بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کے بہنوئی ایوش شرما کو مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی ہے۔ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے مطابق ایوش کو یہ ای میل بدھ 11 فروری کو بھیجی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ای میل بھیجنے والے نے دعویٰ کیا کہ وہ لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ای میل پروٹون میل کے ذریعے بھیجی گئی، جس سے بھیجنے والے نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی کوشش کی۔
چند روز قبل اداکار رنویر سنگھ کو بھی اسی نوعیت کی دھمکی موصول ہوئی تھی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق رنویر کو واٹس ایپ پر ایک وائس میسج بھیجا گیا، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسے وی پی این کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ پیغام میں مبینہ طور پر 10 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
رنویر سنگھ اور ان کی اہلیہ دیپکا پڈوکون نے واقعے کے بعد ممبئی میں اپنی رہائش گاہ کی سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دونوں واقعات میں بھیجنے والوں نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی ہے اور تفتیش کار یہ جانچ رہے ہیں کہ آیا ان دھمکیوں کا تعلق واقعی بشنوئی گینگ سے ہے یا نہیں۔ حالیہ مہینوں میں اس گروہ کا نام متعدد شوبز شخصیات کو دی جانے والی دھمکیوں کے حوالے سے سامنے آ چکا ہے۔
Blog
-

سلمان خان کے بہنوئی ایوش شرما کو بشنوئی گینگ کی مبینہ دھمکی آمیز ای میل موصول
-

ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات کا معاملہ، پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو قانونی نوٹس ارسال
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے وکیل بدر عالم ایڈووکیٹ نے پی آئی اے کے ریٹائرڈ افسران کی نمائندہ تنظیم سوسائٹی آف فارمر پی آئی اے آفیسرز (SOFPO) کی جانب سے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (PIA-HCL) کو طبی سہولیات کے معاملے پر باقاعدہ قانونی نوٹس ارسال کر دیا ہے۔
قانونی نوٹس 10 فروری 2026 کو جاری کیا گیا جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف ہیومن ریسورس آفیسر پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی مکمل نقل فوری طور پر فراہم کی جائے۔نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (PIAC) کو 2016 کے ایکٹ کے تحت پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا گیا تھا، جس کے پیرا 6 کی شق (iv) میں واضح طور پر درج ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات کو ان کے نقصان میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔وکیل کے مطابق طبی سہولیات بھی بعد از ریٹائرمنٹ مراعات کا حصہ ہیں، لہٰذا انہیں کم یا ختم کرنا قانوناً ممکن نہیں۔
نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں پی آئی اے کو دو اداروں، یعنی PIACL اور PIA-HCL میں تقسیم کیا گیا۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے 3 مئی 2024 کو اسکیم آف ارینجمنٹ (SOA) کی منظوری دی، جس کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور طبی سہولیات سمیت تمام واجبات پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیے گئے۔ایس ای سی پی کے حکم نامے کے پیرا 9 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمیشن نے توقع ظاہر کی تھی کہ کمپنی ریٹائرڈ ملازمین کے خدشات کو قانون کے مطابق دور کرے گی اور ان کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یکم اکتوبر 2025 کو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ کی ذیلی کمیٹی برائے طبی سہولیات کے اجلاس میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے مجوزہ میڈیکل انشورنس پلان پر بریفنگ دی تھی۔ اس موقع پر ریٹائرڈ افسران کی تنظیم نے کئی تحفظات کا اظہار کیا اور معاہدے کا مسودہ فراہم کرنے کی درخواست کی، جس پر کمیٹی نے رضامندی ظاہر کی تھی۔تاہم تنظیم کے مطابق تین تحریری یاد دہانیوں کے باوجود معاہدے کا مسودہ فراہم نہیں کیا گیا۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ 28 جنوری 2026 کو جاری کردہ سرکلر کے ذریعے یہ تصدیق کی گئی کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی نے اسٹیٹ لائف کے ساتھ طبی سہولیات کی فراہمی کا معاہدہ کر لیا ہے۔ سرکلر کے مطابق 30 ستمبر 2023 تک ریٹائر ہونے والے تمام اہل پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو طبی سہولیات اس معاہدے کے تحت فراہم کی جائیں گی۔تنظیم کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی شرائط، دائرہ کار، استثنیٰ اور ممکنہ اثرات سے ریٹائرڈ ملازمین کو آگاہ نہیں کیا گیا، جو شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہے۔قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی اور اسٹیٹ لائف کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی مکمل اور مصدقہ نقل فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ کہیں ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات میں کوئی کمی یا تبدیلی تو نہیں کی گئی۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مطلوبہ دستاویز فراہم نہ کی گئی تو ریٹائرڈ ملازمین کے قانونی و معاہداتی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا، جس کے تمام اخراجات اور نتائج کی ذمہ داری کمپنی پر عائد ہوگی۔اس قانونی نوٹس کی نقول چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی، چیئرمین اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔




-

بنگلادیش: 10 نئی سیاسی جماعتیں سامنے آگئیں، 45 لاکھ نئے ووٹرز کا اضافہ
بنگلادیش کے الیکشن کمشنر بریگیڈیئر (ر) ابوالفضل محمد ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات سے قبل 10 نئی سیاسی جماعتیں سامنے آئی ہیں جبکہ ووٹر لسٹ میں 45 لاکھ نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے۔
پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق 60 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے 50 جماعتیں عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ آئینی اور قانونی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم بھی کرایا جا رہا ہے، جس کے باعث انتخابی عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
الیکشن کمشنر کے مطابق نئی ووٹر لسٹ میں 45 لاکھ افراد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سابقہ فہرست میں شامل 20 لاکھ ووٹرز انتقال کر چکے تھے۔
انہوں نے انتخابی اخراجات کی حد سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر امیدوار کو اپنے حلقے میں فی ووٹر 10 ٹکا خرچ کرنے کی اجازت ہے۔ اگر کسی حلقے میں 3 لاکھ ووٹرز ہیں تو امیدوار زیادہ سے زیادہ 30 لاکھ ٹکا خرچ کر سکتا ہے۔
ابوالفضل محمد ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ڈھائی لاکھ سے کم ووٹرز والے حلقوں میں بھی اخراجات کی بالائی حد 25 لاکھ ٹکا مقرر کی گئی ہے۔ مقررہ حد سے تجاوز کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق تمام امیدواروں کو ضابطہ اخلاق کے تحت شفاف انتخابی مہم چلانا ہوگی۔ -

سابق ہیئر ڈریسر نے لیڈی ڈیانا کی قدرتی خوبصورتی کے راز بتا دیے
دنیا بھر میں کروڑوں دلوں پر راج کرنے والی برطانیہ کی شہزادی لیڈی ڈیانا کو خوبصورتی کا عالمی معیار مانا جاتا تھا۔ ان کا منفرد انداز اور قدرتی دلکشی انہیں سب سے الگ بناتی تھی، اور ان کے پرستاروں کی اکثریت خواتین پر مشتمل تھی، جو ان کی خوبصورتی کی بدولت ان کی مداح بن جاتیں۔
حال ہی میں ان کے سابق ہیئر ڈریسر رچرڈ ڈالٹن نے ڈیانا کے روزمرہ معمولات کے حوالے سے انکشافات کیے ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خود کو قدرتی اور پرکشش دکھانے کے لیے کیا کرتی تھیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق رچرڈ ڈالٹن نے ڈیانا کے ساتھ ایک دہائی تک کام کیا۔ ان کے مطابق شہزادی عوامی مقامات پر پیش ہونے کے لیے کبھی کسی پیشہ ور میک اپ آرٹسٹ کی خدمات حاصل نہیں کرتیں، اور اپنے بالوں کو اسٹائل کرتے وقت وہ میک اپ خود لگاتی تھیں۔ صرف سرکاری پورٹریٹس یا فیملی فوٹو شوٹس جیسے خاص مواقع پر ہی وہ ماہرین کی مدد لیتی تھیں۔
رچرڈ کے مطابق سب سے زیادہ متاثر کن چیز ڈیانا کی جلد کی فطری چمک تھی، جسے اکثر "انگلش روز” کی رنگت کہا جاتا ہے۔ انہیں بھاری فاؤنڈیشن یا میک اپ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی، اور ان کی خوبصورتی ان کی قدرتی جلد کی چمک سے جھلکتی تھی۔
اگرچہ ڈیانا سادہ انداز کی حامل تھیں، لیکن ان کی کچھ مخصوص میک اپ عادتیں تھیں۔ وہ ہلکے پنسل لائنر سے آنکھوں کو نمایاں کرتی تھیں اور ہونٹوں کے لیے نرم شیڈز کا انتخاب کرتی تھیں۔ رچرڈ نے یاد دلایا کہ ڈیانا آئی لائنر لگاتے وقت محتاط رہتیں تاکہ ان کے بالوں کا اسٹائل خراب نہ ہو، مگر وہ مکمل طور پر اس معمول پر قابو رکھتی تھیں۔
یہ انکشاف ظاہر کرتا ہے کہ ڈیانا نے فطری خوبصورتی کے فلسفے کو اپنایا اور اسٹائلسٹ اور کنسلٹنٹس کی ٹیم کے باوجود اپنی شخصیت کو میک اپ کی تہوں کے پیچھے نہیں چھپایا۔ -

سعودی کابینہ کی جوہری توانائی اور بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری
سعودی عرب کی کابینہ نے وزیر توانائی کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ اردن اور ترکی کی حکومتوں کے ساتھ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے فریم ورک ایگریمنٹ ڈرافٹ اور تعاون کے معاہدے کے مسودے پر بات چیت اور دستخط کر سکیں۔
ریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے مملکت کی جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔
کابینہ نے اس دوران قطر کے ساتھ تیز رفتار الیکٹرک ریل منصوبے، بوسنیا ہرزیگووینا اور منگولیا کے ساتھ ویزے سے استثنیٰ کے معاہدے، ازبکستان کے ساتھ ثقافتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت اور شام کے ساتھ صحت سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی بھی منظوری دی۔
اجلاس میں ولئ عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فونک رابطے کی رپورٹ کابینہ کو پیش کی گئی۔ کابینہ نے سعودی عرب کی میزبانی میں دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کے اجلاس کی حمایت کا اعادہ کیا اور سعودی عرب اور شام کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ -

چیٹ جی پی ٹی میں جی، پی اور ٹی کا مطلب کیا ہے؟
دنیا بھر میں مقبول ہونے والے جنریٹیو آرٹی فیشل انٹیلی جنس چیٹ بوٹس میں چیٹ جی پی ٹی سرفہرست شمار ہوتا ہے۔ اوپن اے آئی کی جانب سے تیار کیا گیا یہ پلیٹ فارم سوالات کے جواب دینے، کوڈنگ میں مدد فراہم کرنے، تحریری مواد تیار کرنے اور مختلف موضوعات پر رہنمائی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اب اسی طرز کی اے آئی کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ مگر اکثر صارفین یہ نہیں جانتے کہ جی پی ٹی دراصل کن الفاظ کا مخفف ہے۔
جی سے کیا مراد ہے؟ جی کا مطلب ہے "جنریٹیو”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سسٹم نیا متن تخلیق کر سکتا ہے۔ یہ صرف موجودہ معلومات کا تجزیہ نہیں کرتا بلکہ سیکھے گئے پیٹرنز کی بنیاد پر نیا جواب تیار کرتا ہے۔ جنریٹیو اے آئی ڈیپ لرننگ پر مبنی ہوتی ہے، جو انسانی دماغ کے کام کرنے کے انداز سے متاثر ایک طریقہ ہے۔
پی کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے؟ پی سے مراد "پری ٹرینڈ” ہے۔ یعنی اس ماڈل کو پہلے ہی وسیع ڈیٹا پر تربیت دی جا چکی ہوتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کو اربوں الفاظ پر مشتمل ڈیٹا سیٹس سے تربیت دی گئی، جن میں ویب پیجز، کتابیں اور دیگر تحریری مواد شامل تھا۔ تربیت کے بعد ماڈل کو عوام کے لیے پیش کیا گیا۔ بعد ازاں انسانی فیڈ بیک کے ذریعے اس کی کارکردگی مزید بہتر کی جاتی ہے۔
ٹی کا مطلب کیا ہے؟ ٹی سے مراد "ٹرانسفارمر” ہے۔ یہ ایک نیورل نیٹ ورک آرکیٹیکچر ہے جو متن کو چھوٹے حصوں یا ٹوکنز میں تقسیم کرکے سیاق و سباق کو سمجھتا ہے اور پھر جواب تیار کرتا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی اسے لمبی گفتگو کو سمجھنے اور مربوط جواب دینے کے قابل بناتی ہے۔
مجموعی طور پر جی پی ٹی ایک لارج لینگوئج ماڈل ہے جو ڈیپ لرننگ اور نیورل نیٹ ورکس کی مدد سے زبان کو سمجھنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نام کیسے رکھا گیا؟ اوپن اے آئی کے عہدیداروں کے مطابق ابتدا میں اسے "چیٹ ود جی پی ٹی 3.5” کہا جا رہا تھا، تاہم متعارف کرانے سے قبل ایک میٹنگ میں نام کو مختصر اور سادہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یوں "چیٹ جی پی ٹی” کا نام سامنے آیا، جو بعد میں دنیا بھر میں پہچان بن گیا۔ -

وفاقی حکومت جلد رمضان ریلیف پیکیج کا اعلان کرے گی
وفاقی حکومت جلد رمضان ریلیف پیکیج کا اعلان کرے گی، جو معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو رمضان کے مقدس مہینے میں مالی اور ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیکیج کی رونمائی وزیراعظم شہباز شریف خود وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ خصوصی تقریب میں کریں گے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس آج شام وزیراعظم کی صدارت میں طلب کیا جا سکتا ہے تاکہ پیکیج کی منظوری دی جا سکے۔
اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال کا جائزہ بھی لیا جائے گا اور کئی اہم معاملات زیر غور آئیں گے۔ اسلام آباد کے ٹارلائی علاقے میں حالیہ خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ بھی کابینہ کو پیش کی جائے گی تاکہ وزراء کو بریفنگ دی جا سکے۔
کابینہ اجلاس میں موجودہ سیکیورٹی اور اقتصادی چیلنجز کے پیش نظر عوامی مفاد میں مؤثر اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔ -

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: جنوبی افریقا کی افغانستان کو دوسرے سپر اوور میں شکست
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ ڈی کے سنسنی خیز میچ میں جنوبی افریقا نے افغانستان کو دوسرے سپر اوور میں 4 رنز سے شکست دے دی۔
احمد آباد میں کھیلے گئے اس مقابلے میں افغانستان کے کپتان راشد خان نے ٹاس جیت کر پہلے جنوبی افریقا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ مقررہ 20 اوورز کے اختتام پر دونوں ٹیمیں 187، 187 رنز پر برابر رہیں، جس کے بعد فیصلہ سپر اوورز پر چلا گیا۔
پہلے سپر اوور میں افغانستان نے بیٹنگ کرتے ہوئے 17 رنز بنائے۔ جواب میں جنوبی افریقا بھی 17 رنز ہی اسکور کر سکا، یوں مقابلہ مزید سنسنی اختیار کر گیا اور نتیجہ دوسرے سپر اوور پر جا پہنچا۔
دوسرے سپر اوور میں پروٹیز نے پہلے کھیلتے ہوئے 23 رنز جوڑے۔ افغان ٹیم ہدف کے تعاقب میں 19 رنز بنا سکی اور اس طرح جنوبی افریقا نے 4 رنز سے کامیابی اپنے نام کی۔
اس سے قبل جنوبی افریقا کی اننگز کا آغاز ایڈم مارکرم اور کوئنٹن ڈی کوک نے کیا، تاہم مارکرم 12 کے مجموعے پر فضل حق فاروقی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ ایک وکٹ گرنے کے بعد ڈی کوک اور ریان رکلٹن نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی اور اسکور کو مستحکم کیا۔ دونوں نے اسی اوور میں اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں۔ رکلٹن 61 اور ڈی کوک 59 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
ڈیوالڈ بریوس نے 23 جبکہ ڈیوڈ ملر نے 20 رنز اسکور کیے۔ افغانستان کی جانب سے عظمت اللہ عمرزئی نے 3 اور راشد خان نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ -

بھارتی سیاحوں کا نامناسب رویہ،تھائی لینڈ کے یونا بیچ کلب نے داخلہ بند کر دیا
بین الاقوامی سیاحتی حلقوں میں حالیہ دنوں بھارتی سیاحوں کے مبینہ نامناسب رویّے سے متعلق خبروں نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
تھائی لینڈ کے مشہور سیاحتی مقام “یونا بیچ کلب” میں بھارتی سیاحوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ماضی میں پیش آنے والے چند ناخوشگوار واقعات کے بعد کیا گیا۔یونا بیچ کلب، جو اپنی پرتعیش سہولیات اور بین الاقوامی سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث معروف ہے، کی انتظامیہ کے مطابق بعض مواقع پربھارتی سیاحوں کا رویّہ غیر مہذب اور کلب کے ضابطہ اخلاق کے خلاف تھا، اس فیصلے کا مقصد تمام مہمانوں کے لیے محفوظ اور پُرسکون ماحول کو یقینی بنانا ہے۔واضح رہے کہ تھائی لینڈ کی سیاحتی صنعت بھارتی سیاحوں پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں بھارتی شہری وہاں کا رخ کرتے ہیں۔
تھائی لینڈ کے معروف اور سیاحوں میں مقبول یونا بیچ کلب (Yona Beach Club) میں بھارتی سیاحوں کے داخلے سے مبینہ انکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ بھارتی سیاحوں کے ایک گروپ نے کلب انتظامیہ پر نسلی امتیاز برتنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ماضی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے باعث بھارتی شہریوں کے داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ گوا سے تعلق رکھنے والے موسیقار جوناس مونٹیرو (Jonas Monteiro) نے انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو تصدیق شدہ بکنگ اور درست ٹکٹ ہونے کے باوجود کلب میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔جوناس مونٹیرو کے مطابق وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ مقررہ وقت پر کلب پہنچے اور ان کے پاس باقاعدہ تصدیق شدہ ٹکٹ موجود تھے، تاہم داخلی دروازے پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔
سب سے سنگین الزام یہ سامنے آیا کہ گروپ کے ارکان نے مبینہ طور پر کلب کے عملے کو یہ کہتے ہوئے سنا،“کسی بھارتی کو اندر مت آنے دو۔”
ماضی میں چند بھارتی سیاحوں کے ہنگامہ آرائی اور غیر مہذب رویے کے واقعات کے بعد کلب انتظامیہ نے سخت اقدامات کیے،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سیاحتی مقامات پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کیے جاتے ہیں ،
-

فتنہ الخوارج ،فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلیے قومی یکجہتی کی ضرورت،تحریر:جان محمد رمضان
وطنِ عزیز اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی و خارجی سازشوں کی گرد آلود ہوائیں ہمارے عزم و استقلال کو آزمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں سر اٹھانے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے عناصر محض چند گمراہ گروہوں کا نام نہیں بلکہ ایک منظم سوچ اور بیرونی سرپرستی کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ ایسے میں وقت کا تقاضا ہے کہ پوری قوم ذاتی، سیاسی اور لسانی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پرچم تلے مجتمع ہو جائے۔
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سیکیورٹی فورسز، پاک فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کی جنگ ہے۔ جب تک قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرے گا، تب تک اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جو معصوم جانوں کو نگلتا اور ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی سازش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے صرف بندوق نہیں بلکہ شعور، اتحاد اور عزم کی بھی ضرورت ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور غیر متزلزل عمل درآمد سے مشروط ہے۔ یہ منصوبہ محض ایک کاغذی دستاویز نہیں بلکہ قومی سلامتی کا جامع لائحۂ عمل ہے، جس پر مؤثر عمل ہی ملک کو پائیدار امن کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی یہی حکمتِ عملی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اور اس ضمن میں حالیہ اجلاسوں کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والی سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور کو افغانستان میں دہشت گردانہ تربیت فراہم کی گئی۔ یہ عناصر دراصل خطے میں بدامنی پھیلا کر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ فتنہ الہندوستان کو بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یہ عناصر احساسِ محرومی کے نعرے کی آڑ میں خونریزی کا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں، مگر بلوچستان کی باشعور عوام اب ان کے چہروں کو پہچان چکی ہے۔تین برس قبل روزانہ 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ ایک کھلا راز تھی، جس سے حاصل ہونے والی خطیر رقوم دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتی تھیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس غیر قانونی دھندے کا خاتمہ دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنے کے مترادف ہے، جو ریاستی رٹ کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گڈ گورننس کو واحد اور مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ شفافیت، انصاف، میرٹ اور عوامی خدمت کا نظام ہی وہ بنیاد ہے جس پر امن کا مضبوط قلعہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم دراصل دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہماری کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو، دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہے، کیونکہ ہمارا بیانیہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔ کوئی بھی منفی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ سیکیورٹی ذرائع نے اپوزیشن لیڈر کے حالیہ بیان کو افسوسناک اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سیاست اور فوج دو جدا دائرے ہیں؛ بات چیت سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے جبکہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ قانونی اور عدالتی معاملات کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق عدالتیں ہی کریں گی۔جس طرح قوم نے معرکۂ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی، اسی طرح آج بھی اتحاد و اتفاق سے دہشت گردی کے فتنے کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے اختلافات بھلا کر ایک نصب العین پر جمع ہو جائیں تو کوئی سازش ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی مفادات، سیاسی کشمکش اور گروہی تعصبات سے بلند ہو کر ریاست اور آئین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ فتنہ الخوارج ہو یا فتنہ الہندوستان، ان کا خاتمہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ قومی شعور، یکجہتی اور گڈ گورننس سے ممکن ہے۔پاکستان کی بقا، سلامتی اور ترقی اسی میں مضمر ہے کہ ہم سب مل کر یہ عہد کریں ،نہ تقسیم ہوں گے، نہ جھکیں گے، اور نہ ہی دہشت گردی کے آگے سر تسلیم خم کریں گے