آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک بڑے کثیرالقومی فوجی مشن کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 30 سے زائد ممالک کے فوجی ماہرین اور منصوبہ ساز آج بدھ 22 اپریل کو دو روزہ اہم کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنا ہے تاکہ جنگ بندی کے بعد فوری طور پر اس پر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔
یہ اہم اجلاس شمالی لندن کے علاقے نارتھ ووڈ میں واقع برطانیہ کے مستقل مشترکہ ہیڈکوارٹر میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں مختلف ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مشن کا بنیادی مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا، شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال کرنا اور سمندر میں موجود بارودی سرنگوں کی صفائی کو یقینی بنانا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اس عالمی مشن کی قیادت کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے سفارتی اتفاق کو عملی فوجی منصوبے میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے 51 ممالک کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھولنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک دفاعی نوعیت کے کثیرالقومی مشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی کے مطابق یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کا مقصد آئندہ کے لیے ایک واضح اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور معیشت کا استحکام جہاز رانی کی آزادی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس منصوبے کی کامیابی پوری دنیا کے لیے اہم ہوگی۔
Blog
-

آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے عالمی فوجی مشن کی تیاریاں تیز
-

جنگ بندی کے باوجود عالمی تیل قیمتیں برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی، جس نے عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کی قیمت 91.99 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ کروڈ آئل 101.1 ڈالر فی بیرل کی سطح پر برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، جس کے باعث مارکیٹ میں خدشات برقرار ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج کے اہم سمندری راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، میں جاری غیر یقینی صورتحال بھی تیل کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔ دنیا بھر کی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے خدشے نے قیمتوں کو نیچے آنے سے روکے رکھا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور کسی بھی بڑی جغرافیائی یا سیاسی تبدیلی کے انتظار میں ہیں۔ اسی وجہ سے قیمتوں میں فوری کمی ممکن نہیں ہو رہی۔
دوسری جانب عالمی طلب اور سپلائی کے عوامل بھی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ بعض ممالک کی جانب سے پیداوار میں کمی یا اضافہ بھی مارکیٹ کو غیر مستحکم رکھتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں مکمل استحکام آتا ہے تو آئندہ دنوں میں قیمتوں میں کمی کا امکان ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ -

پاکستان کی مثبت کوششوں اور خطے میں امن کیلئے ثالثی کردار کو سراہتے ہیں: اسماعیل بقائی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی صورتحال کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ترجمان سے جب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اور اس کی ثالثی کی کوششیں قابل قدر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی کشیدگی کا آغاز کرنے والا فریق نہیں ہے، بلکہ موجودہ صورتحال اس پر مسلط کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کے فطری حقِ دفاع کے دائرے میں آتے ہیں۔
بقائی کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ اگر سفارتی راستہ اختیار کیا جائے تو خطے میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ ایک جانب وہ اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی کوششوں کے دروازے بھی مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے۔ -

ٹرمپ نےجنگ بندی غیرمعینہ مدت کیلئے نہیں 3 سے 5 دن کیلئے کی ہے: وائٹ ہاؤس
امریکی میڈیا نے وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کی گئی جنگ بندی غیر معینہ مدت کے لیے نہیں بلکہ صرف 3 سے 5 دن کے محدود عرصے کے لیے ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ایران کو ایک محدود وقت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی تجاویز پیش کرے اور مذاکراتی عمل کو تیز کیا جا سکے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مختصر ڈیڈ لائن کا دباؤ ایران کو جلد مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس طویل جنگ بندی کے حق میں نہیں ہے اور نہیں چاہتا کہ ایران کو مزید وقت دیا جائے۔ حکام کا خیال ہے کہ اگر جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا گیا تو ایران مذاکرات میں تاخیر کر سکتا ہے، جس سے سفارتی عمل متاثر ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکمت عملی کے تحت ایک طرف محدود جنگ بندی رکھی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب دباؤ برقرار رکھنے کے لیے دیگر اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ایران پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ طویل عرصے تک کشیدگی یا ناکہ بندی عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے وہ جلد از جلد کسی معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رکھی جائے گی جب تک مذاکراتی عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ -

چین کا نیا تجربہ، فضا میں ڈرون چارج کرنے کی ٹیکنالوجی
چینی سائنس دانوں نے ایک منفرد اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے ڈرونز کو فضا میں ہی چارج کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مائیکروویوز پر مبنی ایک خاص پاور ٹرانسمیشن پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے جو مستقبل میں بغیر پائلٹ طیاروں کی مسلسل پرواز کو ممکن بنا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چین کی شی ڈیان یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا نظام ڈیزائن کیا ہے جسے زمینی گاڑی پر نصب کیا جا سکتا ہے۔ یہ گاڑی نہ صرف ڈرونز کو لانچ کرے گی بلکہ انہیں فضا میں رہتے ہوئے توانائی فراہم کر کے ان کی پرواز کا دورانیہ بھی بڑھا سکے گی۔
سائنس دانوں کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اس نظام کی مدد سے ایک ڈرون کو تقریباً 15 میٹر کی بلندی پر تین گھنٹے سے زائد وقت تک فضا میں برقرار رکھا جا سکا۔ اس دوران گاڑی پر نصب مائیکروویو ایمیٹر نے توانائی کو ڈرون کے نچلے حصے میں موجود اینٹینا سسٹم تک منتقل کیا، اور یہ عمل اس وقت بھی جاری رہا جب دونوں حرکت میں تھے۔
تاہم ماہرین نے اس ٹیکنالوجی میں موجود چیلنجز کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق مائیکروویو ایمیٹر اور ڈرون کے درمیان درست سمت برقرار رکھنا ایک مشکل مرحلہ ہے، جس کے لیے جی پی ایس اور ڈرون کے فلائٹ کنٹرول سسٹمز کے درمیان انتہائی درست ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ ابتدائی نتائج کے مطابق بھیجی جانے والی توانائی کا صرف 3 سے 5 فیصد حصہ ہی ڈرون تک پہنچ سکا، جبکہ باقی توانائی ضائع ہو گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام ابھی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ -

غیر قانونی نقل مکانی میں ہزاروں جانیں ضائع، سمندری راستے سب سے خطرناک
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے نقل مکانی کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران غیر قانونی نقل مکانی کرتے ہوئے تقریباً 7904 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوگئے۔ یہ اعداد و شمار ایک سنگین انسانی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلنے والے ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں یورپ جانے والے سمندری راستوں پر ہوئیں، جہاں ہر 10 میں سے 4 اموات یا گمشدگیاں رپورٹ ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ راستے غیر محفوظ کشتیوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور خراب موسمی حالات کے باعث انتہائی خطرناک بن چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق ان ہلاکتوں کی بڑی وجہ کشتیاں ڈوبنے یا پراسرار طور پر غائب ہو جانے کے واقعات ہیں۔ کئی کیسز ایسے بھی سامنے آئے جہاں مکمل کشتیاں سمندر میں لاپتہ ہو گئیں اور ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اگرچہ 2024 کے مقابلے میں 2025 میں ہلاکتوں کی تعداد کچھ کم رہی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی مکمل طور پر حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ تقریباً 1500 ایسے کیسز ہیں جن کی تصدیق وسائل کی کمی اور امدادی سرگرمیوں میں کٹوتی کے باعث نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق 2014 سے اب تک غیر قانونی نقل مکانی کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہونے والوں کی مجموعی تعداد 82 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کے خاندان براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
عہدیدار ماریہ مویتا کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی سطح پر ناکامی کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ ان سانحات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا سکے۔ دوسری جانب ایمی پوپ نے زور دیا کہ محفوظ اور قانونی راستوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یورپ جانے والوں میں بنگلادیشی افراد کی تعداد زیادہ رہی، جبکہ شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی۔ مغربی افریقہ سے شمال کی جانب جانے والے راستے میں بھی سینکڑوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ ایشیا میں بھی ریکارڈ اموات سامنے آئیں۔
ماہرین کے مطابق جب تک عالمی سطح پر مربوط پالیسی اور محفوظ نقل مکانی کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، ایسے المناک واقعات کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ -

کانٹیکٹ لینس کے ساتھ نہانے سے لڑکی بینائی سے محروم
جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ گریس جیمیسن کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ آنکھوں کی صحت سے متعلق ایک سنگین انتباہ بن گیا ہے، جہاں ایک معمولی سی لاپرواہی نے ان کی بینائی کو شدید نقصان پہنچا دیا۔
گریس جیمیسن نے سوشل میڈیا پر اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چھٹیوں کے دوران ایک سفر پر تھیں، جہاں انہوں نے کانٹیکٹ لینسز پہن کر نہانے کا معمولی سا عمل کیا۔ بظاہر یہ ایک عام بات لگتی ہے، لیکن یہی عمل ان کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔
ماہرین کے مطابق کانٹیکٹ لینس کے ساتھ پانی میں جانا یا نہانا آنکھوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ پانی میں موجود خردبینی جراثیم لینس کے ساتھ چپک کر آنکھ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ گریس کے ساتھ بھی یہی ہوا، جہاں وہ ایک خطرناک آنکھوں کے انفیکشن کا شکار ہو گئیں، جسے ایکینتھامیبا انفیکشن کہا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس انفیکشن کی وجہ ایک آزاد زندہ امیبا ہوتا ہے جو آلودہ پانی میں پایا جاتا ہے۔ جب یہ جراثیم کانٹیکٹ لینس کے ذریعے آنکھ میں داخل ہوتا ہے تو شدید انفیکشن پیدا کر سکتا ہے۔ چند ہی دنوں میں گریس کی آنکھوں میں علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں، جس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔
بدقسمتی سے ابتدائی مرحلے پر بیماری کی درست تشخیص نہ ہو سکی اور انہیں اسٹیرائیڈ قطرے دیے گئے، جس سے انفیکشن مزید بگڑ گیا۔ صرف ایک ہفتے کے اندر گریس اپنی بینائی مکمل طور پر کھو بیٹھیں اور تقریباً دو ماہ تک نابینا رہیں۔
اگرچہ بعد میں علاج شروع کیا گیا، تاہم گریس اب بھی اپنی دائیں آنکھ کی بینائی سے محروم ہیں اور مستقبل میں مکمل صحت یابی کے لیے سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
گریس نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانٹیکٹ لینسز پہن کر کبھی بھی پانی میں نہ جائیں، چاہے وہ نہانا ہو یا تیراکی، کیونکہ یہ معمولی سی غلطی زندگی بھر کا نقصان بن سکتی ہے۔ -

بھارتی ٹی وی نیٹ ورک ہیک، طالبان اور بھارت تعلقات پر پیغام نشر
بھارت کے معروف میڈیا نیٹ ورک “ون انڈیا” کو مبینہ طور پر ہیک کیے جانے کے بعد اسکرین پر غیر متوقع سیاسی پیغامات نشر ہونے لگے، جس نے سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نیٹ ورک کے لاکھوں فالوورز ہیں اور ہیکنگ کے واقعے نے اسے عارضی طور پر ایک سیاسی بیان بازی کے پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ہیکنگ کی ذمہ داری ایک گروہ نے قبول کی جو خود کو “ٹرُو مسلم افغانز” کہتا ہے۔ اس گروہ نے نشریات کے دوران افغانستان کا پرانا جھنڈا دکھایا اور طالبان کے بھارت کے ساتھ تعلقات کو مسترد کرتے ہوئے سخت پیغام جاری کیا۔ اس اقدام کو محض سائبر حملہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید دور میں تنازعات صرف میدان جنگ یا سڑکوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی ایک اہم محاذ بن چکے ہیں۔ اس واقعے میں ایک ٹی وی نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایک مخصوص مؤقف کو اجاگر کیا گیا، جو اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی ہیکنگ کارروائیاں نہ صرف میڈیا اداروں کی سیکیورٹی پر سوال اٹھاتی ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ سائبر اسپیس اب جیو پولیٹیکل پیغامات پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک ہی واقعے میں نیٹ ورک کی ساکھ متاثر ہوئی، طالبان کے حوالے سے مؤقف پیش کیا گیا اور بھارت کو بھی اس بحث کا حصہ بنا دیا گیا۔ -

یورینیم کیا ہے اور ایران کے تنازع کی اصل وجہ کیوں بنا؟
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک بار پھر یورینیم کا مسئلہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جہاں امریکا ایران سے سینکڑوں کلوگرام افزودہ یورینیم کم کرنے یا نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے عالمی سیاست، سفارت کاری اور سلامتی کے معاملات کو ایک پیچیدہ شکل دے دی ہے۔
یورینیم ایک قدرتی طور پر پائی جانے والی تابکار دھات ہے جو زمین کی تشکیل کے وقت سے موجود ہے۔ بظاہر یہ ایک عام سرمئی چٹان جیسی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کی اندرونی ساخت اسے انتہائی طاقتور اور حساس بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے توانائی کے حصول سے لے کر ایٹمی ہتھیاروں تک مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
قدرتی یورینیم دو بڑی اقسام پر مشتمل ہوتا ہے۔ یورینیم 238 جو تقریباً 99 فیصد ہوتا ہے اور براہ راست ایٹمی توانائی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتا، جبکہ یورینیم 235 نہایت کم مقدار یعنی تقریباً 0.7 فیصد میں پایا جاتا ہے اور یہی اصل اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایٹمی ری ایکٹر اور ہتھیار دونوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
یورینیم کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک عمل کیا جاتا ہے جسے افزودگی کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں سینٹری فیوج نامی مشینیں استعمال ہوتی ہیں جو تیزی سے گھوم کر بھاری اور ہلکے ایٹمز کو الگ کرتی ہیں۔ جتنی زیادہ افزودگی کی جائے، اتنا ہی یورینیم طاقتور بنتا جاتا ہے۔
عام طور پر 3 سے 5 فیصد افزودہ یورینیم بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ 20 فیصد تک اسے بحری مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم 60 فیصد یا اس سے زیادہ افزودگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتی ہے، کیونکہ یہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ 90 فیصد سے زائد افزودگی کو براہ راست ایٹم بم کے لیے موزوں تصور کیا جاتا ہے۔
ایران اس وقت تقریباً 60 فیصد افزودگی تک پہنچ چکا ہے، جو عالمی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ مغربی ممالک کے نزدیک اس سطح کی افزودگی کا کوئی واضح سویلین مقصد نہیں۔ -

پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز میں خطرناک اضافہ
پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 2,108 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی مثبت ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار وفاقی اور صوبائی ایچ آئی وی کنٹرول اداروں کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں، جو ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس خطرناک صورتحال کی کئی بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار ہے، جہاں سرنجز اور دیگر طبی آلات کو بار بار استعمال کیا جاتا ہے، جو وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی کلینکس میں انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات بھی اس بیماری کے پھیلنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خون کی منتقلی سے قبل مناسب اسکریننگ نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے، جس کے باعث متاثرہ خون کے ذریعے وائرس منتقل ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ مزید برآں، غیر رجسٹرڈ اور غیر مستند معالجین یعنی عطائی ڈاکٹروں کی موجودگی اور ان پر کمزور نگرانی نے بھی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب ایچ آئی وی صرف مخصوص خطرے کے شکار گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ بچوں سمیت عام آبادی میں بھی پھیل رہا ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرنجز کے ایک بار استعمال کو سختی سے یقینی بنایا جائے، خون کی منتقلی سے قبل جدید معیار کے مطابق مکمل اسکریننگ لازم قرار دی جائے، اور نجی کلینکس کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ غیر معیاری علاج اور بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کی تربیت اور عوامی آگاہی مہم بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ والدین اپنے بچوں کے علاج کے دوران محفوظ طریقہ کار کا مطالبہ کریں اور کسی بھی قسم کی غفلت سے بچا جا سکے۔