کراچی میں منکی پاکس کے ایک اور کیس کی تصدیق ہوگئی ہے، جس کے بعد شہر میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد 3 تک پہنچ گئی ہے۔ تازہ کیس ملیر کے علاقے سے سامنے آیا ہے جہاں 40 سالہ شخص میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔
حکام کے مطابق متاثرہ شخص کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت نے کیس سامنے آنے کے بعد مریض کے قریبی رابطوں کی نشاندہی اور اسکریننگ کا عمل بھی شروع کردیا ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔سربراہ سندھ انفیکشیئس ڈیزیز ڈاکٹر عبدالواحد راجپوت نے بتایا ہے کہ ایک اور مشتبہ مریض کو بھی آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ شخص میں بھی منکی پاکس جیسی علامات پائی گئی ہیں اور اس کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر کسی شخص میں بخار، جسم پر دانے، سوجن یا دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اسپتال سے رجوع کیا جائے۔ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر اختیار کرکے بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس ایک وائرل مرض ہے جو متاثرہ شخص کے قریبی جسمانی رابطے، آلودہ اشیا یا متاثرہ مواد کے ذریعے منتقل ہوسکتا ہے۔ عوام کو صفائی، احتیاط اور مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینے کی تاکید کی گئی ہے
