Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • ملک بھرمیں سیلا ب سےجاںبحق  افراد کی تعداد ایک ہزار486 ہوگئى

    ملک بھرمیں سیلا ب سےجاںبحق افراد کی تعداد ایک ہزار486 ہوگئى

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اورخشک رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب ،خیبرپختو نخوا، گلگت بلتستان اورآزادکشمیرمیں بارش متوقع ہے،اسلام آباد میں موسم گرم اورخشک رہے گا ،خطۂ پوٹھو ہار، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ، نارووال اور لاہور میں بارش کا امکان ہے،مانسہرہ، ایبٹ آباد ، کو ہستان،سوات، چترال، دیر اور کرم میں بارش متوقع ہے-

    ڈیرہ غازیخان – سیوریج کا پانی سیلابی شکل اختیار کرنے لگا

    این ڈ ی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزيد 5 افراد جاں بحق ہوئے ،بارشوں اور سیلا ب سے بلوچستان میں مزید 3 افراد جاںبحق ہوئے،ملک بھرمیں سیلا ب سےجاںبحق افراد کی تعداد ایک ہزار486 ہوگئى،ملک بھرمیں 12 ہزار 718 کلو ميٹر سڑک بارشوں اورسيلاب سےمتاثر ہے ،ملک بھر میں 9 لاکھ 18 ہزار 473 مويشيوں کو نقصان پہنچا،ملک بهر میں 80 اضلاع بارشوں اور سيلاب سے تاحال متاثر ہيں،

    بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید3 اموات ہوئی ہیں پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 13 اموات رپورٹ ہوئیں،ایک مرد ، 9 خاتون اور 3 بچوں کی اموات کوئٹہ سے سامنے آئیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ نے امدادی کام مزید وسیع کردیے

    بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 294 ہوگئی ہے ،جاں بحق ہونے والوں میں 134 مرد73خواتین اور 87 بچے شامل ہیں ۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 181 افراد زخمی ہوچکے ہیں، سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 65 ہزار 997 مکانات نقصان کا شکار ہوئے تو وہیں 2 لاکھ 70 ہزار 744 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں ۔

    اب تک مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا،صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر گئے جبکہ 2200 کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

    سی اے اے حکام کی کراچی ایئرپورٹ پر طیارے کا انجن اور پرزے غائب ہونے کی تردید

  • بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    پروونشل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے نتیجے میں ہونے والےحادثات میں مزید تین اموات ہوئی ہیں جاں بحق افراد میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے، تینوں ہی اموات ضلع قلعہ سیف اللہ سے سامنے آئیں –

    باغی ٹی وی : پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 ہوگئی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 133 مرد 64 خواتین اور 84 بچے شامل ہیں سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ جبکہ ژوب سے 22 اور لسبیلہ سے 21 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ صوبے بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 172 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی

    سیلابی ریلوں اور بارشوں سے صوبے بھر میں مجموعی طور پر 65 ہزار 197 مکانات کو نقصان پہنچ چکا ہے مجموعی طور پر دو لاکھ 70 ہزار 444 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر کر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 2200 کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد، جعفر آباد میں خمیہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے بخار اور گسیٹرو اور ملیریا جیسے امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھر افراد خیموں سے بھی محروم ہیں۔

    ڈیرہ مراد جمالی میں خمیہ بستی میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے معصوم بچے شدید بخاراور گسیڑو میں مبتلا ہونے لگے،،مائیں پانی کے قطرے ڈال کر بخار کی شدت کو کم کرنے کی کوششیں کرتی نظرآتی ہیں جبکہ شدید گرمی میں متاثرین اپنے بچوں کو چار پائی کی مدد سے سایہ دینے کی کوشش کررہے ہیں-

    بھارت پاکستان پرایک اورآبی حملے کا منصوبہ بناچکا:سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی

    امدادی سامان میں مبینہ طور پر غیرمنصفانہ تقسیم کے خلاف متاثرین نے ڈیرہ اللہ یار صحبت پور شاہراہ کو بلاک کرکے احتجاجی دھرنا دیا جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھرافراد خیموں سے بھی محروم ہیں، متاثرین میں بیماریاں پھیل رہی ہیں سڑکیں بحال نہ ہونے کے باعث مسافروں کو بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ 18 ستمبر سے پنجاب کے دریاؤں ستلج، راوی، چناب اوران کے ملحقہ نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 14 سے 20 ستمبر تک موسم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہے، ہوا کا یہ کم دباؤ مشرقی دریاؤں کے بالائی علاقوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہوا کے اس کم دباؤ کے زیر اثر 18 ستمبر سے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ان سے ملحقہ نالوں میں پانی کابہاؤ بڑھ سکتا ہے-

    سعودی عرب سے سیلاب متاثرین کے لئے پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی

  • سیلاب: بلوچستان میں مزید 8اموات رپورٹ

    سیلاب: بلوچستان میں مزید 8اموات رپورٹ

    بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے باعث حادثات میں مزید 8 اموات ہو ئیں –

    باغی ٹی وی: پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید8 اموات رپورٹ ہوئیں،6 مرد اور 2 خواتین کی اموات ضلع جھل مگسی سے سامنے آئیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 278 ہوگئی ہے ،جاں بحق ہونے والوں میں 132 مرد 63 خواتین اور83 بچے شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 172 افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 64 ہزار 385 مکانات نقصان کا شکار ہوئے تو وہیں 2 لاکھ 70 ہزار 444 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا،صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر گئے جبکہ2 ہزار 200کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے ضلع بولان میں گزشتہ ماہ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی سوئی گیس پائپ لائن کی مرمت کاکام مکمل ہوگیا ہے-

    سعودی عرب کی پاکستانی سیلاب زدگان کیلئے قومی مہم کا آغاز

    سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کے مطابق بلوچستان کے ضلع بولان میں 24 اگست کو شکار پور سے کوئٹہ آنے والی 12 انچ اور 24 انچ قطرکی سوئی گیس پائپ لائنیں سیلابی ریلےمیں بہہ گئیں تھیں تاہم اب 12 انچ قطرکی گیس پائپ لائن کی مرمت کر کےکوئٹہ ،قلات ،مستونگ ، پشین، زیارت کو سوئی گیس کی فراہمی بحال کر دی ۔

    سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ 24 انچ قطر کی سوئی گیس پائپ لائن کے دو روز تک ٹیکنکل ٹیسٹ کر کے کوئٹہ کو مذکورہ سوئی گیس پائپ لائن سے سوئی گیس بحال کردی جائے گی۔

    دوسری جانب سوئی سدر ن گیس کمپنی کے عملے نے مچھ ندی میں بہہ جانے والی پائپ لائن کی مرمت کرکے مچھ شہر کو ڈیڈھ ماہ بعد سوئی گیس کی فراہمی بحال کر دی۔

    پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

  • بلوچستان کے کئی علاقوں سے سیلابی پانی کا نکاس نہ ہو سکا،وبائی امراض پھوٹ پڑے

    بلوچستان کے کئی علاقوں سے سیلابی پانی کا نکاس نہ ہو سکا،وبائی امراض پھوٹ پڑے

    بلوچستان کے جعفر آباد، نصیر آباد اور صحبت پور کے علاقوں میں سیلاب کا پانی تاحال جمع ہے جس کے باعث وبائی امراض پھوٹ پڑے-

    باغی ٹی وی: شدیدگرمی میں ملیریا، جلدی امراض اورگیسٹروسے تباہ حال متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ڈیرا الہیار، گنداخہ، صحبت پور، نوتال، بابا کوٹ اور ربیع میں متاثرین کو ادویات، پینے کے صاف پانی اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے-

    سیلاب کی تباہ کاریاں: پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مشکلات کا شکار ہوگئی

    دوسری طرف بولان میں سیلاب سے تباہ ہونےوالے پنجرہ پل کا کام اب تک شروع نہیں ہوسکا جس سے کوئٹہ آنے اور جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے

    راجن پور کے سیلابی علاقوں میں بھی پانی کا اخراج نہ ہونے سے ڈینگی، ملیریا اور جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے، مچھر دانیوں اور صاف پانی کی بھی شدید قلت ہے۔

    راجن پور میں اپنے گھروں کو لوٹ جانے والے متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت اپنے تباہ حال گھروں کو تعمیر کر رہے ہیں، جبکہ بہت سے متاثرین اب بھی انڈس ہائی وے پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب تحصیل جوہی میں نامعلوم افراد نے جوہی برانچ کو کٹ لگا دیا، جوہی میں سیلابی صورتحال میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دیئے گئے کٹ کو بھاری مشنری سے پُر نہ کیا گیا تو پانی کی سطح میں اضافہ ہوگا اور شہر ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں سروے 12 ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ

    منچھر جھیل میں پانی کی سطح کئی کٹ لگانے کے باوجود بھی کم نہ ہو سکی، دریائے سندھ کے قریب لاڑکانہ سیہون بچاؤ بند کو کٹ لگا دیا گیا تیز ریلوں نے بھان سعید آباد کی دل نہر کے حفاظتی بند پر چوڑا شگاف لگا دیا ہے جبکہ قمبر شہداد کوٹ کی تحصیل وارہ سے لیکر سیہون تک پانی کی سطح میں انتہائی معمولی کمی ہوپائی ہے۔

    ادھرمختلف مقامات پر لگائے گئے کٹ اور شگافوں سے تقریباً پچاس ہزار کیوسک سے زائد پانی دریائے سندھ میں داخل ہورہا ہے جبکہ شہری میہڑ، جوہی، بھان سعید آباد اور دادو کے رنگ بندوں کی مضبوطی کیلئے کئی دنوں سے کام کر رہے ہیں-

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے…

  • بلوچستان میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 270 تک پہنچ گئی،بیماریاں بھی پھیلنے لگیں‌

    بلوچستان میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 270 تک پہنچ گئی،بیماریاں بھی پھیلنے لگیں‌

    کوئٹہ: بلوچستان میں سیلاب سے مزید تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی طور پر بلوچستان میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 270 تک پہنچ گئی ہے۔

    پراونشل ڈایزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے مزید 3 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد بلوچستان میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 270 ہوگئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے ہلاک ہونے والے مال مویشی کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 33 ہزار 149 ہوگئی ہے جب کہ سیلاب سے متاثرہ گھروں کی تعداد 64 ہزار 385 ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب سے 2 لاکھ 936 ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جب کہ بارشوں میں سیلاب سے 1500 کلو میٹر پر مشتمل سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ بارش اور سیلابی ریلوں سے 22 رابطہ پل ٹوٹ چکے ہیں، نصیرآباد ڈویژن اور کچھی کے بعض علاقوں میں سیلابی پانی اور گرمی کی شدت سے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔رضا کار تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو خیموں اور خوراک کی اشیاء کی اشد ضرورت ہے جب کہ سیلاب زدگان بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔

    دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف نے گللگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے کرنے کا حکم دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان حکومت کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے مشترکہ سروے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔صوبائی حکومت نے متاثرہ علاقوں کے لیے سروے ٹیمز تشکیل دے دی ہیں، این ڈی ایم اے کی مشاورت سے سروے ٹیموں کو متعلقہ اضلاع میں بھجوا دیا گیا ہے۔

    تمام ڈپٹی کمشنرز کو 15 ستمبر تک سروے اور تخمینہ لگانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔چیف سیکرٹری محی الدین وانی رپورٹ وزیراعظم اور این ڈی ایم اے کو بھجوائیں گے۔

  • ٹماٹراورپیازپاکستان کے:قلات میں زمینداروں کا احتجاج، ایران سے آئے ٹماٹر سڑک پر پھینک دیئے

    ٹماٹراورپیازپاکستان کے:قلات میں زمینداروں کا احتجاج، ایران سے آئے ٹماٹر سڑک پر پھینک دیئے

    قلات :بلوچستان کے زمینداروں نے ایران اور افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کیخلاف کوئٹہ کراچی شاہراہ کو منگچر کے مقام پر بند کردیا، مظاہرین نے بھاری مقدار میں ایران سے آئے ٹماٹر سڑک پر پھینک دیئے۔ انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مظاہرین کیخلاف کارروائی شروع کردی۔

    ضلع قلات کے علاقے منگچر میں بعض زمینداروں نے ایران سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کیخلاف احتجاج کیا مظاہرین نے اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کوئٹہ کراچی شاہراہ کو احتجاجاً بند کردیا، کچھ مشتعل افراد نے ٹرک سے ٹماٹر اتار کر پھینک دیئے۔قلات میں احتجاج کے باعث قومی شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کے باعث مقامی پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں گرگئیں، جس کی وجہ سے انہیں نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایران اور افغانستان سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمد کو فوری روکنے کا مطالبہ کردیا۔

    دوسری طرف بعض مقامی زمینداروں نے قومی شاہراوں کو بند کرنے اور پھلوں اور سبزیوں کو سٹرکوں پر پھینک کر احتجاج کرنے کے واقعے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور افغانستان سے پھلوں و سبزیوں کی درآمد سے مقامی زمینداروں اور تاجروں کو بلاشبہ لاکھوں روپے کا نقصان ہورہا ہے لیکن ایسا رویہ قابل مذمت ہے۔

    دوسری طرف ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قلات فدا بلوچ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین کیخلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • پاکستان سمیت دنیا کےمختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا  دلکش نظارہ

    پاکستان سمیت دنیا کےمختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا دلکش نظارہ

    پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا نظارہ دیکھا گیا۔

    باغی ٹی وی : اسٹار لنک سیٹلائٹ کا نظارہ دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا گیا جس نے دیکھنے والوں کو حیرانی میں مبتلا کر دیا۔

    ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    پاکستان میں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ دیکھی گئی جسے شہریوں نے کیمرے میں قید بھی کیا۔


    اسٹار لنک سیٹلائٹ اسپیس ایکس کا پراجیکٹ ہے، اسٹار لنک دنیا بھر میں بنا کسی تعطل کے تیز ترین انٹرنیٹ سروس مہیا کرتا ہے اور اسٹار لنک ابھی 40 ممالک میں انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔
    https://twitter.com/DulithHerath/status/1567836094892482560?s=20&t=oSGC2NKGTQls0TfJdV4kmA
    https://twitter.com/AlySyyed/status/1568054722262597632?s=20&t=oSGC2NKGTQls0TfJdV4kmA

    اسٹار لنک ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس کا مقصد ‘دنیا کے جدید ترین براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم کو تعینات کرنا’ ہے اس میں 40،000 سے زیادہ سیٹلائٹس کے ‘میگا کنسٹرلیشن’ کو مدار میں ڈالنا شامل ہے۔

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    سٹار لنک (Star Link) کیا ہے؟

    ایک بہت بڑے پروجیکٹ کا آغاز سپیس ایکس کمپنی نے 2015 ءمیں کیاجسے ’’سٹار لنک‘‘کانام دیا گیا جس کا بنیادی مقصد سستے اور تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت پوری دنیا کے صارفین تک پہنچانا ہے-

    ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں 59فیصد صارفین ہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک ہیں اور وہ انٹرنیٹ کی تیز سپیڈکے بھی خواہشمند ہیں گو کہ انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئےموجودہ دورمیں کیبل، ٹاور اور وائی فائی سگنل کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے 1600 سیٹلائٹس 550کلو میٹر پر جبکہ 2800سیٹلائٹس 1150 کلو میٹرز کی بلندی پر ایک مقررہ مدار میں سفر کریں گی- پروجیکٹ نومبر 2027ء میں مکمل ہو گا-

    ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    قبل ازیں تجرباتی طور پر دو ٹیسٹ سیٹلائٹس فروری 2018ء میں خلا میں بھیجی گئی اور دوسری 24مئی 2019ءکو لانچ ہوئی جس میں 60 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا گیا جو ایک لائن میں سفر کرتےاور حسین نظارہ پیش کرتے دکھائی دئیے جسے’’سٹار لنک ٹرین‘‘ کا نام دیا گیا تھا-

    سپیس ایکس سٹار لنک ’’Low earth orbit ‘‘سیٹلائٹ ہیں جو زمین کے قریب ہوتے ہیں یہ ساکن اور حرکت کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں زمین کےقریب ہونےکی وجہ سےرابطہ کرنےکیلئے کم لیٹنسی استعمال کریں گےجو 25 یا 35 ملی سیکنڈہونے کی وجہ سےان کی پرفارمنس کیبل اور فائبر آپٹک کیبل سے کہیں زیادہ ہے-

    سٹار لنک فاسٹر لیزرٹرانسمیشن کو استعمال کرتے ہوئے ایک سیٹلائیٹ سے 1TBفی سیکنڈ ٹرانسمیشن کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں 40ہزار لوگوں کو4Kکوالٹی میں ویڈیو دیکھاسکےگا-سپیس ایکس نے پچھلے سالوں کی نسبت 500 سیٹلائیٹ زمینی مدار میں لانچ کی ہیں جو کہ لو ارتھ آربٹ سے انٹر نیٹ مہیا کریں گی جس کی سپیڈ تقریباً 1GBفی سیکنڈ ہو گی جو کہ عام صارف کی روز مرہ زندگی میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہو گا-

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسٹار لنک اسپیس ایکس کا پروجیکٹ ہے اسپیس ایکس ایک امریکن کمپنی ہےجو حکومت کو اپنے فالکن9 اور فالکن ہیوے راکٹ کے ذریعے کمرشل سروسز مہیا کرتی ہےاسپیس ایکس باقاعدہ خلا میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پرسامان لےجاتی ہےاس کمپنی کےبانی اورچیف ایگزیکٹو ایلن مسک(Elon Musk) نے اس کمپنی کی بنیاد 2003 ءمیں رکھی اور اس کا مقصد خلائی ٹرانسپورٹ سروس کے اخراجات میں کمی کرنا اور مریخ پر آباد کاری کرناتھا- سپیس ایکس وہ پہلی نجی کمپنی ہے جس نے خلا میں متعدد راکٹ بھیجے ہیں اسپیس ایکس کمپنی عام انسانوں کوخلاء میں لے جانے کے لیے ایک بڑا خلائی جہاز بھی بنا رہی ہے جسے ’’سٹارشپ‘‘کا نام دیا گیا ہے-

  • بلوچستان کی بحالی اور تعمیر کیلئے200 ارب روپے کا تخمینہ

    بلوچستان کی بحالی اور تعمیر کیلئے200 ارب روپے کا تخمینہ

    سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بلوچستان کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں بحالی اور تعمیر کیلئے 200 ارب روپے کا تخمینہ لگایا ہے-

    باغی ٹی وی: سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کابینہ کو حالیہ سیلابی صورتحال کے باعث ہونے والے نقصانات، امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیلابی صورتحال سے 263 اموات ہوئی ہیں –

    سیلاب سے جانی ومالی نقصان پربہت دُکھی ہیں :سیلاب متاثرین کی فی الفور مدد کی…

    سینئر ممبر نے بتایہ کہ 5 لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہوئے ہیں 65 ہزار گھر مکمل تباہ ہوئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 20 ہزار گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ سیلابی صورتحال سے 103 ڈیمز متاثر ہوئے ہیں، 9 لاکھ ایکڑ زرعی رقبے کو نقصان پہنچا ہے-

    کابینہ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک ایک لاکھ 25 ہزار لوگوں کو متاثرہ اضلاع سے نکالا گیا ہے اور 10 لاکھ متاثرہ لوگوں تک رسائی حاصل کی گئی ہے، متاثرہ لوگوں کو فوڈ اور نان فوڈ اشیا فراہم کی جارہی ہیں

    کابینہ کا کہنا تھا کہ 8 افراد پر مشتمل 11 لاکھ 8 ہزار 589 خاندانوں کو ایک ماہ کا راشن فراہم کیا گیا ہے اور اب تک متاثرہ افراد کو 56 ہزارخیمے اور دیگر نان فوڈ اشیا فراہم کی گئی ہیں۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ متاثرہ اضلاع میں بحالی اور تعمیر کیلئے 200 ارب روپے درکار ہیں صوبے بھر میں متاثرہ املاک اور زرعی اراضی کی بحالی کا تخمینہ 56.5 ارب روپے ہے-

    سیلاب زدہ علاقوں میں مستقل ٹول فیس کی چھوٹ ممکن نہیں:عارضی چھوٹ پرغورکریں گے:این…

    دوسری جانب پراونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 4 اموات رپورٹ ہوئیں ہیں-

    یکم جون سے اب تک صوبے میں جان بحق ہونے والے افراد کی تعداد 267 تک پہنچ گئی جاں بحق ہونے والوں میں 126 مرد 59 خواتین اور82 بچے شامل ہیں۔

    سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ، جبکہ لسبیلہ اور ژوب سے 21-21 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ صوبے بھر میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 166 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 64 ہزار385 مکانات نقصان کا شکار ہوئے، 2 لاکھ 15 ہزار 936 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں اب تک مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا، صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر گئے۔

    ای سی سی اجلاس،سیلاب متاثرین کیلئے3ارب روپےکے فنڈز کی منظوری

  • لاپتہ افراد کےلواحقین نےایک اہم شخصیت کی یقین دہانی کےبعد 50 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا

    لاپتہ افراد کےلواحقین نےایک اہم شخصیت کی یقین دہانی کےبعد 50 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا

    کوئٹہ:وزیراعظم کی لاپتہ افراد کیلئے قائم وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی کی یقین دہانی پر لاپتہ افراد نے 50 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا۔ وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے تمام فریقین کا تعاون درکار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر لاپتہ افراد کیلئے قائم کمیٹی نے کوئٹہ کا دورہ کیا۔

    وفاقی وزیر قانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور شازیہ مری سمیت 8 رکنی کمیٹی نے دھرنے میں بیٹھے مظاہرین سے مذاکرات کئے۔ جس میں خصوصی کمیٹی کے فوکل پرسن سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی شامل تھے۔

    کمیٹی نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ان کا مؤقف سنا اور دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کیا، کمیٹی سے کامیاب مذاکرات کے بعد لاپتہ افراد کے لواحقین نے 21 جولائی سے زرغون روڈ پر ریڈ زون میں جاری دھرنا ختم کردیا۔کمیٹی ارکان نے دھرنا ختم کرنے پر شرکاء اور لاپتہ افراد کے لواحقین کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے تمام فریقین کا تعاون درکار ہے۔

    میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ پاکستان کا مسئلہ بن چکا ہے، اسے دو مختلف فورمز پر حل کر رہے ہیں، دکھ کی بات ہے کہ ہماری مائیں بہنیں اپنے پیاروں کیلئے سڑک پر بیٹھی ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے ہم پر اعتماد کرتے ہوئے دھرنا ختم کیا ہے، ان کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔

    وزیر قانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت خلوص نیت سے لاپتہ افراد کا مسئلہ کرنا چاہتی ہے، اس حوالے سے کئی اجلاس کرچکے ہیں، لاپتہ افراد کے لواحقین سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی، مسئلہ حل کرنے کیلئے 2 ماہ کا وقت مانگا ہے۔

    وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر تشویش ہے، لاپتہ افراد کے لواحقین کا دکھ ناقابل بیان ہے، یہ مسئلہ اب حل ہونا چاہئے، لواحقین کو اپنے پیاروں کیلئے سڑکوں پر دیکھ کر دکھ ہوا ہے، کوشش کریں گے لاپتہ افراد کا مسئلہ سنجیدگی سے حل ہو۔

    اس سے قبل وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ، شازیہ مری، آغا حسن بلوچ، سینیٹر کامران مرتضیٰ پر مشتمل وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے لاپتہ افراد نے کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزراء اور صوبائی حکام کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں لاپتہ افراد کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، چیف سیکریٹری بلوچستان عزیزی عقیلی نے لاپتہ افراد اور امن وامان کی صورتحال کے متعلق اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • عائشہ زہری بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر تعینات،نوٹیفیکیشن جاری

    عائشہ زہری بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر تعینات،نوٹیفیکیشن جاری

    اسسٹنٹ کمشنر مچھ عائشہ زہری کو ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ڈویژن تعینات کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : اسسٹنٹ کمشنر مچھ عائشہ زہری کو بہترین کارکردگی دکھانے پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ڈویژن تعینات کیا گیا ہےعائشہ زہری بلوچستان میں اس عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون ہیں ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ۔

    وزیراعظم آج ڈیرہ اسماعیل خان کے سیلاب سے متاثرہ علاقے کا دورہ کرینگے

    عائشہ زہری نے 26 اگست کی طوفانی بارش کےبعد کم وسائل میں رضا کاروں کی مدد سےبولان میں پھنسے سینکڑوں مسافروں کو ریسکیو کیا تھا اور بروقت پانی اور خوراک پہنچا کر کئی مسافروں کی جانیں بھی بچائی تھیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اتوار 4 ستمبر کو بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ ضلع کچھ کے دورے کے دوران بولان کے علاقے میں پنجرہ پل کادورہ کیا تھااس موقع پروزیراعظم نےاسسٹنٹ کمشنر مچھ انجینئر عائشہ زہری کوسیلابی صورتحال کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر خوب سراہا اور سر پر ہاتھ رکھ کر شاباش دی ۔

    حکومت نے سیلاب متاثرین کی امداد 28 سے بڑھا کر 70 ارب کردی


    وزیر اعظم شہباز شریف نے فرض شناس افسر عائشہ زہری کیلئے تالیاں بھی بجائی تھیں اور ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے بھی عائشہ زہری کی تعریف کی تھی اور ان کی کارکردگی کو سراہا تھا۔

    اس سے قبل نصیرآباد ڈویژن کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کو معطل کردیا گیا تھا۔ جہاں اب عائشہ زہری کو تعینات کیا گیا ہے۔ نصیرآباد ڈویژن کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیوں میں سست روی پر نکالا گیا تھا۔

    سیلاب متاثرین کی مدد، خیمے،راشن فراہم کرنے میں پاک فضائیہ بھی پیش پیش