وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ قطر نے پاکستان کو مائع قدرتی گیس ایل این جی کی سپلائی عارضی طور پر روک دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جس کے اثرات کئی ممالک تک پھیل رہے ہیں۔
علی پرویز ملک کے مطابق قطر کی جانب سے پاکستان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ فی الحال مزید ایل این جی کارگو فراہم نہیں کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مہنگی توانائی خریدنے کے بجائے بہتر ہے کہ گیس کی طلب کو متوازن رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کی جائے۔
وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ مارچ تک گیس کے نظام میں کسی بڑے مسئلے کی توقع نہیں ہے جبکہ حکومت نے تیل کے حوالے سے مناسب ذخائر بھی محفوظ کر لیے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی پٹرول پمپ ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
Blog
-

مہنگی توانائی لینے سے بہتر ہے لوڈ مینجمنٹ کرلیں، مارچ تک سسٹم میں کوئی مسئلہ نہیں: وزیر پیٹرولیم
-

مشرق وسطیٰ سے امریکیوں کا انخلاء تیز؛ 18 ہزار شہری واپس، مزید انخلاء کے لیے ہنگامی کوششیں جاری
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید عسکری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے خطے سے اپنے شہریوں کو نکالنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اب تک 18 ہزار امریکی شہری بحفاظت اپنے ملک واپس پہنچ چکے ہیں، تاہم امریکی حکام کے لیے خطے میں مقیم 2 لاکھ سے زائد امریکی شہریوں کی حفاظت اور انخلاء اب بھی ایک بہت بڑا اور پیچیدہ چیلنج بنا ہوا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک میں مقیم امریکی شہریوں کی تعداد کچھ یوں ہے:
سعودی عرب: 80,000 امریکی
متحدہ عرب امارات: 50,000 امریکی
کویت: 30,000 امریکی
قطر: 15,000 امریکی
امریکی حکام تمام سفارتی ذرائع اور وسائل بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ باقی ماندہ شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کا انخلاء اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ خطے میں طویل المدتی غیر یقینی صورتحال کی توقع کر رہا ہے۔ نقل و حمل کے اس وسیع آپریشن کے دوران زمینی اور فضائی دونوں راستوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ -

ایرانی میزائل نے آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا،بحرین
بحرین کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل ملک کی ایک اہم آئل ریفائنری سے ٹکرا گیا۔
حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں ریفائنری کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور ریفائنری معمول کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔بحرینی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملے کے بعد BAPCO Energies کی ریفائنری کے ایک یونٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ فائر فائٹرز اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل قابو پا لیا۔بیان کے مطابق،“آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ ریفائنری کی آپریشنل سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس واقعے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔”
ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر میزائل کے ریفائنری کے قریب گرنے کا لمحہ اور اس کے بعد بھڑکنے والی آگ دیکھی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں تیل کی تنصیبات پر اس نوعیت کے حملے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ ریفائنری کے بنیادی نظام محفوظ ہیں اور تیل کی پیداوار یا ترسیل متاثر نہیں ہوئی۔
-

کریملن کی تردید: ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی
کریملن کی جانب سے ایک اہم سفارتی بیان سامنے آیا ہے جس میں روسی
صدارتی محل نے ان تمام افواہوں کی تردید کی ہے جن میں ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کی درخواست کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بھی باضابطہ درخواست روس کو موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے پر روس کا مؤقف مستقل اور واضح ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
یہ بیان بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یہ واضح تردید دراصل ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہے، جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ روس اس علاقائی تنازع میں براہِ راست فریق بننے سے گریزاں ہے۔ اس بیان نے خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح اشارہ دیا ہے کہ روس فی الحال عسکری اتحادوں کی سیاست سے فاصلہ رکھنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ -

خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں،ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں “شامل ہونا چاہیے”، جبکہ انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ جانشینی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای کے بیٹے کو ایران کی قیادت کے لیے زیر غور لانا “وقت کا ضیاع” ہے اور وہ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے کہا “خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں۔ ہم ایران میں ایسا رہنما چاہتے ہیں جو ہم آہنگی اور امن لائے۔”ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری میں امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کا موازنہ وینزویلا کی سیاست سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے امریکہ نے Delcy Rodríguez کے اقتدار میں آنے کے معاملے میں کردار ادا کیا، ویسا ہی کردار ایران کے معاملے میں بھی ہونا چاہیے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں ایسا رہنما منتخب کیا گیا جو سابق پالیسیوں کو جاری رکھے تو امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال “پانچ سال کے اندر ایک اور جنگ” کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے ایک روز قبل اشارہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔ تاہم ٹرمپ کے تازہ ریمارکس سے خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کی آئندہ قیادت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔دوسری جانب ایران کی قیادت کی جانب سے ابھی تک نئے سپریم لیڈر کے بارے میں باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں مختلف نام زیر غور بتائے جا رہے ہیں۔
-

ایران میں کرد کون ہیں؟
مشرقِ وسطیٰ میں کرد عوام ایک ایسی نسلی اقلیت ہیں جن کے پاس آج تک کوئی آزاد اور خودمختار ریاست موجود نہیں۔ دنیا بھر میں کردوں کی مجموعی آبادی کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آتے ہیں جو تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 4 کروڑ 50 لاکھ کے درمیان بتائے جاتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اس پہاڑی خطے میں آباد ہے جو ایران، عراق، ترکی، شام اور آرمینیا کے مختلف حصوں پر پھیلا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق کردوں کی سب سے بڑی آبادی ترکی میں رہتی ہے، جہاں یہ ملک کی سب سے بڑی نسلی اقلیت سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم درست اعداد و شمار دستیاب نہیں کیونکہ خطے کے کئی ممالک اپنی مردم شماری میں نسلی شناخت کو باقاعدہ طور پر درج نہیں کرتے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو اتحادی طاقتوں نے موجودہ مشرقی ترکی کے علاقے میں ایک آزاد کرد ریاست بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم نئی ترک حکومت نے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا جس کے بعد یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اس کے بعد سے کرد عوام مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر رہنے پر مجبور ہیں۔
کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، تاہم کرد معاشرہ مذہبی اور ثقافتی طور پر انتہائی متنوع ہے۔ ان میں مختلف مذہبی روایات، سماجی ڈھانچے اور سیاسی نظریات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کرد زبان بھی کئی مختلف بولیوں پر مشتمل ہے جو مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔برطانوی حکومتی اندازوں کے مطابق ایران میں کرد آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً 8 فیصد سے 17 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ ایران کے مغربی علاقوں میں آباد کرد برادری طویل عرصے سے زیادہ خودمختاری، سیاسی حقوق اور ثقافتی آزادیوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں، خصوصاًایمنسٹی انٹرنیشنل، نے ایران میں کردوں کے خلاف متعدد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کرد زبان کی تعلیم پر کئی جگہ پابندیاں عائد ہیں،بعض کرد نام سرکاری طور پر رجسٹر نہیں کیے جا سکتے،کرد کارکنوں کو اکثر من مانی گرفتاریوں اور حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ایران کے کرد علاقوں میں کئی مسلح گروہ دہائیوں سے حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ یہ گروہ زیادہ تر ایران۔عراق سرحد کے قریب اپنے ٹھکانے رکھتے ہیں جہاں سے وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان گروہوں کے پاس ہزاروں مسلح افراد موجود ہیں۔حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایران کے کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ ایران کے اندر عوامی بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔اس منصوبے سے واقف متعدد افراد نے بتایا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد کئی ایرانی کرد تنظیموں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں جن میں ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے ایرانی فوجی اہلکاروں سے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال مزید آگے بڑھتی ہے تو ایران کے مغربی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
-

ایران کے حملوں کا خدشہ، متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام متحرک
متحدہ عرب امارات میں ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کے بعد فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔
اماراتی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق “فضاؤں میں سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔” وزارت نے یہ بیان سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے عوام کو صورتِ حال سے آگاہ کیا۔
دارالحکومت ابوظہبی میں موجود غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں نے بھی متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے، جس کے بعد شہر میں سیکیورٹی الرٹ مزید بڑھا دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق یہ خطرہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ حکام نے فوری طور پر کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
-

بھارتی فضائیہ کا سخوئی 30 ایم کے آئی طیارہ آسام میں گر کر تباہ
بھارتی فضائیہ کا سخوئی 30 ایم کے آئی لڑاکا طیارہ آسام کے ضلع کاربی آنگلونگ میں گر کر تباہ ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ شام تقریباً سات بجے رنگخیلان گاؤں کے قریب نیلیپ بلاک کے علاقے چکیہولا کے پہاڑی مقام پر پیش آیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ جنگی طیارہ جورہاٹ میں واقع رووریاہ ایئر فورس بیس سے پرواز بھرنے کے بعد معمول کے مشن پر تھا جب پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حادثے سے پہلے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی اور بعد ازاں پہاڑی چوٹی پر طیارہ گرتے دیکھا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق طیارہ پہاڑ سے ٹکرانے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اور حادثے کی جگہ پر آگ کا بڑا گولا دیکھا گیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طیارہ پہاڑی ضلع کی بلند چوٹی سے ٹکرا گیا۔
گوہاٹی میں دفاعی تعلقات عامہ کے دفتر کے مطابق طیارے سے ریڈار رابطہ منقطع ہونے کے بعد فضائیہ کی ٹیمیں فوری طور پر علاقے کی طرف روانہ کر دی گئیں تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں اور طیارے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
مقامی پولیس بھی پہاڑی چوٹی تک پہنچنے کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی ہے تاہم حادثے کی جگہ بلند پہاڑی پر ہونے کی وجہ سے وہاں پہنچنا مشکل بتایا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی پائلٹ کے طیارے سے باہر نکلنے کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ -

خطے میں کشیدگی: اطالیہ کا خلیجی ممالک کو فضائی دفاعی امداد دینے کا اعلان
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے خطے میں جاری کشیدگی اور ایرانی حملوں کے تناظر میں ایک اہم اور تزویراتی بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے خلیجی ممالک کو دفاعی امداد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جارجیا میلونی کا کہنا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرح اٹلی بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ خلیجی خطے کو فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) سمیت دیگر ضروری دفاعی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس فیصلے کے محرکات بیان کرتے ہوئے اطالوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ اقدام محض دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اٹلی کے اپنے اسٹریٹجک مفادات اور شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔ میلونی نے نشاندہی کی کہ خلیجی ممالک میں نہ صرف دسیوں ہزار اطالوی شہری مقیم ہیں بلکہ تقریباً 2 ہزار اطالوی فوجی بھی وہاں تعینات ہیں، جن کی حفاظت کرنا ان کی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی خطہ اٹلی اور پورے یورپ کے لیے توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم ہے، جس کے تحفظ کو یقینی بنانا عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ -

ایران نے آذربائیجان کی طرف ڈرون بھیجنے کی تردید کردی، الزام اسرائیل پر عائد
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے جمعرات کو جاری کیے گئے بیان میں آذربائیجان کی جانب کسی بھی ڈرون بھیجے جانے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی طرف سے آذربائیجان کی سمت کوئی ڈرون روانہ نہیں کیا گیا۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی حکام نے اس واقعے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے مسلم ممالک کے درمیان بداعتمادی اور کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلم ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے اس نوعیت کی سازشیں کوئی نئی بات نہیں ہیں اور ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔