Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بلوچستان میں غیرت کے نام پر سینکڑوں  قتل کیے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں غیرت کے نام پر سینکڑوں قتل کیے جانے کا انکشاف

    کوئٹہ:بلوچستان میں غیرت کے نام پر سینکڑوں مرد اور خواتین کو قتل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کےمطابق بلوچستان میں گزشتہ 6 برس کےدوران غیرت کےنام پر 232 افراد قتل کیے گئےغیرت کے نام پر قتل کی تفصیلات میں تنظیم کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نصیرآباد میں 73،جعفرآبادمیں 23مردوخواتین غیرت کے نام پر قتل کیے گئےعلاوہ ازیں مستونگ 18،ضلع کچھی میں 17افراد سیاہ کاری کی بھینٹ چڑھے جھل مگسی میں 18اور کوئٹہ میں 11مرد وخواتین کاروکاری کی نذر ہوئے جب کہ 2019 میں 52، 2020میں 51افراد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے۔

    وفاقی حکومت کی مہربانی سے سندھ میں بجلی نہیں ہے،شرجیل میمن

    اسی طرح سال 2021میں 24،22میں 28افراد،2023میں 24افراد غیر ت کے نام پر قتل کیے گئے ۔ سال 2024میں 33افرادکو سیاہ کاری کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارا گیا،رواں سال اب تک 33افراد غیرت کے نام قتل ہوئے جن میں 19خواتین اور 14مرد شامل ہیں ۔

    وزیراعظم کی ایف بی آر میں جدید اور عالمی معیار کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کی منظوری

  • ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،محسن نقوی

    ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    ڈان نیوز کے مطابق کوئٹہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا، جس میں فتنہ الہندوستان کے خلاف مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر تفصیلی غور کیا گیاوزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے امن و امان کی مجموعی صورت حال اور سیکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی، صوبائی ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اس میں درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرت ناک موت ہے، ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان حکومت کی مکمل سپورٹ جاری رکھیں گےاجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان دشمن عناصر کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ جنگ سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، سب ورژن اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی گئی ہیں بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی سے سرگرم ہیں، سیکورٹی فورسز اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ہر قیمت پر امن قائم کریں گے۔

    اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) بلوچستان، آئی جی فرنٹیئر کور (ایف سی نارتھ) محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اسپیشل برانچ اور لیویز کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے،محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔

  • بلوچستان دہرا قتل کیس: بانو  کو اپنی ”غلطی“ کا احساس ہوگیا تھا اور وہ خود اپنی جان لینا چاہتی تھی،بہن

    بلوچستان دہرا قتل کیس: بانو کو اپنی ”غلطی“ کا احساس ہوگیا تھا اور وہ خود اپنی جان لینا چاہتی تھی،بہن

    مقتولہ بانو بی بی کی بہن نے کہا ہے کہ بانو کو اپنی ”غلطی“ کا احساس ہوگیا تھا اور وہ خود اپنی جان لینا چاہتی تھیں، مگر اُنہیں اکسا کر بھاگنے پر مجبور کیا گیا۔

    بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں پیش آنے والے دوہرے قتل کے واقعے میں مقتولہ بانو بی بی کے بچوں، بہن اور پھوپھی نے میڈیا پر کئی انکشافات کئے ہیں،مقتولہ بانو کے بڑے بیٹے نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی والدہ روئیں نہیں، نہ ہی خوفزدہ ہوئیں، بلکہ بڑی بہادری سے اپنی جان دی، والدہ نے جاتے ہوئے یہ وصیت کی تھی کہ ’اپنا اور والد کا خیال رکھنا۔‘6 سالہ چھوٹے بیٹے ذاکر احمد،نے کہا کہ ’امی حج کرنے گئی ہیں۔‘

    مقتولہ کی بہن اور پھوپھی کے مطابق بانو کو احساس ہوگیا تھا کہ ان سے غلطی ہوئی ہےوہ خاندان اور قبیلے کے سامنے شرمندہ تھی اور کہتی تھی کہ انہیں پستول دے دیا جائے، تاکہ وہ خود کو مار سکے، مگر احسان اللہ نامی شخص نے انہیں بھاگنے پر مجبور کیا،مقتولہ کی بڑی بہن نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا حقائق کے برعکس ”پسند کی شادی“ کا بیانیہ چلا رہا ہے، جو درست نہیں۔

    راولپنڈی: لڑکی کا جرگے کے فیصلے پر قتل،پولیس نے قبر کشائی کی اجازت طلب کر لی

    ادھر مقتولہ بانو بی بی، اُن کے شوہر نور محمد کے شناختی کارڈز اور بچوں کے ب فارم بھی سامنے آگئے ہیں۔ شناختی دستاویزات کے مطابق بانو بی بی کی عمر 40 سال اور ان کے شوہر نور محمد کی عمر 38 سال تھی۔ مقتولہ کے بچوں کے نام 15 سالہ نور احمد، 14 سالہ باسط خان، 10 سالہ بی بی فاطمہ، 7 سالہ بی بی صادقہ، اور 6 سالہ ذاکر احمد ہیں۔

    ویسٹ انڈیز کیخلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان

  • بلوچستان دہرا قتل کیس:مقتولہ کی ماں گرفتار

    بلوچستان دہرا قتل کیس:مقتولہ کی ماں گرفتار

    بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں غیرت کے نام پر مرد و خاتون کے قتل کے کیس میں مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کو ایک ویڈیو بیان جاری کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گل جان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گل جان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں قتل کی حمایت کی اور گرفتار افراد کو بے گناہ قرار دیا پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بیان دہرے قتل کی حمایت اور انصاف کے عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کے مترادف ہے۔

    ویڈیو بیان میں گل جان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیٹی بانو بی بی کو ایک لڑکے کے ساتھ تعلقات کی بنا پر بلوچ جرگے کے فیصلے کے تحت قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکا ٹک ٹاک ویڈیوز بناتا تھا جس سے ان کے بیٹے مشتعل ہوتے تھے گل جان نے کہا کہ بانو پانچ بچوں کی ماں تھی ہمارے لوگوں نے کوئی ناجائز فیصلہ نہیں کیا، یہ فیصلہ بلوچی رسم و رواج کے تحت کیا گیا تھا انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس فیصلے میں سردار شیر باز ساتکزئی کا کوئی کردار نہیں تھا اور جرگہ ان کے بغیر ہوا تھا۔

    گل جان نے ویڈیو میں اپیل کی کہ سردار شیر باز ساتکزئی سمیت گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

    دوسری جانب سردار شیر باز ساتکزئی نے گرفتاری سے قبل بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس الزام کی تردید کی تھی ان کا کہنا تھا کہ ان کی سربراہی میں کوئی جرگہ منعقد نہیں ہوا اور یہ فیصلہ گاؤں کے مقامی افراد نے خود کیا تھا دہرے قتل میں ملوث مرکزی ملزم جلال تاحال مفرور ہے اور اس کی تلاش جاری ہے، پولیس نے مقدمے کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • سبی: بولان میل کو تباہ کرنے کی کوشش ناکام ،ریلوے ٹریک دھماکے سے تباہ

    سبی: بولان میل کو تباہ کرنے کی کوشش ناکام ،ریلوے ٹریک دھماکے سے تباہ

    کوئٹہ:بولان کے علاقے ڈنگرہ میں بولان میل کو تباہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔

    ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان کے علاقے ضلع سبی کے علاقے ڈنگرا میں ریلوے ٹریک کو نامعلوم افراد نے دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا کراچی سے کوئٹہ آنے والی بولان میل کو ڈیرہ مراد جمالی میں روک دیا گیا، بولان کے علاقے ڈنگرہ میں بولان میل کو اڑانے کی کوشش کی گئی، ٹرین کے گزرتے ہی ریلوے ٹریک دھماکے سے تباہ ہوگیا-

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے اس وقت ہوا جب بولان میل گز رہی تھی اور وہ حادثے سے بال بال بچی ہے، دھماکے سے اس کی بوگی نمبر 7 کو جزوی نقصان پہنچا واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ریلوے کی ٹیم متاثرہ مقام پر روانہ ہو گئی،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس ٹریک پر ٹرینوں کی آمد و رفت روک دی گئی ہے، کلیئرنس کے بعد ہی ٹرینیں روانہ کی جائیں گی۔

    ممبئی ٹرین دھماکہ کیس: مسلمان نوجوانوں کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسحاق ڈار کل امریکی ہم منصب سے ملاقات کریں گے، دفتر خارجہ

    اسحاق ڈار کل امریکی ہم منصب سے ملاقات کریں گے، دفتر خارجہ

  • بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آ گیا،ملزمان کی رہائی کا مطالبہ

    بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آ گیا،ملزمان کی رہائی کا مطالبہ

    بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آگیا جس نے کیس کا رخ ہی موڑ دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ میرا نام گل جان ہے اور میں بانو کی ماں ہوں، جھوٹ نہیں بول رہی ہوں، حقیقت یہ ہے کہ بانو پانچ بچوں کی ماں تھی، وہ کوئی بچی نہیں تھی اس کا بڑا بیٹا نور احمد ہے، جس کی عمر 18 سال ہے، دوسرا بیٹا واسط ہے، جو 16 سال کا ہےاس کے بعد اس کی بیٹی فاطمہ ہے، جو 12 سال کی ہے، پھر اس کی بیٹی صادقہ ہے، جو 9 سال کی ہے، اور سب سے چھوٹا بیٹا زاکر ہے جس کی عمر 6 سال ہے۔

    والدہ نے کہا کہ یہ کوئی بے غیرتی نہیں تھی بلکہ بلوچ رسم و رواج کے مطابق کیا گیا، بانو 25 دن احسان کے ساتھ بھاگ گئی تھی اور وہ اس کے ساتھ رہ رہی تھی 25 دن بعد وہ واپس آ گئی تب بانو کے شوہر نے بچوں کی خاطر اسے معاف کر دیا اور اسے ساتھ رکھنے پر راضی ہو گیا، احسان اللہ آئے روز میرے بیٹوں کو دھمکیاں دیتا تھا، آئے روز ٹک ٹاک ویڈیوز بنا کر میرے بیٹوں کو طیش دلاتا تھا۔

    معاشی سطح پر حکومت پاکستان کی مکمل معاونت کریں گے،عالمی بینک

    والدہ نے مزید کہا کہبیٹی بانو کو بلوچی رسم و رواج کے مطابق سزا دی گئی، بلوچی معاشرتی جرگے کے ذریعے بانو کو سزا دی گئی، ہمارے لوگوں نے کوئی ناجائز فیصلہ نہیں کیا، ہم نے لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ سردار شیر باز ساتکزئی کے ساتھ نہیں، بلکہ بلوچی جرگے میں کیا،میں اپیل کرتی ہوں کہ سردار شیر باز ساتکزئی اور دیگر گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

    بلوچستان میں جوڑے کا قتل :ملزم سردار شیرباز ستکزئی کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    واضح رہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں عیدالاضحیٰ سے 3 روز قبل بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو بے دردری سے سرعام قتل کیا گیا تھا، واقعے کی ویڈیو 2 روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے پرپولیس حرکت میں آئی تھی۔

    واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایچ ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے مرکزی ملزم بشیر احمد اور ستکزئی قبیلے کے سربراہ سردار شیر باز ستکزئی، ان کے 4 بھائی اور 2 محافظوں سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

    مدعی مقدمہ کے مطابق بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا، واقعے میں مبینہ طور پر شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر، عجب خان، جان محمد، بشیر احمد اور دیگر 15 نامعلوم افراد شامل تھے، ان افراد نے خاتون اور مرد کو سردار شیر باز خان کے سامنے پیش کیا جہاں سردار نے کارو کاری کا فیصلہ سنایا اور دونوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، بعدازاں انہیں گاڑیوں میں لے جا کر کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ڈیگاری میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈیگاری میں قتل کیے گئے خاتون اور مرد کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا، دونوں شادی شدہ تھے اور دونوں کو 5،5 بچے تھے۔

  • بلوچستان میں جوڑے کا قتل :ملزم سردار شیرباز ستکزئی کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    بلوچستان میں جوڑے کا قتل :ملزم سردار شیرباز ستکزئی کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انسداد دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے خاتون اور مرد کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم سردار شیر باز ساتکزئی کا پولیس کی استدعا پر مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

    کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک میں خاتون اور مرد کے قتل کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر پولیس نے نامزد ملزم سردار شیر باز ستکزئی کو عدالت میں پیش کیا،عدالت نے پولیس کی استدعا پر مزید 10 روز کا ریمانڈ منظور کرتے ہوئے سردار شیر باز ستکزئی کو سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں عیدالاضحیٰ سے 3 روز قبل بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو بے دردری سے سرعام قتل کیا گیا تھا، واقعے کی ویڈیو 2 روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے پرپولیس حرکت میں آئی تھی۔

    "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایچ ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے مرکزی ملزم بشیر احمد اور ستکزئی قبیلے کے سربراہ سردار شیر باز ستکزئی، ان کے 4 بھائی اور 2 محافظوں سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

    مدعی مقدمہ کے مطابق بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا، واقعے میں مبینہ طور پر شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر، عجب خان، جان محمد، بشیر احمد اور دیگر 15 نامعلوم افراد شامل تھے، ان افراد نے خاتون اور مرد کو سردار شیر باز خان کے سامنے پیش کیا جہاں سردار نے کارو کاری کا فیصلہ سنایا اور دونوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، بعدازاں انہیں گاڑیوں میں لے جا کر کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ڈیگاری میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

    کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟مولانا فضل الرحمان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈیگاری میں قتل کیے گئے خاتون اور مرد کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا، دونوں شادی شدہ تھے اور دونوں کو 5،5 بچے تھے۔

  • کوئٹہ میں مقتول مرد اور خاتون کی قبرکشائی، باقیات کے نمونے لے لیے گئے

    کوئٹہ میں مقتول مرد اور خاتون کی قبرکشائی، باقیات کے نمونے لے لیے گئے

    کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں قتل ہونے والے مرد اور خاتون کی قبرکشائی ہوگئی، دونوں افراد کے باقیات کے نمونے لے لیے گئے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ نے کے حکم بعد کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں قتل ہونے والے مرد اور خاتون کی قبرکشائی کی گئی، دونوں افراد کے باقیات کے نمونے لے لیے گئے نمونے ڈی این اے اور نادرا سے تصدیق کروائے جائیں گے، قبرکشائی میں علاقہ مجسٹریٹ، ایس ایچ او، پولیس سرجن اور دیگر عملہ موجود تھا۔

    علاوہ ازیں کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں اب تک 20 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور واقعے کا مقدمہ بھی ہنہ اوڑک تھانے میں درج کیا جا چکا ہے،کوئٹہ پولیس نے ملزمان کیخلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ زیر دفعہ 302 ت پ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہےایس ایچ او نوید اختر تھانہ ہنہ اوڑک کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، مدعی نے تھانہ میں تحریری درخواست دی کہ ویڈیو وائرل ہوئی جس میں خاتون اور مرد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا،پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہو گا کہ خاتون اور مرد کو کتنی کتنی گولیاں ماری گئیں، معلوم ہو گا کہ واقعہ کتنے دن پرانا ہے۔

    وزیراعظم نےڈیجیٹل ڈریپ سسٹم کا افتتاح کر دیا

    جبکہ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور آئی جی بلوچستان کو کل طلب کرلیا ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، ویڈیو میں مسلح افراد نامعلوم مقام پر ایک خاتون اور مرد پر اندھا دھند فائرنگ کرتے دکھائی دے رہے تھےترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو وائرل ہونے کا نوٹس لیا تھاغیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ عیدالاضحیٰ کے قریب کا واقعہ ہے، اب تک لاشیں برآمد نہیں ہوئیں، علاقے میں اس وقت سی ٹی ڈی اور پولیس موجود ہے۔

    حکومت نے گزشتہ کئی سالوں سے محکمہ ریلوے میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی،ریلوے حکام

  • سی ٹی ڈی کاآپریشن:بچے مصور کاکڑ کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم 2 ساتھیوں سمیت ہلاک

    سی ٹی ڈی کاآپریشن:بچے مصور کاکڑ کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم 2 ساتھیوں سمیت ہلاک

    کوئٹہ کے نواحی علاقے دشت میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے آپریشن کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، دہشت گردوں کے قبضے سے گولہ بارود اور اسلحہ برآمد کرلیا گیا، ترجمان کے مطابق ملزمان بچے مصور کاکڑ کے قتل سمیت سنگین مقدمات میں مطلوب تھے، جن کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق بچے مصور کاکڑ کے قتل کیس میں گرفتار ملزم کو اس کے ساتھیوں کی نشاندہی کے لیے ساتھ لے جایا جارہا تھا کہ سی ٹی ڈی کی ٹیم کو دیکھتے ہی دہشت گردوں نے فائرنگ کردی فائرنگ کےتبادلے میں گرفتار ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا، سی ٹی ڈی سے مقابلے میں مزید دو دہشت گرد بھی مارے گئے، مارے گئے تینوں دہشت گردوں کا تعلق کالعدم مذہبی تنظیم سے تھا –

    جنوبی کوریا :جیجو ایئر کے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں شواہد سامنے آگئے

    ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ تینوں دہشت گرد مختلف دہشت گردی کی وارداتوں، قتل، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب تھے، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے۔

    اپنے ملک کے سفارتکار بنیں ، شرمندگی نہ بنیں ، شاہد آفریدی

  • کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مارگٹ میں خاتون اور مرد کے لرزہ خیز قتل پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں، ریاست ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور اس کیس میں بھی ریاست مظلومین کے ساتھ ہے-

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے قبل ہی انہوں نے نوٹس لے کر آئی جی کو ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا اب تک اس کیس میں 11 افراد کی گرفتاری ڈالی جاچکی ہےجبکہ مزید کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں،کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں، ریاست ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور اس کیس میں بھی ریاست مظلومین کے ساتھ ہے۔

    انہوں نے متعلقہ ڈی ایس پی کو معطل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی سردار سردار شیرباز خان کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے،حکومت واقعے کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کرا رہی ہے سوشل میڈیا پر اس قتل کو نوبیاہتا جوڑے کا قتل قرار دیا جارہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کا آپس میں کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا مقتولہ بانو بی بی پہلے سے شادی شدہ اور پانچ بچوں کی ماں تھی، اور مقتول احسان اللہ بھی شادی شدہ تھا۔

    شاہد آفریدی سے ملاقات کی تصویر وائرل ہونے پر اجے دیوگن کو تنقید کا سامنا

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ وکٹم بلیمنگ کی روش پر نہیں چلیں گے کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ذاتی فیصلے کرتے ہوئے کسی کو قتل کردے سرفراز بگٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جرگوں کی آڑ میں قتل جیسے جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، اور حکومت ایسے غیرقانونی جرگوں کے خلاف مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ مقتولین کے لواحقین اب تک ایف آئی آر درج کرانے کو تیار نہیں، لیکن اس کے باوجود ریاستی سطح پر مقدمہ درج کیا گیا ہے پولیس جب تفتیش کے لیے جاتی ہے تو مرد علاقے سے غائب ہو چکے ہوتے ہیں، جبکہ خواتین گھروں سے باہر نکل کر پولیس پر پتھراؤ کرتی ہیں آئندہ بھی ایسے جرگوں کی حمایت نہیں کی جائے گی، بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار ہی اپنایا جائے گاانہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کیس میں تمام ملوث افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا، اور انصاف ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔

    امریکا ’’سکھ فار جسٹس‘‘ کا بھارتی یومِ آزادی سے متعلق بڑا اعلان

    سرفراز بگٹی کے مطابق یہ ویڈیو کسی نے باہر سے حاصل نہیں کی، بلکہ یہ قاتلوں کی ”مہربانی“ ہے کہ انہوں نے خود اسے پوسٹ کیا۔ حکومت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور جلد ہی قاتلوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا آج کا دور سوشل میڈیا کا ہے، جہاں تحقیق کے بغیر خبریں پھیل جاتی ہیں ان کے خیال میں کسی بھی خبر کو جاننے کے بعد اس کی تحقیق ضرور کرنی چاہیےاس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں آج بھی جرگہ سسٹم قائم ہے اور کہیں نہ کہیں ہم سب اس نظام کے اثر میں آ رہے ہیں، مگر حکومت آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان جرگوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔