Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بلوچستان اسمبلی کا کل ہونے والا اجلاس: صحت، تعلیم اور مالیاتی مسائل پر اہم فیصلے متوقع

    بلوچستان اسمبلی کا کل ہونے والا اجلاس: صحت، تعلیم اور مالیاتی مسائل پر اہم فیصلے متوقع

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کل سہ پہر تین بجے ہوگا جس میں صوبے کے مختلف اہم مسائل زیر بحث آئیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق، بی بی عصمت ملک کی جانب سے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جائے گا جس میں میمو ریک ہسپتال، خدا بادان، پنجگور کو فعال نہ کیے جانے کی طرف اسمبلی کی توجہ مبذول کرائی جائے گی۔بی بی عصمت ملک نے پنجگور کے لوگوں کو درپیش صحت کی بنیادی سہولیات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میمو ریک ہسپتال کا طویل عرصے سے غیر فعال رہنا عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے، اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کسی مؤثر اقدام کا نہ اٹھایا جانا قابل مذمت سمجھا جا رہا ہے۔اجلاس میں صوبے کے مالیاتی امور پر بھی گفتگو کی جائے گی۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیرانی آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت بلوچستان کے مالی سال کی آڈٹ رپورٹس پیش کریں گے۔ ان آڈٹ رپورٹس کا مقصد صوبے کے مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانا اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگیوں کو سامنے لانا ہے۔ یہ رپورٹس حکومتی وسائل کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے متعلق تفصیلات فراہم کریں گی۔

    اجلاس میں صوبے میں تعلیم کی ابتر صورتحال پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ایک قرار داد پیش کی جائے گی جس میں صوبے میں تعلیمی سہولیات کی زبوں حالی اور بچوں کی تعلیم تک رسائی میں درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ قرار داد کے ذریعے حکومت سے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جائے گا تاکہ صوبے کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے اور ان کی تعلیم تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔اعلامیہ کے مطابق، اجلاس میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اور محکمہ فشریز سے متعلق مختلف سوالات بھی دریافت کیے جائیں گے جن کے جوابات ایوان کو دیے جائیں گے۔ محکمہ فشریز کے حوالے سے مچھلیوں کے غیر قانونی شکار اور اس شعبے میں ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں پر بھی بحث کی توقع ہے۔اجلاس میں شرکت کے لیے تمام اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بروقت اسمبلی پہنچیں تاکہ صوبے کے عوامی مسائل پر بروقت کارروائی کی جا سکے۔ بلوچستان کے عوام اس اجلاس کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ صوبے کے صحت، تعلیم اور مالیاتی مسائل کے حوالے سے مؤثر فیصلے متوقع ہیں۔

  • دُکی: کوئلہ کانوں پر مسلح افراد کا حملہ، 20 کان کن جاں بحق، 7 زخمی

    دُکی: کوئلہ کانوں پر مسلح افراد کا حملہ، 20 کان کن جاں بحق، 7 زخمی

    کوئٹہ(باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان کے علاقے دکی میں رات گئے مقامی کوئلہ کانوں پر ہونے والے مسلح حملے میں 20 کان کن جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 7 زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ دکی کے ڈسٹرکٹ چیرمین حاجی خیر اللہ کی کوئلہ کانوں پر پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے نہ صرف راکٹ اور دستی بموں سے حملہ کیا بلکہ اندھا دھند فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں موقع پر موجود کان کن جاں بحق ہوگئے۔ زخمی افراد کو فوری طور پر دکی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے لورالائی کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    جاں بحق ہونے والے کان کنوں کا تعلق مختلف علاقوں جیسے پشین، قلعہ سیف اللہ، ژوب، مسلم باغ، موسیٰ خیل، کچلاک اور افغانستان سے تھا۔ اس سانحے میں نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ حملہ آوروں نے کوئلہ کانوں کی مشینری کو بھی نشانہ بنایا اور تقریباً دس کوئلہ کانوں کی مشینری جلا دی جس سے بھاری مالی نقصان ہوا۔

    حملے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ایف سی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔ تاہم ابھی تک کسی گروہ یا تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

    دکی میں کوئلہ کانیں بلوچستان کی معیشت کے لیے اہم ہیں لیکن ان پر ہونے والے حملے کان کنوں اور مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس واقعے نے کان کنوں کے اہل خانہ کو غم میں مبتلا کردیا ہے جبکہ علاقے کے لوگ سیکیورٹی کی عدم دستیابی اور انتظامیہ کی ناکامی پر سخت نالاں ہیں۔

    کوئلہ کان کے مالک حاجی خیر اللہ نے بتایا کہ مسلح افراد نے دس کوئلہ کانوں کی مشینری کو بھی جلا دیا ہے۔انہوں نے اس واقعے کو کان کنوں اور ان کی مشینری پر ایک منظم حملہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ حکومتی اور سیکیورٹی ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور مزید سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

    یہ حملہ نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہے بلکہ اس سے علاقے میں کوئلہ کی صنعت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کان کنوں کو پہلے ہی مشکل حالات میں کام کرنا پڑتا ہے اور اس حملے کے بعد ان کی زندگی اور روزگار مزید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

  • آن لائن جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ میں ملوث شخص گرفتار

    آن لائن جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ میں ملوث شخص گرفتار

    کوئٹہ: آن لائن جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ میں ملوث شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان ایف آئی اے کے مطابق سائبر کرائمز سرکل کوئٹہ نے کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے خاتون کو ہراساں اور بلیک میلنگ کرنے میں ملوث ملزم کو گرفتارکرلیا ملزم حمید اللہ کو سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا ملزم کے قبضے سے موبائل فون ضبط کرکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر شواہد بھی برآمد کر لیے گئے۔

    ایف آئی اے کے مطابق ملزم نے متاثرہ خاتون کے نام پر جعلی فیس بک اکاؤنٹس بنا کر قابلِ اعتراض تصاویر اور ویڈیوز شئیرکی تھیں ملزم ان اکاؤنٹس کے ذریعے متاثرہ خاتون اور اس کے گھر والوں کو بلیک میل کر رہا تھا ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • ژوب میں دھماکہ،ایک شخص جاں بحق

    ژوب میں دھماکہ،ایک شخص جاں بحق

    ژوب: بلوچستان کے ضلع ژوب میں ہونے والے دھماکے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق دھماکا ژوب کے علاقے سبکزئی میں ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا، دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے جس کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں سیکورٹی صورتحال اور تھریٹ الرٹ کے پیش نظر ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے،ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ضلع بھر میں غیر قانونی اجتماع اور پانچ سے زائد افراد کے ایک ساتھ اکٹھے ہونے پر پابندی عائد ہوگی، دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ 9 اکتوبر سے ہوگا جو کہ 7 نومبر تک 30 دنوں کیلئے برقرار رہے گا،خلاف ورزی پر تعزیرات پاکستان کے سیکشن 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،ضلعی پولیس سربراہ خیبر اور تمام اسسٹنٹ کمشنروں کو ضروری کارروائی کے لئے مراسلہ جاری کردیا گیا ہے۔

  • سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،بی ایل اے کے 6 اہم دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،بی ایل اے کے 6 اہم دہشتگرد ہلاک

    ہرنائی: بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے 6 اہم دہشتگرد ہلاک ہوگئے-

    باغی ٹی وی : بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں 12 ستمبر 2024 کو سیکیورٹی فورسز نے بی ایل اے کے ٹھکانوں پر انٹیلی جینس بنیادوں پر کامیابی سے جوائنٹ آپریشن کیا ، آپریشن کے نتیجے میں بی ایل اے کے 6 اہم دہشت گرد مارے گئے ہلاک دہشت گردوں میں شافو سمالانی عرف تادین، سرمد خان عرف دستین، محمد گل مری عرف واحد بلوچ، غلام قادرمری عرف انجیر بلوچ، عبید بلوچ عرف فدا اور تاج محمد عرف بابل شامل ہیں۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کے 6 دہشت گردوں کی ہلاکت سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے، ان دہشت گردوں کی ہلاکت بی ایل اے کے لیے بڑا دھچکا ہےدہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیابی واضح کرتی ہے کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، بلوچستان کی غیور عوام نے نام نہاد آزادی کا لبادہ اوڑھے دہشتگردوں کو مسترد کر دیا ہے۔

    وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی بھارت میں ریلیز روک دی گئی

    شبلی فراز کی توہین عدالت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر خارج

  • بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے،بلاول بھٹو

    بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے،بلاول بھٹو

    کوئٹہ: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ان کی جلد مدد کی جائے اور وعدے پورے کیے جائیں-

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ 400 ملین ڈالر کا ورلڈ بینک کا قرض ہو یا سندھ میں جاری ورلڈ بینک کے پروجیکٹس ہوں، یورپی یونین کی اعلان کردہ 700 ملین یوروز کی امداد ہو، یہ تمام فنڈنگ میں نے بطور وزیر خارجہ پاکستان کے لیے جمع کیں اور وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہوکر دنیا کے سامنے مدد کی باتیں کیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں ورلڈ بینک کے تعاون سے گھر بنانے اور سڑکوں کی بحالی کے منصوبے جاری ہیں، ہاؤسنگ کا منصوبہ میرا ہے جو میں نے ورلڈ بینک کے سامنے رکھا اور فنڈنگ کا بندوبست کیا جس کا مقصد بے گھر افراد کو دوبارہ رہائش دینا تھا، ساتھ ہی انہیں زمین کا مالک بھی بنانا تھا اس پر کام شروع کردیا ہے یہ پیسہ کسی وفاقی یا صوبائی بابو کے حوالے نہیں کیا اس پیسے کی حفاظت صوبائی محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کررہا ہے۔

    ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث 3 رکنی گینگ گرفتار

    انہوں نے کہا کہ ہم نے منصوبے کو آؤٹ سورس کیا ہے تاکہ شفافیت رہے، منصوبے میں ورلڈ بینک اور سندھ حکومت دونوں کی فنڈنگ ہے اور وفاق سے بھی دلوایا، بیرون ملک وعدہ بھی پورا کررہا ہے یہ سارے وعدے ہم بلوچستان کے لیے پورے کیوں نہیں کرسکتے؟ یہ بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ہے 400 ملین ڈالرز کا وہ قرض جو میں نے عالمی بینک سے حاصل کیا وہ ڈالرز وفاق نے اپنی جیب میں رکھے اور ہمیں روپیہ دے رہا ہے اور وہ روپیہ بھی وہ کہتے ہیں کہ وہ اسے استعمال کریں گے، 2020ء سے لے کر آج تک وفاق نے ایک گھر بھی نہیں بنایا میں چاہتا ہوں کہ آپ سیلاب متاثرین کو وہ رقم ضرور پہنچائیں آپ یہ کام ضرور کریں اور سندھ کے پلاننگ منسٹر کے ساتھ مل کر کریں، ورلڈ بینک سے پہلے صوبائی اور وفاقی حکومت کو سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔

    شکست کے بعد ٹیم میں تبدیلیاں کرنا آسان ہے،شان مسعود

    بلاول نے کہا کہ اگر صوبائی کے ساتھ وفاق بھی سیلاب متاثرین کے لیے اپنا حصہ شامل کرے اور اسے عالمی سطح پر اسے ثابت کرنے کے لیے راضی ہو تو میں مزید عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان کو فنڈ دلوانے کے لیے تیار ہوں مگر ایسا ہو نہیں رہا مقصد پورا نہیں ہورہا صوبائی اور وفاقی حکومتیں سیلاب متاثرین کے ایشو کو سنجیدگی سے لیں، وفاقی حکومت ہماری آؤٹ سورس کی گئی کمپنیوں اور این جی اوز کے ساتھ معاہدے کرے اور ایسے گھر بنائے کہ اگلے سیلاب میں وہ تباہ نہ ہوں، بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ان کی جلد مدد کی جائے اور وعدے پورے کیے جائیں اس سیلاب سے متعلق امداد اکٹھی ہونے کے بعد حکومت کا جو سلوک رہا ہے اگلی بار اگر مصیبت آئی تو اگلی بار امداد دیتے وقت عالمی ادارے ماضی کو دیکھیں گے، بلوچستان کے فنڈز امداد کے لیے شامل کریں بلوچستان کے سیلاب متاثرین سے سوتیلا سلوک بند کیا جائے۔

    بھارت:مہاتما گاندھی کے بجائے اداکار انوپم کھیر کی تصویر والے نوٹ

  • بلوچ طلبا کو ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ،وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

    بلوچ طلبا کو ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ،وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

    کوئٹہ:وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے معصوم لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے اور نوجوانوں کو ریاست کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : خودکش حملہ ترک کرنے والی خاتون عدیلہ بلوچ کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ عدیلہ بلوچ جیسے سینکڑوں بچے اور بچیاں دہشت گردوں کے کمیپ میں موجود ہیں، خودکش حملہ ترک کرنے والے بچی کو سی ایم ہاؤس بلانا ضروری سمجھا،کہ سب کو پتا چلنا چاہیے کہ دہشتگرد کیسے لوگوں کو جھانسہ دے کر خودکش حملہ کرواتے ہیں جب عدیلہ کے والد کو میسج آیا کہ اس کی بچی دوبارہ گھر نہیں آئے گی تو اس نے جدوجہد کی اور واپس بلایاخودکش حملہ کرکے جانیں ضائع ہونے سے بچانے کا کریڈٹ عدیلہ بلوچ کے والد کو جاتا ہے۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ تمام والدین عدیلہ بلوچ کے والد کی طرح بچوں سے رابطہ منقطع ہونے پر حکومتی نمائندوں سے رابطہ کریں، حکومت خودکش حملے کرانے کے بجائے بلوچ خواتین کو پی ایچ ڈی کرا رہی ہے پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں کو دہشت گردی کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔

    نئے ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک آج عہدے کا چارج سنبھالیں گے

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ پنجگور میں سوفٹ ٹارگٹ کے ذریعے مزدوروں کو قتل کیا گیا، ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں ملٹری آپریشن نہیں کرنا چاہتے، عدیلہ بلوچ کا خودکش حملہ ترک کرکے دائرے میں داخل ہونا ایک اہم پیشرفت ہے، دہشت گرد جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے عورتوں کے ذہن خراب کرتے ہیں،یہ صرف ڈالرز کے لیے ہماری عورتوں کو اس جنگ میں ڈال رہے ہیں، دہشت گرد معصوم شہریوں کو قتل کر رہے ہیں، یہ خون کی ہولی کھیل رہے ہیں، بلوچستان ایسے آزاد نہیں ہوگا بلوچستان کے بچوں کو ورغلایا گیا ہے۔

    خلائی جہازتکنیکی خرابی کے باعث امریکی خلابازوں کو لئے بغیر زمین پر واپس

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے طلبا کو اسکالر شپس دے رہے ہیں، ریاست ماں کا کردار ادا کر رہی ہے، بلوچستان کی خدمت بلوچ کے حق کی بات ہے۔جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے معصوم نوجوانوں کو ریاست کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے دہشت گردوں نے پسپائی کے بعد سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے،ہم بلوچ طلبا کو ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے تشدد کے ذریعے بلوچستان کی خدمت کیسے ہوگی؟ بلوچستان کے نوجوانوں کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • پنجگور: فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق 7 مزدوروں کی نماز جنازہ اور تدفین

    پنجگور: فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق 7 مزدوروں کی نماز جنازہ اور تدفین

    بلوچستان کے ضلع پنجگور میں حالیہ فائرنگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہونے والے سات مزدوروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقے ملتان روانہ کیا گیا۔ اس دردناک واقعے نے پورے ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے اور متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے اس کی مذمت کی ہے۔جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی شناخت ساجد، شفیق، فیاض، افتخار، خالد، سلمان، اور اللہ وسایا کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ تمام مزدور ملتان کی تحصیل شجاع آباد کے مختلف علاقوں، بشمول بستی چدھڑ، بستی راجا پور، چک سردارپور، شاہ پور ابھہ، اور بستی ملوک سے تعلق رکھتے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے مزدوروں کی میتیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملتان پہنچانے کا بندوبست کیا۔ نشتر ہسپتال پہنچنے پر رکن پنجاب اسمبلی سلمان نعیم اور ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم سندھو نے میتیں وصول کیں، جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
    مزدوروں کی لاشیں ملنے میں تاخیر کے باعث ورثا نے موٹروے ایم فائیو چدھر پل پر احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ملتان سکھر موٹر وے کی ٹریفک کی روانی بند ہوگئی۔ یہ احتجاج متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے عدم تحفظ اور انصاف کے مطالبات کے اظہار کے طور پر کیا گیا۔پنجگور میں مزدوروں کی تدفین شجاع آباد کے مقامی قبرستان میں کی گئی، جہاں نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ ایک جذباتی لمحہ تھا جب پورے علاقے کے لوگ اپنی ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔محنت کشوں کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف پنجگور کے تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشتگردی ایکٹ، قتل، اقدام قتل، اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام نے اس واقعے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

    سیاسی رہنماؤں کی مذمت
    وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و سیاسی امور رانا ثنااللہ نے مزدوروں کے ظالمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نہتے اور بے گناہ افراد کے بہیمانہ قتل کی بد ترین مثال ہے۔ انہوں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانیت کے اس درندہ صفت دشمن کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ رانا ثنااللہ نے اس غم کی گھڑی میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مرحومین کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری طور پر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی پنجگور میں مزدوروں کے بہمانہ قتل کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر دھرتی پر بے گناہوں کا لہو گرا، اور دہشت گرد بزدل اور انسانیت سے بے بہرہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان دہشت گردوں کا حساب لیا جائے گا جو بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔
    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بلوچستان میں عسکریت پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پچھلے ماہ ایک ہی دن میں موسیٰ خیل، مستونگ، بولان، اور قلات میں مختلف واقعات میں 40 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 21 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے تھے۔یہ واقعہ نہ صرف مزدوروں کے لواحقین کے لیے ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے بلکہ یہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی لہر کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ حکومتی اداروں کی جانب سے انصاف کی فراہمی اور محفوظ ماحول کی تشکیل کی ضرورت اب پہلے سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے تاکہ ایسی درندگی کی روک تھام کی جا سکے۔

  • موسیٰ خیل میں اغوا کیے گئے 20 مزدور بازیاب

    موسیٰ خیل میں اغوا کیے گئے 20 مزدور بازیاب

    بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں اغوا کیے گئے 20 مزدوروں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ آج صبح پیش آیا جب مسلح افراد نے گیس کمپنی کے ایک کیمپ پر حملہ کیا اور مزدوروں کو اغوا کر لیا۔ اغوا کے بعد مسلح افراد نے کیمپ پر فائرنگ کی اور 8 بلڈوزر کو نذرِ آتش کر دیا۔پولیس نے بتایا کہ مغویوں کو بحفاظت چھوڑ دیا گیا ہے اور اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ واقعے کی وجہ اور ملزمان کے مقاصد کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔بلوچستان کا ضلع موسیٰ خیل ماضی میں بھی ایسے پرتشدد واقعات کا شکار رہا ہے۔ یہ علاقہ لورالائی اور رکھنی بارکھان کے درمیان واقع ہے اور یہاں اکثر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

    اس واقعے سے ایک دن قبل کوئٹہ کے پنجگور علاقے خدا آبادان میں مسلح افراد نے ایک گھر پر حملہ کیا تھا، جس میں 7 مزدور جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔ تمام جاں بحق افراد مزدوری کے لیے آئے ہوئے تھے اور آپس میں قریبی رشتہ دار تھے۔ اس واقعے نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
    یہ بھی یاد رہے کہ اگست 2024 میں موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں ایک اور وحشیانہ واقعہ پیش آیا تھا، جہاں مسلح افراد نے 23 مسافروں کو ٹرکوں اور بسوں سے اتار کر قتل کر دیا تھا۔ ایس ایس پی موسیٰ خیل ایوب اچکزئی کے مطابق تمام افراد کو بے دردی سے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔بلوچستان میں مسلسل بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات نے صوبے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود شدت پسندوں کی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے نہ صرف عام شہریوں بلکہ مزدور طبقے کی زندگیوں کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔

  • پنجگور: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ،  7 مزدور جاں بحق

    پنجگور: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ، 7 مزدور جاں بحق

    بلوچستان کے علاقے پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 7 مزدور جاں بحق ہوگئے۔ یہ افسوسناک واقعہ خدا آبادان میں پیش آیا، جہاں ملزمان نے اندھادھند فائرنگ کرکے مزدوروں کو نشانہ بنایا۔پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق مزدوروں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی لاشوں کو تحویل میں لے کر مقامی ہسپتال منتقل کردیا، جہاں ان کی شناخت کی جارہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مزدوروں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔ حکام کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات میں جلد کارروائی کا وعدہ کیا گیا ہے تاکہ ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔