Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • ڈیرہ مراد جمالی میں مسلح افراد کی فائرنگ،خاتون سمیت 2 افراد  قتل

    ڈیرہ مراد جمالی میں مسلح افراد کی فائرنگ،خاتون سمیت 2 افراد قتل

    ڈیرہ مراد جمالی میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے خاتون سمیت 2 افراد کو قتل کردیا۔

    باغی ٹی وی: ڈیرہ مراد جمالی کی تحصیل نصیر آباد کے پولیس تھانہ فلیجی کی حدود گوٹھ بانڑی میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے خاتون سمیت 2 افراد کو قتل کردیا،واقعے کی وجہ سیاہ کاری بتائی گئی ہے جبکہ لاشیں ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کردی گئی، ضروری کارروائی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کردی گئیں، پولیس نے دوہرے قتلِ کا مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

    فخر زمان نے اپنے پلیئر ایجنٹ سے علیحدگی اختیار کر لی

    دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجگورکے علاقے پروم میں ڈیم کی دیکھ بھال پرمامور مقامی افراد پر فائرنگ کی گئی نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے، جاں بحق افراد کی میتیں ٹیچنگ اسپتال پنجگور منتقل کر دیا گیا ہے، 2 زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، ضلعی انتظامی افسران جائے موقع پر موجود ہیں، واقعے کی تحقیقات کی جاررہی ہیں۔

    لیویز کے مطابق واقعے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

    ملک کے مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

  • بلوچستان میں عدم تحفظ پر گہری تشویش ہے، محمود خان اچکزئی

    کوئٹہ: ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ملک کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایک جنگی ماحول پایا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بیان کوئٹہ سے جاری کیا گیا، جہاں انہوں نے بلوچستان کی سڑکوں کی عدم تحفظ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہوں پر درجنوں افراد کے قتل اور ٹرکوں کو جلا دینے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔اچکزئی نے کہا کہ ملک میں انصاف کا معیار سب کے سامنے ہے، اور اس صورتحال کے سبب جمہوریت کو کمزور سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دکی میں غریب مزدوروں کے قتل کا ذکر کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہمیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ گاڑیوں کو کون آگ لگاتا ہے، اور قیام امن کے لیے ہم ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔
    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی کے فلور پر صرف باتیں کی جاتی ہیں اور کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے کے تحت آئین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ یہ الفاظ اچکزئی کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ امن و انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔محمود خان اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اس جنگی ماحول سے نکلنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اور عوامی نمائندوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ ان کی اس گفتگو نے بلوچستان کے عوام کی مشکلات کی عکاسی کی ہے اور ایک مرتبہ پھر سیکیورٹی اور انصاف کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔

  • سبی میں یوتھ فیسٹیول کا انعقاد

    سبی میں یوتھ فیسٹیول کا انعقاد

    سبی:سبی میں یوتھ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا-

    باغی ٹی وی : بلوچستان کے ضلع سبی میں ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور میر چاکر رند یونیورسٹی کے باہمی اشتراک سے گرینڈ یوتھ فیسٹیول کا انعقادکیا گیا،فیسٹیول میں ضلع سبی کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات، اساتذہ اور مقامی نوجوانوں نے خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،مقامی پارک کو خوبصورت روشنیوں سے سجایا گیا،فیسٹیول کا آغاز پودا لگانے سے کیا، فیسٹیول میں مختلف اسکول کے طلباء وطالبات نے ملی نغمے ، نعت، تقریری مقابلوں میں حصہ لیا-

    https://x.com/Z_K004/status/1848439841148874901

    یوتھ فیسٹیول میں وال پینٹنگز، آرٹ ورک، گرین سبی ڈرائیو اور صفائی ستھرائی مہم کا انعقاد کیاگیا، اس کے علاوہ مختلف اسپورٹس ایونٹس جن میں بیڈمینٹن، والی بال، رسہ کشی، گھڑ سواری اور اونٹ سواری منعقد کیے گئے،مقامی سنگرز نے روایتی گیت گائے،نوجوانوں نے مقامی موسیقی پر رقص کیا، اور ان تقریبات کے انعقاد سے مقامی نوجوان خوب لطف اندوز ہوئے،فیسٹیول میں آںے والے بچے جھولوں ،گھڑ سواری اور اونٹ کی سواری سے لطف اندوز ہوئے-

    امریکی ایوان نمائندگان کا عمران خان کی رہائی کیلئے جوبائیڈن کو خط

    انقرہ میں حملہ: ترکیہ کی عراق اور شام میں کردعسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پربمباری

    راولپنڈی ٹیسٹ: انگلینڈ کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

  • ناکام احتجاج: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تربت میں مظاہرین کو ورغلانے میں ناکامی

    ناکام احتجاج: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تربت میں مظاہرین کو ورغلانے میں ناکامی

    تربت: بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) تربت کے غیور بلوچوں کو اپنے حقوق کے لئے احتجاج کی دعوت دینے میں ناکام رہی ہے، جس نے بلوچستان کے عوام کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بی وائے سی کی جانب سے حالیہ مظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام ماہرنگ بلوچ کے حقوق اور محرومی کے بیانیے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔احتجاج کی ناکامی کے بعد، کئی بلوچوں نے بی وائے سی کے ایجنڈے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، خاص طور پر ماہرنگ اور سمی دین کے حالیہ بیرون ملک دوروں کے بعد۔ یہ دورے کئی بلوچوں کے لئے ایک جھنجھوڑنے کا موقع بنے، جنہوں نے حقوق کے نام پر ماہرنگ کے ایجنڈے کی حقیقت کو سمجھنا شروع کر دیا۔
    بلوچستان کے لوگ، جنہوں نے طویل عرصے سے حالات کا بغور مشاہدہ کیا ہے، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ماہرنگ ہمیشہ دہشت گردوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، لیکن جب یہ دہشت گرد حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات کو بم دھماکوں سے تباہ کرتے ہیں تو ماہرنگ کی خاموشی اس کی دوغلی پالیسی کو واضح کرتی ہے۔اس تناظر میں، یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ دہشت گرد تنظیم بی ایل اے ہے، جس کی قیادت غفار لانگو کی بیٹی کر رہی ہے۔ مقامی عوام نے یہ محسوس کیا ہے کہ اس تنظیم کے دہشت گردانہ اقدامات بلوچستان کی ترقی کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ ایک بار پھر اپنے حقوق کے حقیقی علمبرداروں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
    ماہرنگ بلوچ کے بیانیے اور بی وائے سی کی ناکامی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا واقعی یہ تنظیمیں بلوچ عوام کے مفاد میں کام کر رہی ہیں، یا ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے؟ اس صورتحال نے بلوچوں کو ایک نئے غور و فکر کی طرف متوجہ کیا ہے، جہاں وہ اپنے حقوق اور ترقی کے حقیقی مسائل پر بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آنے والے دنوں میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بی وائے سی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے گی یا یہ مظاہرین کی ناکامی ایک مستقل حقیقت بن جائے گی۔

  • سرفراز بگٹی کا بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی فنڈز میں 100 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان

    سرفراز بگٹی کا بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی فنڈز میں 100 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان

    کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی فنڈز میں 100 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے بلوچستان کے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں کیا، جہاں انہوں نے صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ یہ فنڈز کی فراہمی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی، جس کا مقصد بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف وہی ادارے ترقیاتی فنڈز حاصل کر سکیں گے جو اپنے کاموں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔
    اس کے ساتھ ہی سرفراز بگٹی نے وسائل کے بےدریغ استعمال اور بدعنوانی کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ایک مؤثر میکنزم تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ صوبے میں ترقیاتی فنڈز کا صحیح استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے پیسوں کا غلط استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔اس اعلان کے بعد، بلدیاتی اداروں کو توقع ہے کہ اس اضافے سے ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل ہوں گے، جس کا براہ راست فائدہ مقامی آبادی کو پہنچے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ صوبے کی ترقی کے لیے وہ ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ یہ اقدام بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کو فروغ دینے اور عوامی سہولیات میں بہتری لانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

  • پشین: لیویز فورس کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، 1 گرفتار

    پشین: لیویز فورس کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، 1 گرفتار

    بلوچستان کے ضلع پشین کی تحصیل برشور توبہ میں لیویز فورس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے دو دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ ایک دہشتگرد کو گرفتار کرلیا۔ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بروقت اور مؤثر اقدامات سے علاقے کو ایک بڑے دہشتگردی کے حملے سے محفوظ کر لیا گیا۔حکومت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے کے ایک بہادر مقامی چرواہے نے دہشتگردوں کو اپنے گاؤں میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ چرواہے کی جرات مندی سے دہشتگردوں کو ٹکر ملی جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ چرواہے اور مقامی افراد کی جانب سے دہشتگردوں کی روک تھام کی کوشش نے سکیورٹی فورسز کو فوری کارروائی کا موقع فراہم کیا۔لیویز فورس نے علاقے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران شدید مقابلہ ہوا جس میں فتنہ الخوارج کے دو دہشتگرد موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار دہشتگرد سے اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے جس کی مدد سے مزید کارروائیاں کی جا سکیں گی۔
    حکومت بلوچستان کے ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پوری طرح پرعزم ہیں اور بے گناہ شہریوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی حمایت سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی بھی دہشتگرد کو بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے تاکہ کوئی بھی ممکنہ خطرہ روکا جا سکے۔ سکیورٹی فورسز علاقے میں مزید آپریشنز کر رہی ہیں تاکہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور عوام کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔بلوچستان میں حالیہ کارروائیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف پوری طرح متحرک ہیں اور دہشتگردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں۔

  • دکی میں 21   کان کنوں کا قتل،مزدوروں نے سیکیورٹی ملنے تک احتجاجاً کام بند کر دیا

    دکی میں 21 کان کنوں کا قتل،مزدوروں نے سیکیورٹی ملنے تک احتجاجاً کام بند کر دیا

    دکی: بلوچستان کے ضلع دکی میں 21 کان کنوں کے جاں بحق ہونے کے بعد دیگر کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے کام بند کردیا۔

    باغی ٹی وی : دکی میں کوئلہ کانوں پر فائرنگ کے واقعات کے نتیجے میں 21 افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد کان کن سراپا احتجاج ہیں، مظاہرین نے احتجاجاً کوئلہ کانوں میں کام بند کردیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ 21 کان کنوں کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، جب تک انہیں سکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی وہ احتجاج جاری رکھیں گے، ہمارے لیبر کو تحفظ دیا جائے اور جب تک ہمارے لیبر کو تحفظ نہیں دیا جاتا ہم انہیں کام کرنے نہیں دیں گے۔

    واضح رہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے دکی کے ڈسٹرکٹ چیرمین حاجی خیر اللہ کی کوئلہ کانوں پر راکٹ دستی بم سے حملہ کیا اور وہاں موجود کان کنوں پر فائرنگ کردی جس سے 20کان کن جان بحق اور 7 زخمی ہوگئے حملوں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کا تعلق پشین، قلعہ سیف اللہ، ژوب، مسلم باغ، موسی خیل، کچلاک اور افغانستان سے ہے۔

    کوئلہ کان کے مالک حاجی خیر اللہ نے بتایا کہ مسلح افراد نے دس کوئلہ کانوں کی مشینری کو بھی جلا دیا ہے، واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ایف سی موقع پر پہنچ گئی اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    وزیراعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی نے دکی میں بے گناہ مزدوروں کے قتل کی مذمت کرتےہوئے واقعے پر برہمی کا اظہار کیا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا دہشت گردوں کا ایجنڈا پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے، مزدوروں کو سافٹ ٹارگٹ سمجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے، دہشت گرد بزدل ہیں، دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

  • بلوچستان: بی ایل اے کا دکی کی کوئلہ کانوں سے بھتہ وصولی کا انکشاف

    بلوچستان: بی ایل اے کا دکی کی کوئلہ کانوں سے بھتہ وصولی کا انکشاف

    بلوچستان کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبد الرحمان کھیتران نے حال ہی میں ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) دکی کی کوئلہ کانوں سے روزانہ 40 لاکھ روپے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات سوموار کے روز بلوچستان اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ حالیہ دنوں میں لورالائی ڈویژن میں دہشت گردی کے واقعات میں 50 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے 50 مرغیاں بھی حلال کردی جائیں تو گاؤں میں کہرام مچ جاتا ہے، لیکن یہاں یومیہ ایک شخص کا قتل کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں حکومتی سنجیدگی کی مثال یہ ہے کہ واقعہ کے بعد صرف ڈی سی اور ڈی پی او کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
    انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں گڈ گورننس کی کمی ہے اور بی ایل اے صوبے میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دہشت گرد تنظیم نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے لوگ ان عناصر کو بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ موسی خیل میں کالعدم تنظیموں کا کیمپ موجود ہے، لیکن اس کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی رٹ قائم کرے اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرے، بصورت دیگر یہ تنظیمیں خود فیصلے کرنے کی جرات کر سکتی ہیں۔وزیر نے انکشاف کیا کہ دکی کی کوئلہ کانوں سے وصول ہونے والا بھتہ روزانہ 40 لاکھ روپے ہے، جو کہ جناح روڈ پر واقع ایک نجی بینک میں کالعدم تنظیم کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، کوئٹہ کے سٹہ نالے کے اطراف اور گائے خان چوک پر بھی کالعدم تنظیم کے کارندے بھتہ وصول کرتے ہیں۔
    یہ انکشافات اس وقت سامنے آ رہے ہیں جب بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال اور دہشت گردی کی لہر نے لوگوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوامی نمائندوں کی جانب سے اس طرح کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے، بلکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔

  • قطر کے شاہی خاندان کی بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی یقین دہانی

    قطر کے شاہی خاندان کی بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی یقین دہانی

    کوئٹہ: قطر کے شاہی خاندان کے رکن شیخ طلال خلیفہ کے اے التھانی نے بلوچستان کے نوجوانوں کو قطر میں روزگار فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔ پیر کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے شیخ طلال کی قیادت میں قطر کے وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قطری وفد کو بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے قطری وفد کو "چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام” کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت 30 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دے کر قطر اور دیگر ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
    وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ پروگرام بلوچستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جہاں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کو بیرون ملک باعزت روزگار فراہم کیا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف یہ نوجوان اپنے خاندانوں کی کفالت کریں گے بلکہ پاکستان کے لیے قیمتی زر مبادلہ بھی بھجوائیں گے، جس سے ملکی معیشت میں استحکام آئے گا اور غربت میں کمی واقع ہوگی۔شیخ طلال خلیفہ کے اے التھانی نے "چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام” کو سراہتے ہوئے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر مختلف شعبوں میں بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ وہ اپنے ملک کی خدمت کے ساتھ ساتھ قطر میں بھی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔
    اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے قطری شاہی خاندان کے وفد کو بلوچستان کی ثقافت اور روایات کے مطابق سوئنیر اور تحائف پیش کیے، جس پر معزز مہمانوں نے شکریہ ادا کیا۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کا باعث بنے گی اور بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے قطر میں روزگار کے دروازے کھلنے کا ایک بڑا موقع فراہم کرے گی، جس سے صوبے میں معاشی ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے ہموار ہوں گے۔

  • پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر داؤد شاہ کاکڑ کو پولیس نے گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر داؤد شاہ کاکڑ کو پولیس نے گرفتار کرلیا

    کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بلوچستان کے صوبائی صدر اور سینئر رہنما داؤد شاہ کاکڑ کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ داؤد شاہ کاکڑ کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ کوئٹہ سے سبی جا رہے تھے تاکہ وہاں منعقد ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکت کر سکیں۔اطلاعات کے مطابق داؤد شاہ کاکڑ کو سریاب روڈ پر پولیس نے روک کر حراست میں لے لیا۔ گرفتاری کے وقت داؤد شاہ کاکڑ سبی جا رہے تھے جہاں پاکستان تحریک انصاف کا ایک بڑا عوامی اجتماع منعقد ہونا تھا، جس میں ان کی شرکت اہم سمجھی جا رہی تھی۔
    پولیس کی جانب سے ان کی گرفتاری کی کوئی باضابطہ وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے، تاہم یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پی ٹی آئی کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔ پارٹی کارکنان اور رہنما حالیہ مہینوں میں مختلف مقدمات اور تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔داؤد شاہ کاکڑ کی گرفتاری پر پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا اور کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داؤد شاہ کاکڑ ایک مقبول رہنما ہیں اور ان کی گرفتاری کا مقصد پارٹی کو کمزور کرنا ہے۔
    بلوچستان میں پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ جلسہ ہر حال میں منعقد ہوگا اور وہ داؤد شاہ کاکڑ کی رہائی کے لیے قانونی اور عوامی سطح پر اقدامات کریں گے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی مخالفین کو دبانے کی بجائے جمہوری طریقہ اپنائے۔واضح رہے کہ داؤد شاہ کاکڑ بلوچستان میں پی ٹی آئی کے متحرک رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور انہوں نے صوبے میں پارٹی کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی گرفتاری نے صوبے کے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنان میں غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔