Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • خضدار:جبری مشقت پر مجبور 9 ہندو افراد بازیاب،2 زمیندار گرفتار

    خضدار:جبری مشقت پر مجبور 9 ہندو افراد بازیاب،2 زمیندار گرفتار

    لیویز فورس نے خضدار کے دور دراز علاقے سے ہندو خاندان کے 9 افراد کو جبری مشقت سے چھٹکارا دلا کر 2 بااثر زمینداروں کو گرفتار کرلیا۔

    سینیٹر پونجو بھیل اور سینیٹر دھنیش کمار کی جانب سے دی گئی درخواست پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے قلات ڈویژن کے کمشنر طفیل بلوچ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کارروائی کی ہدایت جاری کی، جس کے نتیجے میں خضدار کے تحصیل نال کے علاقے گریشہ، کھوڑا میں زبردستی مشقت پر مجبور 9 ہندو افراد کو بازیاب کرا لیا گیا۔

    یہ کارروائی لیویز فورس نے کمشنر قلات کی نگرانی میں ضلع خضدار اور آواران کی سرحد پر واقع علاقے کھوڑا میں کی، جہاں مغوی افراد سے جبری مشقت کروائی جا رہی تھی چھاپے کے دوران بااثر زمیندار بابو اور داد محمد بلوچ کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔

    وائلڈ لائف رینجرز کی کارروائی،سرکس کیلئے لایا گیا شیر تحویل میں لے لیا

    خواتین اور بچوں سمیت بازیاب کرائے گئے تمام افراد کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ سے ہے، انہیں مبینہ طور پر جھوٹے وعدوں پر بلوچستان بلایا گیا تھا اور بعد ازاں زبردستی ہتھیاروں کے زور پر کھیتوں میں مشقت کروائی جاتی رہی،تمام متاثرہ افراد کو لیویز تھانے نال منتقل کیا گیا، جہاں ان کے بیانات قلمبند کیے گئے، قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں ہندو پنچایت کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں، ہندو پنچایت اور سول سوسائٹی نے بلوچستان حکومت کی بروقت کارروائی کو سراہا ہےسینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ اقلیتوں کے خلاف اس قسم کے مظالم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، اور وزیر اعلیٰ کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہا۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز کےملازمین نے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کر دیا

  • قلات میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

    قلات میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلاع قلات میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 19 اور 20 جولائی کی درمیانی شب کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں بھارتی ایجنٹ تنظیم ’ فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر آپریشن کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد ہلاک کر دیے گئےمارے گئے دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں-

    وزیرداخلہ محسن نقوی ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناسور کو ملک سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور قوم کے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ دہشت گردی کے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    قبل ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 19 اور 20 جولائی کی درمیانی شب دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اطلاع پر بلوچستان کے علاقے پہرود میں آپریشن کیا تھا، اس کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ، جن کے قبضے سے فتنۃ الہندوستان کا جھنڈا اور ہتھیار برآمد ہوئے۔

    پاکستانی پاسپورٹ میں والدہ کا نام بھی شامل کرنے کا فیصلہ

  • مستونگ میں دہشتگردوں کا حملہ، بلوچستان کانسٹیبلری کا اہلکار شہید، دو زخمی

    مستونگ میں دہشتگردوں کا حملہ، بلوچستان کانسٹیبلری کا اہلکار شہید، دو زخمی

    مستونگ میں بلوچستان کانسٹیبلری کےافسر کی گاڑی پر حملے میں ایک اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے بتایا کہ فائرنگ کا مستونگ میں قومی شاہراہ پر پیش آیا،ہ حملے میں ڈی ایس پی کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیابلوچستان کے علاقے مستونگ میں قومی شاہراہ پر دہشتگردوں نے بلوچستان کانسٹیبلری کی گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنایافائرنگ کے نتیجے میں بلوچستان کانسٹیبلری کا ایک اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    شاہد رند نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کےمطابق حملے میں قائم مقام ڈی ایس پی کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے، سیکورٹی فورسز جائے وقوعہ پر موجود ہیں جبکہ علاقے کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی،شاہد رند نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری تک کارروائی جاری رہے گی-

    پاک افغان سرحد سے خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام،5 خود کش حملہ آور گرفتار

    اوکاڑہ: بارشوں کے دوران 57 حادثات، 90 افراد متاثر، 8 جاں بحق

    اوکاڑہ: بارشوں کے دوران 57 حادثات، 90 افراد متاثر، 8 جاں بحق

  • ماہ رنگ بلوچ سمیت  دیگر رہنماؤں کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ

    ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ

    کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے منگل کو بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کے دیگر عہدیداران کو مزید 10 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا-

    مارچ میں ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر ارکان کو ’سول ہسپتال کوئٹہ پر حملے‘ اور ’عوام کو تشدد پر اکسانے‘ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، ان گرفتاریوں سے ایک دن قبل ان پر جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس نے کریک ڈاؤن کیا تھا، بلوچ یکجہتی کمیٹی 2018 سے جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم ایک مزاحمتی و سماجی تنظیم ہے۔

    ماہ رنگ بلوچ کو کوئٹہ کی ہُدا ڈسٹرکٹ جیل میں پبلک آرڈر برقرار رکھنے کے قانون (ایم پی او) کی دفعہ 3 کے تحت رکھا گیا ہے، یہ قانون حکام کو عوامی نظم و نسق کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد کو بغیر مقدمہ گرفتار رکھنے کا اختیار دیتا ہے۔

    پی ٹی آئی سمیت 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم

    ایڈووکیٹ جبران ناصر  نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’3 ماہ اور 15 دن کی حراست کے بعد آج ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، بی بو بلوچ، گلزادی، بیبرگ، صبغت اللہ اور عبدالغفار کو اے ٹی سی کوئٹہ میں پیش کیا گیا،ان تمام افراد کو 10 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جن دیگر منتظمین کو آج انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 10 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجا ہے، ان میں صبغت
    اللہ شاہ، بیبرگ بلوچ، غفار بلوچ، گلزادی اور بیبو بلوچ شامل ہیں۔

    https://x.com/SammiBaluch/status/1942479536131834165

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن سمی دین بلوچ نے ایک بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کارکنوں کو بغیر ثبوت عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے،ایسے اقدامات نہ صرف ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اس کے اپنے قانونی اور عدالتی نظام کو بھی غیر مؤثر اور بے معنی بنا دیتے ہیں-

    واضح رہے کہ ماہ رنگ کی بہن نادیہ بلوچ نے جون میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس میں ان کی بہن کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف دائر درخواست مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین، قانون اور حقائق کے منافی ہے۔

    ایف بی آر پاکستان کے مالیاتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،محمد اورنگزیب

    درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ ماہرنگ بلوچ کو بار بار غیر قانونی طور پر حراست میں لینا اور انہیں شدت پسندوں کی ہمدرد قرار دینا ریاستی اداروں کی ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ وہ لاپتہ افراد کے حق میں آواز بلند نہ کر سکیں۔

    اسی ماہ، کیچ کے علاقے میں بی وائی سی کے کارکنوں نے تنظیمی عہدیداران کی گرفتاریوں کے خلاف تربت پریس کلب کے سامنے 3 روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا، تاہم ان کارکنوں کی رہائی کے لیے دائر آئینی درخواستیں مئی میں بلوچستان ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھیں۔

    اگرچہ بی وائی سی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے، مگر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو نیکٹا کی ممنوعہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    لیاری سانحہ: چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلا جا سکتا،گورنر سندھ

  • اب بلوچستان میں صرف باتیں نہیں،ترقیاتی کام ہوتے نظر آئیں گے،سرفراز بگٹی

    بلوچستان حکومت نے نئے مالی سال 2025-26 کے آغاز کے ساتھ ہی صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے 50 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کر دیئے-

    ترجمان حکومت بلوچستان کے مطابق، فنڈز کے بروقت اجرا سے ترقیاتی منصوبوں پر فوری طور پر کام کا آغاز ممکن ہوگا اور صوبے میں تیز رفتار ترقی کی نئی روایت قائم کی جائے گی، فنڈز کے اجرا کا مقصد زبانی وعدوں کی بجائے عملی خدمت کا آغاز ہے۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے فنڈز کے اجرا پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب بلوچستان میں صرف باتیں نہیں، زمین پر ترقیاتی کام ہوتے نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیت صاف ہو تو فیصلے دنوں میں نہیں، بلکہ گھنٹوں میں ہوتے ہیں یہ اقدام بلوچستان کے عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی جانب پہلا عملی قدم ہے۔ ہم نے طویل انتظار نہیں کیا، بلکہ مالی سال کے پہلے ہی دن ترقیاتی فنڈز جاری کر دیے تاکہ کوئی بہانہ نہ رہے اور کام فوراً شروع ہو سکے، انہوں نے مزید کہا۔

    حکومت بلوچستان کا مؤقف ہے کہ فنڈز کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا اور تمام منصوبوں کی مانیٹرنگ سختی سے کی جائے گی تاکہ کرپشن یا بدانتظامی کا راستہ بند کیا جا سکے۔

  • ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    بلوچستان کے ضلع ژوب اور گردونواح میں زلزلے سے لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.8 ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز ژوب سے 40 کلو میٹر دور جبکہ گہرائی 20 کلو میٹر تھی۔

    گزشتہ روز بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے گئے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق بلوچستان اور پنجاب میں زلزلے کے جھٹکوں کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں واقع تھا۔

    پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں گندا پانی پینے سے پھیلتی ہیں،مصطفی کمال

    لاہور ہائیکورٹ میں صنم جاوید کی ضمانت منظور

    عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی ڈیٹنگ کی افواہیں

  • دکی میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن ، فتنہ الہندوستان کے 2 دہشتگرد ہلاک

    دکی میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن ، فتنہ الہندوستان کے 2 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع دکی میں سیکورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 2 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 2 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع دکی میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران مؤثر انداز میں بھارتی اسپانسر دہشت گردوں کے ٹھکانے کا نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 2 بھارتی اسپانسر دہشت گرد مارے گئے جبکہ 2 دہشت گردوں کو اسلحے سمیت گرفتار کر لیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی اسپانسر شدہ دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیزمواد بھی برآمد کیا گیا، یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کے لئے کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا، سیکیورٹی فورسز ملک سے ہندوستانی اسپانسرشدہ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردی کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گی۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خود کش حملے کی کوشش میں 13 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے، جبکہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 14 خارجی دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھےآئی ایس پی آر کے مطابق میر علی میں فورسز کے قافلے پر بھارتی اسپانسرڈ خارجی دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا ، بھارت کی منصوبہ بندی اور سرپرستی میں فتنہ الخوارج نے قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔

  • :بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونوح میں زلزلہ،21 مکانات تباہ

    :بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونوح میں زلزلہ،21 مکانات تباہ

    کوئٹہ:بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونوح میں 5.5 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس گئے گئے، جس کے باعث لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.5 اور گہرائی 28 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز موسیٰ خیل سے 56 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا صوبائی آفاتِ ناگہانی سے نمٹنے کے ادارے (پی ڈی ایم اے) کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 21 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ پانچ مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے مکانات گرنے کے مختلف واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    پی ڈی ایم اے ذرائع کے مطابق موسیٰ خیل میں آنے والے زلزلے کے بعد علاقے میں امدادی کام شروع کر دیا گیاترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق نقصان کے اندازے کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں، زیادہ نقصان سے بچاؤ کے لیے خیمے روانہ کر دیے گئے ہیں،تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم حکام نے شہریوں کو ممکنہ آفٹر شاکس کے خطرے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے پی ڈی ایم اے اور ریسکیو ادارے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں کوہِ سلیمان کے دامن سے متصل علاقوں رکھنی، چھپر، مہمہ، صمند خان اور رڑکن میں بھی اتوار کو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

  • پشین میں زلزلے کے جھٹکے

    پشین میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے علاقے پشین میں 4.4 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا-

    پشین میں زلزلے کےجھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، زلزلے کے جھٹکوں سے شہری خوف زدہ ہوگئے لوگ گھروں سے نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد شروع کردیا، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.4 ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز پشین سے 21 کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب تھا، جب کہ گہرائی 12 کلومیٹر تھی، فوری طور پر زلزلے سے کسی جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    گزشتہ روز کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھےزلزلہ پیما مرکز کے مطابق پہلے زلزلے کی شدت 2.5 اور دوسرے زلزلے کی شدت 2.6 تھی اور ان کا مرکز ڈی ایچ اے سٹی کے اطراف 40 کلو میٹر زیرِ زمین تھا، زلزلوں کے جھٹکوں کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی لوگ گھروں سے نکل آئے، یکم جون سے کراچی میں شروع ہونے والے زلزلوں کے جھٹکوں کی مجموعی تعداد اب 42 ہوچکی ہے۔

  • بلوچستان کابجٹ آج پیش کیا جائے گا، تنخواہوں میں اضافے کا امکان

    بلوچستان کابجٹ آج پیش کیا جائے گا، تنخواہوں میں اضافے کا امکان

    بلوچستان حکومت آج آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کا اعلان کرے گی۔

    صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی بلوچستان اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے بجٹ کا مجموعی حجم ایک ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے، جبکہ یہ بجٹ چالیس ارب روپے سرپلس ہوگا۔

    حکام کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی اخراجات کی مد میں 245 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 642 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ تعلیم کے شعبے میں 125 ارب اور صحت کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے صحت، تعلیم اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے اضافی طور پر 30 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔

    پاکستان اور چین کے درمیان 5 سالہ ٹیکنالوجی و مہارت کا تاریخی معاہدہ

    صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے بھی 97 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی محاصل سے بلوچستا ن کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 743 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 70 ارب روپے زیادہ ہے یہ رقم قا بل تقسیم محاصل اور گیس سمیت دیگر قدرتی وسائل سے براہ راست منتقلیوں پر مشتمل ہوگی، صوبائی ٹیکسوں اور نان ٹیکس آمدن کی مد میں بلوچستان کو 150 ارب روپے سے زائد حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق اضافہ کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ رولز میں تبدیلیوں پر شدید تحفظات،جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا