Baaghi TV

Blog

  • ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ اداروں کو سیاسی غلام بنانے کا فرسودہ کلچر ختم کیا جائے

    سرکاری افسران ریاست کے ملازم، کسی ڈیرے پر حاضری کے پابند نہیں انتظامیہ کو دباؤ سے آزاد کیا جائے

    منتخب نمائندے عوامی مسائل ضرور اٹھائیں، انتظامی اختیارات میں مداخلت اور افسران کی تذلیل کا کوئی حق نہیں

    ملک کو جدید اور منصفانہ ریاست بنانے کے لیے وفاق اور صوبوں کو واضح ‘مداخلت مخالف’ پالیسی بنانا ہوگی

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم، سیاسی مداخلت اور قانون کی حکمرانی، پاکستان کو درپیش متعدد انتظامی اور سماجی مسائل کی جڑوں میں ایک اہم مسئلہ وہ فرسودہ سیاسی رویہ ہے جسے عرفِ عام میں "ڈیرہ سسٹم” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو جمہوری اقدار، ادارہ جاتی خودمختاری اور قانون کی بالادستی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں، منتخب نمائندے اور بااثر شخصیات اس طرزِ عمل پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور خود کو جدید جمہوری تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں سرکاری افسران ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، کسی فرد، خاندان یا سیاسی شخصیت کے نہیں۔ وہاں پولیس افسران، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران قانون اور آئین کے تابع ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاسی ڈیرے یا ذاتی بیٹھک پر حاضری دے کر احکامات وصول کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض علاقوں میں ابھی تک یہ روایت موجود ہے کہ سرکاری افسران کو سیاسی شخصیات کے ڈیروں پر طلب کیا جاتا ہے، جہاں ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے یا انہیں مخصوص مفادات کے مطابق کام کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ عزتِ نفس مجروح کرتا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی غیرجانبداری کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جب کسی افسر کو یہ احساس ہو کہ اس کی ترقی، تبادلہ یا پوسٹنگ میرٹ اور کارکردگی کے بجائے سیاسی وابستگی یا کسی ڈیرے پر حاضری سے مشروط ہے، تو پھر قانون کی حکمرانی کمزور اور شخصی حکمرانی مضبوط ہو جاتی ہے۔جرائم کے خاتمے، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔

    منتخب نمائندوں کا حق اور فرض ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے مسائل پر نظر رکھیں، عوامی شکایات اجاگر کریں اور ناقص کارکردگی کی نشاندہی کریں، لیکن انہیں سرکاری افسران کے انتظامی اختیارات میں مداخلت یا ان کی تذلیل کا کوئی حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔جمہوریت کی اصل روح اداروں کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے، افراد کی بالادستی میں نہیں۔ اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جدید، منظم اور قانون پسند ریاست بنانا ہے تو ڈیرہ کلچر، سفارش، سیاسی دباؤ اور شخصی اثر و رسوخ کی سیاست سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ سرکاری افسران کو صرف آئین، قانون اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی شخصیت یا بااثر خاندان کے سامنے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں واضح پالیسی مرتب کریں جس کے تحت کسی بھی سرکاری افسر کو سیاسی ڈیروں پر طلب کرنے، غیرضروری سیاسی دباؤ ڈالنے یا سرکاری امور میں ذاتی مداخلت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اداروں کو مضبوط، عوام کو بااختیار اور پاکستان کو ایک باوقار، منصفانہ اور ترقی یافتہ ریاست بنا سکتا ہے۔ قانون کی بالادستی تبھی قائم ہوگی جب ریاست کے ملازمین کو غلام نہیں بلکہ قانون کے محافظ سمجھا جائے گا۔

  • خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جہاں سرمایہ کاروں کی توجہ امریکا اور ایران کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع مذاکرات پر مرکوز ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے 1.03 فیصد یا 75 سینٹ کمی کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ زیادہ سرگرمی سے ٹریڈ ہونے والا ستمبر کا برینٹ کنٹریکٹ 0.54 فیصد یا 40 سینٹ کمی کے بعد 73.51 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا،اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 0.66 فیصد یا 47 سینٹ کم ہو کر 70.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کی امید نے مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے، اگرچہ خطے میں کشیدگی اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی،مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار دوحہ میں ممکنہ امریکا ایران مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع کر رہے ہیں جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی، اس لیے مارکیٹ میں محتاط رویہ برقرار ہے-

  • فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں،عاصم افتخار

    فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں،عاصم افتخار

    نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے واضح کیا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کی سطح اب تک کی بلند ترین سطح پرپہنچ چکی ہے-

    سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے، فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، سلامتی کونسل ارکان میں صورتحال پر تشویش اور احتساب کے مطالبات سامنے آئے ہیں مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کی سطح اب تک کی بلند ترین سطح پرپہنچ چکی ہے، اسرائیل کا نئی بستیوں کی تعمیر کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کے لیے سنگین خطر ہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کےمطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 4 ہزار 750 رہائشی یونٹس کی منظوری تشویشناک رجحان ہے، یہ ای ون منصوبہ دو ریاستی حل کے لیے بڑا چیلنج ہے فلسطینی اتھارٹی کی مالی رقوم کی بندش فلسطینی اداروں کو کمزور،حکمرانی کو مفلوج کرنےکی کوشش ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال اسرائیل نے فلسطینی ریاست کو بننے سے روکنے کے لیے نئے منصوبے کی منظوری دی تھی اس منصوبے کے تحت مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان 3401 گھر اسرائیلی آباد کاروں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے۔

  • یورپ کے بعد امریکا  میں بھی خطرناک ہیٹ ویو وارننگ جاری

    یورپ کے بعد امریکا میں بھی خطرناک ہیٹ ویو وارننگ جاری

    واشنگٹن: یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کے بعد امریکا میں بھی شدید ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر سخت وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

    امریکی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی وسطی اور مشرقی ریاستوں میں رواں ہفتے درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں گرمی کی شدت معمول سے کہیں زیادہ رہنے کا امکان ہے،گرمی کی موجودہ لہر کئی روز تک برقرار رہے گی اور آئندہ جمعہ کو، جب امریکا میں یومِ آزادی کی طویل تعطیلات شروع ہوں گی، اس وقت ہیٹ ویو اپنے عروج پر ہوگی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ منگل سے ہفتہ تک درجنوں شہروں میں روزانہ کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہونے یا پرانے ریکارڈ برابر ہونے کا امکان ہے جبکہ مغربی امریکا کے وسیع علاقوں میں شدید گرمی کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق شدید گرمی امریکا میں سب سے جان لیوا موسمی خطرات میں شمار ہوتی ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال گرمی کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد بگولوں، سمندری طوفانوں اور آسمانی بجلی سے ہونے والی مجموعی اموات سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

    دوسری جانب یورپ بھی بدستور شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں مختلف ممالک میں ہیٹ ویو مزید ایک ہفتہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے حالیہ رپورٹوں کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران یورپ میں 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں فرانس میں تقریباً ایک ہزار جبکہ اسپین میں 300 سے زائد اموات شامل ہیں، اٹلی میں بھی کئی شہروں کے لیے شدید گرمی کا ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت متعدد ممالک میں ریلوے اور دیگر ٹرانسپورٹ سروسز متاثر ہوئی ہیں۔

    عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یورپ میں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے اور اس وقت تقریباً 15 کروڑ افراد شدید گرمی سے متاثر ہیں موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے باعث شدید گرمی کی لہریں اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں، جبکہ یورپ کا بنیادی ڈھانچہ اس درجے کی گرمی سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔

  • ملک کےمختلف حصوں کےماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    ملک کےمختلف حصوں کےماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    ملک میں پولیو کے خاتمے کی مسلسل کوششوں کے باوجود مختلف اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میںپولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے-

    نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق مئی 2026 میں ملک کے مختلف اضلاع سے حاصل کیے گئے سیوریج کے نمونوں کے تجزیے میں سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے سندھ میں کشمور، قمبر، کراچی ضلع شرقی اور کراچی ضلع غربی کے سیوریج نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت آئے ہیں۔

    این ای او سی کے مطابق بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی اور چمن کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس پایا گیا ہےاسی طرح خیبرپختونخوا کے پشاور اور بنوں کے سیوریج نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے تمام ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے منفی آئے ہیں۔

  • امریکا میں مسافر طیارہ ڈرون سے ٹکرا گیا

    امریکا میں مسافر طیارہ ڈرون سے ٹکرا گیا

    امریکا میں مسافر طیارہ ڈرون سے ٹکرا گیا-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کے وفاقی ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے کہا ہے کہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترنے والے جیٹ بلیو کے ایک مسافر طیارے سے مبینہ طور پر ڈرون ٹکرانے کی اطلاع کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں یہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب لاس ویگاس سے آنے والا ایئربس اے 321 طیارہ لینڈنگ کی تیاری کر رہا تھا پائلٹ نے تقریباً 3 ہزار فٹ کی بلندی پر اطلاع دی کہ طیارہ ممکنہ طور پر ایک ڈرون سے ٹکرایا ہے۔

    جیٹ بلیو ایئرلائن نے اپنے بیان میں کہا کہ پرواز محفوظ طریقے سے لینڈ کر گئی، تمام مسافر معمول کے مطابق طیارے سے اتر گئے، اور بعد ازاں جہاز کو تفصیلی معائنے کے لیے سرو س سے ہٹا دیا گیا،معائنے کے دوران نہ تو کسی نقصان کے آثار ملے اور نہ ہی کسی ٹکراؤ کا ثبوت سامنے آیا۔

    اس واقعے پر جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ائیرپورٹ چلانے والے پورٹ اتھارٹی آف نیویارک اینڈ نیو جرسی کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل بھی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ایک پرواز کو نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترتے وقت ایک ڈرون کا سامنا کرنا پڑا تھا میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا تھا پورٹ اتھارٹی نے مئی کے آخر میں ایک ای میل میں کہا تھا کہ ہم اپنی تمام تنصیبات پر بڑھنے والی آمدورفت کی تیاری کر رہے ہیں، کیونکہ نیویارک اور نیو جرسی کا علاقہ 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے کئی میچوں، بشمول 19 جولائی کو ہونے والے فائنل، کی میزبانی کرے گا۔

    دوسری جانب امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ اس نے اپنے وفاقی شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر رواں ماہ شروع ہونے والے فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد سے امریکا کے تمام 11 میزبان شہروں میں ممنوعہ فضائی حدود سے 500 سے زائد ڈرون قبضے میں لیے ہیں ڈرونز کو ائیرپورٹس کے قر یب نہیں اڑانا چاہیے،کیونکہ پرواز کے دوران پائلٹس کے لیے ڈرون کو دیکھنا اور اس سے بچنا بہت مشکل ہو سکتا ہے،ہر ماہ ائیرپورٹس کے قریب ڈرون دیکھے جانے کی 100 سے زیادہ اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔ ایف اے اے نے خبردار کیا ہے کہ بغیر اجازت ڈرون اڑانے والوں کو بھاری جرمانے یا قید کی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی

    
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی

    ‎مسقط: آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان کے قریب واقع اہم بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حالیہ حملوں اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے اس بحری راستے پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
    ‎خبر ایجنسی کے مطابق میرین انٹیلی جنس کمپنی کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز صرف 16 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ہفتے کے روز اس راستے سے 35 جہاز گزرے تھے۔ اس سے قبل جمعہ کو 44 تجارتی جہازوں کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چند ہی دنوں میں بحری ٹریفک میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق جہازوں پر حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی ہے، جبکہ بعض کمپنیاں متبادل بحری راستوں کے استعمال پر بھی غور کر رہی ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب قطر نے بھی احتیاطی اقدام کے طور پر بحری سفر اور سمندری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جس سے خطے میں تجارتی نقل و حمل مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں کو تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار فراہم کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحری آمدورفت میں کمی کا سلسلہ برقرار رہا تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی توانائی کی منڈیوں بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سپلائی چین پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
خیبرپختونخوا میں گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان، گلیشیئر پھٹنے کے خطرے پر الرٹ جاری

    
خیبرپختونخوا میں گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان، گلیشیئر پھٹنے کے خطرے پر الرٹ جاری

    ‎خیبرپختونخوا کے میدانی اضلاع میں رواں ہفتے گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں گلیشیئر پھٹنے کے خطرات کے پیش نظر پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
    ‎پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بالائی اضلاع میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (Glacial Lake Outburst Flood) کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے مقامی آبادی، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
    ‎ترجمان نے ہدایت کی ہے کہ تمام حساس اضلاع کی ضلعی انتظامیہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ رہے، جبکہ ریسکیو اور متعلقہ ادارے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں۔
    ‎پی ڈی ایم اے نے سیاحوں اور مسافروں کو بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بالائی علاقوں کا سفر شروع کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال سے آگاہی حاصل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
    ‎حکام نے نشیبی علاقوں اور دریا، ندی نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی تلقین کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر فوری ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

  • 
اسپین امیگریشن کے لیے جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس بنانے کا انکشاف

    
اسپین امیگریشن کے لیے جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس بنانے کا انکشاف

    ‎وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسپین امیگریشن کے لیے مبینہ طور پر جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس (PCC) تیار کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک منظم گروہ اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے اور اسپین میں مقیم پاکستانی شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کر کے جعلی دستاویزات فراہم کر رہا ہے۔
    ‎دعوے کے مطابق یہ مبینہ جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس نیشنل پولیس بیورو (NPB) کے نام پر تیار کیے جاتے ہیں۔ مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان دستاویزات پر بعد ازاں وزارت خارجہ سے اپوسٹیل (Apostille) بھی کروایا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں اسپین میں امیگریشن کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق لالہ موسیٰ کے رہائشی محمد سجاد نے اسپین امیگریشن کے لیے جاری کیے گئے ایک پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لیے نیشنل پولیس بیورو کے ایک سینئر افسر سے رابطہ کیا۔ مبینہ طور پر افسر نے بتایا کہ متعلقہ سرٹیفکیٹ جعلی ہے کیونکہ نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے اب تک جاری ہونے والے اصل سرٹیفکیٹس کا آخری سیریل نمبر 161855 ہے، جبکہ پیش کیے گئے سرٹیفکیٹ کا سیریل نمبر 162938 درج تھا۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مبینہ جعلسازی سے متعلق اعلیٰ حکومتی حکام کو تاحال آگاہی نہیں، جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور امیگریشن نظام پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

  • 
کراچی میں ٹماٹر 300 روپے کلو، قلت کے باعث قیمتوں میں اضافہ

    
کراچی میں ٹماٹر 300 روپے کلو، قلت کے باعث قیمتوں میں اضافہ

    ‎کراچی: شہر میں ٹماٹر کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایک کلو ٹماٹر 300 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں رسد کم ہونے کے باعث شہری مہنگے داموں ٹماٹر خریدنے پر مجبور ہیں۔
    ‎سابق نائب صدر کراچی چیمبر یونس سومرو کے مطابق سندھ میں ٹماٹر کی نئی فصل کی پنیری تیار ہو چکی ہے اور جولائی کے دوران اس کی کاشت کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مون سون بارشوں کے باعث 10 سے 20 فیصد پودوں کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، تاہم کاشتکار ہر سال یہ خطرہ مول لیتے ہیں تاکہ فصل کی پیداوار جاری رہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ٹماٹر کی فصل نومبر تک مختلف مراحل میں لگائی جاتی ہے جبکہ اس کی پیداوار اپریل تک جاری رہتی ہے۔ عام طور پر مئی اور جون میں قیمتیں مستحکم رہتی ہیں، لیکن جولائی کے ابتدائی دنوں میں پرانی فصل ختم ہونے اور نئی فصل مارکیٹ میں نہ آنے کے باعث عارضی قلت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
    ‎یونس سومرو کے مطابق مقامی طلب پوری کرنے کے لیے ایران سے ٹماٹر درآمد کیے جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا موسم جدید اور کنٹرول ماحول میں سال بھر ٹماٹر کی پیداوار کے لیے موزوں ہے، تاہم اس کے لیے سرمایہ کاری اور جدید زرعی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ کراچی چیمبر اور سندھ حکومت کے درمیان اس حوالے سے بات چیت جاری ہے تاکہ جدید زرعی منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سازگار ماحول فراہم کرے تو نجی شعبہ مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبوں پر کام کر سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ صرف سستے قرضوں کے بجائے شراکت داری پر مبنی جدید زرعی نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے، جہاں منافع اور نقصان دونوں میں شراکت ہو۔ ان کے مطابق خوراک کی قلت کے خدشات سے نمٹنے کا واحد مؤثر حل زرعی پیداوار میں اضافہ ہے۔