Baaghi TV

Blog

  • سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران کو ذاتی معالجین اور ماہر امراضِ چشم تک رسائی دینے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت عظمیٰ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور بیرسٹر سلمان صفدر سپریم کورٹ پہنچے،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، رپورٹ کا پیراگراف نمبر 21 پڑھیں۔

    عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ د ستیا ب کھانوں کی سہولیات پر بھی اطمینان ظاہر کیا، تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرو ں تک رسائی کی درخواست کی۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بالکل بھی نہیں کہیں گے کہ بانی پی ٹی آئی کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ہم ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکو مت اچھے موڈ میں ہے بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی ملنی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کو کتابیں پڑھنے کے لیے فراہم کرنے کی رائے اس لیے نہیں دے رہے کیونکہ ان کی آنکھوں کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے بانی پی ٹی آئی کو ماہرین تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات دی جائیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دو سے تین دن تک ہو جائے گا ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری تک آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات فراہم کر دی جائیں گی، جسے عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا۔

    ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    دوران سماعت فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک بانی پی ٹی آئی کو رسائی دی جائے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالجین تک رسائی کا حکم دے دیا تاہم کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کی استدعا مسترد کر دی۔

    سلمان صفدر نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید کتابیں فراہم کی جائیں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر ڈاکٹرز اجازت دیں تو کتابیں فراہم کی جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اس معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    بنگلہ دیش انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے، معائنہ کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی ، اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کی بھی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کرلیے جائیں-

  • تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے،پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن (بوقتِ سازگاری برائے دہشت گردی) کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ناگزیر ہےانہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن پر کاربند ہے اور قومی انسدادِ انتہا پسندی پالیسی 2024 فعال روک تھام کی حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے اسلام اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتے ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور پا ئیدار امن تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا موثر سدباب کیا جا سکے۔

    اپنے پیغام میں صدر زرداری نے کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کو فروغ دے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسدادِ انتہاپسندی کی کوششیں کسی مذہب یا ثقافت کو بدنام نہ کریں، جبکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا شدت پسندی کے سدباب کے لیے ناگزیر ہے۔

    صدر مملکت نے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کے مؤثر سدباب کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خاندان اور برادریاں انتہاپسند بیانیے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہیں، ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کے لیےمل کر کام کرنا ہوگاجہاں نفرت پر امید غالب ہو اور تشدد پر امن اور تقسیم پر مکالمےکو ترجیح دی جا ئے۔

  • پنجاب بھر شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو  پر سکون موت دیدی گئی

    پنجاب بھر شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پر سکون موت دیدی گئی

    لاہور پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرسکون موت دے دی گئی جبکہ یہ اقدام کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

    ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرز سینٹرل پنجاب مدثر حسن نے بتایا کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 9 شیروں کو یوتھنائز کیا گیا یہ شیر طویل عرصے سے مختلف بیماریوں اور معذوری کا شکار تھے اور مسلسل تکلیف میں مبتلا تھےبہاولپور چڑیا گھر، لاہور سفاری زو اور لاہور زو میں موجود بیمار اور لاعلاج شیروں کی کلنگ کی گئی جانور معذوری اور بیماری کی وجہ سے تکلیف میں تھے، شیروں کی کلنگ چند ہفتے قبل کی گئی تھی ،متعلقہ ویٹرنری ماہرین کی رائے اور طے شدہ قواعد کے مطابق یہ عمل مکمل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ 23 جنوری 2026 کو کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی نے پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور ناقابل علاج شیروں کو پرسکون موت دینے کے فیصلے کی منظوری دی تھی اجلاس میں ایسے شیروں کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور جن کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔

    کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ قانون کے تحت نہ صرف بگ کیٹس بلکہ ایسے تمام جنگلی جانور، جو انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے ممکنہ خطرہ ہوں یا شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، کو طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق پرسکون موت دی جا سکتی ہے۔

  • ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    قصور
    ڈی پی او کی زیر صدارت اہم میٹنگ، متعدد ایس ایچ اوز کے تقرر و تبادلے
    قصور میں ڈی پی او محمد عیسیٰ خاں کی زیر صدارت تھانوں میں تعینات سکیورٹی افسران کے ساتھ ویڈیو لنک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا
    میٹنگ میں انچارج سکیورٹی محمد ذوالفقار بھٹی سمیت دیگر پولیس افسران نے شرکت کی
    ڈی پی او قصور نے معاشرتی برائیوں کے انسداد، جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، غیر قانونی پٹرول پمپس اور سماج دشمن عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے واضح ہدایات جاری کی گئیں
    ڈی پی او نے افسران کو ہدایت کی کہ جرائم کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے
    دریں اثناء ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں نے ضلع بھر میں متعدد ایس ایچ اوز کے تقرر و تبادلے کے احکامات بھی جاری کر دیے
    جاری کردہ احکامات کے مطابق انسپکٹر محمد ادریس چدھڑ کو ایس ایچ او تھانہ الہ آباد، انسپکٹر ابرار جمیل کو ایس ایچ او تھانہ گنڈا سنگھ جبکہ سب انسپکٹر آصف جاوید خاں کو ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن تعینات کر دیا گیا ہے
    اسی طرح انسپکٹر حیدر علی کو تھانہ مصطفیٰ آباد اور انسپکٹر تصدق حسین کو تھانہ صدر قصور میں تعینات کیا گیا ہے
    ڈسٹرکٹ پولیس قصور کے مطابق یہ تقرریاں انتظامی امور کو مذید بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کو مؤثر بنانے کے لیے کی گئی ہیں

  • بنگلہ دیش   انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    بنگلہ دیش انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    بنگلہ دیش اپنے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے،آج ملک بھر میں انتخابات ہوں گے اور سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار انتخابی معرکے کا مرکز روایتی جماعتی اتحاد یا انتخابی مشینری نہیں بلکہ دو طاقتور سماجی طبقات ہوں گے، جین زی (Gen-Z) ووٹرز اور خواتین۔

    اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دونوں طبقات مل کر نہ صرف ووٹرز کی عددی اکثریت بناتے ہیں بلکہ ایک نسبتاً خودمختار اور بااثر ووٹ بینک کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جو ملکی سیاست کے روایتی توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 127.7 ملین ہے۔ان میں سے 50 ملین ووٹرز کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان ہے۔تقریباً 40 ملین ووٹرز 18 سے 29 سال کی عمر کے ہیں، جو خالصتاً جین زی کی نمائندگی کرتے ہیں۔رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 62 ملین سے زائد ہے، جو مرد ووٹرز کے تقریباً برابر ہے۔تقریباً 10 ملین شہری پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔خواتین ووٹرز میں سے 26.7 ملین کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے۔

    یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ نوجوان اور خواتین ووٹرز مل کر ایک ایسی انتخابی طاقت بن چکے ہیں جو قریبی مقابلوں میں نتائج کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔سیاسی جماعتیں اس تبدیلی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ کئی امیدوار نجی محفلوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ جب تک انہیں خواتین اور جین زی ووٹرز کے رجحان کا اندازہ نہ ہو، فتح کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔

    2024 کی عوامی تحریک میں کلیدی کردار ادا کرنے والی نسل اب پہلی بار تحریک کے بعد ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈال رہی ہے۔ سیاسی مبصرین اسے سڑکوں کی سیاست سے ادارہ جاتی سیاست کی جانب منتقلی قرار دے رہے ہیں۔ڈھاکا کے ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق “یہ انتخاب مختلف ہے کیونکہ جس نسل نے سیاسی نظام کو ہلایا، اب وہی فیصلہ کرے گی کہ حکومت کس کی ہوگی۔”ماضی میں نوجوان ووٹر اکثر خاندانی وابستگی یا جماعتی اثر کے تحت ووٹ دیتے تھے، مگر اس بار صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جین زی ووٹرز زیادہ تر گورننس کے معیار، بدعنوانی کے خاتمے، روزگار کے مواقع اور شہری آزادیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سیاسی کارکنان تسلیم کرتے ہیں کہ نوجوان ووٹرز کی غیر متوقع صف بندی نے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا ہے۔ سول سوسائٹی نمائندگان کا کہنا ہے کہ جین زی ووٹر اس جماعت کا ساتھ دے سکتے ہیں جو انہیں استحکام اور ذاتی سلامتی کی ضمانت دیتی نظر آئے۔

    اگر جین زی نسلی تبدیلی کی علامت ہے تو خواتین ووٹرز ایک ساختی سیاسی تبدیلی کی نمائندگی کر رہی ہیں۔62 ملین سے زائد خواتین ووٹرز کی موجودگی اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس بار اصل تبدیلی ان کی فیصلہ سازی میں خودمختاری ہے۔راجشاہی کے گوڈاگری،تانور حلقے میں، جو ماضی میں بی این پی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، ڈھاکا سے ووٹ ڈالنے واپس آنے والی ملازمت پیشہ خواتین نے سیاسی شعور میں نمایاں تبدیلی کا اظہار کیا۔سوروی اختر نے کہا “ہم کافی عرصے بعد ڈھاکا سے ووٹ ڈالنے آئے ہیں۔ مجھے لگتا ہے خواتین اب خود فیصلہ کر رہی ہیں، یہ نیا احساس ہے۔”مقامی سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے ابو طاہر کے مطابق “میں نے ہمیشہ دیکھا کہ خواتین مردوں سے مشورہ کر کے ووٹ دیتی تھیں۔ اس بار وہ اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں، اس سے پورا حساب بدل جاتا ہے۔”زمینی سطح پر امیدوار خواتین ووٹرز، خاص طور پر محنت کش طبقے کی خواتین کو سب سے اہم سوئنگ بلاک قرار دے رہے ہیں۔

    اہم سیاسی جماعتوں بی این پی، جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی نے اپنے منشور میں خواتین سے متعلق وعدوں کو نمایاں جگہ دی ہے۔بی این پی کے وعدوں میں خواتین کے لیے “فیملی کارڈ”،پوسٹ گریجویٹ سطح تک مفت تعلیم،خواتین سپورٹ سیلز،ڈے کیئر مراکز،بریسٹ فیڈنگ کارنرز،خواتین کے لیے کاروباری پروگرامز شامل ہیں،جماعت اسلامی کے وعدوں میں قومی خواتین تحفظ ٹاسک فورس،اندرون و بیرون ملک خواتین کے لیے محفوظ اور باعزت روزگار کی ضمانت شامل ہے،این سی پی کے وعدوں میں ایوانِ زیریں کی 100 مخصوص نشستوں پر خواتین کے لیے براہِ راست انتخابات شامل ہیں،تاہم، سول سوسائٹی میں شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔“وی کین” کی کوآرڈینیٹر جنیّت آرا حق کا کہنا ہے “خواتین ہمیشہ فیصلہ کن رہی ہیں، مگر ان منشوروں میں سنجیدہ تحقیق اور عملدرآمد کا واضح خاکہ موجود نہیں۔”

    سوشل میڈیا پر “بیلٹ سے جواب دیں” کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ بعض متنازع بیانات کے بعد گیارہ خواتین تنظیموں نے الیکشن کمیشن کو یادداشت پیش کر کے ایک امیدوار کی نااہلی کا مطالبہ کیا۔سیاسی کارکن مشرفہ مشو نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔کارکن مرزیہ پرووا کا کہنا ہے میں چاہتی ہوں خواتین زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالیں اور بیلٹ کے ذریعے جواب دیں۔

    بنگلہ دیش میں آبادیاتی رجحانات نوجوانوں اور خواتین کے حق میں جا رہے ہیں۔ اگر جین زی 2024 کی اصلاحی توانائی کو بیلٹ بکس تک لے آئی اور خواتین نے بڑی تعداد میں خودمختار فیصلے کیے تو 2026 کا انتخابی نقشہ ماضی سے مختلف ہو سکتا ہے۔یہ بیلٹ پیپر صرف حکومت کا تعین نہیں کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ آیا بنگلہ دیش میں ایک نئی سیاسی ثقافت نے واقعی جڑ پکڑ لی ہے یا نہیں۔

  • بنگلہ دیش میں آج تاریخی انتخابات،عوامی لیگ بیلٹ پیپر سے غائب

    بنگلہ دیش میں آج تاریخی انتخابات،عوامی لیگ بیلٹ پیپر سے غائب

    ڈھاکا: بنگلہ دیش آج اپنی تاریخ کے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک ملک گیر ریفرنڈم بھی منعقد ہو رہا ہے، جسے ملک کے آئینی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ملک بھر میں 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز آج اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ انتخابات اگست 2024 کی طلبہ قیادت میں ہونے والی “مون سون انقلاب” کے بعد پہلا بڑا جمہوری معرکہ ہیں، جس نے ملک کی سیاسی سمت کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔پولنگ کا عمل صبح 7 بج کر 30 منٹ سے شام 4 بج کر 30 منٹ تک 299 حلقوں میں جاری رہے گا۔ تاہم شیرپور-3 میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار نورالزمان بدل کے انتقال کے باعث ووٹنگ معطل کر دی گئی ہے، اور الیکشن کمیشن جلد نئی تاریخ کا اعلان کرے گا۔

    ووٹروں کو آج دو بیلٹ پیپر دیے جا رہے ہیں،سفید بیلٹ، اپنے حلقے سے پارلیمانی نمائندے کے انتخاب کے لیے،گلابی بیلٹ: مجوزہ “جولائی نیشنل چارٹر” پر ریفرنڈم کے لیے۔جولائی نیشنل چارٹر” میں آئین میں وسیع اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، جن میں وزیر اعظم کے لیے دو مدتوں کی حد مقرر کرنا،مستقبل کے انتخابات کی نگرانی کے لیے غیر جانبدار نگران حکومت کا نظام بحال کرناشامل ہیں.پارلیمنٹ میں ایوانِ بالا کا قیام، جس میں 350 منتخب ارکان کے ساتھ مزید 100 منتخب/نامزد ارکان شامل کیے جائیں گے

    حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات اختیارات کے ارتکاز کو روکیں گی، انتظامی بالادستی پر قدغن لگائیں گی اور جمہوری احتساب کو مضبوط بنائیں گی۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج ان اصلاحات کے نفاذ کے طریقہ کار میں ہے، کیونکہ غیر واضح انتظامی تفصیلات مستقبل میں آئینی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔یوں آج کا دن صرف حکومت کے انتخاب کا نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے کی تشکیلِ نو کا بھی ریفرنڈم بن چکا ہے۔

    اس بار انتخابی نقشہ ماضی سے بالکل مختلف ہے۔ کئی دہائیوں بعد عوامی لیگ بیلٹ پیپر سے غائب ہے، کیونکہ اس کی رجسٹریشن معطل ہے۔ اس تبدیلی نے انتخابی مقابلے کو دو بڑے اتحادوں تک محدود کر دیا ہے۔ایک جانب بی این پی کی قیادت میں اتحاد ہے، جس کی سربراہی طارق رحمان کر رہے ہیں، جو 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آ کر “جمہوریت کی بحالی”، معاشی استحکام اور ریاستی اداروں کو غیر جماعتی بنانے کے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔دوسری طرف 11 جماعتی اتحاد ہے، جس کی قیادت جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کر رہے ہیں، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے سربراہ ناہید اسلام بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔ این سی پی دراصل گزشتہ سال کی طلبہ تحریک سے جنم لینے والی سیاسی قوت ہے۔مجموعی طور پر 50 سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، جو گزشتہ تین انتخابات کے برعکس ایک وسیع تر سیاسی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔

    چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے قوم سے ٹیلی وژن خطاب میں ان انتخابات اور ریفرنڈم کو بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ کا “منفرد اور سنگِ میل لمحہ” قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ دوہرا ووٹ عوامی خودمختاری کا براہِ راست اظہار ہے، خاص طور پر ان برسوں کے بعد جب شہریوں کی بڑی تعداد خود کو سیاسی عمل سے محروم محسوس کرتی تھی۔یونس نے نوجوان ووٹروں کا خصوصی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنریشن زی کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ ایک مسابقتی قومی انتخاب میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

    انتخابی شفافیت اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 10 لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں فوج، پولیس، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش، ریپڈ ایکشن بٹالین، کوسٹ گارڈ اور انصار فورس شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے جدید ٹیکنالوجی کو بھی بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے،ڈرونز اور یو اے ویز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائے گی،فیلڈ افسران کے لیے باڈی کیمرے نصب ہیں،42 ہزار 779 پولنگ اسٹیشنز میں سے 90 فیصد سے زائد پر سی سی ٹی وی کوریج کی جائے گی،

    چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔45 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے مبصرین بھی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ پہلی بار آئی ٹی پر مبنی پوسٹل بیلٹ کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیا۔ تقریباً 8 لاکھ تارکین وطن نے رجسٹریشن کرائی، جسے آئندہ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 37 سال کے ووٹرز کل رجسٹرڈ ووٹروں کا تقریباً 44 فیصد ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے مسائل نوجوانوں کے اہم مطالبات رہے ہیں، اور ماہرین کے مطابق شہری اور نیم شہری حلقوں میں نوجوانوں کا رجحان کئی نشستوں کا فیصلہ کر سکتا ہے۔خواتین ووٹرز کی تعداد بھی نمایاں ہے۔ 12 کروڑ 77 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 6 کروڑ 28 لاکھ سے زائد خواتین ہیں۔تقریباً 27 لاکھ خواتین پہلی بار ووٹر کے طور پر رجسٹر ہوئیں، جو نئے مرد ووٹروں (18 لاکھ 70 ہزار) سے کہیں زیادہ ہیں۔ بعض حلقوں میں خواتین ووٹروں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔تاہم امیدواروں میں خواتین کی نمائندگی محدود ہے: صرف 83 خواتین امیدوار میدان میں ہیں، جو مجموعی امیدواروں کا محض 4 فیصد بنتی ہیں۔

    آج کا انتخاب صرف اگلی حکومت کے قیام کا فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی طے کرے گا کہ 2024 کی عوامی تحریک کے بعد بنگلہ دیش کا سیاسی نظام کس سمت جاتا ہے۔کیا آئینی اصلاحات طاقت کے توازن کو مستحکم کریں گی؟کیا نئی قیادت معاشی اور ادارہ جاتی استحکام لا سکے گی؟پولنگ اسٹیشنز پر قطاروں میں کھڑے شہری دراصل صرف نمائندے منتخب نہیں کر رہے، بلکہ وہ اپنے ملک کے آئینی اور جمہوری مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔بنگلہ دیش آج ایک ایسے امتحان سے گزر رہا ہے جس کا نتیجہ آنے والے برسوں کی سیاست، حکمرانی اور جمہوری روایت کو متعین کرے گا۔

  • ‎بالی ووڈ اداکار شریاس تلپاڈے کے خلاف سرمایہ کاری فراڈ کا مقدمہ درج

    ‎بالی ووڈ اداکار شریاس تلپاڈے کے خلاف سرمایہ کاری فراڈ کا مقدمہ درج

    ‎بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع مین پوری میں بالی ووڈ اداکار شریاس تلپاڈے کے خلاف مبینہ سرمایہ کاری فراڈ کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر بھگاؤں تھانے میں درج کی گئی، جس میں شریاس تلپاڈے سمیت 12 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق مدعی نے الزام عائد کیا کہ ایک مبینہ سرمایہ کاری اسکیم کے نام پر اس سے لاکھوں روپے وصول کیے گئے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ دیہاتیوں کو منافع کا لالچ دے کر رقوم جمع کروائی گئیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
    ‎عدالتی حکم پر پولیس نے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔ تاہم شریاس تلپاڈے کی جانب سے اب تک ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
    ‎واضح رہے کہ شریاس تلپاڈے ہندی اور مراٹھی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار، ہدایتکار اور پروڈیوسر ہیں۔ انہوں نے 2005 میں فلم ’اقبال‘ سے مرکزی کردار کے طور پر شہرت حاصل کی۔ ان کی نمایاں فلموں میں ’دور‘، ’گول مال‘ اور ’اوم شانتی اوم‘ شامل ہیں۔
    ‎شریاس تلپاڈے آئندہ فلم ’ویلکم ٹو دی جنگل‘ میں دکھائی دیں گے، جو ’ویلکم‘ سیریز کا تیسرا حصہ ہے اور توقع ہے کہ 26 جون 2026 کو ریلیز ہوگی۔

  • خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات،سرچ آپریشنز جاری

    خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات،سرچ آپریشنز جاری

    خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت شہری زخمی اور شہید ہوئے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائیاں کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشنز شروع کر دیے ہیں۔

    لنڈی کوتل میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے پوائنٹ کے قریب دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔ ایس ایچ او تھانہ لنڈی کوتل زاہد خان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم دھماکے کی نوعیت اور اس کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    لکی مروت: تختی خیل میں کوارڈ کاپٹر حملے، تین بچوں سمیت 8 افراد زخمی
    لکی مروت کے علاقے تختی خیل میں دہشتگردوں کی جانب سے کوارڈ کاپٹر کے ذریعے دو حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں تین بچوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق ایک حملہ فٹ بال گراؤنڈ پر کیا گیا جبکہ دوسرا حملہ امن کمیٹی کے صدر کے گھر کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ دھماکوں کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔زخمیوں کو فوری طور پر سرائے نورنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فرید اللہ شاہ کے مطابق ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    بنوں: گل بہار چوک میں پولیس وین پر حملہ ناکام
    بنوں کے علاقے گل بہار چوک، تھانہ ہوید کی حدود میں دہشتگردوں نے پولیس وین کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی۔پولیس کے مطابق حملے کے فوراً بعد پولیس اہلکاروں نے موثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی بھرپور مزاحمت کے باعث حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ذرائع کے مطابق متعدد دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان: فائرنگ کے تبادلے میں ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید
    ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے تھانہ پنیالہ کی حدود وانڈہ بڈھ میں دہشتگردوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے اس تبادلے میں ایس ایچ او فہیم ممتاز خان مروت سمیت چار اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ڈی ایس پی پہاڑ پور سرکل حافظ عدنان خان شدید زخمی ہوئے ہیں۔واقعے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

    باجوڑ: سیاسی رہنما کے گھر پر دستی بم حملہ
    باجوڑ میں دہشتگردوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نوبزادہ وحید خان کی رہائش گاہ پر دستی بم حملہ کیا۔پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر اسی نوعیت کے حملے کیے جا چکے ہیں، جس سے سیاسی شخصیات کی سکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اورکزئی: اغوا کے بعد امام مسجد کو شہید کر دیا گیا
    ضلع اورکزئی کے علاقے غلجو، تھانہ غلجو کی حدود ڈی ڈی ایم دڑا دڑ (ماما زئی) میں جامع مسجد کے امام اجمل کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق امام مسجد کو تین روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا، جبکہ آج ان کی لاش اسی علاقے سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول کو ذبح کیا گیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعے میں داعش خراسان کے عناصر کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رائے تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی دی جائے گی۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ شرپسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

  • نئے عزم کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرنا چاہیے، سردار مسعود خان

    نئے عزم کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرنا چاہیے، سردار مسعود خان

    اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، اسلام آباد کے زیر اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سےفیض احمد فیض آڈیٹوریم، سیکٹر H-8/1، اسلام آباد میں ایک خصوصی فکری و ادبی تقریب بعنوان “کشمیر کا مقدمہ: نسلِ نو کی زبانی” منعقد ہوئی۔

    تقریب کی صدارت سردار مسعود خان، سابق سفیر اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے کی، تقریب کے مہمانانِ خصوصی اورنگزیب خان کچھی، وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، رانا محمد قاسم نون، وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر، ڈاکٹر سمیع اللہ ملک، کشمیری رہنما و دانشور، اور مہمانِ اعزاز اسدرحمان گیلانی ، وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر کاشف عرفان نے انجام دیے۔تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد حسن احمد، طالب علم پنجاب گروپ آف کالجز نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی، جبکہ جبران حیدر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔

    اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ تقریب کا مقصد نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر پر اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنا ہے، کیونکہ کشمیر کا مستقبل انھی کے ہاتھوں میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود نامکمل ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اس تقریب کا انعقاد اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو محض سیاسی بیانیے تک محدود رکھنے کے بجائے فکری، ادبی اور تہذیبی سطح پر زندہ رکھا جائے۔ ادب قومی شعور کی تشکیل، تاریخ کے تحفظ اور عالمی مکالمے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ انھوں نے پنجاب گروپ آف کالجز کی انتظامیہ پروفیسر چودھری محمد اکرم اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ نے نہ صرف سامعین کی حیثیت سے بلکہ بھرپور مکالمے اور فعال شرکت کے ذریعے اپنی فکری وابستگی کا ثبوت دیا۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، H-9 کی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا، جہاں کے طلبہ نے “کشمیر کا مقدمہ” کے موضوع پر ڈرامہ پیش کیا، جس میں کشمیری عوام کے دکھ، کرب اور جدوجہد کو فنکارانہ انداز میں نہایت مؤثر طور پر اجاگر کیا گیا۔

    وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کے جذبات اور وابستگی کو دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، یہ ایک سنجیدہ انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی تقریب اکادمی ادبیات پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر ادبی سطح پر مؤثر کاوشوں کی عکاس ہے اور بطور علمی و ادبی ادارہ مسئلہ کشمیر پر فکری اور علمی معاونت فراہم کر رہی ہے اورحکومت اس مسئلے کو بھرپور انداز میں عالمی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ میں اجاگر کر رہا ہے۔

    وفاقی سیکریٹری اسدرحمان گیلانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہماری تہذیبی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔ ہمیں اس بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے فکری اور ثقافتی سطح پر مسلسل کاوشیں کرنا ہوں گی۔ڈاکٹر سمیع اللہ ملک نےاپنی خطاب میں مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، اس کی بین الاقوامی حیثیت اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے نوجوانوں کو غور و فکر، شعور اور فکری بیداری کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مقدمہ عالمی ضمیر کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ کشمیر ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل میں مماثلت ہے، جہاں عوام طویل عرصے سے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت تک اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کشمیر اس کا حصہ نہیں بنتا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں کشمیری عوام کی جدوجہد سے آگاہ رہیں۔

    سردار مسعود خان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کشمیری عوام کی طویل جدوجہد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ظلم، جبر اور غیر انسانی ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیر پر قبضہ جما رکھا ہے اور جینوسائیڈ کے ذریعے وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کو یہ موقع میسر آیا ہے کہ وہ نئے عزم اور مضبوط مؤقف کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرے۔آخر میں تقریب میں شریک طلبہ و طالبات میں اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعات بطور تحائف تقسیم کی گئیں۔

  • کراچی ایئرپورٹ پر بدنظمی، رکاوٹوں اور عملے کی کمی سے مسافروں کی پروازیں چھوٹنے لگیں

    کراچی ایئرپورٹ پر بدنظمی، رکاوٹوں اور عملے کی کمی سے مسافروں کی پروازیں چھوٹنے لگیں

    ‎کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن گیا ہے، جہاں سیکیورٹی رکاوٹوں، طویل قطاروں اور عملے کی کمی کے باعث پروازیں چھوٹنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔
    ‎اسٹار گیٹ اور جناح ٹرمینل پر پولیس چیک پوسٹس پر محدود اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث چیکنگ کا عمل سست ہے، جس سے شارع فیصل پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں۔ جناح ٹرمینل کی پارکنگ اور لیول ٹو ریمپ پر بھی ٹریفک جام کی صورتحال رہتی ہے۔
    ‎ڈپارچر لاؤنج میں داخلے کے لیے تنگ راستے اور ناکافی عملہ مسافروں کو کم از کم ایک گھنٹے کی تاخیر کا سامنا کروا رہے ہیں۔ سامان کی اسکیننگ، جسمانی تلاشی، کسٹمز اور اے این ایف کی پوچھ گچھ کے مراحل سے گزرنے کے بعد مسافر ایئرلائن کاؤنٹر تک پہنچتے ہیں، جہاں بورڈنگ کے لیے وقت انتہائی محدود رہ جاتا ہے۔
    ‎ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق امیگریشن کے صرف 9 کاؤنٹر فعال ہیں جبکہ نصف سے زائد بند پڑے ہیں، جس کی وجہ ایف آئی اے امیگریشن میں عملے کی کمی بتائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک ہی شفٹ میں 22 مسافر تاخیر کے باعث سفر سے محروم رہے۔
    ‎پی اے اے ریکارڈ کے مطابق مسافروں کی تاخیر سے آمد اور امیگریشن میں غیر معمولی سست روی کے باعث بین الاقوامی پروازوں کی روانگی میں ایک گھنٹے سے زائد تاخیر معمول بن چکی ہے۔ غیر ملکی ایئرلائنز نے بھی اس صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
    ‎اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خود ایئرپورٹ کا دورہ کیا، تاہم عملی طور پر بہتری نظر نہیں آئی۔ حکام کے مطابق صرف مسافروں کو پانچ گھنٹے پہلے بلانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک داخلی راستوں پر رکاوٹیں اور عملے کی کمی دور نہیں کی جاتی۔