Baaghi TV

یورینیم کیا ہے اور ایران کے تنازع کی اصل وجہ کیوں بنا؟

‎واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک بار پھر یورینیم کا مسئلہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جہاں امریکا ایران سے سینکڑوں کلوگرام افزودہ یورینیم کم کرنے یا نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے عالمی سیاست، سفارت کاری اور سلامتی کے معاملات کو ایک پیچیدہ شکل دے دی ہے۔
‎یورینیم ایک قدرتی طور پر پائی جانے والی تابکار دھات ہے جو زمین کی تشکیل کے وقت سے موجود ہے۔ بظاہر یہ ایک عام سرمئی چٹان جیسی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کی اندرونی ساخت اسے انتہائی طاقتور اور حساس بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے توانائی کے حصول سے لے کر ایٹمی ہتھیاروں تک مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
‎قدرتی یورینیم دو بڑی اقسام پر مشتمل ہوتا ہے۔ یورینیم 238 جو تقریباً 99 فیصد ہوتا ہے اور براہ راست ایٹمی توانائی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتا، جبکہ یورینیم 235 نہایت کم مقدار یعنی تقریباً 0.7 فیصد میں پایا جاتا ہے اور یہی اصل اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایٹمی ری ایکٹر اور ہتھیار دونوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
‎یورینیم کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک عمل کیا جاتا ہے جسے افزودگی کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں سینٹری فیوج نامی مشینیں استعمال ہوتی ہیں جو تیزی سے گھوم کر بھاری اور ہلکے ایٹمز کو الگ کرتی ہیں۔ جتنی زیادہ افزودگی کی جائے، اتنا ہی یورینیم طاقتور بنتا جاتا ہے۔
‎عام طور پر 3 سے 5 فیصد افزودہ یورینیم بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ 20 فیصد تک اسے بحری مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم 60 فیصد یا اس سے زیادہ افزودگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتی ہے، کیونکہ یہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ 90 فیصد سے زائد افزودگی کو براہ راست ایٹم بم کے لیے موزوں تصور کیا جاتا ہے۔
‎ایران اس وقت تقریباً 60 فیصد افزودگی تک پہنچ چکا ہے، جو عالمی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ مغربی ممالک کے نزدیک اس سطح کی افزودگی کا کوئی واضح سویلین مقصد نہیں۔

More posts