Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی،  4 دہشتگرد ہلاک

    پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع پشین میں فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق پشین میں سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کی،کارروائی کے دوران دہشتگردوں اور سی ٹی ڈی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 4 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، ہلاک دہشتگردوں سے 2 مشین گن، 2 نائن ایم ایم پستول اور 2 دستی بم برآمد ہوئے جب کہ کارروائی میں دھماکا خیز مواد اور ڈیٹونیٹرز بھی برآمد ہوا۔

    اوچ شریف:سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی

    تنقید سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے، مرتضیٰ وہاب

    خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی سے متعلق آڈٹ رپورٹ سامنے آگئی

  • بلوچستان: سیاسی جماعتوں کا 8 ستمبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

    بلوچستان: سیاسی جماعتوں کا 8 ستمبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دو ستمبر کو سریاب روڈ پر ہوئے خودکش حملے کے خلاف سیاسی جماعتوں نے 8 ستمبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا۔

    سیاسی جماعتوں نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس،کرتے ہوئے 8 ستمبر کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا،پریس کانفرنس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سردار اختر مینگل، نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کبیر محمد، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ ولایت حسین جعفری شامل تھے۔

    سربراہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، مگر ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم نے کیا جرم کیا ہے؟ ہم نے جلسے میں ایسا کیا کہا تھا کہ ہمیں اس سانحے کا سامنا کرنا پڑا؟75 سال گزر گئے لیکن آج بھی عوام غلامی کا طوق اٹھائے ہوئے ہیں ہم آقا و غلام کا رشتہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے،بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور ہم سب کو برابر سمجھتے ہیں۔ ہم قومی پرستی پر یقین نہیں رکھتے، ہم سب بھائی ہیں۔‘

    خطے میں امن واستحکام، قطر کی پاکستان کے کردار کی تعریف

    اچکزئی نے مزید کہا کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی تھانے جلا سکتے ہیں مگر ہم عوام کے جذبات سے کھیلنا نہیں چاہتے۔انہوں نے 8 ستمبر کو بلوچستان بھر میں پرامن احتجاج، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا،محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ وہ جلسے کرتے رہیں گے اور ڈنکے کی چوٹ پر جلسے کریں گے، کوئی ان کے بچوں کو مارے گا تو وہ اس سڑک سے گزر بھی نہیں سکے گا،بلوچستان سمیت ہر قوم کو اپنے وطن پر اپنے حقوق ملنے چاہئیں، بلوچ کو بلوچ وطن پر، سندھی کو سندھ پر اور پنجابی کو پنجاب پر حق ہونا چاہیے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ 2 ستمبر کی شب دل چیر دینے والا واقعہ پیش آیا جس میں ان کے 14 کارکن اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوئے، دھماکے سے 15 منٹ قبل ہمارے کارکن ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے، یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی کئی سانحات ہو چکے ہیں، ریاستی اداروں کو کیسے معلوم نہیں ہوتا کہ خودکش حملہ آور کہاں سے آتا ہے؟ اگر 2006 میں نواب اکبر بگٹی کے قتل سے سبق سیکھا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، یہ نقصان صرف بی این پی کا نہیں بلکہ بلوچستان کا نقصان ہے۔ ہمارے شہداء نے نہ بینک لوٹا، نہ قتل کیا، نہ حکومت گرائی۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    برطانیہ میں قومی کرکٹر حیدر علی کیخلاف ریپ کا مقدمہ خارج

    نیشنل پارٹی کے کبیر محمد نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں میں عوام کے حقیقی نمائندے موجود نہیں اور بلوچستان کے ساحل اور وسائل وفاق کے حوالے کیے جا رہے ہیں، 2 ستمبر کا سانحہ، جو سردار عطاء اللہ مینگل کی برسی کے موقع پر پیش آیا، پورے صوبے کے لیے دکھ کی گھڑی ہے،شہدا صرف بی این پی کے نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کے ہیں اور حقیقی جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کاروباری افراد، زمینداروں، وکلاء اور سیاسی کارکنوں سے احتجاج میں بھرپور شرکت کی درخواست کی۔

    اے این پی کے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وسائل ان کے لیے وبال بن گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی سے بنائی جانے والی پالیسیاں بلوچ و پشتون اقوام کے روزگار کو تباہ کر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے داور شاہ کاکڑ نے کہا کہ دو ستمبر نے ظلم کی نئی تاریخ رقم کی اور فارم 47 کی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سمیت کابینہ کو مستعفی ہونا چاہیے، علامہ ولایت حسین جعفری نے کہا کہ ظالم کبھی باقی نہیں رہتا اور بندوق کے زور پر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ ایک دن میں 100 جنازے اٹھانے والے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    ’گھونگھٹ‘ میں کام کے دوران صائمہ پر عاشق ہوا، سید نور

    پریس کانفرنس کے اختتام پر شہدا کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ رہنماؤں نے اعلان کیا کہ 8 ستمبر کے احتجاج کے بعد تمام جماعتیں مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان  سے پاکستان میں یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو کی ملاقات

    وزیراعلیٰ بلوچستان سے پاکستان میں یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو کی ملاقات

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پاکستان میں یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو پرنیلے آئرن سائیڈ نے ملاقات کی۔

    ملاقات میں بلوچستان میں پولیو کے خاتمے، روٹین ایمونائزیشن، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موثر باہمی رابطہ کاری کے ذریعے فلاح عامہ کے منصوبوں کو مزید بار آور بنایا جائے گا۔

    یونیسف کی جانب سے محکمہ صحت کے عملے کو تکنیکی معاونت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیت کی پیشکش کی گئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے صحت اور تعلیم کے منصوبوں میں عالمی شراکت داروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات جاری ہیں اور پرائمری ہیلتھ کیئر کے لیے غیر معمولی وسائل مختص کیے گئے ہیں،صحت اور تعلیم کے شعبوں میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے کے لیے کنٹریکٹ بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔

    ایس سی او علامیہ، پاکستان کے دہشتگردی کے حوالے سے موقف کی تائید

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 3200 بند اسکول فعال کیے گئے جبکہ رواں سال مزید 1200 کمیونٹی اسکول قائم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پرعزم ہے کہ سال کے اختتام تک صوبے میں کوئی اسکول بند نہ رہے،سندھ سے ملحقہ اضلاع میں ممکنہ سیلابی صورتحال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے اور بارڈر ایریاز میں پیشگی اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں اور صوبے میں پہلا ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جا چکا ہے۔

    اس موقع پر یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو پرنیلے آئرن سائیڈ نے کہا کہ بچوں کی فلاح و بہبود یونیسف کی اولین ترجیح ہے اور ادارہ بلوچستان حکومت کے ساتھ صحت و تعلیم کے شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔

    ملک میں انسداد پولیو مہم شروع، 2.8 کروڑ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

  • بنوں: دہشتگردوں کا تھانے پرحملہ  ناکام بنا دیا گیا

    بنوں: دہشتگردوں کا تھانے پرحملہ ناکام بنا دیا گیا

    دہشتگردوں کا تھانے پر بڑا حملہ پولیس کی بہادری سے ناکام بنا دیا گیا۔

    ڈی پی او بنوں سلیم کلاچی کے مطابق فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے تھانہ میریان پر حملہ کیا تاہم پولیس کی بروقت اور بھرپور جوابی کارروائی کے باعث دہشت گردوں کو پسپا ہونا پڑا حملہ 3 اطراف سے کیا گیا، جس میں 70 سے زائد دہشتگرد شامل تھے اور انہوں نے کارروائی میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ چوکس پولیس اہل کاروں نے دہشت گردوں کو فوری اور مؤثر جواب دیا، جس کے باعث فائرنگ کا سلسلہ اگرچہ 20 سے 25 منٹ تک جاری رہا مگر پولیس کی نفری مکمل طور پر محفوظ رہی،دہشتگرد کمانڈروں قاری نیاز، سفیر اور رسول کی قیادت میں حملہ آور ہوئے تھے لیکن پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور تربیت نے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ تھانے پر حملے کو ناکام بنانا پولیس کے عزم، تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہے۔

    مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا، چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی رہا

    قصور شہر کو زیر آب آنے کا خدشہ،انتظامیہ جلد سے جلد اقدمات کرے

    سیالکوٹ میں موسلا دھار بارش، شاہراہیں اور گلیاں دوبارہ ڈوب گئیں

  • بلوچستان میں پہلا کلائمیٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈوومنٹ فنڈ قائم

    بلوچستان میں پہلا کلائمیٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈوومنٹ فنڈ قائم

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پہلا کلائمیٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈوومنٹ فنڈ قائم کردیا گیا ہے-

    کوئٹہ میں یورپی یونین کے تعاون سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ 200 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ سے پاکستان کے 43 فیصد رقبے کی ترقی مشکل عمل ہے، بلوچستان میں عالمی ڈیولپمنٹ پارٹنرز اور وفاقی حکومت کی معاونت کے بغیر ترقیاتی عمل کا تسلسل ناممکن ہے، بلوچستان میں پہلا کلائمیٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈوومنٹ فنڈ قائم کردیا گیا ہے۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ بیڈ گورننس اور کرپشن کے باعث نوجوانوں اور ریاست میں دوری آئی، حکومت سے ناراضگی اور گلے شکوے بجا مگر ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا، میرٹ، بہتر طرز حکمرانی اور ڈائیلاگ سے نوجوانوں کو قریب لایا جاسکتا ہے، نوجوانوں کی ترقی کے لیے یوتھ پالیسی، روزگار اور کاروباری مواقع سمیت متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    انہوں نے بلاسود قرضہ پروگرام کے لیے 16 ارب روپے مختص کر دیے گئے ہیں، عالمی سرمایہ کاری سے وسائل میں اضافے کے بعد نوجوانوں پر مزید سرمایہ کاری کریں گےصوبائی دارالحکومت کوئٹہ پر آبادی کا غیر معمولی دباؤ مسائل کو جنم دے رہا ہے، ڈویژن ہیڈ کوارٹرز میں سہولتیں فراہم کرکے کوئٹہ پر بڑھتے دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی کشادگی کے لیے زمینوں کی مہنگے داموں خرید کے دھندے اب مزید نہیں چلیں گے، کوشش ہے کہ بلوچستان کے عوام کو بہتر اور معیاری زندگی فراہم کریں، گڈ گورننس کے قیام کے لیے کوشاں ہیں، گزشتہ مالی سال کے غیر ترقیاتی بجٹ سے 14 ارب روپے کی بچت کی گئی، نوجوان ہماری حکومت کی توجہ کا مرکز ہیں، بہتر طرز حکمرانی سے اعتماد بحال کریں گے۔

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

  • حکومت بلوچستان کا  بینک آف بلوچستان کے قیام کا اعلان

    حکومت بلوچستان کا بینک آف بلوچستان کے قیام کا اعلان

    حکومت بلوچستان نے صوبے کی ترقی، عوام اور تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ’ بینک آف بلوچستان’ کے قیام کا اعلان کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں بینک آف بلوچستان کے قیام کی ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ پیش کی گئی، جسے قابلِ عمل قرار دیا گیا، وزیر اعلیٰ نے ایک ہفتے کے اندر آپریشنل پلان مرتب کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بینک آف بلوچستان کے قیام سے صوبے کے عوام، تاجروں اور سرمایہ کاروں کو معیاری اور آسان بینکنگ سہولیات میسر ہوں گی، اس منصوبے کے ذریعے بلوچستان کی معیشت میں نمایاں ترقی ہوگی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا،صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور بینک صوبہ بلوچستان کی معیشت میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا، بینک صوبائی وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو تیز کرے گا۔

    اجلاس میں بینکنگ سیکٹر کے ماہرین نے آن لائن شرکت کی اور بینک آف بلوچستان کے قیام کے منصوبے کو جلد از جلد فعال بنانے پر اتفاق کیا۔

  • این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے،  وزیراعلیٰ بلوچستان

    این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر تمام سیاسی جماعتوں اور ماہرین سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا۔

    کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت این ایف سی ایوارڈ کی تیاری سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام جماعتوں اور ماہرین سے مشاورت ہوگی، وسائل کی تقسیم میں شفافیت کو اہمیت دینا ہوگی،این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی،وسائل کی تقسیم میں شفافیت اور شمولیت کو اہمیت دینا ہوگی، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے عوام کی امیدیں اور توقعات شامل ہونی چاہئیں۔

    واضح رہے کہ 11واں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ اجلاس 29 اگست کو چیئرمین این ایف سی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ہوگا،اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا، اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سفارشات پر غور ہوگا اور ذیلی گروپس قائم کرنے کا جائزہ لیا جائے گا جب کہ اجلاس میں مستقبل کے اجلاس کے حوالے سے شیڈول طے کیے جائیں گے۔

  • ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔

    بلوچستان کے ضلع ژوب اور قریبی علاقوں میں بدھ کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے،زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.5 اور گہرائی 150 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ، زلزلے کا مرکز ژوب سے 106 کلومیٹر جنوب میں تھازلزلے کے بعد لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے ، ابتدائی طور پر زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں،فیلڈ مارشل

    کھیت میں داخل ہونے پر گدھے کی ٹانگ کاٹ دی،سخت غم و غصہ

    سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ بڑھا دی گئی

  • بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں،فیلڈ مارشل

    بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں،فیلڈ مارشل

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تربت کا دورہ کیا ،تربت آمد پر کور کمانڈر بلوچستان نے ان کا استقبال کیا وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھےجنرل عاصم منیر نے جوانوں کے بلند حوصلے اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور خطے میں قیام امن کیلئے فوجی جوانوں کے کردار کی تعریف کی، دورے کا مقصد سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا تھا، فیلڈ مارشل کو فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب آپریشن پر بریفنگ دی گئی فیلڈ مارشل نے تربت میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا،کہاکہ،پاک فوج بلوچ عوام کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے، بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں۔

    بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں،فیلڈ مارشل

    وزیراعلیٰ بلوچستان اور سول انتظامیہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اچھی حکمرانی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی ضرورت پر زور دیا،انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سول و ملٹری اداروں کی مشترکہ کاوشیں نہایت اہم ہیں۔ آرمی چیف نے جنوبی بلوچستان میں سماجی و معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کے عزم کو دہرایا۔

    سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ بڑھا دی گئی

  • منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، سرفراز بگٹی

    منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، سرفراز بگٹی

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر کے یومِ آزادی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا،جبکہ،دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے-

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 11 اگست کو کوئٹہ سے ایک خود کش حملہ آور کو گرفتار کیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ اسے خود کش حملے کے لیے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے تیار کیا تھابعد ازاں گرفتار بمبار کی نشاندہی پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش بمبار تیار کرنے والے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو افنان ٹاؤن سے گرفتار کیا۔

    ڈاکٹر محمد عثمان قاضی نے بتایا کہ ان کا تعلق تربت سے ہے وہیں پلا بڑھا اور انہوں نے ملک کے اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کی، وہ کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں ملازمت کر رہے تھ قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، اور گریڈ 18 میں بطور لیکچرار تعینات ہے، اس شخص نے بتایا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہےگرفتار ملزم ڈاکٹر عثمان قاضی نے تفصیل بتائی کہ 2020 میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران اس کی ملاقات ’ایک تنظیم‘ سے تعلق رکھنے والے 3 افراد سے ہوئی تھی، جن میں سے دو بعد میں مارے گئے، باقی 2 افراد نے اسے اس شدت پسند گروہ میں شامل کرایا اور اس کی ملاقات بشیر زئی سے کرائی۔

    خیبر پختونخوا،متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے،ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر

    عثمان قاضی نے بتایا کہ یہ تمام تعارف ’ٹیلی گرام‘ کے ذریعے کروائے گئے اور کوئٹہ آنے پر اس نے گروہ کی ہدایات پر 3 کارروائیوں میں سہولت فراہم کی، ڈاکٹر حبیطان اور فی خالق کی ہدایات کے مطابق گروہ کی مدد کی، ایک ایسے عسکریت پسند کو پناہ دی جو قلات میں جھڑپ کے دوران زخمی ہوگیا تھا، میں نے اسے کسی اور شخص کے حوالے کر دیا تھا اور اگلے دن وہ یہاں ریلوے خودکش دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔

    terrorist

    دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث،عثمان قاضی

    اس نے ایک اور ایسا ہی واقعہ سنایا کہ جس شخص کو اس نے 7 سے 8 دن تک پناہ دی تھی، وہ 14 اگست کے کسی واقعے میں استعمال ہونے والا تھا، لیکچرار نے یہ بھی اقرار کیا کہ اس نے ایک پستول خریدا تھا جو سیکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے میں استعمال ہوا، یہ وہ کام ہیں جو میں نے کیے، یہ وہ سہولت کاری ہے جو میں نے کی، اگر دیکھا جائے تو ریاست نے مجھے اور میری اہلیہ کو عزت، وقار، نوکری سب کچھ دیا، لیکن اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی اور ریاست سے غداری کی، مجھے بہت زیادہ شرمندگی ہے کہ میں ان کارروائیوں میں شامل رہا اور اس پر افسوس ہے، اور اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں، نوجوان، یہاں کے طلبہ ان تنظیموں سے بچ سکیں جو بدامنی پھیلا رہی ہیں۔

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی</a

    کوئٹہ میں دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 14 اگست کو خودکش حملہ آور ان معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے تھے، جو یومِ آزادی منا رہے تھےانہوں نے سیکیورٹی اداروں، محکمہ انسداد دہشت گردی بلوچستان اور پولیس کو صوبے کو بڑی تباہی سے بچانے پر سراہا، انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ مجید بریگیڈ کے کسی عہدیدار کو گرفتار کیا گیا، یہ پاکستان اسٹڈیز کا لیکچرار ہے، اندازہ کریں کہ کتنے بچوں کو اس نے ورغلایا ہوگا، یہ شخص دہشت گردوں کا علاج اپنے گھر پر کرواتا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، اس طرح پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہماری ایجنسیاں، حکومت اور ہر کوئی پریشان ہے، اس دہشت گردی کو کچھ اور نام دیا جاتا ہے، ایسے لوگ جن کے رشتہ دار کسی عسکریت پسند تنظیم کا حصہ بنتے ہیں تو ان کے اہل خانہ کسی کو اطلاع نہیں دیتے، حالانکہ ایسے لوگ تربیت لے کر واپس گھر بھی آتے ہوں گے۔

    یورپ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے،ایران

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ اب ایسا نہیں چلے گا، ایسے لوگوں کے اہل خانہ کو حکومت کا اطلاع دینا ہوگی، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ پورا خاندان ملا ہوا ہے، والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، گرفتار ملزم نے کئی انکشافات کیے ہیں، مجید بریگیڈ کئی ٹیئرز میں کام کرتی ہے، یہ لوگوں کو ورغلا کر انہیں تربیت دیتے ہیں، انہیں خودکش حملہ آور بناتے ہیں، ایک ٹیئر میں پولیس، لیویز، فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنے پر پیسے دیے جاتے تھے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی ٹارگٹ کرنے پر انہیں پیسے دیے جاتے ہیں،ہم اس کے ساتھیوں تک بھی پہنچیں گے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے قبل ایسا تاثر بنایا گیا تھا کہ فوج اور سرمچاروں کے درمیان جنگ یا لڑائی چل رہی ہے، ہم نے ایک پورا سیل بنایا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک گرفتار شخص کا ریکارڈ شدہ بیان بھی جاری کیا، جس نے کہا کہ اس نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے، اور گریڈ 18 کے لیکچرار کے طور پر کام کر رہا ہے اس شخص نے مزید کہا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے۔

    درخت آفات کے خلاف ڈھال اور آئندہ نسلوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں، صدرمملکت

    حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ گرفتار لیکچرار کا محدود اعترافی بیان اس لیے جاری کیا تاکہ جاری تحقیقات متاثر نہ ہوں،انہوں نے نومبر 2024 کے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن بم دھماکے کا ذکر کیا، جس میں 32 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 50 سے زائد زخمی ہوئے اور بتایا کہ گرفتار لیکچرار مبینہ طور پر اس حملے میں سہولت کاری میں ملوث تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس (لیکچرار) نے حملہ آور کو موٹر سائیکل پر بٹھایا اور ریلوے اسٹیشن کے قریب اتارا، اور اس کے بعد اسے ایک اور ہینڈلر کے حوالے کیا جو ریلوے اسٹیشن سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، بلوچستان میں شورش کے مسئلے کو بعض لوگ ’محرومی‘ سے جوڑتے ہیں، اس پر وزیراعلیٰ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ لوگ کیسے محروم ہیں؟ ملزم کی ماں اب بھی پنشن لے رہی ہے جس کا مطلب ہے وہ بھی سرکاری ملازم تھی،اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے، وہ خود گریڈ 18 کا افسر ہے، پاکستانی اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر کے پی ایچ ڈی کی، بھائی ریکوڈک منصوبے میں ملازم ہے، اس کا مطلب ہے وہ کسی طرح محروم نہیں تھا۔