اسلام آباد: پاکستانی حکام نے منگل کے روز کہا ہے کہ اس ہفتے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے لیے ابھی تک کوئی باضابطہ تیاری شروع نہیں کی گئی، تاہم ایرانی سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے دور کے مذاکرات کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز براہِ راست مذاکرات ہوئے تھے، جو جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد منعقد کیے گئے۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے تھے۔ یہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ابھی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم دونوں ممالک کے وفود نے جمعہ سے اتوار تک کے دن ممکنہ ملاقات کے لیے خالی رکھے ہیں، جبکہ پاکستان دونوں فریقین سے آئندہ مذاکرات کے وقت کے تعین پر رابطے میں ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات نے اس ہفتے نئے مذاکرات کے امکان سے متعلق سوالات کا باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا "مذاکرات کے آئندہ ادوار کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال کچھ بھی باضابطہ نہیں۔”ایک اور ایرانی ذریعے کے مطابق گزشتہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ایرانی سفارت خانے کے پریس سیکشن نے بھی تحریری سوالات کے جواب میں کہا کہ انہیں اس وقت تک کسی نئے مذاکرات کے بارے میں کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اس وقت ایسی کوئی غیر معمولی سیکیورٹی یا انتظامی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہیں جو کسی بڑے سفارتی اجلاس کی نشاندہی کریں۔ایک پاکستانی اہلکار، جو گزشتہ مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات سے واقف تھے، نے کہا "کیا آپ کو کہیں تیاری نظر آ رہی ہے؟ اس وقت سب کچھ صرف سوشل میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔”دفتر خارجہ کے ایک دوسرے اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ کسی نئے مذاکرات کے مقام یا تاریخ کی ابھی تک توثیق نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اگر تاریخ اور مقام طے پا جاتے تو انتظامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے دوران اسلام آباد میں مقامی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا، شہر کو عملاً لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا، اہم علاقوں میں نقل و حرکت محدود تھی اور فوج، رینجرز اور پولیس کی بڑی نفری تعینات کی گئی تھی۔میڈیا نمائندگان کے لیے خصوصی میڈیا سینٹر بھی قائم کیا گیا تھا، جہاں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو حکومتی سیکیورٹی میں مقامِ مذاکرات تک لے جایا گیا، جبکہ اہم شاہراہیں بند رکھی گئی تھیں۔حکام کے مطابق اگر اس جمعے تک نئے مذاکرات متوقع ہوتے تو اس نوعیت کے اقدامات پہلے سے نظر آنا شروع ہو جاتے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر نیا دور طے پاتا بھی ہے تو یا تو اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے یا پھر اچانک مختصر نوٹس پر انعقاد ممکن ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات 20 گھنٹے سے زائد جاری رہے، مگر کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔اہم اختلافی نکات میں ایران کا جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول شامل تھا، جو عالمی تیل تجارت کا نہایت اہم راستہ ہے۔ ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے پر مؤثر پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ امریکا اسے دوبارہ کھلوانے کے لیے پُرعزم ہے۔امریکا نے ایران کی یورینیم افزودگی محدود یا مکمل طور پر روکنے کی تجاویز پیش کیں، جبکہ ایران نے اپنے جوہری حقوق تسلیم کرنے، پابندیاں ختم کرنے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ گزشتہ منگل کو اعلان کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے دائرہ کار پر بھی اختلاف سامنے آیا۔ ایران چاہتا تھا کہ جنگ بندی میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی شامل ہوں، مگر امریکا نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا، جس سے وسیع تر امن معاہدے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئیں
