Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکیورٹی فورسز کے خفیہ اطلاعات پر آپریشن کے دوران 2 دہشتگرد ہلاک کردیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد مارے گئے۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 6 اور 7 ستمبر کی درمیانی شب آپریشن دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کیا گیا۔ مارے گئے دہشتگرد معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فروسز پر کئی حملوں میں ملوث تھے۔

    علاقے میں دیگر ممکنہ دہشتگردوں کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے، قوم کی حمایت سے سیکیورٹی فورسز امن دشمنوں کے عزائم ناکام بنانے کےلیے پرعزم ہیں۔

  • پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 5 دہشت گرد ہلاک

    پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 5 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع پشین میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے وابستہ پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔سی ٹی ڈی کے ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی جمعرات کے روز پشین کے علاقے سرخاب مہاجر کیمپ میں کی گئی۔ سی ٹی ڈی کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے پانچ شارپ شوٹر اس علاقے میں دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ دہشت گرد ممکنہ طور پر پشین اور اس کے گردونواح میں بڑی دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
    سی ٹی ڈی کی ٹیم نے فوری طور پر علاقے کا محاصرہ کر لیا اور دہشت گردوں کو سرنڈر کرنے کی تنبیہ کی۔ تاہم دہشت گردوں نے بجائے ہتھیار ڈالنے کے سی ٹی ڈی ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے جواب میں سی ٹی ڈی کی ٹیم نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں پانچوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں احمد اللہ عرف علی عرف بدری، جس کا تعلق بولدک افغانستان سے تھا، شامل ہے۔ اس کے علاوہ احسان اللہ عرف متوکل عرف حامد اور سمیع اللہ کا تعلق پشین سے ہے۔ دیگر دو دہشت گرد، جن کی شناخت ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی، بھی اس مقابلے میں مارے گئے۔
    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق، دہشت گردوں کے قبضے سے ایک ایس ایم جی، ایک 30 بور ٹی ٹی پسٹل، دو نائن ایم ایم پسٹل، گولیاں، دو ہینڈ گرینیڈ، ایک آئی ای ڈی (دھماکہ خیز مواد)، چار کلو دھماکہ خیز مواد، پرائما کارڈ، اور ایک موٹر سائیکل برآمد کی گئی ہے۔ یہ تمام مواد دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
    سی ٹی ڈی حکام نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے دہشت گردوں کے گروہ کے باقی ماندہ ارکان کی تلاش کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق، فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن جاری رہے گا تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ کارروائی بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اور بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ ملک میں امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔

  • بلوچستان : مون سون بارشوں کے نتیجے میں  جاں بحق افراد کی تعداد 40 ہو گئی

    بلوچستان : مون سون بارشوں کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 40 ہو گئی

    بلوچستان میں مون سون بارشوں کے دوران ہونے والے مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 40 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 24 بچے، 13 مرد، اور 3 خواتین شامل ہیں۔ صوبے میں موسلادھار بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 19 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں 14 بچے، 3 مرد، اور 2 خواتین شامل ہیں۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق یکم جولائی سے جاری شدید بارشوں کے نتیجے میں صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 1 لاکھ 68 ہزار 41 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان بارشوں سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں 1,591 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 15,797 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور انہیں امدادی کارروائیوں کے منتظر رہنا پڑ رہا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق صوبے میں سیلابی صورتحال کے باعث 59 ہزار 719 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ، 179 کلو میٹر پر پھیلی ہوئی سڑکیں بھی بارشوں کی تباہی کی زد میں آئیں۔ بارشوں کے باعث 7 پلوں کو بھی نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور دور دراز علاقوں تک رسائی مشکل ہوگئی۔پی ڈی ایم اے کے مطابق موسلادھار بارشوں کے دوران 593 مویشی ہلاک ہوئے۔ ان بارشوں نے جعفر آباد کے 3 ہیلتھ یونٹس اور لورالائی اور کچھی کے 1،1 ہیلتھ یونٹس کو بھی متاثر کیا، جس سے ان علاقوں میں طبی خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔
    پی ڈی ایم اے اور دیگر حکومتی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، تاہم شدید بارشوں اور سیلابی پانی کی موجودگی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں اور حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ عوامی حلقوں نے صوبے میں ناکافی انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ صوبے میں صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ صوبے کے دور دراز علاقوں میں موجود لوگ حکومتی توجہ کے منتظر ہیں تاکہ انہیں اس قدرتی آفت سے نکالا جاسکے۔

  • مذاکرات کے دروازے کھلے ہے ، ریاست مظلوم کے ساتھ  کھڑی ہوگی: سرفراز بگٹی

    مذاکرات کے دروازے کھلے ہے ، ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوگی: سرفراز بگٹی

    بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا سیاسی سرمایہ ریاست کے مفادات سے بڑھ کر نہیں ہے۔ یہ بیان انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی حالات پر بات کی، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے ان کی حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، اور مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، لیکن اس بات پر زور دیا کہ ریاست کو ظالم کے ساتھ نہیں کھڑا ہونا چاہیے بلکہ مظلوم کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے سیاسی مقاصد ریاست کے مفادات سے بڑھ کر نہیں ہیں، اور اگر ریاست کی ضرورت ہو تو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہنا چاہیے۔
    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں دو مختلف اسکول آف تھاٹ موجود ہیں: ایک وہ جو آزاد بلوچستان کی بات کرتے ہیں اور ملک کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اور دوسرا وہ جو مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر مذاکرات کون کرنا چاہتا ہے؟ اور کہا کہ دہشت گردی کو حقوق سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ غلط ہے۔ سرفراز بگٹی نے گزشتہ حکومتوں کی خراب حکمرانی کو موجودہ حالات کی بنیادی وجہ قرار دیا اور کہا کہ کچھ عناصر پاکستان کا پرچم اتار کر اپنا ترانہ گانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں پرامن کہہ کر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ پرامن نہیں ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں بدانتظامی کی بیخ کنی کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی، اور بیڈ پریکٹسز کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں 846 ملازمین بھرتی کیے گئے تھے جو کہ غیر ضروری تھے، اور کہا کہ یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ صوبے میں چیک پوسٹیں جان بوجھ کر ختم کی گئیں تاکہ عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے، لیکن کچھ عناصر فورسز کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل، وزیراعلیٰ نے آئی جی بلوچستان پولیس معظم جاہ انصاری سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے جرائم پیشہ افراد کی پروفائلنگ کو اپ ڈیٹ کرنے اور تھانوں میں فوری رابطہ کاری کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سرفراز بگٹی نے پولیس کے تربیتی کورسز کو حالات حاضرہ سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے عمل کو بہتر بنا کر دہشت گردی اور جرائم میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پولیس کو مطلوبہ وسائل فراہم کرے گی لیکن کارکردگی کا مستقل جائزہ بھی لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے سی ٹی ڈی کے متحرک کردار کو سراہا اور اس کو مزید فعال بنانے کے لیے وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے اعلامیے کے مطابق، وزیراعلیٰ نے آئی جی بلوچستان کو ہدایت کی کہ اغواء برائے تاوان اور قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس کو آزادانہ ماحول میں اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی حمایت فراہم کرنے کا عزم بھی کیا تاکہ صوبے میں دہشت گردی کے چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

  • کوئٹہ: چمن پھاٹک کے قریب دھماکا، 2 افراد زخمی

    کوئٹہ: چمن پھاٹک کے قریب دھماکا، 2 افراد زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کے نزدیک دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق دھماکا صبح کے وقت چمن پھاٹک کے قریب ہوا، جہاں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ موجود ہے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں اور پولیس کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ریسکیو حکام نے بتایا کہ زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ہسپتال کی جانب سے زخمیوں کی حالت کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے دھماکے کی نوعیت اور اس کے محرکات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ابھی تک دھماکے کی نوعیت یا کسی گروپ کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکا اس وقت ہوا جب بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی حفاظت پر زور دیا جا رہا ہے، اور اس واقعے نے مقامی شہریوں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

  • بلوچستان کے 10 اضلاع آفت زدہ قرار، صوبائی حکومت ہنگامی اقدامات کے لیے تیار

    بلوچستان کے 10 اضلاع آفت زدہ قرار، صوبائی حکومت ہنگامی اقدامات کے لیے تیار

    بلوچستان کے 10 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے، جہاں حالیہ موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کے مطابق صوبے میں جاری ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت مکمل طور پر تیار ہے اور تمام ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔بولان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں نے زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔ ڈھاڈر، مچ، بھاگ، سنی، کھٹن، اور بالا ناڑی میں موسلادھار بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر ریلے آنے سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں۔ مچ کے علاقے میں سیلابی ریلے کی وجہ سے ہیرک اور این 65 شاہراہ پر ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گیا، جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔بلوچستان کے محکمہ پی ڈی ایم اے نے حالیہ مون سون بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں 7 جون سے اب تک ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں مون سون بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں 37 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 17 مرد، 19 بچے، اور 1 خاتون شامل ہیں۔
    بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر مکانات اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 866 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، جبکہ 13,896 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ایک لاکھ 9 ہزار افراد ان بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق موسلادھار بارشوں سے صوبے میں سات پل اور 58 شاہراہیں متاثر ہوئیں۔ ان شاہراہوں کی بندش سے مختلف علاقوں میں آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔بارشوں کے دوران مختلف علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے اور دیگر واقعات میں 401 مویشی مارے گئے، جس سے مقامی لوگوں کو بڑے پیمانے پر معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔سیلابی پانی نے صوبے میں 59,000 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان فصلوں کی تباہی سے کسانوں کو نہ صرف مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے بلکہ زرعی معیشت پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔
    صوبائی حکومت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کی روانگی، متاثرین کے لیے عارضی رہائش گاہوں کا قیام، اور خوراک و دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق وہ ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

  • ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے، دہشت گردوں کا نظریہ مسلط نہیں ہونے دیں گے.سرفراز بگٹی

    ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے، دہشت گردوں کا نظریہ مسلط نہیں ہونے دیں گے.سرفراز بگٹی

    بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے حالیہ دہشت گردانہ حملوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قوم کو یقین دلایا ہے کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات کے حملوں میں دہشت گردوں نے بزدلانہ طریقے سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 38 افراد شہید ہوئے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں بسوں کو روکا، مسافروں کی شناخت کی اور انہیں بے دردی سے قتل کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ حملے کسی خاص قوم یا زبان کے خلاف نہیں تھے بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو نشانہ بنایا۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کا مقصد بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنا اور عوام کو خوفزدہ کرنا ہے، لیکن حکومت اور فورسز ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
    وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دکھاتے ہوئے 21 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ انہوں نے دہشت گردوں کو چیلنج کیا کہ اگر وہ واقعی بہادر ہیں تو پہاڑوں میں بھاگنے کے بجائے میدان میں مقابلہ کریں۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کرے گی اور بلوچستان کو کسی صورت تقسیم ہونے نہیں دے گی۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ بندوق کے ذریعے بلوچستان کو توڑنا دہشت گردوں کی خام خیالی ہے اور یہ خیال ایک ہزار سال میں بھی پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کی جنگ صرف فوج نہیں بلکہ ہر شہری کی ہے، اور ہر پاکستانی کو اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ "ہم سب نے مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑنی ہے،” وزیراعلیٰ نے کہا۔
    وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو بھی منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مقامات پر سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے، اور ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔سرفراز بگٹی نے ایک بار پھر دہشت گردوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ جو سرنڈر کرنا چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، اس کے لیے حکومت کے دروازے کھلے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ دہشت گردی کے راستے پر چل رہے ہیں، ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
    وزیراعلیٰ نے مسنگ پرسنز کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 84 فیصد کیسز حل کر لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ناراض بلوچ” کی اصطلاح میڈیا کی پیداوار ہے، اور جو لوگ بندوق اٹھا کر لوگوں کو مارنا چاہتے ہیں، انہیں ناراض کہنا درست نہیں۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سمجھنا چاہیے کہ یہ دہشت گردی منظم طور پر ریاست کے خلاف سازش ہے، اور اسے کسی صورت کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔سرفراز بگٹی نے بلوچ نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں اور دہشت گردوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پروپیگنڈا ٹولز کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا اور بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرے گی اور بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں مزید سختی لائی جائے گی اور ان کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو بھی کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
    یہاں پر یہ واضح ہو گیا کہ بلوچستان حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں اور بلوچستان کے عوام کو دہشت گردی کے اس عفریت سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

  • غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کیلئے تیار ہیں .وزیراعلیٰ بلوچستان

    غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کیلئے تیار ہیں .وزیراعلیٰ بلوچستان

    کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت موجودہ غیر معمولی حالات کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات اٹھانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ بیان انہوں نے سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران دیا، جہاں انہوں نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کے سدباب کے لیے حکومتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے سیکیورٹی فورسز کو جدید آلات سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے محکمے (CTD)، پولیس، اور لیویز کو جدید ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر سکیں۔اجلاس کے دوران سرفراز بگٹی کو بلوچستان میں گزشتہ شب ہونے والے دہشت گردی کے حملوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان حملوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ دہشت گردوں نے مختلف مقامات پر حملے کیے، جن میں مجموعی طور پر 37 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    دہشت گردی کا سب سے ہولناک واقعہ موسیٰ خیل میں پیش آیا، جہاں دہشت گردوں نے بسوں اور ٹرکوں کو روک کر مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کردیا۔ اس وحشیانہ کارروائی میں 23 افراد کی جانیں ضائع ہو گئیں، جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔قلات میں بھی دہشت گردوں نے ایک اور حملہ کیا، جس میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 10 افراد کو قتل کر دیا۔ اس واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک پولیس کا سب انسپکٹر اور چار لیویز اہلکار بھی شامل ہیں، جو اپنی ڈیوٹی کے دوران دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے ان واقعات کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی اور ان کے عزائم کو ناکام بنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔سرفراز بگٹی کا یہ بیان اس بات کا عکاس ہے کہ بلوچستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے پوری طرح متحرک ہے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔

  • قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بلوچستان کے شہر قلات میں مسلح افرادکی فائرنگ سے پولیس اور لیویز اہلکاروں سمیت 10 افرادکی موت ہو گئی ہے

    ایس ایس پی قلات دوستین دشتی کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ سے پولیس کاسب انسپکٹر، 4 لیویز اہلکار اور 5 شہریوں کی موت ہوئی ہے، فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہو گئے ہیں، پولیس نے جوابی کاروائی بھی کی ہے،قلات میں قومی شاہراہ اورشہر میں گزشتہ رات سے پولیس اور مسلح افراد میں فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔

    دوسری جانب بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جب دہشت گردوں نے قلات کے مہلبی کے قریب قومی شاہراہ پر لیویز فورس کی ایک موبائل پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں دو لیویز اہلکار شدید زخمی ہو گئے ، دہشت گردوں نے اچانک لیویز موبائل پر فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔پولیس اور لیویز فورس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے قلات میں دہشتگردی کے واقعہ کی شدیدمذمت کی ہے، وزیرداخلہ نےشہید ہونے والے پولیس و لیویز اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا،حملے میں 5 شہریوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہید اہلکاروں اور شہریوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا،

  • وڈھ: آسمانی بجلی گرنے سے دو بچے جاں بحق، 11 بکریاں ہلاک

    وڈھ: آسمانی بجلی گرنے سے دو بچے جاں بحق، 11 بکریاں ہلاک

    خضدار،باغی ٹی وی (حبیب خان کی رپورٹ)وڈھ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو بچے جاں بحق، 11 بکریاں ہلاک

    تفصیل کے مطابق وڈھ کے علاقے کوڑیانگ میں آسمانی بجلی گرنے کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس میں دو بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    لیویز لائن انچارج سارونہ جلیل احمد کے مطابق، ہفتہ کے روز بارہ سالہ محمد اسماعیل ولد نوراحمد اور آٹھ سالہ محمد عمران ولد محمد شریف اقوام دینارزئی مینگل ساکنان سارونہ وڈھ اپنے گھر کے قریب ریوڑ چرا رہے تھے کہ اچانک آسمانی بجلی گر گئی جس سے دونوں بچے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس حادثے میں 11 بکریاں بھی ہلاک ہو گئیں۔

    مقامی لوگ اس المناک حادثے پر گہرے صدمے میں ہیں اور مرحومین کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کر رہے ہیں۔