Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بلوچستان حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام:ینگ ڈاکٹرزکا ریڈ زون میں دھرنا دینے اعلان

    بلوچستان حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام:ینگ ڈاکٹرزکا ریڈ زون میں دھرنا دینے اعلان

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دینے اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے رہنما ڈاکٹر حنیف لونی نے سول اسپتال کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سے آج مذاکرت نتیجہ خیز نہ ہونے کی صورت میں کل سے ایمرجنسی سروسز سے دستبردار ہونے اور کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دیں گے-

    کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    ڈاکٹر حنیف لونی نے کہا کہ ہمارے تین بڑے مطالبات ہیں جن میں محکمہ صحت کی پالیسی، سروس اسٹرکچر اور اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی شامل ہےحکومت اور وزیراعلیٰ مذاکرت میں سنجیدہ نہیں ہیں، ہمارے گرفتار ڈاکٹرز دس روز سے جیل میں ہیں مگر ہم نے عوام کی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے انتہائی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

    ڈاکٹر حنیف لونی نے کہا کہ آج مذاکرت نتیجہ خیز نہ ہوئے تو کل ایمرجنسی سروسز سے دستبردار ہو کرریڈ زون میں دھرنا دیں گے اور ینگ ڈاکٹرز صرف بلوچستان ہی میں نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر ایمرجنسی سے دستبردار ہوں گے۔

    ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر کیوں؟ عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے 22 نومبر کو اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دیاتھا جس سے نہ صرف کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا تھا بلکہ تعلیمی اداروں کو جانے والے طلبہ وطالبات بھی کئی دنوں تک مشکلات سے دوچار رہے تھے۔

    جس پر کوئٹہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 30 نومبر کو دھرنے میں شامل19 افرادگرفتار کیے تھے جن میں 15 ڈاکٹرز اور چار پیرامیڈیکس سٹاف ممبرز شامل ہیں- گرفتار افراد کو عدالت نے چھ دسمبرتک قید کی سزا سنائی تھی اور پولیس نے انہیں جیل منتقل کردیا تھا۔

    کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال: اب کوئی ڈاکٹر بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی عدالت

  • کوئٹہ:  ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری ہے –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز نے ساتھیوں کی رہائی کے لیے ڈیوٹیز سے بائیکاٹ کر رکھا ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ کہ کوئٹہ میں دھرنے کے دوران گرفتار کیے گئے ڈاکٹروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی بھی مطالبات میں شامل ہے۔

    بلوچستان حکومت نے پہلے ہی ایم آر آئی میشن کے لیے 250 ملین روپےجاری کر دیئے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے رقم جاری کردی ہے بہت جلد ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینیں کام شروع کر دیں گی۔

    واضح رہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے 22 نومبر کو اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دیاتھا جس سے نہ صرف کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا تھا بلکہ تعلیمی اداروں کو جانے والے طلبہ وطالبات بھی کئی دنوں تک مشکلات سے دوچار رہے تھے۔

    کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال: اب کوئی ڈاکٹر بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی عدالت

    جس پر کوئٹہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 30 نومبر کو دھرنے میں شامل19 افرادگرفتار کیے تھے جن میں 15 ڈاکٹرز اور چار پیرامیڈیکس سٹاف ممبرز شامل ہیں- گرفتار افراد کو عدالت نے چھ دسمبرتک قید کی سزا سنائی تھی اور پولیس نے انہیں جیل منتقل کردیا تھا۔

    لوچستان میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کا احتجاج اب ایک معمول بن چکا ہےاور حالیہ احتجاج دو ماہ قبل شروع ہوا تھا لیکن 23 نومبر سے شدید سردی کے باوجود انھوں نے گورنر ہاﺅس کے قریب دھرنا دیا تھا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو مطالبات کی جو فہرست پیش کی گئی ہے وہ 24 نکات پر مشتمل ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سپریم کونسل کے رکن ڈاکٹر ارسلان کے مطابق ان 24 مطالبات میں سے دو تین کے سوا باقی تمام مطالبات مریضوں کی بھلائی کے لیے ہیں حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے بلوچستان میں سرکاری ہسپتال کھنڈرات بنے ہوئے ہیں اور ان میں علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جب مریض ہسپتال آتے ہیں تو ادویات اور دیگر سہولیات نہ ہونے پر وہ اپنا سارا غصہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے عملے پر نکالتے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا سے 8 افراد جاں بحق، 904 مریضوں کی حالت تشویشناک

    ہسپتالوں میں ادویات اور جدید مشنری کو یقینی بنانا ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کا کام نہیں ہوتا بلکہ یہ کام حکومت کا ہے لیکن چونکہ ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے سامنے ڈاکٹر یا دیگر طبی عملہ ہوتا ہے اس لیے انھیں لوگوں کے اشتعال اور غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ینگ ڈاکٹروں کے ذاتی فائدے کے جو مطالبات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور جو پوسٹ گریجوایٹ سٹوڈنٹس ہیں ان کو ملک کے دیگر اچھے اداروں میں پڑھنے کے لیے ڈیپوٹیشن پر جانے کی اجازت دی جائے۔ 2016 میں ان کی تنخواہ 80 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی لیکن اس کے بعد اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 8 نومبر کو کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال،طبی سہولیات سے متعلق کیس کی ہائی کورٹ میں سماعت میں چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں غلط کام کرتے ہیں؟ نظام کو چلنے دیں آپ میں سے کوئی آئی جی یا ڈی آئی جی پولیس سے ملا چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹر کو ہڑتال اور ریلیاں نہ نکالنے کی ہدایت دی تھی-

    چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ اب کوئی بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پیرامیڈکس کو اپنے آپ سے الگ رکھیں-

  • ہرنائی : فائرنگ سے کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے 3 افراد جاں بحق

    ہرنائی : فائرنگ سے کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے 3 افراد جاں بحق

    ہرنائی میں فائرنگ سے کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے 3 مزدور جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی :لیویز ذرائع کے مطابق ہرنائی میں شاہرگ کے علاقے ذالاوان میں مسلح افراد کی فائرنگ کرکے کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے 3 مزدوروں کو ہلاک کردیا، واقعہ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔ لیویز ذرائع کے مطابق مزدروں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے تاہم لاشیں اسپتال منتقل کرنے کے لئے لیویز فورس روانہ کردی گئی ہے۔

    اس سے قبل بلوچستان کے ضلع دکی میں واقع کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے سے دھماکا ہوا ہے تفصیلات کے مطابق کان میں دھماکے کے باعث راستہ بند ہو گیا اور 4 کان کن اندر پھنس گئے ریسکیو ذرائع کے مطابق کان میں پھنسے ہوئے 3 کان کنوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ 1 تاحال کان میں پھنسا ہوا ہے جسے نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے ۔

    نکالے گئے کان کن کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

    کان ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 4 مزید کان کن بے ہوش ہو گئے تھے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    کوئٹہ:پولیس وین کے قریب دھماکہ ،3 شہری زخمی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ کے علاقے نواں کلی پہلے اسٹاپ میں پولیس وین کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے تھے، واقعہ کے بعد امدادی اہلکاروں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا تھا جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جگہ کو گھیرے میں لیکر شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیئے۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکے کی جگہ کو سیل کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جب کہ دھماکہ خیز مواد سے متعلق بھی تفتیش جاری ہے دوسری جانب ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں زخمی عام شہری ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

  • کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال: اب کوئی ڈاکٹر بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی    عدالت

    کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال: اب کوئی ڈاکٹر بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی عدالت

    کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال،طبی سہولیات سے متعلق کیس کی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبداللہ بلوچ نے کیس کی سماعت کی،سماعت کے موقع پر ینگ ڈاکٹرز کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹرز کے نمائندوں سےاستفسار کیا کہ آج آپ نے پھر جلوس کیوں نکالا؟چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں غلط کام کرتے ہیں؟-

    جس پر نمائندہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہمارے ایک ڈاکٹر کو قتل کیا گیا اس پر ریلی نکالی،چیف جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر کو سرکار نے مارا ؟نظام کو چلنے دیں آپ میں سے کوئی آئی جی یا ڈی آئی جی پولیس سے ملا چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹر کو ہڑتال اور ریلیاں نہ نکالنے کی ہدایت کردی-

    چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اب کوئی بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے کہا کہ پیرامیڈکس کو اپنے آپ سے الگ رکھیں-

    دوران سماعت محکمہ صحت کے حکام نے اپنے اقدامات کی تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرادی،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے بھی مسائل سے متعلق تحریری جواب جمع کرا دیا،درخواست پر مزید سماعت 15 نومبر تک ملتوی کر دی گئی-

    بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ جام کمال نے کہا کہ حکومت کیلئے میری نیک تمنائیں ہیں جہاں ہماری ضرورت ہوگی ساتھ دیں گےمیں کہوں گا نئی کابینہ جلد از جلد بنائیں اور مسائل کے حل کو ڈسکس کریں، میری پیپلز پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے سوشل میڈیا پرچلنے والی خبروں میں صداقت نہیں-

    جام کمال نے کہا کہ ہم بلوچستان عوامی پارٹی کے ممبر ہیں اسی ہی میں رہیں گے پارٹی کے اندر کام کرینگے ذمہ داریوں کو آگے لیجائیں گے، بلوچستان عوامی پارٹی نے ساڑھے تین سال میں بہت کام کیاہے، پارٹی اور حکومت کے حوالے سے بھی بہت کام کیا ہے، میرا ٹویٹ بہت مشہور ہوا جس میں پارٹی صدرات سے ہٹ جانے کی خواہیش ظاہر کی تھی، پارٹی کے سارے لوگ آئے اور اُنہوں نے فیصلہ واپس لینے کو کہا تھا-

    دوسری جانب وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ شہر میں بدترین ٹریفک جام کا نوٹس لے لیا وزیراعلئ نے ایس ایس پی ٹریفک پولیس کو ٹریفک نظام کی بہتری کے لیۓ فوری طور پر موثر اقدامات کی ہدایت دی –

    وزیراعلئ بلوچستان کا کہنا تھا کہ عوام گھنٹوں گھنٹوں بے ہنگم ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں مریض ایمرجنسی میں بروقت اسپتالوں تک نہیں پہنچ پاتےاگر کوئی سڑک کسی وجہ سے ٹریفک کے لیۓ بند ہو جاتی ہے تو فوری طور پر متبادل راستہ دیا ئے ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیۓ ٹریفک انجئیرنگ کا شعبہ قائم کیا جائے شہر میں ٹریفک جام کو ختم کرنے اور ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیۓ لائحہ عمل بنایا جائے وزیراعلئ نے ٹریفک نظام کی بہتری کے اقدامات کے حوالے سے اجلاس طلب کر لیا-

  • سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل خارج

    سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل خارج

    سپریم کورٹ نے سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کر دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے مجرم زاہد نے سات سال سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی، اس اپیل کو سپریم کورٹ نے خارج کرتے کی اور اس کا پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے فیصلہ تحریر کیا۔

    یاد رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ مجرم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کر چکا ہے رواں سال مارچ میں مجرم زاہد نے اپنے پڑوس میں رہنے والی سات سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق زیادتی کے کیسز میں متاثرہ فرد کا تنہائی میں لیا گیا بیان سزا کے لیے کافی ہے،معاشرے میں زیادتی کے بڑھتے کیسز کو مضبوط ہاتھوں سےروکنے کی ضرورت ہے،عدالت عظمیٰ فیصلے میں کہہ چکاہےکہ ریپ تنہائی میں ہونے والاجرم ہے،عام طورپر ریپ کیسز میں گواہان کا ہوناممکن نہیں ہوتا،عدالتیں زیادتی کے کیسز میں گواہان سے زیادہ متاثرہ فرد کے بیان پر اکتفا کرتی ہیں۔

    فیصلے کے مطابق ریپ متاثرہ شخص جسمانی اذیت کے ساتھ ساتھ جذباتی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، موجودہ کیس میں متاثرہ بچی نے عدالت کے سامنے زیادتی کرنے والے کی شناخت کی، خواتین کے آپسی جھگڑے پر مقدمہ کرنے کے ملزم کا دفاع ناقابل قبول ہے۔

    واضح رہے کہ اپنے خطاب میں بھارتی فلموں کی وجہ سے دہلی ریپ کیپیٹل بنا‘‏میں اپنی نسل کوبچانا چاہتا ہوں:آئیں میری مدد کریںوزیراعظم عمران خان نے ریپ کیسز بڑھنے کی ایک بڑی وجہ موبائل فون کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ‏میں جنسی جرائم بڑھنا بڑی شرمناک چیز ہے ہمیں معاشرے کیلئے فکری انقلاب کی ضرورت ہے۔

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں پر سوشل میڈیا کی یلغار ہے آج ‏موبائل کےذریعے بچے کے پاس ایسا مواد ہے جو بہت کچھ سیکھاتاہے ہمیں معلوم ہی نہیں کہ سوشل میڈیا کا ‏نیٹ ورک کتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

    ‏’بھارتی فلموں کی وجہ سے دہلی ریپ کیپیٹل بنا‘‏میں اپنی نسل کوبچانا چاہتا ہوں:آئیں میری مدد کریں:وزیراعظم

    انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کےبہتر مستقبل کیلئے اسکالرز پر بڑی ذمہ داری ہے اسکالرز اچھے اور برے کی تمیز ‏سکھاتے ہیں، تاریخ پڑھیں تو عالم کا بہت بڑا رتبہ تھا اسکالرز قوم کا قبلہ درست کرتے ہیں-

    وزیراعظم نے کہا کہ مغربی سولائزیشن کو ‏بہت قریب سے دیکھا ہے اسکالرز ایک قوم کے نظریے کاتحفظ کرتے ہیں دانشوروں کی اہمیت کم ہونےسے تہذیب ‏زوال پذیر ہوتی ہے اسکالرز راستہ بھول جائیں تو معاشرے کو نقصان ہوتاہے آج کے پاکستان میں اسکالرز کی بہت ‏ضرورت ہے افسوس ہوتاہے کہ ہمارے لوگوں کو اسلام کی تاریخ کا بھی ٹھیک سے پتہ نہیں ہوتا۔

    سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوانوں اور بچوں پر یلغار ہے، آج ایک بچے کے پاس موبائل فون میں ایسا مواد ہے منی اور مثبت دونوں ہے، اس لیے نوجوان نسل کو تعلیم دینے کیلئے سب پر بڑی ذمہ داری ہے۔

    ایک سائٹ کو منفی مواد پر بند کرتے ہیں تو اگلے دن دوسری سائٹ نکل آتی ہے۔ ہم اس کو روک نہیں سکتے لیکن ہم تربیت دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اس کو کس طرح ڈیل کرنا ہے۔پاکستان میں بچوں کے جنسی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے، جنسی جرائم بڑھنا شرمناک ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ آپ جب برے کو برا نہیں کہتے بلکہ اس کو قبول کرلیتے ہیں تو قوم مر جاتی ہے، اگر میں اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ ملاتا ہوں تو اعتراف کرنے کے مترادف ہے کرپشن کوئی بری چیز نہیں۔

  • کوئٹہ: موٹر سائیکل میں نصب دھما کہ ، 12 افراد زخمی

    کوئٹہ: موٹر سائیکل میں نصب دھما کہ ، 12 افراد زخمی

    کوئٹہ: خاران میں موٹر سائیکل میں نصب دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : خاران پولیس کے مطابق دھماکا چیف چوک کے قریب ہوا، دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا دھماکے کے بعد زخمیوں کو فوری اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں دھماکے میں ایک گاڑی اور قریبی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    بلوچستان کے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے خاران میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کی گئی ہے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر صوبے کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔

    پنجگور میں دھماکہ،2 افراد جاں بحق

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں سے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل 31 اکتوبرکو بلوچستان کے ضلع پنجگور کے ایک بازار میں دھماکہ ہوا تھا جس میں 2 افراد جاں بحق ہو ئے تھے پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے پنجگور دھماکے کی مذمت کی تھی انہوں نے دھماکے میں 2 افراد کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد بے چینی اور بد امنی پیدا کرنا ہے۔

  • نو منتخب اسپیکر بلوچستان طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال داخل

    نو منتخب اسپیکر بلوچستان طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال داخل

    بلوچستان کے نو منتخب اسپیکر جان محمد جمالی کو طبیعت زیادہ خراب ہونے پر اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسپیکربلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی کو نمونیا کی شکایت کے باعث نجی اسپتال میں بغرض علاج داخل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم انہیں طبی امداد فراہم کر رہی ہے۔

    اس ضمن میں بلوچستان اسمبلی کے نو منتخب اسپیکر جان محمد جمالی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    واضح رہے کہ دو دن قبل جان جمالی بلا مقابلہ بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے تھے لیکن علالت کے باعث ابھی تک وہ اپنے منصب کا حلف نہیں اٹھا سکے ہیں گورنر بلوچستان ظہور آغا نے اسپیکر کے انتخاب کے لیے اجلاس طلب کیا تھا جس میں اسپیکر کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا وقت صبح 8:30 سے 12 بجے تک رکھا گیا تھا جان محمد جمالی بلوچستان اسمبلی کے 16ویں اسپیکر ہیں-

    تاہم مقررہ وقت میں بلوچستان عوامی پارٹی کے میر جان محمد جمالی کے 5 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے جبکہ کسی دوسرے امیدوار نے ان کے مقابلے میں کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔

    سیکریٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کا کہنا تھا کہ اسمبلی قوائد کے مطابق جان محمد جمالی بلا مقابلہ اسپیکر اسمبلی منتخب ہوگئے، اسپیکر کے انتخاب کے لیے اسمبلی کے اجلاس میں اب رائے شماری نہیں ہوگی اور قائم مقام اسپیکر نومنتخب اسپیکر کے نام کا اعلان کریں گے۔

    میر جان محمد جمالی بلوچستان کے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ضلع جعفرآباد کے علاقے اوستہ محمد میں 23 مئی 1955 کو پیدا ہوئے آپ کے والد نور محمد جمالی قبائلی رہنما ہونے کے ساتھ سیاست دان بھی تھے۔

    میر جان محمد جمالی نے ابتدائی تعلیم آبائی علاقے سے حاصل کرنے کے بعد بلوچستان یونورسٹی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1983 میں بلدیاتی انتخابات سے کیا، 1988 میں اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی بنے بعدازاں وہ 1990 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہو کر بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے اور 1993 میں صوبائی وزیر رہے۔

    میر جان محمد جمالی 1997 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر دوبارہ رکن اسمبلی بنے اور 15 جون 1998 سے لے کر 12 اکتوبر 1999تک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہےمسلم لیگ (ن) کے ہی ٹکٹ پر 2013 کے انتخابات میں دوبارہ حصہ لیا اور کامیاب ہوئے جبکہ 4 جون 2013 سے 2015 تک اسپیکر بلوچستان اسمبلی رہے اور 2مرتبہ ڈپٹی چیرمین سینٹ بھی رہے2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی کا حصہ بنے اور اب ایک مرتبہ پھر اسپیکر بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

  • پنجگور میں دھماکہ،2 افراد جاں بحق

    پنجگور میں دھماکہ،2 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے ضلع پنجگور کے ایک بازار میں دھماکہ ہوا ہےجس میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے پنجگور دھماکے کی مذمت کی ہے انہوں نے دھماکے میں 2 افراد کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد بے چینی اور بد امنی پیدا کرنا ہے۔

    قبل ازیں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں خطے کے ضلع راجوری میں کنٹرول لائن کے نزدیک ایک دھماکے میں ایک افسر سمیت دو بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

    یمن: عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے گیٹ کے قریب کار بم دھماکہ، 12 افراد ہلاک،متعدد زخمی

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دھماکہ ضلع میں نوشہرہ کے علاقے کلال میں ہوا۔ سرکاری ذرائع نے دھماکے میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ساوتھ ایشین وائرنے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ نوشہرہ کے علاقے کلال میں کنٹرول لائن کے نزدیک ایک دھماکہ ہوا جس میں ایک لیفٹیننٹ سمیت دو فوجی شدید زخمی ہو گئے۔

    دونوں زخمیوں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ دھماکے کے وقت فوجی معمول کی گشت پر تھے بھارتی میڈیا کے مطابق نوشہرہ سیکٹر میں ہونے والے دھماکے سے بھارتی فوج کا لیفٹیننٹ اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکا بارودی سرنگ کا تھا۔

    راجوری میں دھماکہ:لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو بھارتی فوجی ہلاک

    ادھر یمن کے عبوری دارالحکومت عدن کےبین الاقوامی ہوائی اڈے کے گیٹ کے قریب کار بم دھماکے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے سکیورٹی حکام کے مطابق کار بم دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ، بظاہر یہ دہشتگردی کی کارروائی معلوم ہوتی ہے مگر حتمی نتیجہ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گا۔

    العربیہ کے مطابق گورنر عدن کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ابھی تک دھماکے سے متعلق خاطر خواہ اطلاعات نہیں ملیں ۔ دھماکے کے بعد ائیرپورٹ کے گیٹ اور ملحقہ ہوٹل میں آگ لگ گئی۔ امدادی کارکنوں کی جانب سے دھماکے کے پہلی ویڈیو جاری کی گئی جس میں رہائشی علاقے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑکی ہوئی ہے۔

  • عوامی نیشنل پارٹی ایک بار پھر بلوچستان حکومت کاحصہ بن گئی

    عوامی نیشنل پارٹی ایک بار پھر بلوچستان حکومت کاحصہ بن گئی

    کوئٹہ: بی اے پی کے وفد کی عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں رکن اسمبلی سید احسان شاہ کی رہائش گاہ آمد

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سید احسان شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ ہیں امید کرتے ہیں ایک نئی حکومت ایک مثالی حکومت ہوگی کوئٹہ۔صوبے کے عوام کے مسائل کو حل کرنا نئی حکومت کی ترجیحات ہونی چاہیے۔

    علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی بھی بلوچستان حکومت کا ایک بار پھر حصہ بن گئی ہے بلوچستان عوامی پارٹی کے قدوس بزنجو ‘ظہور بلیدی اور دیگر سے ملاقات کے بعد اے این پی بلوچستاننے بی اے پی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے-

    قبل ازیں گزشتہ روز کوئٹہ میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،وفاقی وزیر پرویز خٹک، سردار یار محمد رند و دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کے لیے پی ٹی آئی کی اتحادیوں کے ساتھ ہمدردیوں کوپھر دہرایا-

    بلوچستان کی ترقی،خوشحالی کے لیے ہم حاضر:سنجرانی ، خٹک اور یار محمد رند بول اٹھے

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے یار محمد رند نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کو ایسا لگا کہ انکو نظرانداز کیا جارہا ہے، پی ٹی آئی اراکین نے مجھے وزیراعلی اور بابر موسی خیل کو اسپیکر کیلئے نامزد کیا،باپ پارٹی حکام آپس میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں،اتحاد کو چلانے کیلئے قربانیاں دی جاتی ہیں،استعفی دینے کے بعد بھی صوبائی حکومت کو غیر مستحکم نہیں کیا امید ہے کہ باپ ہمارے ساتھ سابق رویہ اختیار نہیں رکھے گی،پارٹی کا فیصلہ ہے ماننا پڑے گا ہم نے مل کر بلوچستان کو چلانا ہے، ہم نے بلوچستان کو ترقی دینی ہے-

    وفاقی وزیر پرویز خٹک نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے بھی باپ پارٹی کو سپورٹ کیا،اب بھی کرے گی ، بلوچستان کی ترقی کے لیے کوئی ایک قدم آگے بڑھے گا تو پی ٹی آئی دس قدم آگے آئے گی صوبے میں بننے والی نئی حکومت پی ٹی آئی کا خیال رکھے گی،پی ٹی آئی اراکین کو نظرانداز کرنا برداشت نہیں،سابق حکومت نے پی ٹی آئی کو وہ حیثیت نہیں دی تو جو انکا حق تھا،سردار رند نے ہمیں عزت دی-

    باپ پارٹی کے سنیئر رہنما ظہور بلیدی نے کہا کہ سردار رند نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا،بڑے ہونے کی حیثیت سے ہم نے ہمیشہ ان سے قربانی لی،باپ پارٹی نے سردار رند کو مختلف جگہوں پر نظرانداز کیا،

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کووزارت اعلیٰ سے محروم کرنے والے مرکزی کردار عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ سردار رند ہمارے بڑے اور قبائلی حیثیت رکھتے ہیں،مل کر بلوچستان میں اچھی حکومت بنائیں گے،سردار رند باہر تھے جس کی وجہ سے ہم نہیں مل سکے

  • پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والا  85 سالہ پاکستانی

    پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والا 85 سالہ پاکستانی

    بلوچستان :85 سالہ شخص ہیبت اللہ حلیمی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہیبت اللہ حلیمی نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے یونیورسٹی آف بلوچستان کے اٹھارویں کانووکیشن میں صورت حال اُس وقت دلچسپ شکل اختیار کر گئی جب یونیورسٹی آف بلوچستان کے سب سے معمر پی ایچ ڈی اسکالر ہیبت اللہ حلیمی اپنی ڈگری وصول کرنے کیلئے اسٹیج پر آئے۔

    حکومت نے 3 ماہ میں مزید کتنا قرض لیا؟ تفصیلات جاری

    گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا معمر پی ایچ ڈی اسکالر سے گلے ملے اور اُن کو ڈگری عطا کی پی ایچ ڈی اسکالر ہیبت اللہ حلیمی کا تعلق پولیس ڈپارٹمنٹ سے تھا اور وہ ڈی ایس پی کے عہدے پر فائز رہے معمر پی ایچ ڈی اسکالر نے 85 برس کی عمر میں سیاسیات میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگری حاصل کی۔

    گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ،عوام کی پریشانی مزید بڑھ گئی

    گورنر بلوچستان نے کہا کہ اس عمر میں پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ اور اس کی تکمیل علم میں دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کیلئے حوصلہ افزاء اور قابل فخر ہے۔

    عوام افواہوں پر کان نہ دھریں بلوچستان کے لیے ایک مثالی حکومت قائم کریں گے…

    سعودی یونیورسٹی میں طلبہ کے جینز اور ٹائٹس پہننے پر پابندی عائد