Baaghi TV

Blog

  • طالبان کی جنگ بندی کی سفارتی کوششیں ناکام، متعدد ممالک کا ثالثی سے انکار

    طالبان کی جنگ بندی کی سفارتی کوششیں ناکام، متعدد ممالک کا ثالثی سے انکار

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق اب تک ان کوششوں کو زیادہ تر ممالک کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان قیادت نے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک سے رابطے کر کے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ثالثی کی درخواست کی۔ اطلاعات کے مطابق طالبان حکام نے 15 سے زائد ممالک سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور مذاکرات شروع کرانے میں کردار ادا کریں۔تاہم ذرائع کے مطابق بیشتر ممالک نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا کہ افغانستان کو سب سے پہلے پاکستان کے تحفظات اور شرائط پر توجہ دینی چاہیے۔ بعض ممالک نے طالبان قیادت کو یہ بھی بتایا کہ کشیدگی میں کمی کا راستہ پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرنے اور سرحدی سکیورٹی سے متعلق خدشات دور کرنے سے ہی نکل سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت نے ثالثی کے لیے روس سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم اب تک ماسکو کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے حالیہ رابطہ ملائیشیا کے ساتھ کیا گیا، لیکن مجموعی طور پر جنگ بندی کی اس سفارتی کوشش کو مختلف ممالک کی جانب سے پذیرائی نہیں مل سکی۔

  • سعودی سرزمین ایران کیخلاف استعمال نہ کرنے کے اعلان پر ایران مشکور

    سعودی سرزمین ایران کیخلاف استعمال نہ کرنے کے اعلان پر ایران مشکور

    ایران نے سعودی عرب کی جانب سے اس کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے کے اعلان پر سعودی عرب سے اظہار تشکر کیا۔

    سعودی عرب میں ایران کے سفیر علیرضا عنایتی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران سعودی عرب کے اس اعلان کو سراہتا ہے کہ اس کی فضائی حدود، سمندری حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کی جانب سے بارہا یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مملکت کی فضائی، سمندری یا زمینی حدود اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی، جس پر ایران ان کا شکر گزار ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل بھی سعودی عرب نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کی تھی اور واضح کیا تھا کہ ایران پر کسی حملے کیلئے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • قصور کی معتبر صحافتی تنظیم ،ایمرا ویب ویب ٹی وی, کی تقریب حلف برداری و دعوت افطار آج ہو گی

    قصور کی معتبر صحافتی تنظیم ،ایمرا ویب ویب ٹی وی, کی تقریب حلف برداری و دعوت افطار آج ہو گی

    قصور میں معتبر صحافتی تنظیم ایمرا ویب ٹی وی جرنلسٹس کی حلف برداری تقریب آج منعقد ہوگی
    ایمرا ویب جرنلسٹس قصور کے امیدوار ممبران، ووٹرز آج March 6, 2026 بروز جمعہ سہ پہر 3 بجے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرینگے
    یہ تقریب منیر پلیس ہال، بی سائیڈ علی احمد شاہ کالونی، شہباز خان روڈ قصور میں منعقد کی جائے گی
    تقریب کے اختتام پر تمام ممبران، ووٹرز اور سپورٹرز کے اعزاز میں افطار ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے
    تقریب میں مہمانانِ خصوصی میں
    محمد افضل بابر ایڈووکیٹ، مصطفیٰ علی فارانی، سردار جمال ڈوگر، صابر علی بابر زرگر اور عبداللہ لطیف بھٹی شریک ہوں گے
    منتظمین کے مطابق تمام ممبران اور سپورٹرز کی شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ کی شرکت اس تقریب کی کامیابی اور ہمارے لیے باعثِ فخر ہوگی

  • پاکستان ایران اور دیگر ممالک کے مابین  مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، مبشر لقمان

    پاکستان ایران اور دیگر ممالک کے مابین مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں امن اور استحکام کے لیے متعدد مواقع پر مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنے سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دے،صرف اس صورت میں جب طالبان کے فنانسرز ان کی مالی امداد بند کر سکیں اور افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کر سکیں، اگر طالبان کو مالی معاونت فراہم کرنے والے عناصر کو نہ روکا گیا تو دہشت گردی کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے، افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے، دہشت گردی کی نہ کوئی جغرافیائی سرحد ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا کسی مذہب سے تعلق ہے۔ اگر اسے بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں،

  • بھارت نے جدید طیارے بچانے ہیں توپاکستانی پائلٹ تربیت دے سکتے ہیں،مبشر لقمان

    بھارت نے جدید طیارے بچانے ہیں توپاکستانی پائلٹ تربیت دے سکتے ہیں،مبشر لقمان

    بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بھارتی فضائیہ کا ایک جدید لڑاکا طیارہ Sukhoi Su‑30MKI گر کر تباہ ہونے کی خبر سامنے آئی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    حادثہ ریاست کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پیش آیا جہاں ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ پائلٹ کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کا یہ قیمتی لڑاکا طیارہ آسام کے پہاڑی علاقے میں پرواز کے دوران اچانک گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاہم پائلٹ کی تلاش تاحال جاری ہے۔

    بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے حادثے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران Su-30MKI طیاروں کے حادثات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ایک بھارتی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا “آسام کی فضاؤں میں ایک اور دل دہلا دینے والا نقصان… Su-30MKI کاربی آنگلونگ کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا ہے، پائلٹ لاپتہ ہے۔ ہمارے قیمتی سخوئی طیاروں کے مسلسل حادثات انتہائی تشویشناک ہیں۔ آخر اس کی ذمہ داری کون لے گا؟”اسی پوسٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی سوال کیا گیا کہ شمال مشرقی بھارت میں تعینات افواج کو بہتر تحفظ اور جدید سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں۔

    اس واقعے پرسینئر صحافی و اینکر ٔپرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھارتی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں زخموں پر نمک پاشی نہیں کرنا چاہتا،لیکن اگر ضرورت پڑی تو پاکستانی پائلٹس بھارتی پائلٹس کو تربیت دے سکتے ہیں ،بھارتی جنگ میں تو ہمارا مقابلہ نہیں کر سکیں گے لیکن کم از کم اپنے جدید طیارے بلا وجہ گرنے سے بچا سکیں گے۔

  • آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر جاری آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

    یہ آپریشن 26 فروری 2026 کو ٹی ٹی اے کی جانب سے شروع کی گئی کارروائیوں کے جواب میں جاری ہے اور سرحدی علاقوں میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 مارچ کی درمیانی شب بلوچستان کے سرحدی علاقوں قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، نوشکی اور چلتن سیکٹرز میں پاکستان کی فورسز نے بھرپور جوابی فائرنگ کی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دوران مختلف کیلیبر کے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سرحد پار موجود ٹی ٹی اے کے ٹھکانوں اور عسکری پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔کارروائیوں کے دوران 3 فزیکل چھاپے مارے گئے،36 فائر ریڈز کی گئیں،ان حملوں کا مقصد دشمن کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

    خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں خیبر، کرم اور ملحقہ سیکٹرز میں بھی براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔سکیورٹی فورسز نے طورخم کے قریب دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی اور سرحد کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ژوب سیکٹر میں واقع تقریباً 32 مربع کلومیٹر کے گدوَانہ انکلیو پر پاکستان فورسز کا مضبوط کنٹرول برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق قریبی دشمن چوکیوں کو خالی کر دیا گیا ہے جبکہ پسپا ہونے والے عناصر کی جانب سے سفید جھنڈے بھی لہرائے گئے۔

    آپریشن کے تازہ مرحلے میں افغانستان کے اندر 35 سے زائد دشمن ٹھکانوں کو مربوط زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ٹی ٹی اے کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ہے۔تصدیق شدہ نقصانات کے مطابق 502 افغان اہلکار ہلاک،710 سے زائد زخمی ہوئے،234 چیک پوسٹیں تباہ،38 پوسٹیں قبضہ میں لی گئی،206 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ ہوئے،56 مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل شکست کے باوجود ٹی ٹی اے کے پروپیگنڈا چینلز پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور زیادہ جانی نقصان کے جھوٹے دعوے پھیلا رہے ہیں۔ تاہم زمینی صورتحال پاکستان کے حق میں ہے اور دشمن کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرحد پر موجود دشمن کے عزائم کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔

  • پاکستان کی بہتری،تعمیروترقی کے لئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    پاکستان کی بہتری،تعمیروترقی کے لئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان کی بہتری اور اس کی تعمیر و ترقی کیلئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہوگا ،ہم لسانی اختلافات ختم کرکے خود کو پاکستانی سمجھیں، ہماری شناخت صرف پاکستانی ہے، 1947میں پاکستان بنتے ہی مسئلہ کشمیر کھڑاکردیا گیا تاکہ خطے میں امن نہ ہو اور ٹھیک ایک سال بعد صہیونی ریاست اسرائیل قائم کردی گئی ، اس وقت سے آج تک اس خطے میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان کی عبوری حکومت نےدہشتگردوں کا ساتھ دے کر خود تباہی کا راستہ اختیار کیا،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں سینئر صحافیوں کے اعزازمیں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان اور ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم نے بھی خطاب کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست اسرائیل نے خطہ عرب میں جنگ و جدل کا نظام برپا کیا ہوا، دوسری جانب ہمارا خطہ افغانستان، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش ،یہاں بھی منصوبہ بندی کے تحت امن دور کیا گیا،اگر سب کا جائزہ لیا جائے تو صیہونیت، ہندوتوا کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے، ایک طرف پاکستان دشمنوں کو کھٹکتا ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ، دفاعی طور پر بہترین پوزیشن میں ہے،پاکستان کا اپنامیزائل ، دفاعی سسٹم ہے، دوسری طرف اسلامی ممالک بھی یہ امید رکھتے ہیں پاکستان واحد ایسا ملک ہےجودفاعی اعتبار سے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا،دنیا کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے،اسی لیے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے دشمن کے پاس تقسیم، دہشتگردی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،کبھی فرقہ واریت، کبھی لسانیت، کبھی علاقائیت،اس طرح ملک کو تقسیم کر کے، بدامنی پھیلا کر دہشتگردی کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،تاہم ہماری ذمہ داری ہے ملک کو مضبوط بنانے کے لئے کام کریں، ایک قوم بن جائیں اور تمام اختلافات بھلا کر اپنے آپ کو پاکستانی سمجھیں،ہماری شناخت صرف اور صرف پاکستان ہے،اس ملک کی ترقی کے لئے بہتری کے لئے ملکر کام کرنا ہو گا، مرکزی مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ ملک کی خدمت کریں،خدمت کی سیاست ہم کر رہے ہیں

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا پر معاشرہ یقین کرتا ہے، میڈیا قوم کی آواز بنتا ہے اور میڈیا کی آواز سے بیانیہ بنتا ہے، قوم، معاشرے کی تعمیر نو میں میڈیا کا اہم کردار ہے، دنیا میں امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کے حقوق، آزادی کا خیال کریں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان پاکستان کی جنگ بھی سب کے سامنے ہے، پاکستان نے چالیس سال افغانوں کی خدمت کی،مہمان نوازی کی اور اس کا صلہ آج دہشتگردی کی صورت میں مل رہا ہے،امام بارگاہوں، مساجد میں دھماکے، پاکستانی سیکورٹی فورسز کے جوان ، افسر،عام شہری شہید ہو رہے ہیں، ایک سازش کے تحت شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مار دی جاتی ہے، پاکستان کی سیکورٹی فورسز نےافغانستان کے حملے کا بھر پور جواب دیا اور بتایا کہ مذاکرات کی بات کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم جب جواب دینے پر آتے ہیں تو بھر پور طریقے سے دیتے ہیں، ہم نے ایک قوم بن کر اپنے دفاع، اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تا کہ مشکل وقت سے ملک کو نکالا جائے، ملک خوشحال ہو اور ترقی کرے،

  • تباہ میزائل کا ملبہ ابوظہبی مرینا کے پاس گرنے کی اطلاع

    تباہ میزائل کا ملبہ ابوظہبی مرینا کے پاس گرنے کی اطلاع

    متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک ہوٹل کے نزدیک میزائل کے ملبے کے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائل کو تباہ کرنے کے بعد اس کا کچھ ملبہ یاس مرینا کے قریب ایک ہوٹل کے نزدیک زمین پر گرتا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر سیکیورٹی ٹیمیں اور ہنگامی امدادی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق دبئی میں بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر ایئر ریڈ سائرن بجنے کی آوازیں سنی گئیں،متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع اور مقامی حکام نے عوام کو پرامن رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام مسلسل فعال ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

  • 
برج خلیفہ میں آگ لگنے کی ویڈیو جعلی قرار، اے آئی سے تیار کی گئی ویڈیوانڈین پراپیگنڈہ

    
برج خلیفہ میں آگ لگنے کی ویڈیو جعلی قرار، اے آئی سے تیار کی گئی ویڈیوانڈین پراپیگنڈہ

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وہ ویڈیو جس میں دبئی کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کو آگ میں جلتا ہوا دکھایا گیا، حقیقت میں جعلی اور انڈیا کا پراپیگنڈہ قرار دی گئی ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ہے اور اس کا حقیقی واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
    رپورٹس کے مطابق ایک آن لائن ڈیٹیکشن ٹول نے اس ویڈیو کو 99.9 فیصد امکان کے ساتھ اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا ہے۔ ویڈیو کو بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے امریکا کے ایران پر حملے کے تناظر میں شیئر کیا جا رہا تھا۔
    ‎خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے دوران متحدہ عرب امارات میں دبئی کے قریب دھماکوں کی اطلاعات ضرور سامنے آئیں، تاہم برج خلیفہ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی عمارت میں آگ لگنے کی کوئی تصدیق ہوئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے پھیلائی جاتی ہیں، اس لیے عوام کو غیر مصدقہ مواد پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق کرنی چاہیے۔

  • 
ایران امریکی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خارجہ عباس عراقچی

    
ایران امریکی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خارجہ عباس عراقچی

    انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کی کسی بھی ممکنہ زمینی فوجی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکی زمینی فوج سے کوئی خوف نہیں بلکہ وہ اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ نے ایسی کارروائی کی تو اس کے نتائج امریکہ کے لیے بہت تباہ کن ہوں گے۔
    ‎عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے کسی سے بھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی شخصیات اسٹیو وٹکوف یا جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا۔