Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • وزیراعلیٰ بلوچستان کا صوبے میں گندم اور آٹے کی زائد نرخوں پر فروخت کا نوٹس

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا صوبے میں گندم اور آٹے کی زائد نرخوں پر فروخت کا نوٹس

    کوئٹہ:وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں گندم اور آٹے کی قلت اور زائد نرخوں پر فروخت کا نوٹس لے لیا۔

    وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو صورتحال کی بہتری کے لیۓ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو زخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عبدالقدوس بزنجو نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ستمبر کے کوٹے کی گندم فوری طور پر آٹاملوں کو جاری کی جائے۔

    وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے متعلقہ حکام کو ہداہت کی ہے کہ گندم اور آٹے پر عائد بین الصوبائی پابندی کے خاتمے کے لیے بھی دیگر صوبوں سے بات کی جائے۔

    اس سے پہلے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ صوبے کا دیگر صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جسکی سے وجہ نہ صرف آمد و رفت بلکہ سامان کی ترسیل اور امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

    وزیراعظم کے ہمراہ پنجرہ پل کی بحالی کےحوالےدی جانے والی بریفنگ کے بعد عبدالقدوس بزنجو نے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے پنجرہ پل کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی، چیئرمین این ایچ اے کیپٹن (ر) محمد خرم آغا اور انکی ٹیم کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مواصلات کی سہولتوں کی بحالی کے لئے وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی ہمارے لئے باعث حوصلہ ہے اور امید ہے کہ دیگر متاثرہ شاہراہوں کی بھی جلد بحالی کے لئے این ایچ اے اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کریگی۔

  • بلوچستان کا دیگر صوبوں کیساتھ زمینی رابطہ منقطع ہوگیا: عبدالقدوس بزنجو

    بلوچستان کا دیگر صوبوں کیساتھ زمینی رابطہ منقطع ہوگیا: عبدالقدوس بزنجو

    کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ صوبے کا دیگر صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جسکی سے وجہ نہ صرف آمد و رفت بلکہ سامان کی ترسیل اور امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

    وزیراعظم کے ہمراہ پنجرہ پل کی بحالی کےحوالےدی جانے والی بریفنگ کے بعد عبدالقدوس بزنجو نے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے پنجرہ پل کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی، چیئرمین این ایچ اے کیپٹن (ر) محمد خرم آغا اور انکی ٹیم کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مواصلات کی سہولتوں کی بحالی کے لئے وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی ہمارے لئے باعث حوصلہ ہے اور امید ہے کہ دیگر متاثرہ شاہراہوں کی بھی جلد بحالی کے لئے این ایچ اے اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کریگی۔

    یاد رہے کہ ایک طرف بلوچستان کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے بلوچستان کی ملک کے دیگرصوبوں سے زمینی رابطے کی منقطع ہونے کی خبردی اس سےقبل وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان میں پل تعمیر کرنے والوں کوانعام دے چکےہیں‌

    اس موقع پر وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ شاہراہوں اور ریلوے ٹریک کا مجموعی طور پر جائزہ لے چکے ہیں۔ شاہراہوں، پُلوں اور ریلوے ٹریکس کی بحالی اور مرمت کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

    وزیراعظم نے این ایچ اے ،این ڈی ایم اے ،پی ڈی ایم اے اور دوسری تمام ایجنسیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کا عزم قابل ستائش ہے، وہ قوم کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ اس موقع پر مزدوروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے 50لاکھ روپے انعام کا کا اعلان بھی کیا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • بلوچستان:بی بی نانی پل کی بحالی،مزدوروں کیلئے50 لاکھ روپےانعام کا اعلان

    بلوچستان:بی بی نانی پل کی بحالی،مزدوروں کیلئے50 لاکھ روپےانعام کا اعلان

    کوئٹہ:وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے بی بی نانی پل کی بحال کے کاموں میں مصروف مزدوروں کیلئے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

    بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر وزیراعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے بی بی نانی پل کی بحالی میں مصروف عمل تمام مزدوروں کو انعام کے طور پر 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

    دورے کے موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں شاہراہوں ، پلوں اور ریلوے ٹریکس کی مرمت کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

     

    بلوچستان کے ضلع کچھی (بولان ) میں بی بی نانی کے مقام پر سیلاب سے متاثرہ پنجرہ پل کے دورے پر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ بھی دی گئی۔

    حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ سڑکوں پُلوں اور ریلوے ٹریکس کی مرمت کا کام جاری ہے۔ پنجرہ پل ،بی بی نانی اور ملحقہ علاقوں کی ایک سو چھ کلو میٹر سڑک بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ علاقے میں بحالی کے کام کیلئے تمام ادارے مل کر انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر تخمینے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ سڑکوں اور پُلوں پر جاری کام کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی روانی رواں رکھی جائے۔

    بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں شاہراہوں، ریلوے ٹریکس کی بحالی اور انفراسٹرکچر پر پنجرہ پل پر بریفنگ لیتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والے بڑے پیمانے پر ملک بھر میں تباہی ہوئی ہے۔ ایسے موقع پر پوری قوم متحد ہے، ہم سب کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

    وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ شاہراہوں اور ریلوے ٹریک کا مجموعی طور پر جائزہ لے چکے ہیں۔ شاہراہوں، پُلوں اور ریلوے ٹریکس کی بحالی اور مرمت کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

    وزیراعظم نے این ایچ اے ،این ڈی ایم اے ،پی ڈی ایم اے اور دوسری تمام ایجنسیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کا عزم قابل ستائش ہے، وہ قوم کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ اس موقع پر مزدوروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے 50لاکھ روپے انعام کا کا اعلان بھی کیا۔

    انہوں نے کہا کہ بی بی نانی پل حالیہ بارشوں اور سیلاب میں بہہ گیا تھا، پل بہہ جانے سے سکھر سے کوئٹہ تک ٹریفک بند ہوگئی تھی، پل کے دونوں اطراف 6 ہزار سے زائد افراد پھنسے ہوئے تھے۔ 8 گھنٹے میں اس پل کو بحال کیا گیا، جو ان کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چند دنوں بعد میں ایک بار پھر فضائی جائزہ لوں گا اور امید ہے تمام امور احسن انداز سے مکمل ہوں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب کی تباہی سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہو رہے ہیں اور بدقسمتی سے 400 بچے جاں بحق ہوئے جو مجموعی ہلاکتوں کی ایک تہائی تعداد بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف اور دیگر عالمی اداروں سے بچوں کی جان بچانے کے لیے امداد کی اپیل کرتا ہوں۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • خيرپور ناتھن شاہ، گاؤں ناگو شاہ اور کوٹ نواب سيلاب میں ڈوب گئے

    خيرپور ناتھن شاہ، گاؤں ناگو شاہ اور کوٹ نواب سيلاب میں ڈوب گئے

    خیرپور ناتھن شاہ سیلابی ریلے پہنچ گئے، شہر کے کئی مقامات پر پانی پہنچ گیا، شہریوں نے افراتفری میں نقل مکانی شروع کردی۔ضلع دادو میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوچکی ہے۔ تحصیل میہڑ جو پہلے ہی ڈوب چکا تھا، اب تحصیل خیرپور ناتھن شاہ بھی ڈوب گیا، انڈس ہائی وے زیر آب آگئی، جس کے باعث میہڑ، کے این شاہ اور جوہی کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

     

     

    جوہی میں سیلابی ریلے کی آمد ہے، جو بچائو بند سے ٹکرا رہا ہے، دبائو بڑھنے کے باعث شہر کا حفاظتی بند خطرے میں پڑ گیا۔ جوہی کا ڈگری کالج بھی زیر آب آگیا۔کھوسہ کالونی کے رنگ بند میں دراڑیں پڑ گئیں، جہاں سے پانی کا رسا شروع ہوگیا۔ گورکھ ہل جانے والے راستے پانی آنے کے باعث بند ہوگئے۔خیرپور ناتھن شاہ میں ہر جگہ پانی ہی پانی آگیا۔ شہر کے کئی علاقوں میں سیلابی ریلے پہنچ گئے۔ شہری گھر سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ شہر میں میڈیکل، کریانہ اور سبزی کے دکانوں سمیت پیٹرول پمپ بھی بند ہوگئے۔

     

     

    نوشہرو فيروز
    نوشہرو فيروز شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے ليے شہری خود اپنی مدد آپ کے تحت بائی پاس پر پہرا دينے لگے ہیں، جہاں شہريوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وڈيرے اپنی فصلوں کو بچانے کے ليے پانی شہر کی جانب چھوڑ رہے ہيں۔

    بھریاروڈ
    بھریاروڈ کے قریب پانی کے تیز بہاؤ سے پکا چانگ روڈ ٹوٹ گیا، جس کے باعث سیلابی ریلے سے گزرنا شہریوں کیلئے دشوار بنا ہوا ہے۔
    سیلاب کے باعث بھريا روڈ کا خيرپور اور ضلع نوشہروفيروز کے ديگر شہروں سے رابطہ تيرہويں روز بھی منقطع ہے، جب کہ سڑک دريا بن گئی ہیں جہاں عورتيں اور بچے پانی ميں ڈوبے ہوئے انتظاميہ کی راہ تک رہے ہیں۔سیلاب کے باعث راستے بحال نہ ہونے پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت پيدل گزرنے کیلئے بانس لگا کر راستہ بنا رہے ہیں۔

     

    سانگھڑ
    سانگھڑ میں بھی صورت حال مختلف نہیں ، جہاں کوٹ نواب اکبر بگٹی مکمل سیلاب میں ڈوب گيا۔علاقے میں بارہ روز گزرنے کے باوجود کوئی حکومتی امداد آخری اطلاعات تک بھی نہ پہنچ سکی، کئی کئی فٹ جمع پرانے پانی کے باعث علاقے میں بيمارياں پھيلنے لگی ہیں۔متاثرین نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کيا ہم اس وطن کے باسی نہيں؟۔ سانگھڑ یوسی کوٹ نواب میں ایک اندازے کے مطابق سترہ گاؤں زیر آب آئے ہیں۔ سانگھڑ میں سڑک کنارے ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں۔

     

     

    دادو
    دوسری جانب دادو کے علاقے جوہی سے آنے والا ریلا منچھر جھیل میں داخل ہوگیا ہے، جس سے خیرپور ناتھن شاہ سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔شہر ميں جگہ جگہ کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ شہريوں کا کہنا ہے کہ مکمل تباہی سے بچانے کیلئے منچھر جھيل کا بند توڑا جائے، تاہم اس مطالبے کو پورا کرنے میں منتخب وڈيرے رکاوٹ بن گئے ہیں۔

     

    میہڑ
    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی نے میہڑ کی جانب رخ کرلیا ہے اور پانی کا بہاؤ شہر کی جانب ہے، انڈس ہائی وے ڈوبنے سے مہڑ کا زمینی رابطہ مکمل طور پر سندھ کے دیگر شہروں سے منقطع ہے، میہڑ شہر کو بچانے کے لیے مہڑ رنگ بند کو مضبوط کرنے کا کام جاری ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے جوہی انڈس ہائی وے مکمل طرح ڈوب چکا ہے جبکہ پانی کا دباؤ جوہی شہر کے رنگ بند پر برقرار ہے۔

     

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوہی شہر کا زمینی رابطہ دادو سے منقطع ہے۔اہل علاقہ نے کہا کہ دادو ضلع میں سیلابی صورتحال شدید خراب ہوتی جارہی ہے، اب تک جوہی، خیرپور ناتھن شاہ اور میہڑ تحصیلیں مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوبنے کے باعث سیکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں جبکہ شہریوں کو اشیائے خورونوش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

     

     

    مٹیاری
    مٹیاری کے قريب نیو سعیدآباد میں بارش کے پانی سے سرکاری گودام میں چالیس ہزار سے زائد گندم کی بوریاں خراب ہونے لگیں ہیں۔ سیلابی ریلے میں بھیگنے کی وجہ بوریوں سے تعفن اٹھنے لگا ہے۔ٹنڈوالہٰ یار میں بھی لوگ گھر چھوڑ کر کيمپوں ميں رہنے پر مجبور ہيں۔ حيدرآباد کے نياز اسٹيديم سے پانی نہ نکالا جاسکا، جہاں ميدان گندے جوہڑ کا منظر پيش کر رہا ہے۔واضح رہے کہ مون سون کی غیر معمولی، بد ترین بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئرز پگھلنے کے باعث آنے والے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، جب کہ 14 جون سے اب تک 399 بچوں سمیت کم از کم ایک ہزار 191 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

     

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کی رپورٹ جاری
    وزارت منصوبہ بندی اور ترقی کی جانب سے سیلاب سے ہونے والے نقصان پر رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 13 ارب 57 کروڑ روپے کا نہری نظام تباہ ہوا، سندھ، کے پی، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں 710 منصوبوں کو نقصان پہنچا۔ جاریرپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کے پی میں ایک ارب اور سندھ میں 8 ارب 42 کروڑ کے نہری نظام کو نقصان پہنچا۔

    وزارت منصوبہ بندی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب سے بلوچستان میں 3 ارب 87 کروڑ کا نظام آبپاشی تباہ ہوا ہے۔ قبائل علاقہ جات میں 6 کروڑ 80 لاکھ ، سندھ میں 355 منصوبے اور کے پی میں 178 منصوبے تباہ ہوئے۔سیلاب سے 12 لاکھ کے قریب مکانات متاثر بھی ہوئے، جب کہ ساڑھے 7 لاکھ کے قریب جانور ہلاک ہوئے۔ سیلاب کے باعث 243 پل اور 5063 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئیں۔

     

    نوشہرہ
    خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی چھتیس دیہی کونسلز کو مقامی انتظامیہ نے آفت زدہ قرار دے دیا ہے، جب کہ کالام کا مانکیال گاؤں پتھروں کے ڈھیرمیں تبدیل ہوگیا۔حکومت کی جانب سے یکم ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان تو کیا گیا تاہم ادارے کھلنے کے باوجود کئی اسکولوں میں صفائی کا کام جاری ہے۔ ادھر سوات میں سیلاب متاثرین تا حال امداد کے منتظر ہیں، آفت زدہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی بھی نہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے دلاسوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔

    کالام
    کالام میں پل اور سڑکیں بہہ جانے سے وادی کالام کے قریب گاؤں سمیت بارہ بستیوں کا زمینی رابطہ شہر سے کٹ گیا۔ دریا کے دوسرے کنارے لوگ مدد کے منتظر ہیں۔ امدادی ہیلی کاپٹروں سے مدد کیلئے محصورین سرخ جھنڈیاں لگا کر علامتی ہیلی پیڈ بنائے بیٹھے ہیں۔

  • سبی اور بولان میں قومی شاہراہ پر پھنسے مسافروں کے لیے شٹل ٹرین کا آغاز

    سبی اور بولان میں قومی شاہراہ پر پھنسے مسافروں کے لیے شٹل ٹرین کا آغاز

    سبی اور بولان میں قومی شاہراہ پر پھنسے مسافروں کے لیے شٹل ٹرین کا آغاز کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : جی ایم محکمہ ریلوے نے کہا ہے کہ سیلاب کے باعث سبی کوئٹہ قومی شاہراہ بولان میں مختلف مقامات پر بہہ گئی تھی اور ایک ہفتے سے ٹریفک کی روانی متاثر تھی تاہم اب شٹل ٹرین سروس مسافروں کو سبی سے مچھ اور مچھ سے سبی تک لے کر جائے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا سیلاب متاثرین سے ملنے کیلئے دورہ گلگت بلتستان

    انہوں نے کہا کہ مسافروں کی پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے شٹل ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا گیا اور شٹل ٹرین سے مسافروں کو اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں آسانی ہو گی قومی شاہراہ پر پھنسی مال بردار گاڑیوں کا سامان، سبزیاں اور فروٹ لے جانے کے لیے الگ بوگی لگائی گئی ہے۔

    جی ایم ریلوے نے کہا کہ شٹل ٹرین سبی میں موجود مسافروں کو مچھ اور بولان میں پھنسے مسافروں کو سبی منتقل کرے گی اور سبی کوئٹہ قومی شاہراہ کی بحالی تک روزانہ کی بنیاد پر شٹل ٹرین چلائی جائے گی ہراک کے قریب مچھ ریلوے پل بہہ جانے سے ٹرین کوئٹہ تک نہیں جا سکتی تاہم مچھ ریلوے پل کی بحالی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔

    برطانوی رکن پارلیمنٹ کا دنیا سے پاکستان کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ

    دوسری جانب ملک میں بدترین سیلابی صورت حال اور ریلوے ٹریک پانی میں ڈوبے جانے کے باعث پنجاب سے کراچی آنے کے لیے ٹرین آپریشن تاحال معطل ہے، جس کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ ہفتے سے زائد دورانیے سے مسافر بذریعہ ٹرین کراچی تک سفر سے محروم ہیں۔

    ٹرین آپریشن بحال نہ کیے جانے کے باعث مسافروں کومشکلات کا سامنا ہے، جو ٹکٹیں واپس کروانے کے لیے ریلوے اسٹیشنز کا رُخ کررہے ہیں۔ دوسری جانب ٹکٹس ری فنڈ ہونے کی وجہ سے محکمہ ریلوے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم ختم،ہدف پورا نہ ہو سکا

    وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کی ہدایت پر موٹروے پولیس کی سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کا کام جاری ہے، ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق آئی جی موٹروے پولیس خالد محمود ذاتی طور پربحالی اور امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں، قومی شاہراہ پر اوتھل کے ایریا لنڈا برج سے شہوانی ہوٹل کے درمیان روڈ ٹوٹی ہوئی ہے، کوئٹہ میں پل کو نقصان پہنچنے کی وجہ سےٹریفک کو پرانا بیلیی روڈ سے گزارا جارہا ہے، سکھر میں قمب چوک سے مہران ہائی وے تک ٹریفک کا رش ہے، کنڈیارو میں ہیلانی اور کوٹری کے قریب ٹریفک کا رش ہے، قومی شاہراہ پر خیران اور خیرا موری کے قریب کے ٹریفک کو متبادل راستے پر منتقل کیا گیا ہے، شاہ پور جہانیاں اور سودجا کے قریب ٹریفک کا رش ہے، لاڑکانہ میں مورو بائی پاس تاج پمپ پر ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے، کرم خان کنڈارو درہم نصیر آباد کے قریب سیلاب کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل پڑا ہے، لاڑکانہ جنت چوک کے قریب سیلاب اوررش کی وجہ سے ٹریفک کے بہاوء میں تعطل ہے، موٹروے پولیس ٹریفک کے بہاوء کو جاری رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، موٹروے پولیس دوسرے قومی اداروں کے ساتھ مل کر امدادی کاموں میں مصروف ہے، قومی شاہراؤں پرقائم فلڈ ریلیف کیمپوں میں متاثرین کو کھانے پینے کی اشیا اور مفت ادویات مہیا کی جا رہی ہیں،فلڈ ریلیف کیمپوں میں موٹروے پولیس کے پیرا میڈیکل اسٹاف دن رات موجود ہیں،وزیر مواصلات اسعد محمود کی ہدایات پرسیلاب زدگان کی مدد کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں،

  • لسبیلہ کوتقسیم کرنےکا فیصلہ نامناسب،حب کوضلع بنانےکانوٹیفکیشن منسوخ کیاجائے، جام کمال خان

    لسبیلہ کوتقسیم کرنےکا فیصلہ نامناسب،حب کوضلع بنانےکانوٹیفکیشن منسوخ کیاجائے، جام کمال خان

    کوئٹہ:سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے حب کو ضلع بنانے کی مخالف کردی،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان نے لسبیلہ کو 2 اضلاع میں تقسیم کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حب کو ضلع بنانے کا فیصلہ ہر لحاظ سے نامناسب ہے، قائمقام گورنر بلوچستان نوٹیفکیشن کو منسوخ کریں۔

     

    بلوچستان حکومت نے گزشتہ روز لسبیلہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے حب کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ لسبیلہ سمیت پورا بلوچستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے، صوبے کے عوام پریشان حال ہیں، ایسے وقت میں قائمقام گورنر بلوچستان جان محمد جمالی کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ حب کو ضلع بنانے کا مقصد وہاں کی عوام کی ترقی اور خوشحالی نہیں بلکہ ڈپٹی کمشنر اور انتظامی امور کو ہاتھ میں رکھنا ہے، انہوں نے گورنر جان محمد جمالی سے نوٹیفکیشن فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں…

    جام کمال خان نے مزید کہا کہ حب کو ضلع بنانے کا فیصلہ ہر لحاظ سے نامناسب ہے، اگر حب کو ضلع بنانا ضروری ہے تو اس کا ایک طریقۂ کار ہوتا ہے، جب تک ضلع کے لوگوں اور اس کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا تو کسی صورت اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالت میں اس سلسلے میں کیس بھی چل رہا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان بھی کر رکھا ہے، ایسے وقت میں لسبیلہ کو 2 حصوں میں تقسیم کرنا انتہائی غیرمناسب ہے۔

    تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

    جام کمال خان نے بلوچستان ہائیکورٹ سے بھی اپیل کی کہ ان کے کیس کو جلد سن کر انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری فریاد عدالتیں اور موجود حکمران نہیں سنتے تو وہ اور لسبیلہ کے عوام سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

  • کوئٹہ: لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا:صوبے کے دیگرعلاقوں کا توبہت بُرا حال

    کوئٹہ: لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا:صوبے کے دیگرعلاقوں کا توبہت بُرا حال

    کوئٹہ:ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف اس مشکل صورت حال میں بلوچستان والوں کو دوہرے مسائل اورمصائب کا سامنا ہے ، اطلاعات ہیں کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے تک پہنچ گیا جب کہ دیگر اضلاع میں بجلی غائب ہے۔حالیہ بارشوں کے سیلاب سے بلوچستان ملک میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں متاثرین لقمہ اجل بن چکے ہیں، سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن کر گھروں سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    تمام صوبوں سے نجی اور سرکاری املاک کی تباہی اور علاقے میں گیس کی معطلی کے باعث بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ .

    صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 24 گھنٹے کے دوران صرف 4 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 زون تک پہنچ جاتا ہے جب کہ دیگر اضلاع میں بجلی دستیاب نہیں ہے۔

    دوسری جانب بجلی کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والے سولر پینلز کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں اور دکاندار من مانی قیمتوں پر سولر پینل فروخت کر رہے ہیں۔سولر پینلز کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ ساتھ کوئٹہ میں بجلی کی قلت کے باعث پینلز کی قیمتوں میں بھی 6 ہزار روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔

    شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کی منظوری

    دکانداروں کا کہنا ہےکہ دوسرے صوبوں سے منقطع ہونے کےبعد اشیا نایاب ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہےصارفین کی سپلائی فوری طور پر بحال کی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آئے۔

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    ایگزیکٹو آفیسر کیسکو کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 27 بجلی کی لائنیں اور 336 فیڈرز متاثر ہوئے ہیں جن کی بحالی کا کام ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا، ایک ہفتے میں بجلی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔

  • سیلاب کے باعث بلوچستان میں  دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ

    سیلاب کے باعث بلوچستان میں دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ

    شمالی بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والےحادثات میں مزید 2 افراد جان کی بازی ہار گئے، بلوچستان میں یکم جون سےاب تک جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 256 ہوگئی۔

    ملک بھر میں بارشوں اورسیلاب سے مزید 27 افراد جاں بحق

    پی ڈی ایم اے کے مطابق جاںبحق ہونے والوں میں 121 مرد، 62 خواتین اور 73 بچے شامل ہیں، سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ، 21 لسبیلہ اور 17 پشین میں ہوئیں، جبکہ صوبے میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 166 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 61 ہزار718 مکانات کو نقصان پہنچا اور 1 لاکھ 45 ہزار 936 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذرہوگئے ہیں اب تک مجموعی طور پر دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے سے راستے بند ہیں، نصیرآباد، جعفرآباد اور صحبت پور کےعلاقوں میں سیلابی پانی جمع ہے، متاثرین ادویات، خوراک اور صاف پانی کی شدید قلت سے پریشان ہیں۔

    سیلاب کے سبب سندھ اور بلوچستان میں مسافر ٹرین سروس بھی معطل ہے پاکستان ریلوے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیلاب کے سبب سندھ اور بلوچستان میں مسافر ٹرینیں چلانا ممکن نہیں۔

    ترجمان ریلوے کے مطابق اس وقت روہڑی، ٹنڈوآدم سیکشن پرکئی مقامات پر پانی جمع ہے، مسافر ٹرینوں کی بحالی میں مزید تین سے چار دن لگ سکتےہیں مسافر ٹرینوں کی بحالی مرحلہ وارہوگی، کنٹرولڈ اسپیڈ پرمال بردار ٹرینیں بحال کردی گئیں۔

    ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

  • لائنوں سے پانی مکمل طور پر ہٹنے تک  ٹرین سروس بحال نہیں ہوگی،ریلوے حکام

    لائنوں سے پانی مکمل طور پر ہٹنے تک ٹرین سروس بحال نہیں ہوگی،ریلوے حکام

    کراچی : ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن پر سے پانی مکمل طور پر ہٹنے تک ریل گاڑیاں نہیں چلائی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : پاکستان ریلوے کے مطابق جب تک ریلوے ٹریک سے پانی مکمل طور پر نہیں ہٹ جاتا، اس وقت تک ٹرین سروس بحال نہیں ہوگی، تاہم خیبر میل صرف ملتان اور پشاور کے درمیان چلتی رہے گی۔

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟

    ریلوے حکام نے واضح کیا کہ بدھ 31 اگست کو بھی کراچی سے اندرون ملک کوئی ٹرین نہیں چلے گی ۔

    دوسری جانب بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے صوبے میں ریل سروسز کو معطل کر دیا نصیر آباد میں ریلوے ٹریک بہہ جانے اور ہرک ریلوے پل ٹوٹ جانے سے صوبے سے اندرون ملک کیلئے ٹرین سروس 10 روز سے اور ایران کیلئے ایک ماہ سے معطل ہے ۔

    ریلوے حکام کے مطابق اگلے 15 روز تک صوبےکیلئے ٹرین سروس بحال ہونے کا امکان نہیں ہے 29 جولائی کو چاغی میں سیلابی ریلوں کے باعث بہہ جانے والی کوئٹہ تفتان سیکشن کی مرمت ایک ماہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ایران کیلئے ٹرین سروس بند ہے ۔

    پاکستان میں سیلاب نے ابھرتے ہوئے فوری اور طویل مدتی چیلنجز کو جنم دیا ہے،برطانوی…

    بلوچستان کے علاقےنصیر آباد میں سبی جیکب آباد ریلوےسیکشن پر سیلابی ریلوں کے بعد پڑنے والے شگاف کے باعث اندرون ملک کیلئے 10 روز سے ٹرین سروس بند تھی کہ 5 روز قبل ہرک پل بھی گرگیا،جس کی وجہ سے ٹرین سروس بدستور معطل ہے ۔

    گزشتہ روز ڈی ایس ریلویز کوئٹہ نثا ر احمد خان نے بتایا تھا کہ منگل کو چیف انجینیئر برج کی سربراہی میں لاہور سے ٹیم آرہی ہے جو این ایل سی کے ساتھ ہرک پل کاجائزہ لے گی جس کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ ہرک پل کی مرمت کا کام کب شروع ہوگا اس پل کی مکمل مرمت میں کم ازکم 3 ماہ کا وقت درکار ہوگا جبکہ نصیر آباد میں ریلوے ٹریک کی مرمت میں مزید 15 دن لگ سکتے ہیں۔

    مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان

  • مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان

    مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، با لائی خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان، کشمیر میں چند مقا مات پر بارش متوقع ہے، اسلام آباد میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا ،مری ، گلیات ، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے سا حلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان ہے،کرم،چترال، دیر، سوات،بالاکوٹ، ایبٹ آباد، مانسہرہ میں چند مقامات پر بھی بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب مشرقی بلوچستان کے بعض علاقوں میں پھر سے بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، چمن کے نواحی علاقے کلی اکبر میں 15 مکانات سیلابی ریلے میں تباہ ہوگئے اور ملبے کے ڈھیر بن گئے ہیں کافی متاثرین گھر چھوڑ کر نقل مکانی کرگئےپانی کےریلےنے گھروں کے اندر سے راستہ بنا لیا جبکہ کچھ متاثرین بوسیدہ گھروں کی اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر ومرمت میں مصروف ہیں۔

    متاثرین کا کہنا ہے کہ پانچ بار سیلابی ریلے آتے رہے مگر حکومت کی جانب سے بلڈوزر اب تک فراہم نہیں کیا گیا، سیلاب چھتر و کوٹ پلیانی میں 25 روز گزرنے کے بعد بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں شروع نہ ہو سکیں شدید گرمی و حبس میں سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارو مدد گار بیٹھیں ہیں۔

    جعفرآباد کا ضلعی ہیڈکوارٹر ڈیرہ اللہ، صحبت پور، سندھ اور ڈیرہ مراد جمالی کی نہروں سے آنے والی سیلابی ریلوں سے ایک ڈیم کی شکل اختیار کرگیا ہے، جعفرآباد میں متاثرین بارش سے پریشان ہیں ڈیرہ بگٹی کے سوئی نالہ میں گاڑی بہہ گئی، مقامی لوگوں نے سواریوں کو بچا لیا۔

    صحبت پور کے سیلاب متاثرین نے ربی کینال اور قومی شاہرہ پر پناہ لے لی ہے سیلابی ریلے سے متاثرین گندم ابال کر اپنے بچوں کو دینے لگے ڈیرہ مراد جمالی میں سیلابی ریلہ تباہی مچاتے ہوئے گوٹھ رسول بخش لہڑی میں داخل ہوگیا۔

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟