پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق اب تک ان کوششوں کو زیادہ تر ممالک کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان قیادت نے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک سے رابطے کر کے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ثالثی کی درخواست کی۔ اطلاعات کے مطابق طالبان حکام نے 15 سے زائد ممالک سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور مذاکرات شروع کرانے میں کردار ادا کریں۔تاہم ذرائع کے مطابق بیشتر ممالک نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا کہ افغانستان کو سب سے پہلے پاکستان کے تحفظات اور شرائط پر توجہ دینی چاہیے۔ بعض ممالک نے طالبان قیادت کو یہ بھی بتایا کہ کشیدگی میں کمی کا راستہ پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرنے اور سرحدی سکیورٹی سے متعلق خدشات دور کرنے سے ہی نکل سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت نے ثالثی کے لیے روس سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم اب تک ماسکو کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے حالیہ رابطہ ملائیشیا کے ساتھ کیا گیا، لیکن مجموعی طور پر جنگ بندی کی اس سفارتی کوشش کو مختلف ممالک کی جانب سے پذیرائی نہیں مل سکی۔
