بحرین کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل ملک کی ایک اہم آئل ریفائنری سے ٹکرا گیا۔
حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں ریفائنری کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور ریفائنری معمول کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔بحرینی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملے کے بعد BAPCO Energies کی ریفائنری کے ایک یونٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ فائر فائٹرز اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل قابو پا لیا۔بیان کے مطابق،“آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ ریفائنری کی آپریشنل سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس واقعے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔”
ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر میزائل کے ریفائنری کے قریب گرنے کا لمحہ اور اس کے بعد بھڑکنے والی آگ دیکھی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں تیل کی تنصیبات پر اس نوعیت کے حملے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ ریفائنری کے بنیادی نظام محفوظ ہیں اور تیل کی پیداوار یا ترسیل متاثر نہیں ہوئی۔
