنا دراصل قومی شناخت سے روگردانی کے مترادف ہے۔ یہ رویہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر آئین کی بنیادی شقوں پر ہی عمل نہ ہو تو عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اردو کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک معاشرتی ناہمواری کو بڑھاتا ہے اور شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور کر دیتا ہے۔ اس تضاد کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب آئین کو محض ایک دستاویز نہیں بل کہ عملی رہنما سمجھا جائے اور قومی زبان کو واقعی اس کا جائز مقام دیا جائے۔

    انگریزی بطور طاقت کی زبان: طبقاتی تفریق اور عوامی بیگانگی
    (زبان کا استعمال بطور اقتدار، اشرافیہ اور عام شہری کے درمیان فاصلہ)
    یہ موضوع محض لسانی بحث نہیں بل کہ طاقت، اختیار اور سماجی درجہ بندی کا گہرا مسئلہ ہے۔ انگریزی بطور طاقت کی زبان دراصل ایک ایسے نظام کی علامت بن چکی ہے جس میں علم، مواقع اور اختیار چند مخصوص طبقات تک محدود ہو جاتے ہیں جب کہ عوام کی اکثریت خود کو اس دائرے سے باہر محسوس کرتی ہے۔ یہ زبان رفتہ رفتہ علمی برتری، ذہانت اور قابلیت کا پیمانہ قرار دے دی گئی ہے جس کے نتیجے میں مقامی زبانوں سے وابستہ افراد کمتر، غیر متعلق اور پس ماندہ سمجھے جانے لگتے ہیں۔ تعلیمی اداروں، دفتری نظام اور ریاستی بیانیے میں اسی زبان کی بالادستی طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کرتی ہے کیوں کہ جسے اس زبان پر عبور حاصل نہیں وہ فیصلہ سازی، اظہارِ رائے اور سماجی ترقی کے عمل سے عملاً خارج ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہتی بل کہ ایک ایسا ہتھیار بن جاتی ہے جو عوام کو ان کی اپنی ثقافت، فکری روایت اور اجتماعی شعور سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ یوں معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک وہ جو زبان کے ذریعے طاقت سے جڑا ہے اور دوسرا وہ جو اسی زبان کے باعث خود کو اجنبی، خاموش اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر زبان کو علم اور شعور کی ترسیل کے بجائے سماجی امتیاز کا ذریعہ بنا دیا جائے تو یہ عمل نہ صرف عوامی بیگانگی کو جنم دیتا ہے بل کہ فکری انصاف اور ثقافتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی: فہم کی رکاوٹ یا انصاف کی نفی؟
    (انگریزی عدالتی اصطلاحات، عام سائل کی مجبوری اور انصاف میں تاخیر)
    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی کا مسئلہ دراصل عام شہری اور ریاستی نظام کے درمیان فاصلے کی علامت ہے، جہاں پیچیدہ، اجنبی اور غیر مانوس زبان فہم کی راہ میں ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ جب عدالتوں میں ایسی زبان رائج ہو جو عوام کی اکثریت کی روزمرہ بول چال اور فکری سطح سے ہم آہنگ نہ ہو تو انصاف محض ایک نظری تصور بن کر رہ جاتا ہے، کیونکہ جسے بات ہی سمجھ نہ آئے وہ اپنے حق کا مطالبہ کیسے کرے۔ عدالتی اصطلاحات، طویل جملے اور مبہم اسلوب عام فرد کو خوف، الجھن اور بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ وکیلوں، کاتبوں اور دلالوں پر غیر معمولی انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں انصاف کا عمل سادہ حق کے بجائے ایک مہنگی اور پیچیدہ رسم بن جاتا ہے جو صرف باخبر اور صاحبِ وسائل طبقے کے لیے قابلِ حصول رہتی ہے۔ یوں زبان انصاف کی وضاحت کا ذریعہ ہونے کے بجائے اس کی نفی کا سبب بننے لگتی ہے کیوں کہ فہم کے بغیر انصاف محض فیصلے کا اعلان ہے، شراکت اور اطمینان کا ذریعہ نہیں۔ اگر عدالتی زبان عوام کی ذہنی سطح اور لسانی روایت سے قریب نہ ہو تو یہ نظام خود اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے اور انصاف ایک زندہ حقیقت کے بجائے دور، سرد اور غیر متعلق تصور میں ڈھل جاتا ہے۔

    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن: فائل، فارم اور فرد کی بے بسی
    (درخواستیں، نوٹیفکیشنز، دفتری کارروائی اور عوامی مشکلات)
    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن عام شہری کی روزمرہ زندگی کو اذیت ناک تجربہ بنا دیتی ہے جہاں کاغذی کارروائی، درخواست نامے اور دفتری تحریریں ایک ایسی زبان میں ہوتی ہیں جو عوام کی فہم اور تجربے سے میل نہیں کھاتیں۔ جب ایک سادہ انسان کسی کام کے لیے دفتر کا رخ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی خوف اور تذبذب کا شکار ہوتا ہے، مگر اجنبی اصطلاحات، پیچیدہ جملے اور غیر مانوس اسلوب اس کی بے بسی کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ دفتری تحریر کا مقصد رہنمائی اور سہولت ہونا چاہیے لیکن جب زبان رکاوٹ بن جائے تو شہری اپنی ہی درخواست کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ اہلکاروں کی مرضی، ترجمانوں کے سہارے اور غیر ضروری سفارشات کا محتاج بن جاتا ہے، جس سے عزتِ نفس مجروح اور اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یوں زبان خدمت کا ذریعہ بننے کے بجائے اقتدار کی علامت بن جاتی ہے جہاں عام فرد خود کو نظام کے سامنے بے زبان اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر سرکاری دفاتر میں زبان عوام کے مزاج اور فہم کے مطابق نہ ہو تو یہ لسانی الجھن شہری اور ریاست کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیتی ہے، اور انتظامی عمل سہولت کے بجائے مستقل اذیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اردو رسم الخط کی بگڑتی صورت اور تعلیمی و ثقافتی بحران
    (غلط املا، رومن اردو، نصابی کمزوری اور تہذیبی شناخت کا زوال)
    اردو رسم الخط کی بگڑتی ہوئی صورت دراصل ہمارے تعلیمی اور ثقافتی بحران کی گہری علامت ہے جہاں سہولت اور جلد بازی کے نام پر زبان کی اصل ہیئت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں درست املا اور خوش خطی کی تربیت بتدریج نظر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل حروف کی ساخت، صوتی آہنگ اور لفظی تہذیب سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور روزمرہ تحریر میں بے احتیاطی نے رسم الخط کو ایک غیر واضح اور منتشر شکل دے دی ہے جس سے نہ صرف فہم میں دشواری پیدا ہوتی ہے بل کہ تہذیبی تسلسل بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ رسم الخط محض لکھنے کا وسیلہ نہیں بل کہ صدیوں کی فکری روایت، شعری ذوق اور علمی وراثت کا امین ہوتا ہے اور جب اسی کو بگاڑ دیا جائے تو ادب، تاریخ اور ثقافت سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس بگاڑ کے نتیجے میں طلبہ زبان سے رغبت کے بجائے اجنبیت محسوس کرتے ہیں اور یوں اردو آہستہ آہستہ تعلیمی دائرے سے سکڑ کر رسمی یا جذباتی اظہار تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اس صورتِ حال کا سنجیدہ ادراک نہ کیا گیا تو اردو رسم الخط کے ساتھ جڑا ہوا پورا تہذیبی شعور کمزور پڑ. جائے گا اور ہم اپنی شناخت کے ایک بنیادی ستون سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی ترلائی میں امام بارگاہ آمد، شہداء کے اہل خانہ سے اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف کی ترلائی میں امام بارگاہ آمد، شہداء کے اہل خانہ سے اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کا دورہ کیا۔
    ‎انہوں نے شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے گہرے افسوس کا اظہار کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی سے بڑی بربریت کوئی نہیں ہو سکتی اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر پوری قوم سوگوار تھی، تاہم مثبت بات یہ تھی کہ تمام مکاتب فکر کے علما نے اس کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم نے عون عباس کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ تاریخ ان کی قربانی کو سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔
    ‎وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو متحد کر دیا اور آئندہ بھی قوم یکجہت رہے گی۔

  • اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی حلف برداری کی تقریب

    اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی حلف برداری کی تقریب

    اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آئی یو جے) کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری کی پروقار تقریب کا انعقاد اسلام آباد ہوٹل میں کیا گیا، جس میں سینئر صحافیوں، تجزیہ کاروں، مختلف میڈیا ہاؤسز کے نمائندگان اور صحافتی تنظیموں کے عہدیداران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب کے مہمان خصوصی ممتاز سینئر صحافی اور تجزیہ کار خوشنود علی خان تھے، تقریب کے دوران چیئرمین شاہنواز خان نے اپنے عہدے کا حلف ممتاز سینئر صحافی و تجزیہ کار خوشنود علی خان سے لیا۔ بعد ازاں چیئرمین شاہنواز خان نے دیگر عہدیداران سے ان کے عہدوں کا حلف لیا، جبکہ ایگزیکٹو ممبران سے حلف شمشاد مانگٹ نے لیا۔نو منتخب عہدیداران میں صدر عامر چوہدری،نائب صدور فیاض تنولی، ملک ظفر، عباس احمد، منصور قریشی،نائب صدر خواتین فائزہ یونس،جنرل سیکرٹری سردار سجاد طارق،ڈپٹی جنرل سیکرٹری راشد عباسی،ڈپٹی جنرل سیکرٹری خواتین سلمی ملک،جوائنٹ سیکرٹری ملک نجیب،ڈپٹی جوائنٹ سیکرٹریز واجد عباسی، وقار عباسی،انفارمیشن سیکرٹری محمد عادل خان،ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری چوہدری عابد حسین،ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری خواتین نبیلہ حفیظ،ایڈیشنل جنرل سیکرٹری راجہ نعمان،فنانس سیکرٹری راشد اشرف،ڈپٹی فنانس سیکرٹری سردار تنویر عابد،ایڈیشنل انفارمیشن سیکرٹریز عبدالرزاق، قاسم جمشید، عمران قادر،آفس سیکرٹری قاسم منیر،لیگل سیکرٹری ملک سیف ایڈووکیٹ،پریس سیکرٹری ملک احتشام فاروق شامل تھے جبکہ گورننگ باڈی میں شیر دل خان، فاروق خان، راجہ ارسلان، راجہ خلیل جنجوعہ، رجب علی، شیخ طیب، وقاص کھوکھر، عثمان عباسی، چوہدری عبد الرحمان، ملک نوید آصف، عمر فاروق چوہدری، سید ایم فیضان علی شاہ، کامران کھوکھر، ایم سلیم، بلال احمد ملک، راجہ جمیل، امجد کیانی، عمران عمار، ولید خان شلمانی، ملک اختر شامل تھے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شاہنواز خان نے کہا کہ اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، آزادیٔ صحافت کے فروغ اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تنظیم کسی بھی صحافی کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور قانونی و پیشہ ورانہ معاونت فراہم کی جائے گی۔
    صدر عامر چوہدری نے کہا کہ صحافی معاشرے کی رہنمائی کا اہم فریضہ انجام دیتے ہیں، اس لیے صحافیوں کے اتحاد، تحفظ اور وقار کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔دیگر عہدیداران نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، تنظیم کو مضبوط اور فعال پلیٹ فارم بنائیں گے اور صحافتی مسائل کے حل کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔

    تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، آزادیٔ صحافت، صحافیوں کی فلاح و بہبود اور تنظیم کی ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ آئی یو جے کی نئی قیادت صحافتی برادری کو اتحاد، طاقت اور بہتر مستقبل فراہم کرے گی

  • پی ٹی آئی کے کنٹینر میں تیل نظر نہیں آ رہا،مولانا فضل الرحمان

    پی ٹی آئی کے کنٹینر میں تیل نظر نہیں آ رہا،مولانا فضل الرحمان

    ‎چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان ورکنگ ریلیشن قائم ہونا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور وزیراعظم کی ملاقات تین ماہ قبل ہونی چاہیے تھی۔
    ‎مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاست پارٹیاں کرتی ہیں، جبکہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کی ذمہ دار ہے، اور کوئی صوبہ وفاق کی مدد کے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔
    ‎انہوں نے طنزاً کہا کہ پی ٹی آئی کے کنٹینر میں انہیں تیل نظر نہیں آ رہا، جس سے پارٹی کی کارکردگی پر سوال اٹھا۔

  • اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے،سیکیورٹی ذرائع

    اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے،سیکیورٹی ذرائع

    لاہور میں میڈیا نمائیندگان سے سیکیورٹی عہدیدار، ذرائع کی ملاقات ہوئی ہے

    سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا،دہشت گردی کیخلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز ، فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے، پاکستان کے اندر تمام سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، حالیہ ترلائی امام بارگاہ کے حملہ آور کو دہشتگردانہ حملے کی ٹریننگ افغانستان نے دی،بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کیخلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں، آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو ، اس سے فرق نہیں پڑتا، البتہ دہشت گردی کیخلاف ہمیں متحد ہونا ہے، ہمیں قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر ہر گز تقسیم نہیں ہونا بلکہ متحد رہ کر تمام فتنوں کا خاتمہ کرنا ہے فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے، سیکیورٹی ذرائع

    سیکورٹی ذرائع کے مطابق تین سال قبل 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ ہوتی تھی، جو اب ختم ہوچکی ہے، اسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کاروائیوں میں استعمال ہوتا ہے، گُڈ گورننس ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرسکتی ہے،احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنیوالے دہشت گردوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے، اس سلسلے میں پختونخواہ میں کی جانیوالی حالیہ میٹنگز خوش آئیند ہے ،جس طرح ہم نے معرکہ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی اسی طرح ہم دہشت گردوں کو بھی شکست دیں گے، تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی عوام خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے ، کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے، اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے، بات چیت تمام سیاسی جماعتیں کا استحقاق ہے، سیاست سے فوج کا کچھ لینا دینا نہیں ، قانونی اور کورٹ کیسز اور اس سے جڑےتمام معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں نے کرنا ہے،