Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • گوادر کی تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائیں‌گے: ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری

    گوادر کی تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائیں‌گے: ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری

    گوادر: ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلمپنٹ اتھارٹی مجیب الرحمن قمبرانی نے منگل کے روز گوادر کے تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی بحالی و تحفظ سے متعلق اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں چیرمین منیجمنٹ بورڈ براۓ نوادرات و آثارقدیمہ سندھ و ممتاز و معروف آرکاٸیولوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے بھی شرکت کی اور گوادر کی تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی تاریخی اہمیت اور پس منظر سے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی اور انکی تعمیر و مرمت ، تزین و آرا اور بحالی و تحفظ سے متعلق ایک جامع پلان بھی پیش کیا۔

     

     

    مجوزہ پلان کے تحت گوادر کے تمام تاریخی ورثہ کو بحال کرکے انکی تحفظ کی جائیگی اور انہیں اصل و بنیادی حالت میں رکھا جاٸیگا ۔ تاریخی ساٸیٹ کی خدو خال اور ڈیزاٸن میں کوئی مداخلت نہیں کی جائیگی تاکہ انکی اپنی تاریخی و قدیمی اہمیت وحیثیت برقرار رہے۔ ابتداٸی مرحلہ میں چار پادگو، تار آفس،شاہی بازار، اسماعیلیہ محلہ اور عمانی فورٹ کی تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا جاٸیگا۔ تاریخی ورثہ کی بحالی کے بعد ان مقامات کو تفریحی، علمی اور فنی سرگرمیوں کیلیے استمعال میں لایا جاسکتا ہے۔

     

     

     

    اجلاس میں ڈاٸریکٹر جنرل جی ڈی اے نے کہا کہ گوادر کی تاریخی و ثقافتی مقامات اس وقت خستہ حالت میں ہیں۔ انکی بحالی و تحفظ کو شہر کی ترقی کے ساتھ شامل کیا گیا ہے جو کہ اولڈ ٹاٶن بحالی منصوبہ کے حصہ ہونگے۔ گوادر کی تاریخ اور ثقافتی پہلو کو اجاگر کرکے محفوظ بنایا جاٸیگا تاکہ باہر سے آنے والے سیاح اور ہمارے مسقبل کے نوجواں یہاں کی تاریخ اورثقافتی مقامات کی بنیادی اہمیت سے آشنا ہوں۔

  • بلوچستان: سیلاب کےباعث ٹاورز گرنےسے 27 گرڈ اسٹیشنوں کو بجلی کی فراہمی معطل،700 میگاواٹ  برقی قلت کا سامنا

    بلوچستان: سیلاب کےباعث ٹاورز گرنےسے 27 گرڈ اسٹیشنوں کو بجلی کی فراہمی معطل،700 میگاواٹ برقی قلت کا سامنا

    بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث 6 روز سے بجلی، گیس کی فرا ہمی اور موبائل فون سروس معطل ہے جس سے معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے تاہم انٹر نیٹ سروس جزوی بحال ہے جبکہ ضلع بولان میں بارشوں اور سیلاب کے باعث بجلی کے13 ٹاورز گر گئے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان کیسکو کے مطابق ٹاور زگرنے سے دادو ، خضدارٹرانسمیشن لائن سے بجلی کی سپلائی بند ہوگئی جس سے صوبے کے 27 گرڈ اسٹیشنوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہے اور کیسکو کے سسٹم میں 700 میگاواٹ برقی قلت کا سامنا ہے۔

    ترجمان کیسکو کا کہنا ہے کہ 220 کے وی سبی کوئٹہ اور 132 کے وی سبی ۔کوئٹہ ٹرانسمیشن لائن سے بجلی کی فراہمی تاحال بند ہے، بحالی کے لیے بولان کے علاقوں پیر غائب سے ڈھاڈرتک پیٹرولنگ شروع کردی گئی ہے لیکن زمینی راستہ اور مواصلاتی نظام منقطع ہونے سے پیٹرولنگ اوربجلی کی بحالی میں مشکلات کاسامنا ہے۔

    کیسکو ترجمان کا بتانا ہے کہ کوئٹہ شہر کو متبادل ذرائع سے بجلی فراہم کی جارہی ہے، برقی قلت کے باعث شہر کے فیڈروں کو باری باری بجلی فراہم کی جارہی ہے۔

    ادھر 220 کے وی دادو۔خضدارٹرانسمیشن لائن سے بجلی کی سپلائی بھی بند ہے جس سے خضدار، قلات، سوراب، مستونگ، نوشکی، چاغی اورخاران کے اضلاع کوبجلی کی فراہمی معطل ہے۔

    کیسکو ترجمان کا بتانا ہے کہ صوبے کے متاثرہ اضلاع میں بجلی کی بحالی کی صورتحال معمول پرآنےمیں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان میں بارش اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر بند کیے گئے اسکولز اور کالجز کھولنے کی تاریخ میں توسیع کردی گئی۔

    سندھ میں ایک اور سیلاب،زمیں دارہ بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی بکھری میں داخل

    صوبے بھر میں تعلیمی ادارے پہلے 29اگست کو کھلنا تھے لیکن محکمہ تعلیم نے اسکولز اور کالجز کی بندش میں مزید 5 دن کی توسیع کرتے ہوئے تین ستمبر تک تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کردیا کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کی جامعات بھی تین ستمبر تک بند رہیں گی۔

    سیلاب اور بارشوں کے باعث بلوچستان کے محکمہ جیل نے بارش سے پیدا صورتحال کے پیش نظر ہنگامی حالات کا اعلان کیا ہے حالیہ بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں سے ڈیرہ مرادجمالی اور ڈیرہ اللہ یار کی جیلیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

    جیل ذرائع کے مطابق ڈیرہ اللہ یار جیل ناقابل استعمال قرار دے دی گئی اور ڈیرہ مراد جمالی جیل میں3 فٹ پانی بھر جانے کے بعد دونوں جیلوں کے 180 قیدیوں کو سبی منتقل کردیا گیا۔

    سینٹرل جیل مچھ جانے والاراستہ پل ٹوٹ جانے کی وجہ سے بند ہے، مچھ جیل کے راستے بندہونے کی وجہ سے زیر علاج قیدی کوئٹہ منتقل نہ ہونے کی سبب انتقال کرگیا مچھ کو گیس، پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع ہونے سے جیل میں کھانا پکانے میں مشکلات ہیں، سینٹرل جیل خضدار میں بجلی کی عدم فراہمی سے مشکلات ہیں۔

    آئی جی جیل خانہ جات ملک شجاع نے جیو نیوز کو بتایا کہ بارش سے پیدا صورتحال کے پیش نظر صوبے کی تمام جیلوں میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا ہے ، تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں ۔

    بلوچستان کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں 25 سال لگ جائیں گے،عبدالقدوس بزنجو

  • بلوچستان کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں 25 سال لگ جائیں گے،عبدالقدوس بزنجو

    بلوچستان کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں 25 سال لگ جائیں گے،عبدالقدوس بزنجو

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے میں بڑی تباہی آئی ہے، ہمارے لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں 25 سال لگ جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نےکہا ہےکہ صوبےمیں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے دو سو ارب سے زائد کا نقصان ہوا ہے، ہمارے وسائل کم ہیں لیکن لوگوں کی ہر ممکن مدد کریں گے۔

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری: مزید 28 اموات، مجموعی تعداد 1061، 8 لاکھ مویشی ہلاک

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تباہ کن بارشوں کے بعد بجلی، گیس اور مواصلات کا نظام متاثر ہونے سے مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے، ہم نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے حکام سے کہا ہے کہ وہ سڑکوں کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کریں اس سیلابی صورتحال میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو، امداد اوربحالی کی کاموں میں پاکستان آرمی ہماری بھرپور مدد کر رہی ہے۔

    عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ہمیں خیموں کی کمی کا سامنا ہے، صوبے میں خیموں کی کمی کا مسئلہ ایک دو روز میں حل کرلیں گے، ہم نے ریلیف کے ساتھ ساتھ بحالی کا کام بھی شروع کردیا ہے-

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ ایندھن اور اشیائے خورد و نوش ایران سےخرید سکتے ہیں، اس حوالے سے مکران اور رخشان ڈویژن کی انتظامیہ کو ایرانی حکام سے بات چیت کرنے اور سرحد پر نرمی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    پاکستان کی بڑی فضائی کمپنی اسکائی ونگزایوی ایشن سیلاب متاثرین کی مدد میں بازی لےگئی،اہم اعلان

    قبل ازیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ قومی شاہراہوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کیں ترجمان این ایچ اے کے مطابق شمالی اور جبنوبی پنجاب سمیت سندھ کی تمام قومی شاہراہوں پر ٹریفک رواں دواں ہیں جبکہ بلوچستان کی قومی شاہراہ ایم 8، اور این 65 سیلاب کے باعث بند ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ ایم 8 خضدار ، قبول سعید خان سیکشن سے قومی شاہراہ بند ہے، کوئٹہ، سبی، ڈیرہ اللہ یار ہائی وے این 65 پُل گرنے کے باعث متاثر ہے، جس کی بحالی کیلئے آرمی انجنئیرز نے بیلی ٹائپ برج انسٹال کرنے کیلئے سروے شروع کردیا ہے اور ممکنہ طور پر منگل تک ٹریفک کیلئے کھول دیا جائے گا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی قومی شاہراہ این 140 تین مختلف مقامات سے ٹریفک کیلئے بند ہے، جس کی بحالی کیلئے ملحقہ روڈز پر بھی این ایچ اے اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہےاسی طرح گلگت بلتستان کی قومی شاہراہ این 35 اور ایس 1 ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھلی ہے۔

    جاز کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے 1 ارب روپے مالیت کی مدد کا اعلان

  • تباہ حال بلوچستان کے لیے وزیراعظم شہبازشریف نے10 ارب امداد کا اعلان کردیا

    تباہ حال بلوچستان کے لیے وزیراعظم شہبازشریف نے10 ارب امداد کا اعلان کردیا

    کوئٹہ:وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 10ارب روپے امداد کا اعلان کیا ہے.بلوچستان میں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب سے ہر جانب تباہی پھیلی ہوئی ہے، صوبہ سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سوات کالام سب علاقے بارشوں سے تباہ ہوگئے، سوات میں ہوٹلز آناًفاناً دریا برد ہوگئے،میں نے اپنی زندگی میں سیلاب کی ایسی صورتحال نہیں دیکھی، پورے پاکستان میں ایک ہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کیلئےمتحدہ عرب امارات سے امدادی سامان آج پاکستان پہنچے گا

    وزیر اعظم نے کہا کہ آرمی چیف اور نیول چیف نے بتایا ہے کہ ان کے عسکری دستے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، 50ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا چکا ہے، جو لوگ اس کام میں مصروف ہیں ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ قائم مقام گورنر بتا رہے تھے کہ جعفر آباد میں فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، توانا پہلوان خرم دستگیر سے بات کی ہے کہ وہ یہاں پہنچیں اور کام کریں، میں نے کہا ہے کہ اس علاقے کو جیسے بھی ہو بحال کریں اور پانی مہیا کریں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 10ارب روپے امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 25ہزار روپے دے رہی ہے،انشااللہ ایک ہفتے میں 38 ارب روپے تقسیم ہوں گے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ترکیہ کے صدرطیب یردوان نے مجھ سے بات کی، ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سے بھی ٹیلیفون پربات ہوئی، دوست ممالک کے سربراہان مصیبت کی گھڑی میں ہمارے ساتھ ہیں، خوشی ہے کہ آج ترکی سے سامان کے دو جہاز کراچی پہنچنے والے ہیں ، آج یو اے ای سے بھی سامان کے جہاز پہنچیں گے، برطانیہ نے ڈیڑھ ملین پاؤنڈ کی امداد دی جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے علم ہے فنڈز آرہے ہیں، کل ایک شخص نے 6 کروڑ روپے دیے، امداد دینے والے شخص نے کہا کہ میرا نام ظاہر نہ کریں، ایک گروپ آیا انہوں نے 45 کروڑ روپیہ دیا، جو لوگ خود اپنی امداد پہنچا رہے ہیں، اللہ ان کی دولت میں مزید اضافہ کرے، مخیر حضرات آگے آئیں اور اپنے بھائیوں،مائیں اور بچوں کی مدد کریں۔

    امدادی کاموں کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کام باتوں، نعروں ،تقریروں اور الزامات لگانے سے نہیں ہوگا، غلط الزامات لگا کر اور جھوٹ بول کر کب تک قوم سے خود کو بچالیں گے، ہمیں عملی کام کرنا ہوگا، جب تک آخری خاندان بحال نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔

    ادھر کوئٹہ میں موبائل فون سروسز سمیت دیگر تمام انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہیں۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق دیگر متاثرہ علاقوں میں سروسز کی بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلاب سے بہت زیادہ نقصانات ہوئے ہیں، متعدد ڈیمز بھی ٹوٹ گئے ہیں جس سے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت اور این جی اوز سیلاب متاثرین تک پہنچنے اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں

  • بلوچستان:بولان میں مکان کی چھت گرنےسے5 افراد جاںبحق،سندھ میں بھی متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان:بولان میں مکان کی چھت گرنےسے5 افراد جاںبحق،سندھ میں بھی متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں بولان کے قریب مچ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق مچ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 4 خواتین سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں مکان کی چھت بارش کے باعث خستہ حال ہوگئی تھی جس کے وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا جس میں 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

    عالمی رہنماوں کا شہباز شریف کو ٹیلیفون، تعاون کی یقین دہانی

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں مزید 9 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق کے بعد اموات کی تعداد 247 تک پہنچ گئی ہےصوبے بھر میں مجموعی طور پر 61 ہزار 488 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 1000 کلو میٹرز پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی حالیہ بارشوں اورسیلاب سے شدید متاثر ہوئیں ہیں۔

    دوسری جانب دریائے سوات میں سیلابی پانی کے بہاؤ میں کمی آنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

    صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق سیلاب سے خیبر پختونخوا کے 13اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ سیلاب سے متاثر ہوکر ایک لاکھ 80 ہزار افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

    سیلابی پانی اورسڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کےباعث درجنوں سیاح کالام میں پھنسےہوئے ہیں، کمراٹ میں سو سے زائد سیاح پھنس گئے ہیں لوئر دیر، شبقدر، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر مقامات پر متاثرین تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب دریائے سوات میں سیلابی پانی کے بہاؤ میں کمی آنے کے بعد بجلی کی بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے، حکام کے مطابق بجلی کی مکمل بحالی میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

    ملک میں سیلاب سے تباہی،عمران خان جلسے اور عارف علوی سالگرہ منانے میں مصروف

    سوات میں سیلابی صورتحال کے بعد کئی مقامات پر رابطہ سڑکیں اور راستے دریا برد ہوگئے ہیں، سیلابی پانی سے بحرین اور کالام کے درمیان بھی زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے جس کے باعث متعدد سیاح پھنس گئے ہیں مٹہ کا بائی پاس روڈ بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہےحالیہ سیلاب میں وادی سوات میں 15 رابطہ پلوں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان ہوا ہے۔

    ادھر سندھ میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، سجاول کے ساحلی علاقے چُوہڑ جمالی کے زیرآب آنیوالے متعدد دیہاتوں سے تاحال پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی، متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    ٹنڈو آدم میں سیلابی ریلے سے کئی علاقے زیر آب آگئے جبکہ مٹیاری میں سیلابی صورتحال کے بعد 200 سے زائد دیہات ڈوب گئے، نیو سعیدآباد سے نواب شاہ جانے والا مہران نیشنل ہائی وے بھی زیر آب آگیا۔

    عرب امارات کےصدرمحمد بن زید النہیان نے پاکستان کےسیلاب متاثرین کی امداد کا اعلان…

    حیدرآباد میں لطیف آباد اور قاسم آباد سمیت کئی علاقوں میں برساتی پانی نہیں نکالا جاسکا، ٹنڈوالہیار میں متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    میرپورخاص کے بیشتر رہائشی علاقوں سے بارش کا پانی نہیں نکالا جاسکا، شہر کے دو حصوں کو ملانے والا ریلوے انڈر پاس ٹریفک کیلئے تاحال کھولا نہیں جا سکا ہے۔

    جیکب آباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں سیلاب متاثرین سڑک کنارے حکومتی امداد کے منتظر ہیں، پاک فوج کے جوان متاثرین کی مدد کرنے پہنچ گئے ہیں دادو کی تحصیل میہڑ میں بھی سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    خیال رہے کہ سکھر بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، آبپاشی حکام کے مطابق یہ صورتحال مزید ایک ہفتے تک رہنے کا امکان ہے۔

    اسلامی تنظیمیں اور عالمی برادری پاکستان کی فوری مدد کریں ،او آئی سی

  • وسطی بلوچستان تاریکی میں ڈوب گیا

    وسطی بلوچستان تاریکی میں ڈوب گیا

    خضدار:سیلاب اوربارشوں کے بعد صوبہ بلوچستان میں جس طرح عوام الناس سخت مشکلات کا شکار ہیں وہاں‌ ان کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوا جب سندھ میں مین ٹرانسمیشن ٹاور گرنے کے باعث بلوچستان کے وسطی علاقوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے، موبائل سگنلز بھی متاثر ہیں۔

    خضدار دادو 220 کے وی کی ٹرانسمیشن لائن کا ایک ٹاور سندھ کے علاقے رتو ڈیرو میں گر گیا، جس کے باعث وسطی بلوچستان کے علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔مین ٹرانسمیشن ٹاور گرنے سے خضدار، وڈھ، قلات، منگچر اور سوراب گرڈ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق وسطی بلوچستان میں بجلی نہ ہونے سے ذرائع مواصلات بھی بری طرح متاثر ہوگئے، موبائل سگنلز بھی معطل ہیں۔

    سندھ اور بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کے باعث صورتحال انتہائی خراب ہے، سڑکیں اور پل تباہ ہونے کے باعث کئی شہروں اور دیہات کا رابطہ منقطع ہے، حادثات میں سیکڑوں افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔

    دوسری طرف بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی مدد کیلئے پاک فوج کے جنرل آفیسرز نے ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین کی مدد کیلئے عطیہ کردی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل آفیسرز کی طرح دیگر فوجی افسران بھی رضاکارانہ بنیاد پرمالی عطیات دے رہے ہیں جبکہ عوام سے عطیات جمع کرنے کیلئے تمام بڑے شہروں میں عطیہ مراکز قائم کیے جائیں گے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں منظم امدادی سرگرمیوں کیلئے ریلیف اینڈ ریسکیو آرگنائزیشن قائم کردیا گیا ہے۔ پاک فوج نے عوام کو سیلاب متاثرین کی مدد میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے کی اپیل بھی کردی ہے۔

  • بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 21 ڈیمز ٹوٹ گئے

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 21 ڈیمز ٹوٹ گئے

    بلوچستان میں بارشوں سے بھرنے والے 21 ڈیمز پانی کا دباؤ بر داشت نہ کر پائے۔

    باغی ٹی وی : 5 سال کے دوران کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والے 21 ڈ یمز ٹو ٹ گئے اور ڈیمز سے نکلنے والے سیلابی ریلوں نے صوبے میں جہاں تباہی مچائی وہیں یہ ریلے بلوچستان کی معیشت کو بھی بہا لے گئے جبکہ ٹھیکے داروں نے ڈیمز ٹوٹنے کی وجہ ناقص تعمیراتی مٹیریل اور کرپشن کو قرار دے دیا۔

    افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے بلوچستان میں تباہی مچا دی

    یاد رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی معائنہ ٹیم نے بھی حالیہ بارشوں سے کئی ماہ قبل ہی کئی ڈیمز کی تعمیر کو ناقص قرار دیا تھا تاہم حکومت نے کوئی ایکشن نہ لیا اور نہ ہی ڈیمز کی مرمت کرائی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ناقص تعمیر پر ایکشن لینے کا اعلان کردیا۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقواں نوشکی، قلعہ عبداللہ اور چاغی میں افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے سیلابی ریلوں میں نوشکی کے7 دیہات ڈوب گئے ، درجنوں مکانات تباہ ، پھلوں کے باغات اور کھڑی فصلیں بہہ گئیں-

    سندھ میں مون سون کا نیا اسپیل،بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی

    ریلے میں پھنسے 5 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرلیا گیا جبکہ سیلاب متاثرہ درجنوں دیہات کا نوشکی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور سیلاب متاثرین کو ہیلی کاپٹرکے ذریعے امدادی سامان اور راشن فراہم کیا گیا۔

    سندھ میں بارشوں سے تباہی،مزید9 افراد جاں بحق،فوج سے مدد طلب

  • افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے بلوچستان میں تباہی مچا دی

    افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے بلوچستان میں تباہی مچا دی

    بلوچستان : نوشکی، قلعہ عبداللہ اور چاغی میں افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سیلابی ریلوں میں نوشکی کے7 دیہات ڈوب گئے ، درجنوں مکانات تباہ ، پھلوں کے باغات اور کھڑی فصلیں بہہ گئیں ریلے میں پھنسے 5 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرلیا گیا جبکہ سیلاب متاثرہ درجنوں دیہات کا نوشکی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور سیلاب متاثرین کو ہیلی کاپٹرکے ذریعے امدادی سامان اور راشن فراہم کیا گیا۔

    سندھ میں مون سون کا نیا اسپیل،بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی

    خشنوب میں متاثرین خیمہ بستیوں میں سہولتیں نہ ملنے پر اپنے بوسیدہ گھروں کو لوٹ گئےفورٹ منرو میں دو ہزار سے زائد ٹرک اور چھوٹی گاڑیاں پورا ہفتہ پھنسی رہنے کے بعد بلوچستان کو پنجاب سے ملانے والی قومی شاہراہ سات دن بعد کھول دی گئی ہے۔

    ایک ہفتے تک پھنسے رہنے کے باعث ٹرکوں میں موجود سبزیاں اور پھل خراب ہوگئے، انگور، پیاز اور ٹماٹر استعمال کے قابل نہیں رہے۔

    کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو ایک بار پھر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہےڈپٹی کمشنر مستونگ سلطان بگٹی کے مطابق لسبیلہ ڈسٹرکٹ میں پھر شدید بارشوں سے اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جس کی وجہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک اور ذرائع آمدورفت کے لیے مکمل معطل ہے۔

    تباہی،مزید9 افراد جاں بحق،فوج سے مدد طلب

    انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے کراچی کے لئے سفر کرنے والے مسافر، کوچز، مال بردار ہیوی گاڑیاں اور دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سفر کرنے سے مکمل گریز کریں تاکہ انہیں سفر کے دوران کوئی مشکلات پیش نہ آسکیں مسلسل بارشوں سے قومی شاہراہ سفر کرنے کے قابل نہیں ہے لہذا ٹرانسپورٹرز اور عوام الناس کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔

    بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث بلوچستان میں کھانے پینے کی چیزوں کا بحران پیدا ہو گیا ہے یورپی یونین نے سیلاب زدگان کے لیے 3 لاکھ 50 ہزار یورو (تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ پاکستانی روپے) امداد کا اعلان کیا مذکورہ امداد سے بلوچستان کے علاقے جھل مگسی اور لسبیلا میں سیلاب زدگان کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔

    پاکستان میں یورپی یونین کی انسانی ہمدردی کے پروگرام کی نگران تہینی تھماناگوڈا کا کہنا ہے کہ سیلاب نے پاکستان کے مختلف علاقوں تباہی مچائی ہے جس کے باعث لوگ نہ صرف اپنی قیمتی اشیا بلکہ گھروں تک سے بھی محروم ہوگئے ہیں یورپی یونین کی فنڈنگ ان تباہ حال علاقوں میں موجود لوگوں، جن میں خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں، کی اس مشکل وقت میں اہم مدد ہوگی۔

    بلاول بھٹو کا بارش متاثرین کو 25 ہزار روپے امدادی رقم دینےکا اعلان

  • سیلاب سے گھربارسب کچھ تباہ: وہاب بگٹی امدادکا منتظر:پاک فوج کےافسران امداد لےکرگھرپہنچ گئے

    سیلاب سے گھربارسب کچھ تباہ: وہاب بگٹی امدادکا منتظر:پاک فوج کےافسران امداد لےکرگھرپہنچ گئے

    ڈیرہ مراد جمالی: سیلاب سے گھربارسب کچھ تباہ: وہاب بگٹی حکومتی امدادکا منتظر:پاک فوج کےافسران امداد لےکرگھرپہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق گزشتہ 4 دنوں سے مسلسل طوفانی بارشوں نے جہاں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کیا، وہیں ڈیرہ مراد جمالی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے معروف کوک اسٹوڈیو کے بہترین گلوکار عبدالوہاب بگٹی کا گھر بھی زمین بوس ہوگیا بے۔

    بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں حالیہ بارشوں نے کئی سالوں کے ریکارڈ توڑ دیے، سنگر عبد الوہاب بگٹی بھی اس طوفانی بارشوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ کچا نما تین کمروں پر مشتمل ان کا گھر بھی منہدم ہوگیا اور وہ مجبوری کے عالم میں اپنے بچوں کو لیے ڈیرہ مراد جمالی شہر میں ایک مکان میں رہائش پذیر ہیں۔

     

    انہوں نے بتایا کہ ہم بڑی مشکلوں میں زندگی گزار رہے ہیں، میں نے دوست سے ڈیرہ مراد جمالی میں ایک کمرہ لیا جہاں بچوں کو رکھا ہے کیونکہ یہاں سب تباہ ہوگیا ہے۔وہاب بگٹی نے حکام سے امداد کی اپیل کی تو سب سے پہلے پاک فوج کے افسران مدد کو پہنچ گئے اورامداد کے ساتھ ساتھ وہاب بگٹی کویقین دہانی کروائی کہ ان کے مکانات بھی تعمیر ہوں گے اوران کے ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے گا

    اس سلسلے میں پاک فوج کے بریگیڈیئر مرتضی اور ایف سی کرنل احمد پاکستان کے معروف سنگر عبدالوہاب بگٹی کے گوٹھ میں پہنچے اور وہاں پر آکر ان کے ہمسایہ والو کو راشن اور ادویات دی اس موقع پر وہاب بگٹی نے کہا کہ وہ پاک فوج کے مشکور ہیں جو سخت ترین حالات کےباوجود میری آواز پرمیرے پاس پہنچے اور نہ صرف میری مدد کی بلکہ میری گوٹھ کے دیگرمستحقین کی بھی مدد کی جس پرہرکوئی خوش ہے

     

    https://www.youtube.com/watch?v=J5SKONd_GXI

    یاد رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ٹوئٹ وائرل ہونے کے بعد یہ خبر سامنے آئی تھی کہ گلوکار وہاب علی بگٹی بھی بلوچستان میں بارشوں کے بعد پیش آنے والے سیلابی تباہ کاریوں سے متاثر ہوگئے ہیں۔جس کے بعد پاک فوج کے افسران اپنے جوانوں کے ساتھ اس گوٹھ میں‌پہنچے اور مدد کی

  • بلوچستان میں سیلاب اوربارشوں سے مزید  9 افراد جاں بحق،مجموعی اموات کی تعداد 225 ہوگئی

    بلوچستان میں سیلاب اوربارشوں سے مزید 9 افراد جاں بحق،مجموعی اموات کی تعداد 225 ہوگئی

    سندھ میں بارشوں کے باعث چھتیں گرنے کے واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی جبکہ بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے مختلف حادثات میں مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے جس سے صوبے میں مجموعی اموات کی تعداد 225 ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : سکھر کے نواحی علاقے کندھرا میں گھر کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 4بچے جاں بحق ہو گئے لاڑکانہ میں بھی چھت گرنے کے باعث ملبے تلے دبے تینوں بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں شہدادکوٹ میں چھت گرنے سے خاتون جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے اوباڑو میں گھر کی چھت گرنے سے ماں بیٹا جاں بحق ہوگئے-

    تعلیمی ادارے ایک ہفتے کےلیے بندکردیئے گئے

    بارش کے باعث ضلع مٹیاری کے گاؤں قادربخش میں پانی داخل ہوگیا، بیس سےزائد کچےمکانات تباہ ہوگئےعلاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد کو نہیں پہنچا گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کچے کے 15 دیہات زیر آب آگئے نگوانی، ضلع قمبر اور شہدادکوٹ میں شدید بارش سے زندگی مفلوج ہوگئی۔

    جوہی میں سیلابی ریلا ایم این وی ڈرین میں داخل ہونے کے باعث سوفٹ چوڑا شگاف پڑگیاپچاس سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے، فصلیں تباہ ہوگئیں سندھ میں بارشوں سے متاثرہ حیدرآباد سمیت سندھ کے 23اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔ سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ، میرپور خاص ڈویژنز کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہےجبکہ کراچی ڈویژن کے ضلع ملیر کے کچھ علاقوں کو بھی آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

    دریائے سندھ میں طغیانی ،ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب ،8 لاکھ کیوسک سیلاب کے ریلے کا…

    دوسری جانب بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے مختلف حادثات میں مجموعی اموات کی تعداد 225 ہوگئیں بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، دکی اور ہرنائی میں مسلسل طوفانی بارشیں ہوئیں جس کے نتیجے میں قلعہ عبداللہ میں دولنگی ڈیم ٹوٹ گیا جب کہ دو اہم پل اور کئی رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    بارشوں سے متعدد مکانات گر گئے ،پشین کا علاقہ بوستان زیرآب آگیا جب کہ مچھ میں بی بی نانی پل کے نیچے سے اونچے درجے کاسیلابی ریلا گزر رہا ہے ڈیرہ مرادجمالی میں 220 کےوی گرڈ اسٹیشن میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    مسلسل بارشوں اور سیلابی ریلوں کے سبب پنجاب بلوچستان شاہراہ پانچویں روز بھی بند بھی بند ہے کوئٹہ جیکب آباد شاہراہ، ژوب سے ڈی جی خان، بارکھان تاڈی آئی خان اور لسبیلہ سے کراچی شاہراہیں آمدورفت کیلئے بند کردی گئی ہیں جبکہ باب دوستی کےقریب کارگو روٹ بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک افغان تجارت بھی بحال نہ ہو سکی۔

    عرب ممالک کی این جی اوز سندھ اور بلوچستان میں سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

    متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے جامع پلاننگ کی ہے،وزیراعلی پنجاب

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہی نے راجن پور، تونسہ ڈیرہ غازی خان میں رود کوہیوں کے ساتھ دریائی سیلاب سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت کی، وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی نے پی ڈی ایم اے، ریسکیو1122 اور انتظامیہ کو نئی ہدایات دیں، اور کہا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز میں کام کریں۔ ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو تیز کیا جائے۔ پنجاب کے دیگر شہروں سے ضروری آلات و مشینری فی الفور متاثرہ علاقوں میں منتقل کی جائے۔نشیبی علاقوں سے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی اور دیگر اقدامات کئے جائیں.نشیبی علاقوں میں عوام کے تحفظ کےلئے بروقت اقدامات کئے جائیں،سیلاب زدگان کو خیمے ،خشک راشن کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔میڈیکل اور وٹرنری فکسڈ کیمپ کے ساتھ موبائل ٹیمیں تشکیل دی جائیں،سیلاب زدگان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ،حکومت پنجاب سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑی ہے ،متاثرین کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

    علاوہ ازیں وزیراعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کی بنی گالا آمد ہوئی، اس موقع پر وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے جامع پلاننگ کی ہے پنجاب حکومت کے تمام متعلقہ محکمے اور انتظامیہ متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہے متاثرہ علاقوں میں امدادی کیمپس کے ساتھ میڈیکل کیمپس بھی لگائے گئے ہیں۔ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کی خود نگرانی کر رہا ہوں