Baaghi TV

Blog

  • نیپا فلائی اوور متاثر، کے فور منصوبے کے دوران پل کا حصہ بیٹھ گیا

    نیپا فلائی اوور متاثر، کے فور منصوبے کے دوران پل کا حصہ بیٹھ گیا

    ‎کراچی کے مصروف علاقے یونیورسٹی روڈ پر واقع نیپا فلائی اوور کو کے فور منصوبے کے تحت جاری کھدائی کے دوران شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث پل کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا ہے اور سڑک پر خطرناک گڑھا بن گیا ہے۔ اس واقعے نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق کے فور واٹر سپلائی منصوبے کے لیے پائپ لائن بچھانے کے دوران بھاری مشینری کے استعمال اور مسلسل کھدائی کی وجہ سے فلائی اوور کی بنیادیں متاثر ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق نیپا سے حسن اسکوائر جانے والے ٹریک پر پل کا ایک حصہ تقریباً 6 سے 7 فٹ تک نیچے دھنس گیا، جس سے ٹریفک کے لیے شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔
    ‎انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے فوری طور پر متاثرہ حصے کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا ہے۔ تاہم اس بندش کے باعث یونیورسٹی روڈ پر شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے طلبہ، ملازمین اور عام شہریوں کو روزمرہ کے معمولات میں مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎مقامی شہریوں نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی ناقص منصوبہ بندی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریڈ لائن بی آر ٹی اور کے فور منصوبے ایک مسئلہ بن چکے ہیں، جن کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک مسائل بڑھ رہے ہیں بلکہ انفراسٹرکچر بھی متاثر ہو رہا ہے۔
    ‎شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر پل کی مرمت کا آغاز کرے اور متاثرہ مقام پر روشنی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب متعلقہ حکام کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر کے فور منصوبے کے تحت تقریباً 2.7 کلومیٹر طویل پانی کی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، تاہم فلائی اوور کی مکمل مرمت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی گئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس طرح کے واقعات مزید خطرناک صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔

  • امریکا ،ایران مذاکرات کا نیا دور،اسلام آباد میں کوئی تیاری نہیں،پیغامات کا تبادلہ جاری

    امریکا ،ایران مذاکرات کا نیا دور،اسلام آباد میں کوئی تیاری نہیں،پیغامات کا تبادلہ جاری

    اسلام آباد: پاکستانی حکام نے منگل کے روز کہا ہے کہ اس ہفتے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے لیے ابھی تک کوئی باضابطہ تیاری شروع نہیں کی گئی، تاہم ایرانی سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے دور کے مذاکرات کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز براہِ راست مذاکرات ہوئے تھے، جو جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد منعقد کیے گئے۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے تھے۔ یہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ابھی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم دونوں ممالک کے وفود نے جمعہ سے اتوار تک کے دن ممکنہ ملاقات کے لیے خالی رکھے ہیں، جبکہ پاکستان دونوں فریقین سے آئندہ مذاکرات کے وقت کے تعین پر رابطے میں ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات نے اس ہفتے نئے مذاکرات کے امکان سے متعلق سوالات کا باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا "مذاکرات کے آئندہ ادوار کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال کچھ بھی باضابطہ نہیں۔”ایک اور ایرانی ذریعے کے مطابق گزشتہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ایرانی سفارت خانے کے پریس سیکشن نے بھی تحریری سوالات کے جواب میں کہا کہ انہیں اس وقت تک کسی نئے مذاکرات کے بارے میں کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب پاکستانی حکام نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اس وقت ایسی کوئی غیر معمولی سیکیورٹی یا انتظامی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہیں جو کسی بڑے سفارتی اجلاس کی نشاندہی کریں۔ایک پاکستانی اہلکار، جو گزشتہ مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات سے واقف تھے، نے کہا "کیا آپ کو کہیں تیاری نظر آ رہی ہے؟ اس وقت سب کچھ صرف سوشل میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔”دفتر خارجہ کے ایک دوسرے اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ کسی نئے مذاکرات کے مقام یا تاریخ کی ابھی تک توثیق نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اگر تاریخ اور مقام طے پا جاتے تو انتظامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے دوران اسلام آباد میں مقامی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا، شہر کو عملاً لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا، اہم علاقوں میں نقل و حرکت محدود تھی اور فوج، رینجرز اور پولیس کی بڑی نفری تعینات کی گئی تھی۔میڈیا نمائندگان کے لیے خصوصی میڈیا سینٹر بھی قائم کیا گیا تھا، جہاں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو حکومتی سیکیورٹی میں مقامِ مذاکرات تک لے جایا گیا، جبکہ اہم شاہراہیں بند رکھی گئی تھیں۔حکام کے مطابق اگر اس جمعے تک نئے مذاکرات متوقع ہوتے تو اس نوعیت کے اقدامات پہلے سے نظر آنا شروع ہو جاتے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر نیا دور طے پاتا بھی ہے تو یا تو اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے یا پھر اچانک مختصر نوٹس پر انعقاد ممکن ہے۔

    اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات 20 گھنٹے سے زائد جاری رہے، مگر کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔اہم اختلافی نکات میں ایران کا جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول شامل تھا، جو عالمی تیل تجارت کا نہایت اہم راستہ ہے۔ ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے پر مؤثر پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ امریکا اسے دوبارہ کھلوانے کے لیے پُرعزم ہے۔امریکا نے ایران کی یورینیم افزودگی محدود یا مکمل طور پر روکنے کی تجاویز پیش کیں، جبکہ ایران نے اپنے جوہری حقوق تسلیم کرنے، پابندیاں ختم کرنے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ گزشتہ منگل کو اعلان کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے دائرہ کار پر بھی اختلاف سامنے آیا۔ ایران چاہتا تھا کہ جنگ بندی میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی شامل ہوں، مگر امریکا نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا، جس سے وسیع تر امن معاہدے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئیں

  • بجلی کی لوڈشیڈنگ،نظام زندگی مفلوج،حکمران ہوش کے ناخن لیں، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    بجلی کی لوڈشیڈنگ،نظام زندگی مفلوج،حکمران ہوش کے ناخن لیں، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جس نے شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے،حکمرانوں کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں،لوڈشیڈنگ نےنظام زندگی مفلوج کر دیا،حکومت ہوش کے ناخن لے اور عوام کو اس عذاب سے نجات دلائے

    ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ابھی گرمی کا آغاز ہی ہوا ہے لیکن لوڈشیڈنگ کا دورانیہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، لاہور سمیت بڑے شہروں میں بغیر کسی شیڈول کے آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے، اگر یہی حالات برقرار رہے تو شدید گرمی میں عوام کو بجلی کے بغیر زندگی گزارنا پڑے گی،درحقیقت حکمرانوں کی ترجیحات عوامی مسائل نہیں بلکہ کچھ اور ہیں، اگر وہ عوام کے خیر خواہ ہوتے تو اس قدر لوڈشیڈنگ نہ ہوتی، ایک طرف سمارٹ لاک ڈاؤن کے باعث غریب طبقہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، جبکہ دوسری طرف بجلی کی طویل بندش سے کاروبار اور روزمرہ زندگی مزید متاثر ہو رہی ہے، حکومت فوری طور پر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے اور بجلی کے بلوں میں شامل اضافی ٹیکسز بھی ختم کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف ملے،

  • وزیرِ خزانہ کی سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سے ملاقات

    وزیرِ خزانہ کی سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سے ملاقات

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اسپرنگ اجلاسوں کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں سعودی فنڈ برائے ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جاری تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیافریقین نے ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری اور مالی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

    سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی روانگی سے قبل سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ ملاقات نہایت مفید رہی، جو دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

    ملاقات کے دوران فریقین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے عالمی توانائی کے تحفظ پر اثرات اور ممکنہ معاشی مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیرِ خزانہ نے تنازع کے جلد حل کے لیے امید کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے موسم بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہو گئے تھے، وہ 13 سے 18 اپریل تک واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے ان اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

  • اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

    اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

    اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فوجی سازوسامان کے تبادلے اور ٹیکنالوجی تحقیق شامل تھی۔

    اطالوی خبر رساں ادارے اے این اے ایس اے کے مطابق وزیراعظم جورجیا میلونی نے شہر ویرونا میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے اور کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیاانہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہایت اہم ہے، جو نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد کی فراہمی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے-

    توانائی پالیسی کے حوالے سے روسی گیس پر عائد پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنا ایک مؤثر ہتھیار ہے گزشتہ برسوں میں روس پر ڈالا گیا اقتصادی دباؤ امن کے قیام کے لیے ہمارا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، اور امید ظاہر کی کہ 2027 کے اوائل تک اس حوالے سے پیش رفت ہوگی۔

    وزیراعظم میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پوپ سے متعلق حالیہ بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ناقابل قبول قرار دیاانہوں نے پوپ لیو سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے معاشرے میں خود کو مطمئن محسوس نہیں کریں گی جہاں مذہبی رہنما سیاسی ہدایات کے تابع ہوں۔

    امریکا کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایک اسٹریٹجک اتحادی ہے، تاہم اتحادی ہونے کے باوجود اختلاف رائے کا اظہار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے جب آپ دوست اور اتحادی ہوں، خصوصاً اسٹریٹجک سطح پر، تو آپ میں یہ حوصلہ بھی ہونا چاہیے کہ جہاں اختلاف ہو وہاں اسے بیا ن کیا جا سکے۔

  • شرجیل میمن کا سکھر سے شکارپور پیپلز بس سروس آئندہ ہفتے شروع کرنے کا اعلان

    شرجیل میمن کا سکھر سے شکارپور پیپلز بس سروس آئندہ ہفتے شروع کرنے کا اعلان

    کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر میں عوامی سفری سہولتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے بڑے فیصلے کرتے ہوئے سکھر سے شکارپور تک پیپلز بس سروس آئندہ ہفتے سے شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی نئے روٹس، خواتین کے لیے خصوصی اسکیموں اور جدید بسوں کی خریداری کے منصوبوں پر پیش رفت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ اعلان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبے میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شہریوں کو آرام دہ، محفوظ اور سستی سفری سہولتیں فراہم کرنے سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سکھر سے شکارپور روٹ پر پیپلز بس سروس باقاعدہ طور پر آئندہ ہفتے شروع کردی جائے گی۔ اس منصوبے سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ روزگار، تعلیم اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ترجمان محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق خواتین کے لیے خصوصی سہولتوں کے تحت سکھر اور حیدرآباد میں پنک اسکوٹیز دینے کی تقریبات بھی جلد منعقد کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور انہیں آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے الیکٹرک وہیکلز (EV)، ہائبرڈ اور ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس منصوبے سے نہ صرف ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ ملے گا بلکہ شہریوں کو جدید اور آرام دہ سفری سہولتیں بھی میسر آئیں گی۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھتے سفری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے روٹس متعارف کرانے پر بھی غور کیا گیا۔

    شرجیل میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کے لیے بھی خصوصی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ حیدر چوک تا کوہسار اور حیدرآباد تا ٹنڈو الہیار روٹس پر بھی جلد پیپلز بس سروس شروع کی جائے گی۔
    انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال مزید بسیں ٹرانسپورٹ سسٹم کا حصہ بنیں گی، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مرحلہ وار بس سروس کا آغاز کیا جائے گا۔سینئر وزیر نے مزید بتایا کہ اس ماہ کے آخر تک ای وی ٹیکسی منصوبے سے متعلق تمام رسمی کارروائیاں مکمل کرلی جائیں گی، جس کے بعد صوبے میں جدید اور ماحول دوست ٹیکسی سروس متعارف کرائی جائے گی۔

  • چینی نائب وزیر خارجہ اچانک عہدے سے برطرف

    چینی نائب وزیر خارجہ اچانک عہدے سے برطرف

    چین میں سینئر سفارتکار سن ویڈونگ کو اچانک نائب وزیر خارجہ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے-

    چین کی وزارت انسانی وسائل نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک مختصر بیان میں برطرفی کی تصدیق کی، تاہم اس فیصلے کی وجوہات یا وقت کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں بیان کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی اعلیٰ ترین حکومتی اتھارٹی کی جانب سے کیا گیا۔

    چینی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق سن ویڈونگ کی آخری عوامی سرگرمی 13 مارچ کو سامنے آئی، جب انہوں نے برونائی اور ملائیشیا کے سفیروں سے ملاقات کی اس سے دو روز قبل انہوں نے چین میں تعینات پاکستان کے سفیر سے بھی دوطرفہ تعاون کے امور پر بات چیت کی تھی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں اعلیٰ سطحی عہدیداروں کی اچانک برطرفیاں اکثر اندرونی احتسابی عمل یا پالیسی تبدیلیوں کا حصہ ہوتی ہیں، تاہم حکام کی جا نب سے خاموشی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے

  • غیر قانونی سگریٹس  کاروبار کے خاتمہ کیلئے  موثر اقدامات کررہے،  بلال اظہر کیانی

    غیر قانونی سگریٹس کاروبار کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کررہے، بلال اظہر کیانی

    وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ حکومت غیر قانونی سگریٹس کے کاروبار کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کررہی ہے اورا س ضمن میں نفاذِ قانون کو مزید مضبوط بنایا جارہاہے ۔

    انہوں نے یہ بات اکسفورڈاکنامکس کے زیراہتمام غیرقانی سگریٹ سے متعلق کاروبار متعلق جائزہ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی غیر قانونی سگریٹ کے بڑے مسئلے کاسامنا ہے اور اندازوں کے مطابق سگریٹ کی پیداوار اور استعمال کا 25 فیصد سے زیادہ حصہ یعنی تقریباً 20 ارب سگریٹ ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگی سے بچ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کو سالانہ تقریباً 137 سے 200 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہورہاہے۔ زیرمملکت نے کہاکہ یہ مسئلہ بڑی حد تک اندرونی نوعیت کا ہےجس کی بنیادی وجوہات غیر قانونی پیداوار اور وسیع پیمانے پر ٹیکس چوری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تیار شدہ سگریٹ یا خام مال کی سمگلنگ بھی اہم کردار ادا کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سال 2025 میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کارروائیوں میں تیزی لائی گئی اس میں ایک جامع ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا نفاذ شامل تھا، ان کارروائیوں کے دوران ملک بھر میں غیر قانونی فیکٹریوں، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیاجس کے نتیجے میں غیر قانونی پیداوار کے پورے نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ تمام کوششوں کے باوجود یہ مسئلہ مسلسل بدلتی ہوئی نوعیت کا حامل ہے۔ جرائم پیشہ نیٹ ورکس تیزی سے خود کو ڈھال رہے ہیں اور حکومتی اقدامات سے بچنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں جن میں پیداوار کی جگہوں کو منتقل کرنا،سمگلنگ کے نئے راستے قائم کرنا، اورخام مال پر ڈیوٹی سے بچنے کے لیے سپلائی چین کے ابتدائی مراحل میں مداخلت کرنا شامل ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ وزیرِ اعظم نے اس مسئلے کا براہِ راست نوٹس لیا ہے اور وہ ان بدلتی ہوئی حکمت عملیوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

    انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سخت کارروائیوں کے باعث غیر قانونی مینوفیکچررز نے اپنی سرگرمیاں چھوٹے اور خفیہ مقامات، جیسے رہائشی گھروں اور زرعی زمینوں، میں منتقل کر دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بدلتی ہوئی صورتحال حکومت کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر رہی ہے تاہم مشکلات کے باوجود حکومت سگریٹ کے غیرقانونی صنعت اورکاروبار کے خاتمہ کیلئے قوانین کومزید مضبوط بنانے سرکاری محصولات کے تحفظ میں پرعزم ہے ، اس کے ساتھ ساتھ حکومت جائز کاروباروں کی حمایت اور قانون کی بالادستی کو برقرار کھیں گی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں سرمایہ کاری وقت کی ضرورت ہے اورجائز وقانونی کاروبارکے فروغ سے سرمایہ کاری میں اضافہ کی کوششوں کوتقویت ملےگی۔

  • کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا، رواں سال تعداد 3 ہوگئی

    کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا، رواں سال تعداد 3 ہوگئی

    کراچی میں منکی پاکس کے ایک اور کیس کی تصدیق ہوگئی ہے، جس کے بعد شہر میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد 3 تک پہنچ گئی ہے۔ تازہ کیس ملیر کے علاقے سے سامنے آیا ہے جہاں 40 سالہ شخص میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔

    حکام کے مطابق متاثرہ شخص کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت نے کیس سامنے آنے کے بعد مریض کے قریبی رابطوں کی نشاندہی اور اسکریننگ کا عمل بھی شروع کردیا ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔سربراہ سندھ انفیکشیئس ڈیزیز ڈاکٹر عبدالواحد راجپوت نے بتایا ہے کہ ایک اور مشتبہ مریض کو بھی آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ شخص میں بھی منکی پاکس جیسی علامات پائی گئی ہیں اور اس کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر کسی شخص میں بخار، جسم پر دانے، سوجن یا دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اسپتال سے رجوع کیا جائے۔ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر اختیار کرکے بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکتا ہے۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس ایک وائرل مرض ہے جو متاثرہ شخص کے قریبی جسمانی رابطے، آلودہ اشیا یا متاثرہ مواد کے ذریعے منتقل ہوسکتا ہے۔ عوام کو صفائی، احتیاط اور مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینے کی تاکید کی گئی ہے

  • دنیا میں امن اسی وقت ممکن ہے جب انسان ایک دوسرے کو سمجھنے اور قبول کرنے کا رویہ اختیار کریں،پوپ لیو

    دنیا میں امن اسی وقت ممکن ہے جب انسان ایک دوسرے کو سمجھنے اور قبول کرنے کا رویہ اختیار کریں،پوپ لیو

    کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے الجزائر کے دورے کے دوران ایک جامع مسجد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مسجد میں داخل ہونے سے قبل احتراماً اپنے جوتے اتارے۔

    پوپ لیو کے اس اقدام کو بین المذاہب احترام اور ہم آہنگی کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے، دورے کے دوران انہوں نے مختلف مذاہب کے درمیا ن باہمی احترام، رواداری اور امن کے فروغ پر زور دیا کہا کہ خدا کی قربت حاصل کرنے کا مطلب صرف عبادت تک محدود نہیں بلکہ ہر انسان کا احترام کرنا اور بقائے باہمی کو اپنانا بھی ضروری ہے، دنیا میں امن اسی وقت ممکن ہے جب انسان ایک دوسرے کو سمجھنے اور قبول کرنے کا رویہ اختیار کریں،پوپ لیو نے اس موقع پر تمام اقوام کے لیے دعا بھی کی اور امید ظاہر کی کہ دنیا میں امن، انصاف اور ایک دوسرے کو معاف کرنے کا جذبہ فروغ پائے گا-

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی سطح پر امن کے پیغام کو تقویت دینے کی ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    قبل ازیں پوپ لیو نے دنیا بھر میں مقدس مذہبی مقامات پر بڑھتے ہوئے تشدد اور بے حرمتی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا، پوپ لیو نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ عبادت گاہوں اور مقدس مقامات پر ہونے والا غیر انسانی اور بے مقصد تشدد انتہائی افسوسناک اور خطرناک رجحان ہے مختلف خطو ں میں مذہبی اور سیاسی کشیدگی کے باعث مساجد، گرجا گھر اور دیگر عبادت گاہیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہیں، جو عالمی امن کے لیے باعث تشویش ہے مقدس مقامات کا احترام تمام مذاہب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ان پر حملے انسانیت کے لیے نقصان دہ ہیں-