واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک بار پھر یورینیم کا مسئلہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جہاں امریکا ایران سے سینکڑوں کلوگرام افزودہ یورینیم کم کرنے یا نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے عالمی سیاست، سفارت کاری اور سلامتی کے معاملات کو ایک پیچیدہ شکل دے دی ہے۔
یورینیم ایک قدرتی طور پر پائی جانے والی تابکار دھات ہے جو زمین کی تشکیل کے وقت سے موجود ہے۔ بظاہر یہ ایک عام سرمئی چٹان جیسی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کی اندرونی ساخت اسے انتہائی طاقتور اور حساس بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے توانائی کے حصول سے لے کر ایٹمی ہتھیاروں تک مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
قدرتی یورینیم دو بڑی اقسام پر مشتمل ہوتا ہے۔ یورینیم 238 جو تقریباً 99 فیصد ہوتا ہے اور براہ راست ایٹمی توانائی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتا، جبکہ یورینیم 235 نہایت کم مقدار یعنی تقریباً 0.7 فیصد میں پایا جاتا ہے اور یہی اصل اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایٹمی ری ایکٹر اور ہتھیار دونوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
یورینیم کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک عمل کیا جاتا ہے جسے افزودگی کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں سینٹری فیوج نامی مشینیں استعمال ہوتی ہیں جو تیزی سے گھوم کر بھاری اور ہلکے ایٹمز کو الگ کرتی ہیں۔ جتنی زیادہ افزودگی کی جائے، اتنا ہی یورینیم طاقتور بنتا جاتا ہے۔
عام طور پر 3 سے 5 فیصد افزودہ یورینیم بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ 20 فیصد تک اسے بحری مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم 60 فیصد یا اس سے زیادہ افزودگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتی ہے، کیونکہ یہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ 90 فیصد سے زائد افزودگی کو براہ راست ایٹم بم کے لیے موزوں تصور کیا جاتا ہے۔
ایران اس وقت تقریباً 60 فیصد افزودگی تک پہنچ چکا ہے، جو عالمی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ مغربی ممالک کے نزدیک اس سطح کی افزودگی کا کوئی واضح سویلین مقصد نہیں۔
Blog
-

یورینیم کیا ہے اور ایران کے تنازع کی اصل وجہ کیوں بنا؟
-

پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز میں خطرناک اضافہ
پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 2,108 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی مثبت ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار وفاقی اور صوبائی ایچ آئی وی کنٹرول اداروں کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں، جو ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس خطرناک صورتحال کی کئی بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار ہے، جہاں سرنجز اور دیگر طبی آلات کو بار بار استعمال کیا جاتا ہے، جو وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی کلینکس میں انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات بھی اس بیماری کے پھیلنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خون کی منتقلی سے قبل مناسب اسکریننگ نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے، جس کے باعث متاثرہ خون کے ذریعے وائرس منتقل ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ مزید برآں، غیر رجسٹرڈ اور غیر مستند معالجین یعنی عطائی ڈاکٹروں کی موجودگی اور ان پر کمزور نگرانی نے بھی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب ایچ آئی وی صرف مخصوص خطرے کے شکار گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ بچوں سمیت عام آبادی میں بھی پھیل رہا ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرنجز کے ایک بار استعمال کو سختی سے یقینی بنایا جائے، خون کی منتقلی سے قبل جدید معیار کے مطابق مکمل اسکریننگ لازم قرار دی جائے، اور نجی کلینکس کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ غیر معیاری علاج اور بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کی تربیت اور عوامی آگاہی مہم بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ والدین اپنے بچوں کے علاج کے دوران محفوظ طریقہ کار کا مطالبہ کریں اور کسی بھی قسم کی غفلت سے بچا جا سکے۔ -

یوم مزدور پر یکم مئی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان
وفاقی حکومت نے مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر یکم مئی بروز جمعہ کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق تمام سرکاری اور نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند رہیں گے۔
حکومت کی جانب سے یہ تعطیل محنت کش طبقے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دی جاتی ہے، تاکہ ملک کی ترقی میں مزدوروں کے کردار کو تسلیم کیا جا سکے۔ یوم مزدور دنیا بھر میں ہر سال یکم مئی کو منایا جاتا ہے، جہاں مزدوروں کے حقوق، ان کی فلاح و بہبود اور بہتر کام کے حالات کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جاتی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اس دن تمام ادارے بند رہیں گے، جبکہ بعض ضروری خدمات حسب معمول جاری رہیں گی۔ اس موقع پر مختلف مزدور تنظیموں کی جانب سے تقاریب، ریلیاں اور سیمینارز بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں مزدوروں کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
اس سال یکم مئی جمعہ کے روز آنے کے باعث عوام کو تین روزہ تعطیلات کا موقع بھی ملے گا۔ جمعہ کی سرکاری چھٹی کے بعد ہفتہ اور اتوار کی معمول کی تعطیلات شامل ہو جائیں گی، جس سے شہریوں کو مختصر تعطیلات گزارنے کا موقع ملے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ موقع نہ صرف مزدوروں کی خدمات کو سراہنے کا دن ہے بلکہ اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ ان کے حقوق کے تحفظ اور بہتر حالات کار کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ -

ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو ہوسکتا ہے، ٹرمپ پرامید
واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا اگلا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جس سے مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر نے ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ 36 سے 72 گھنٹوں کے اندر مذاکرات کا امکان موجود ہے، جبکہ یہ دوسرا دور ممکنہ طور پر جمعے کو منعقد ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس مرحلے میں کوئی اچھی خبر سامنے آ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج کو ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل ہدایات دے دی گئی ہیں، تاکہ کسی بھی غیر متوقع پیش رفت کی صورت میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ ان کے مطابق امریکا بیک وقت سفارتی اور دفاعی دونوں محاذوں پر تیار ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی روکنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ پاکستانی قیادت کی درخواست پر کیا گیا، جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر شامل تھے۔ امریکی صدر کے مطابق پاکستانی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جائے گی جب تک ایران کی جانب سے باضابطہ تجاویز سامنے نہیں آ جاتیں اور مذاکراتی عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے اہم ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں امن کی جانب ایک مثبت قدم ہو سکتی ہے، تاہم حتمی نتائج کا انحصار مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔ عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں، جو خطے کی صورتحال کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔ -

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا، جس کے باعث سرمایہ کاروں اور خریداروں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمت ایک بار پھر پانچ لاکھ روپے کی سطح سے نیچے آگئی ہے، جو حالیہ مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 1200 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 98 ہزار 962 روپے ہوگئی۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 1029 روپے کم ہوکر 4 لاکھ 27 ہزار 779 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں یہ کمی عالمی سطح پر بدلتی معاشی صورتحال اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث سامنے آ رہی ہے۔
چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی، فی تولہ چاندی 34 روپے سستی ہو کر 8324 روپے کی سطح پر آگئی۔ مقامی مارکیٹ میں چاندی کی قیمتوں میں کمی عام صارفین کے لیے کسی حد تک ریلیف سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو زیورات یا دیگر مقاصد کے لیے چاندی خریدتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔ بین الاقوامی سطح پر فی اونس سونے کی قیمت 12 ڈالر کم ہوکر 4766 ڈالر پر آ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں یہ کمی امریکی معیشت، شرح سود اور عالمی سیاسی حالات سے جڑی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے، تاہم کسی بھی بڑی عالمی تبدیلی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کے حالات پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ -

چین کے خلائی پروگرام میں دو پاکستانی خلا باز منتخب
بیجنگ: چین کے خلائی پروگرام میں دو پاکستانی خلا بازوں محمد ذیشان اور خرم داؤد کا انتخاب کر لیا گیا ہے، جو جلد چین میں تربیت حاصل کریں گے۔ چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں خلا بازوں میں سے ایک کو مستقبل میں چین کے خلائی اسٹیشن تیانگونگ بھیجنے کا امکان ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو کوئی پاکستانی خلا باز پہلی بار چینی خلائی اسٹیشن کا سفر کرے گا، جو پاکستان کے لیے تاریخی کامیابی ہوگی۔
چائنا ڈیلی کے مطابق پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب اور تربیت چین کے خلائی پروگرام میں بین الاقوامی تعاون کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کو خلائی میدان میں عملی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا خلائی پروگرام ہمیشہ سے پرامن مقاصد اور انسانیت کی بہتری کے لیے وقف رہا ہے۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے خلائی تجربات اور کامیابیوں کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے اور دیگر ممالک کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دیتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چین کا مینڈ اسپیس پروگرام مختلف ممالک کے ساتھ سائنسی تجربات، تکنیکی آزمائشوں اور خلا بازوں کی تربیت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا تاکہ انسانیت کو کائنات کے بارے میں مزید آگاہی فراہم کی جا سکے۔
یاد رہے کہ فروری 2025 میں چین کی مینڈ اسپیس ایجنسی اور پاکستان کے ادارے سپارکو کے درمیان اسلام آباد میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستانی خلا بازوں کے انتخاب اور تربیت کے لیے باقاعدہ تعاون کا آغاز کیا گیا تھا۔ -

کروڈ آئل بحران، اٹک ریفائنری کا مین یونٹ بند
اٹک: کروڈ آئل کی سپلائی معطل ہونے کے باعث اٹک ریفائنری نے اپنا مرکزی پیداواری یونٹ بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور ترسیل بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ کمپنی حکام کے مطابق جب تک سپلائی کا نظام بہتر نہیں ہوتا، پلانٹ بند ہی رہے گا۔
ریفائنری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کروڈ آئل کی مسلسل کمی کے باعث پیداوار برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، جس پر مجبوراً مین یونٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس یونٹ کی یومیہ پیداواری صلاحیت 32 ہزار 400 بیرل تھی، جو ملک میں ایندھن کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔
حکام کے مطابق ریفائنری میں تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث تیار مصنوعات کا اسٹاک بڑھتا جا رہا ہے، جس سے ذخیرہ کرنے کی گنجائش پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف آپریشنل نظام کو متاثر کیا بلکہ مالی نقصانات کا خدشہ بھی پیدا کر دیا ہے۔
اٹک ریفائنری نے متعلقہ حکام کو ارسال کیے گئے خط میں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ کمپنی نے اپنے شیئر ہولڈرز کو بھی اس پیش رفت سے مطلع کر دیا ہے تاکہ کاروباری اثرات کے حوالے سے شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔ -

چین کی ایران امریکا جنگ بندی میں توسیع پر سفارتی حل کی حمایت
چین نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر ردعمل دیتے ہوئے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور خطے میں امن کے قیام کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں جنگ اور امن کے درمیان توازن برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ چین تمام فریقین کی جانب سے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنا سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ اعلان میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا جا رہا ہے تاکہ امن مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کیا جا سکے۔ اس فیصلے کو عالمی سطح پر مختلف ردعمل کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اس پیش رفت پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان یکطرفہ طور پر کیا ہے۔ تہران نے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں ایران نے اقوام متحدہ سے بحیرہ عمان میں امریکی کارروائی کی مذمت کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی میں توسیع ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم پائیدار امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات ناگزیر ہیں۔ -

امریکا ایران کشیدگی، بھارت میں غربت اور مہنگائی کا طوفان
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے گہرے اثرات بھارت جیسے بڑے ملک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں بھارت میں مزید 25 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ بھارت، جو توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گیس کی شدید قلت کے باعث کئی صنعتی یونٹس اور فیکٹریاں بند ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں یا جزوی طور پر کام کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور ہزاروں مزدوروں کو روزگار کے مواقع سے محروم ہونا پڑا ہے۔ صنعتی شعبے میں پیدا ہونے والی اس صورتحال نے مجموعی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے باعث متوسط اور نچلے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی چیلنج بن گیا ہے۔ کئی شہروں میں عوام نے مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف احتجاج بھی شروع کر دیے ہیں۔ -

ایران کا انتباہ، لڑائی دوبارہ ہوئی تو دشمن کو تباہ کن جواب ملے گا
ایران کی پاسداران انقلاب گارڈز نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی دوبارہ جنگ کی صورت اختیار کرتی ہے تو دشمن کو بھرپور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو دشمن کے باقی ماندہ عسکری اور اسٹریٹیجک اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور اسے شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر فعال ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگ بندی کو “نام نہاد” قرار دیتے ہوئے اس دوران دشمن کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی غیر معمولی حرکت یا خلاف ورزی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں حالیہ واقعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں فریقین بیک وقت سفارتی راستے بھی کھلے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔