Baaghi TV

Blog

  • 
ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکا کو 3.7 ارب ڈالر کا نقصان

    
ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکا کو 3.7 ارب ڈالر کا نقصان

    
ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائی کے ابتدائی سو گھنٹوں میں امریکا کو اربوں ڈالر کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
    امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں کے دوران امریکا کو تقریباً 3.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ اس فوجی مہم پر روزانہ تقریباً 890 ملین ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگی اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث امریکی دفاعی بجٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مہم جاری رکھنے کے لیے مزید فنڈنگ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مالی نقصان کے ساتھ ساتھ امریکی فضائیہ کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور جنگ کے دوران امریکا کے تین ایف 15 لڑاکا طیارے تباہ ہو چکے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ہتھیاروں کے استعمال اور طیاروں کے نقصان نے پینٹاگون کے لیے نئی تشویش پیدا کر دی ہے جبکہ امریکی انتظامیہ اضافی فنڈز کے حصول پر غور کر رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ طویل ہو گئی تو امریکا کو نہ صرف مزید مالی وسائل درکار ہوں گے بلکہ اسے اپنے جنگی سازوسامان کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • 
ابوظبی پولیس کی اردو میں ہدایات، ملبے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے کی اپیل

    
ابوظبی پولیس کی اردو میں ہدایات، ملبے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے کی اپیل

    ‎متحدہ عرب امارات میں ابوظبی پولیس نے رہائشیوں کے لیے اردو زبان میں خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی واقعے کے بعد ملبے یا گرے ہوئے ٹکڑوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق شہری ملبے یا ڈرون کے گرے ہوئے ٹکڑوں سے دور رہیں اور کسی بھی قسم کے مشتبہ مواد کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
    ‎ابوظبی پولیس نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ اگر کہیں ملبہ یا کوئی مشتبہ چیز نظر آئے تو اسے ہاتھ نہ لگایا جائے اور محفوظ فاصلے پر رہتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔
    ‎حکام کے مطابق یہ انتباہی پیغام عربی، انگریزی، اردو، ہندی اور چینی زبانوں میں جاری کیا گیا ہے تاکہ مختلف زبانیں بولنے والے افراد تک معلومات پہنچ سکیں۔
    ‎پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر ہیلپ لائن نمبر 999 پر رابطہ کیا جائے اور متاثرہ مقامات سے دور رہ کر حفاظتی اقدامات اختیار کیے جائیں۔

  • 
دفاتر اور تعلیمی اداروں کے ورکنگ دن کم کرنے کی تجویز، ورک فرام ہوم اور آن لائن تعلیم کا منصوبہ

    
دفاتر اور تعلیمی اداروں کے ورکنگ دن کم کرنے کی تجویز، ورک فرام ہوم اور آن لائن تعلیم کا منصوبہ

    
پیٹرولیم مصنوعات کے مؤثر استعمال اور ایندھن کی طلب میں کمی کے لیے حکومت نے دفاتر اور تعلیمی اداروں کے ورکنگ دن کم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور کھپت کے جائزے کے لیے قائم ہائی پاورڈ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بریفنگ دی۔
    ‎اجلاس میں بتایا گیا کہ دفاتر، تعلیمی اداروں اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ورکنگ دن کم کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے تاکہ ایندھن کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔
    ‎منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں میں آن لائن یا ورچوئل نظام تعلیم متعارف کرانے جبکہ دفاتر میں ورک فرام ہوم کی سہولت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے ایندھن کے ذخائر کا مؤثر استعمال ممکن ہوگا اور مجموعی طلب میں کمی آئے گی۔
    ‎اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جائے۔ اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ روکنے کے لیے سخت کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق ان تجاویز پر حتمی فیصلے وزیراعظم شہباز شریف آج کریں گے۔

  • 
پاک فوج کی آرٹلری فائرنگ، افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی پوسٹیں نشانہ

    
پاک فوج کی آرٹلری فائرنگ، افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی پوسٹیں نشانہ

    
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے آرٹلری فائر کے ذریعے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی مختلف پوسٹوں کو نشانہ بنایا ہے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جاری آپریشن غضب للحق کے تحت کی جا رہی ہیں جس کا مقصد دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہے۔
    ‎سکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن کے دوران سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کی پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا اور کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مقررہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد سرحدی علاقوں میں امن و امان کو یقینی بنانا اور پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔

  • 
پنجاب کے تمام اضلاع میں اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ

    
پنجاب کے تمام اضلاع میں اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ

    
پنجاب حکومت نے سکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے صوبے کے تمام اضلاع میں اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی سربراہی میں اینٹی ڈرون یونٹ اور اینٹی ڈرون سسٹم قائم کیا جائے گا جو خصوصی ڈرون فلیٹس کی مدد سے فضائی نگرانی کرے گا۔
    ‎حکام کے مطابق ان یونٹس کا مقصد حساس مقامات اور اہم تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانا اور کسی بھی مشتبہ فضائی سرگرمی کی فوری نشاندہی کرنا ہے۔
    ‎ترجمان نے بتایا کہ پنجاب بھر میں آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے اور عوامی سطح پر ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
    ‎محکمہ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

  • ایران نے امریکی ڈرون گرا کر تصاویر جاری کر دی

    ایران نے امریکی ڈرون گرا کر تصاویر جاری کر دی

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کے مختلف علاقوں میں امریکی اور اسرائیلی ڈرونز کو مار گرایا ہے،

    ایرانی حکام کے مطابق صوبہ لورستان میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو تباہ کیا گیا، جبکہ دارالحکومت تہران کے نواحی علاقے میں ایک اسرائیلی ہرمس ڈرون کو بھی مار گرایا گیا۔ ایرانی حکام نے ان دعوؤں کے ساتھ تباہ کیے گئے ڈرونز کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ایرانی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والی کارروائیوں کے بعد سے اب تک ایرانی فضائی دفاع نے 75 سے زائد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں تعینات فضائی دفاعی نظام امریکی اور اسرائیلی طیاروں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی جوابی فوجی کارروائیاں آئندہ دنوں میں مزید تیز اور وسیع ہوں گی۔ ایرانی قیادت کے مطابق اگر حملے جاری رہے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی شہر شیراز میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد شہید ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق حملہ ایک رہائشی علاقے پر کیا گیا جس کے باعث شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران ایران کے 6 بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا، جبکہ حالیہ حملوں میں ایران کے 3 جدید فضائی دفاعی نظام بھی نشانہ بنائے گئے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری جھڑپیں پورے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے تصادم کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں، جس کے اثرات عالمی سلامتی اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام،  140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا

    دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا

    پاکستان میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے تھانہ بکا خیل اور تھانہ ککی کی حدود میں کامیاب کارروائیاں کیں، جس کے دوران بڑی مقدار میں نصب بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانہ بکا خیل کی حدود میں کارروائی کے دوران 140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد پر مشتمل دو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) کو بروقت ناکارہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد حساس مقامات پر نصب کیا گیا تھا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا تھا۔دوسری کارروائی تھانہ ککی کی حدود میں کی گئی جہاں سیکیورٹی فورسز نے 8 کلوگرام بارودی مواد سے تیار کی گئی ایک خود ساختہ آئی ای ڈی کو بھی ناکارہ بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ بم رابطہ پُل اور مقامی بازار کے قریب نصب کیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچایا جا سکے۔ماہرین بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ تمام بارودی مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا، جس کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت انٹیلیجنس معلومات اور فورسز کی فوری کارروائی کے باعث ایک بڑا دہشتگرد حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ علاقے میں مزید سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا سکے۔حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور دہشتگردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • فتنہ الخوارج کی سفاکیت اور بربریت ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی

    فتنہ الخوارج کی سفاکیت اور بربریت ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی

    خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتنہ الخوارج کی معصوم لڑکی کو بہیمانہ تشدد کانشانہ بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پرگردش کررہی ہے

    لڑکی نے فتنہ الخوارج کی خواتین کے کام کرنے پر پابندی کے پیش نظر والدین کی مدد کےلیےروزگار کی جگہ پرمردانہ لباس پہن رکھا تھا . فتنہ الخوارج کے کارندے لڑکی کو اغوا کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور واقعے کی ویڈیو بھی بنائی،لڑکی پر تشدد کی اس ویڈیو کے بعد عوامی حلقوں میں فتنہ الخوارج کیخلاف شدیدغم و غصہ پایا جارہا ہے،ماہرین کے مطابق یہ دردناک واقعہ فتنہ الخوارج کی جانب سے ناقابل تلافی جرم ہے،یہ واقعہ فتنہ الخوارج کی انتہا پسندسوچ کی عکاسی ہے جس میں مذہب کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ معاشرے میں خوف اور دہشت پیدا ہو،

    علما کرام نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتنہ الخوارج کا گروہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح کے منافی ہے،معصوم لڑکی پر ایسے تشدد اور توہین آمیز رویے کو فتنہ الخوارج کامسخ شدہ چہرہ کہنا درست ہوگا

  • یو اے ای کا کوریائی فضائی دفاعی نظام کی فوری فراہمی کا مطالبہ

    یو اے ای کا کوریائی فضائی دفاعی نظام کی فوری فراہمی کا مطالبہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے جنوبی کوریا سے جدید فضائی دفاعی نظام Cheongung-II surface-to-air missile system کی جلد از جلد فراہمی کی درخواست کر دی ہے۔

    حکام کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے خطے میں مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای نے جنوبی کوریا سے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے Cheongung-II میزائل بیٹریوں کی ترسیل کے شیڈول کو تیز کیا جائے تاکہ ملک کو ممکنہ حملوں سے بہتر طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ نظام پہلے ہی یو اے ای کے جامع فضائی دفاعی نیٹ ورک میں شامل کیا جا چکا ہے۔ جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ اور دفاعی حکام کے مطابق یو اے ای میں نصب Cheongung-II نظام نے حالیہ حملوں کے دوران تقریباً 96 فیصد کامیابی کے ساتھ میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے رکن Yu Yong-weon نے اس کارکردگی کو نظام کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی دفاعی منڈی میں اس سسٹم کی مانگ مزید بڑھ سکتی ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی قیادت نے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں اور دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کی،ان حملوں میں بعض شہری تنصیبات، بشمول ہوائی اڈوں اور ہوٹلوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں،یو اے ای نے 2022 میں تقریباً 3.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت جنوبی کوریا کی دفاعی کمپنیوں سے Cheongung-II نظام کی 10 بیٹریاں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، جن میں سے اب تک دو بیٹریاں نصب کی جا چکی ہیں،بعد ازاں سعودی عرب اور عراق نے بھی اس دفاعی نظام کی خریداری کے لیے بالترتیب 3.2 ارب ڈالر اور 2.8 ارب ڈالر کے معاہدے کیے۔

    جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دفاعی معاہدوں اور پیداوار کے شیڈول کے باعث بیٹریوں کی ترسیل کو تیز کرنا آسان نہیں۔ تاہم یو اے ای نے متبادل طور پر یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر مکمل بیٹریاں فوری فراہم نہیں کی جا سکتیں تو کم از کم انٹرسیپٹر میزائل پہلے فراہم کیے جائیں تاکہ دفاعی صلاحیت کو فوری طور پر مضبوط کیا جا سکے۔

    Cheongung-II ایک درمیانی فاصلے کا زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل نظام ہے جو بیلسٹک میزائلوں اور جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک بیٹری میں چار لانچر، جدید ریڈار اور فائر کنٹرول سینٹر شامل ہوتا ہے۔اس کا انٹرسیپٹر میزائل تقریباً 400 کلوگرام وزن رکھتا ہے اور Hit-to-Kill ٹیکنالوجی کے ذریعے ہدف کو براہِ راست ٹکر مار کر تباہ کرتا ہے۔ یہ نظام 15 کلومیٹر سے زیادہ بلندی اور تقریباً 20 کلومیٹر فاصلے تک بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ طیاروں کے خلاف اس کی رینج 50 کلومیٹر تک ہے۔دفاعی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور اس کے مخالف ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو فضائی دفاعی نظاموں کی عالمی طلب میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں Cheongung-II کی کامیاب کارکردگی اسے عالمی دفاعی منڈی میں ایک مضبوط امیدوار بنا سکتی ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

    قطر کے وزیر توانائی سعد بن شریده الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔

    قطر کے وزیرِ توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ خطے میں جاری تنازع، خاص طور پر ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو آنے والے چند ہفتوں میں خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے اور یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔

    قطری وزیرِ توانائی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ دنیا میں توانائی کی فراہمی کا ایک اہم مرکز ہے اور اگر جنگ کے باعث خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی برآمدات متاثر ہوتی ہیں تو عالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور اقتصادی عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے، ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی یا جنگ میں شدت آئی تو عالمی مالیاتی منڈیاں، تجارتی سرگرمیاں اور ترقی پذیر معیشتیں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں