Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بلوچستان میں نئی حکومت کے قیام کا معاملہ ، پی ڈی ایم  نئے وزیراعلیٰ کو ووٹ دے گی یا نہیں؟

    بلوچستان میں نئی حکومت کے قیام کا معاملہ ، پی ڈی ایم نئے وزیراعلیٰ کو ووٹ دے گی یا نہیں؟

    اتحادی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کا مشترکہ مشاورتی اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر و سابق وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند، سردار بابر خان موسیٰ خیل، نوابزادہ میر نعمت اللہ زہری، میر عمر خان جمالی، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی، انجینئر زمرک خان اچکزئی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی قادر نائل، جے ڈبلیو پی کے رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ گہرام خان بگٹی، بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان اسمبلی میر سلیم احمد کھوسہ، سردار مسعود خان لونی، میر ضیاء اللہ لانگو، حاجی محمد خان طور اتمانخیل، ملک نعیم خان بازئی، خلیل جارج بھٹو اور سنیٹر انوار الحق کاکڑ شریک تھے۔

    اجلاس میں صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال سمیت اہم پارلیمانی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے کہا کہ وہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر اپنا امریکہ کا دورہ مختصر کرکے واپس آئے۔ اجلاس میں صوبے کی نئی بننے والی حکومت اور قائد ایوان کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پر غور کیا گیا۔

    جام کمال کے استعفے کے بعد بلوچستان میں نئی حکومت کے قیام کا معاملہ ،پی ڈی ایم نئے وزیراعلیٰ کو ووٹ دے گی یا نہیں؟ جے یو آئی ف ، بی این پی مینگل اور پختونخواہ میپ نےمشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے مشاورت کے بعد نئے وزیراعلیٰ کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے پیپلزپارٹی نے بی اے پی سے چھپ کر ووٹ لیا تھا ہم چھپ کر ووٹ دینے والے نہیں جو بھی فیصلہ ہوگا مشاور ت سے اور اعلانیہ ہوگا-

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کی نئی حکومت میں شامل ہونے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جام کمال کے اپنے ساتھی ان کے خلاف ہوگئے تھےجب بی اے پی کے اپنے ارکان جام کمال کو چھوڑ چکے تھے تو ہم تو تھے ہی اپوزیشن میں-

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ہم نے حکومتی اتحاد میں اختلافات کا فائدہ اٹھایا بلوچستان میں ہمارے ساتھ اپوزیشن میں پی ڈی ایم کی دو جماعتیں بی این پی مینگل اور پختونخواہ میپ بھی ہیں ہم پی ڈی ایم کی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی بھی فیصلہ کریں گے۔

  • عوام افواہوں پر کان نہ دھریں بلوچستان کے لیے ایک مثالی حکومت قائم کریں گے     بلوچستان عوامی پارٹی رہنما

    عوام افواہوں پر کان نہ دھریں بلوچستان کے لیے ایک مثالی حکومت قائم کریں گے بلوچستان عوامی پارٹی رہنما

    کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے اہم سرکردہ رہنماؤں کا اجلاس منقد ہوا، اجلاس میں بی اے پی کے عبدالقدوس بزنجو،ظہور بلیدی میر جان محمد جمالی اور سردار صالح بھوتانی نے شرکت کی –

    باغی ٹی وی : اجلاس میں صوبے کے لئے اتحادیوں کے تعاون بنے والی نئی حکومت کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،طویل مشاورت کے بعد پارٹی کی جانب سے نئے قائد ایوان کے لئے عبدالقدوس بزنجو کے نام پر اتفاق کرلیا گیا جبکہ اسپیکر کے عہدے کے لئے میر جان محمد جمالی پارٹی اور اتحادیوں کے مشترکہ امیدوار ہوں گے-

    اجلاس میں طے کیا گیا قائد ایوان اور اسپیکر کے انتخابات کے بعد کابینہ کے لئیے نام بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اتفاق رائے فائنل کردئیے جائیں گے ۔اجلاس میں بی اے پی کے رہنماؤں نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ بی اے پی کے نئے قائد ایوان کے لیے پارٹی رہنماؤں میں کوئی اختلافات ہیں ایسی من گھڑت خبریں مخالفین کی خواہشات تو ہوسکتی ہیں لیکن حقیقت نہیں ،عوام افواہوں پر کان نہ دھریں بلوچستان کے لیے ایک مثالی حکومت قائم کریں گے۔

    اجلاس میں اتحادی جماعتوں سے رابطے کے لئیے دو رکنی کمیٹی کا قیام کمیٹی میں ایم پی اے میر نعمت زہری ، ایم پی اے میر عمر جمالی کے نام شامل کئے گئے-

    اجلاس میں آراکین نے متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف ماضی میں اتحادی جماعت کو قائد ایوان ، اسپیکر اور متعدد بار سینیٹ میں ووٹ دے چکی ہے اراکین نے متفقہ طور پر سردار یار محمد رند کو وزیر اعلی بلوچستان ، اور سردار بابر موسی خیل کو بطور اسپیکر بلوچستان اسمبلی نامزد کرنے کا فیصلہ کیا

    پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت نے فیصلہ کیا کہ پارلیمانی سربراہ سردار یار محمد رند کے بطور وزیر اعلی بلوچستان اور سردار بابر موسی خیل کے بطور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کاغذات نامزدگی جمع کروائے جائیں گے-

  • تحریک عدم اعتماد:اپوزیشن کے نمبرز پورے  ، جام کمال نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دے دیا

    تحریک عدم اعتماد:اپوزیشن کے نمبرز پورے ، جام کمال نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دے دیا

    وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے وزیر اعظم عمران خان کو تجویز دی کہ اپنے اردگرد لوگوں پر خصوصی نظر ڈالیں-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں جام کمال نے لکھا کہ طاقت اور لالچ کا جنون ،صوبائی ترقی میں نقصان مکمل طور پر پی ڈی ایم ، پی ٹی آئی اور بی اے پی کی ذمہ داری ہو گی ، وفاق میں کچھ سمجھدار اور ذمہ دار لوگ ، بی اے پی (ناراض گروپ) اور چند مافیا ہوں گے-

    انہوں نے لکھا کہ میرا عمران کان کو مشورہ ہے کہ اپنے لوگوں کے ارد گرد ایک نظر ڈالیں.

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے اپوزیشن اور ناراض اراکین نے نمبرز پورے کر لیے 65 اراکین پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کل ہوگا اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگئی ۔

    ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے 40 اراکین کی حمایت کا دعویٰ کیا جارہاہے جبکہ وزیر اعلیٰ کو گھر بھیجنے کیلئے 33 اراکین کی ووٹ کی ضرورت ہوگی ناراض اراکین کے چار لاپتہ اراکین اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچے اور ائیرپورٹ سے سیدھا اسپیکراسمبلی قدوس بزنجو کے گھر پہنچ گئے۔

    پی پی پی کے رہنماء نواب ثناء اللہ زہری نے بھی وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف ووٹ دینے کا اعلان کر دیا ہے وہ آج صبح اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے گھر پہنچے اور جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں حصہ لینے کااعلان کیا۔

    بلوچستان کی سیاست میں اس وقت گہما گہمی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن نے تاحال اسپیکر قدوس بزنجو کے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق آج متحدہ اپوزیشن اور نارض اراکین کی جانب سے ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جہاں تحریک عدم اعتماد سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔


    جبکہ وزیر اعلیٰ جام کمال نے مستعفیٰ ہونے سے انکار کردیا ہے اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا اور اس طرح کی جھوٹی خبریں نہ پھیلائی جائیں ۔جام کمال نے ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف سب مخالفین ایک ساتھ ہوگئے ہیں۔

  • بلوچستان: اورماڑہ کے قریب دیو ہیکل مردہ وہیل سمندر کے کنارے پر آگئی

    بلوچستان: اورماڑہ کے قریب دیو ہیکل مردہ وہیل سمندر کے کنارے پر آگئی

    بلوچستان کے علاقے اورماڑہ کے قریب مردہ وہیل سمندر کے کنارے پر آگئی.

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل اورماڑہ کے علاقے سرکی میں مردہ وہیل ساحل سمندر پر آگئی مقامی ماہی گیروں نے وہیل کے معدے سے عنبر گرس کی تلاش کے لیے اسے کاٹ دیا۔

    ورلڈ وائلڈ فیڈریشن پاکستان کے تکینیکی مشیر معظم خان کا کہنا ہے کہ مُردہ پائی گئی دیوہیکل وہیل بروڈس نسل کی تھی، بروڈس نسل پاکستان میں پائی جانے والی 3 بڑی بیلین وہیلز میں سے ایک ہے-

    مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

    انہوں نے بتایا کہ بروڈس وہیل دنیا کے گرم اور قدرے معتدل سمندری مقامات بحرِہند، بحرِاوقیانوس اور بحرِالکاہل میں پائی جاتی ہے، غالب امکان یہ ہے کہ اس نسل کی آبی حیات کی تعداد پاکستانی سمندروں میں محدود ہے۔

    معظم خان کا کہنا تھا کہ وہیل مچھلی کے پیٹ سے نکلنے والا مواد انتہائی مہنگا ہوتا ہے، عنبر گرس وہیل کے معدے میں پایا جاتا ہے، عنبر گرس کا استعمال پرفیومز میں خوشبو کو دیرپا رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے-

    غریب ماہی گیر ایک ہی رات میں کروڑپتی بن گیا

    مّظم خان نے مزید کہا کہ عنبر گرس کی قیمت ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کے درمیان ہوسکتی ہے، وہیل کے معدے میں موجود اس ٹھوس مواد کو سمندر کا انمول رتن(موتی) بھی کہا جاتا ہے جبکہ مردہ حالت میں پائی گئی وہیل میں عنبرگرس نہیں پایا جاتا۔

    دنیا کی سب سے چھوٹی "گائے رانی” چل بسی

  • بلوچستان میں گیس کے ذخائر دریافت

    بلوچستان میں گیس کے ذخائر دریافت

    بلوچستان کے ضلع کوہلو سے گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( او جی ڈی سی ایل) کے ترجمان کے مطابق گیس ذخائر جندران ویسٹ ایکس ویل سے دریافت ہوئے ہیں جس سے یومیہ 24 لاکھ ایم ایم سی ایف ڈی گیس نکلے گی۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ 1627 میٹر گہرائی کے بعد گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب سوئی ناردرن گیس کمپنی کے سسٹم پر قدرتی گیس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے گیس بحران اور قلت پیدا ہونا معمول ہوتا جا رہا ہے، بحران اور قلت پر قابو پانے کے لئے حکومت نے درآمد ہونے والی گیس پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے-

    اس دوران حکومت نے گھریلو صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت قدرتی گیس اور ایل این جی کو ملا کر نیا ٹیرف متعارف کروایا جائیگا، جس کے بعد گھریلو صارفین کے بلوں میں ماہانہ ہزاروں روپے اضافہ ہو جائیگا۔

    سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، گورنر سندھ

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے پاور، سی این جی سمیت دیگر سیکٹر کو پہلے ہی ایل این جی پر منتقل کر دیا ہے، تاہم اب گھریلو صارفین کی منتقل ہونے سے فی یونٹ بل 200سے بڑھ کر دو ہزار روپے تک ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر ذخائر کم ہورہے ہیں، سردیوں میں عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ وقتی تکلیف ہے کیونکہ گیس کے شپمنٹس آرہے ہیں اس لئے زیادہ مسئلہ نہیں ہوگا۔عمران اسماعیل نے کہا کہ کوشش ہے کہ غریب طبقے کو مہنگائی سے ریلیف دیا جائے، ریلیف پالیسی بنائی جارہی ہے، سندھ حکومت کی وجہ سے صحت کارڈ صوبے کے شہریوں کو نہیں ملا، ٹارگٹڈ سبسڈی کارڈ سندھ میں بھی تقسیم کئے جائیں گے۔

    عوام پر گیس بم گرانے کی تیاری

  • ہرنائی زلزلے میں ہونیوالے جانی و مالی نقصان کی ابتدائی رپورٹ جاری

    ہرنائی زلزلے میں ہونیوالے جانی و مالی نقصان کی ابتدائی رپورٹ جاری

    بلوچستان : ہرنائی میں تباہ کن زلزلے میں انتظامیہ کی جانب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہرنائی کی ضلعی انتظامیہ نے رواں ماہ 7 اکتوبر کے زلزلے کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہےرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہرنائی میں زلزلے سے 17 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 32 افراد شدید اور 200 افراد معمولی زخمی ہوئے۔

    ضلعی انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زلزلے میں 260 مکانات مکمل تباہ ہوئے جبکہ 3 ہزار 720 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا زلزلے سے 32 اسکول، 5 اسپتال اور 5 مساجد بھی شہید ہوئیں۔

    ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے میں جانی و مالی نقصان ہوا زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔

    مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے-

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

  • ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی

    ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی

    کوئٹہ: بلوچستان کے ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق بلوچستان حکومت کے ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد سیکرٹری صوبائی اسمبلی کو جمع کرادی، تحریک عدم اعتماد جمع کرانے والوں میں ظہور بلیدی، سردار عبدالرحمن کھیتران، نصیب اللہ مری اور دیگر شامل تھے تحریک عدم اعتماد پر 14 اراکین صوبائی اسمبلی کے دستخط ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد دیگر اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ظہور بلیدی کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر 14 اراکین اسمبلی کے دستخط ہیں، بلوچستان اسمبلی کے اکثریتی ممبران نے جام کمال خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، اسپیکر بلوچستان جلد اسمبلی اجلاس بلائیں اور تحریک عدم اعتماد پیش کریں، اور ہم وزیر اعلیٰ جام کمال کو پھر تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ خود استعفیٰ دے دیں۔

    جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد اگلے 24 گھنٹے اہم

    میڈیا سے گفتگو میں اسد بلوچ نے کہا کہ صوبے میں انارکی کا ماحول پیدا ہو رہا ہے اور اگر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال جنگ کریں گے تو ہار انہی کی ہو گی اسد بلوچ نے دعویٰ کیا کہ 8 سے 10 روز کے بعد بلوچستان میں نیا وزیر اعلیٰ ہو گا اور ہمارے گروپ نے ہر طرح کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

    اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ ایک اصول ہوتا ہے کہ ایک فرد کو اجتماع کیلئے قربان کیا جاتاہے، ہم ناراض گروپ نہیں بلکہ متحد گروپ ہیں، سیاسی بحران سے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں، جام کمال بازی ہار گئے ہیں اب وہ بس کریں۔

    اگرمیری حکومت گرائی گئی توپھرکسی کی بھی نہیں بچ سکے گی:جام کمال کا کمال موقف

    نقیب اللہ مری نے کہا کہ جام کمال عزت سے استعفیٰ دے دیں کیونکہ اکثریت ہمارے ساتھ ہے 65 رکنی بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے لیے 33 ارکان کی سادہ اکثریت کی ضرورت ہے تحریک انصاف بلوچستان میں پہلے دن سے ہی اتحادی تھی اور اب بھی ہے۔

    حکومتی اتحاد 40 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سے 14 نے جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی ہے متحدہ حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد 23 ہے جبکہ دو ارکان آزاد بینچ کا حصہ ہیں۔

    گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ اور دیگر ارکان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں گورنر بلوچستان ظہور آغا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آئین کی شق 130 کی ذیلی شق 7 کے تحت وزیراعلیٰ جام کمال کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں کیونکہ وہ ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

    ورک ویزا، رہائشی پرمٹ رکھنے والے غیر ملکی مسافروں کیلئےسعودی عرب سے بڑی خوشخبری

  • ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    ‏پاک فوج کے دستے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقے ہرنائی پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے-

    آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے ضلع ہرنائی کی زلزلے سے متاثرہ آبادی کے لیے ضروری خوراک اور پناہ گاہیں منتقل کی گئی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ‏آرمی ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف نے طبی سہولتیں فراہم کیں،طبی سہولتوں کیلئے شہری انتظامیہ نے بھی معاونت کی 9 زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا گیا-

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    آئی ایس پی آر کے مطابق آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ بھی ہرنائی پہنچ گئے ‏آئی جی ایف سی نے نقصانات اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا راولپنڈی سے اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو موقع پر بھجوایا جائے گا-

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں خوفناک زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں زلزلے سے متاثرہ شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن جاری ہے۔

    زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، آفٹر شاکس کے باعث بوسیدہ مکانات کے گرنے کا خطرہ ہےہرنائی میں زلزلے کے باعث آج تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    ہرنائی میں زلزلے کے باعث سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اسپتال میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا۔

    ہرنائی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین لاؤڈ اسپیکرز پر دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں، لوگ متاثرہ گھروں میں جانے سے گریز کریں۔

    ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر کے مطابق ہرنائی میں زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے، دور دراز پہاڑی علاقوں میں زخمی موجود ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ادویات کی قلت کا سامنا ہے، ایمرجنسی ڈرگ اور سرجری آلات کی فوری فراہمی کے لیے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔

    ڈی ایچ او نے بتایا کہ متاثرین میں فریکچرز اور ہیڈ انجری کے زخمی زیادہ ہیں، سرجن ڈاکٹرز کی فراہمی کے لیے صوبائی محکمۂ صحت کے ساتھ رابطہ ہے۔

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے باعث 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ہرنائی اور شاہرگ میں 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔

    مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، تمام علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں-

  • بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں خوفناک زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں زلزلے سے متاثرہ شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، آفٹر شاکس کے باعث بوسیدہ مکانات کے گرنے کا خطرہ ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہرنائی میں زلزلے کے باعث آج تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    ہرنائی میں زلزلے کے باعث سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اسپتال میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا۔

    ہرنائی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین لاؤڈ اسپیکرز پر دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں، لوگ متاثرہ گھروں میں جانے سے گریز کریں۔

    ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر کے مطابق ہرنائی میں زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے، دور دراز پہاڑی علاقوں میں زخمی موجود ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ادویات کی قلت کا سامنا ہے، ایمرجنسی ڈرگ اور سرجری آلات کی فوری فراہمی کے لیے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔

    ڈی ایچ او نے بتایا کہ متاثرین میں فریکچرز اور ہیڈ انجری کے زخمی زیادہ ہیں، سرجن ڈاکٹرز کی فراہمی کے لیے صوبائی محکمۂ صحت کے ساتھ رابطہ ہے۔

    ہرنائی انتظامیہ کے مطابق شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ گیا ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر نے بتایا کہ 10 شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ روانہ کئے گئے ہیں کوئٹہ منتقل کئے گئے تمام زخمی مرد اور بعض عمر رسیدہ ہیں۔

    ڈی ایچ او نے یہ بھی بتایا ہے کہ زخمیوں کے سر پر چوٹیں، ہاتھوں اور پاؤں میں فریکچرز آئے ہیں جبکہ کچھ زخمی کومے میں ہیں۔

    دوسری جانب اس سے قبل ڈی جی پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق زلزلے کے مرکز میں 15 کلو میٹر کے دائرے میں مکانات گرے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے ڈی جی کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں 15 کی حالت تشویشناک ہے، سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ 4 زخمیوں کو ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے اور پہاڑی تودے گرنے سے کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔ہرنائی سنجاوی روڈ کی بحالی کیلئے لیویز اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، طورغر میں لورالائی ہرنائی شاہراہ بھی بند ہے جس کی وجہ سے ہرنائی میں آج تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں۔

    قبل ازیں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللّٰہ لانگو اور چیئرمین این ڈی ایم اے کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ہرنائی زلزلے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللّٰہ لانگو نے ہرنائی زلزلے کے حوالے سے کہا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کی جانب سے ہرطرح کےتعاون کا وعدہ کیا گیا ہے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے اس موقع پر کہا کہ میڈیکل ٹیمز، ادویات، ہیلی کاپٹر، نان فوڈ آئٹمز جلد ہرنائی بھیجے جائیں گے۔

    وزیرداخلہ نے بتایا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اورضلعی انتظامیہ کو الرٹ کردیا گیا ہے، ہنگامی بنیادوں پرامدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیجنےکی تیاریاں مکمل ہیں۔

    میر ضیاء اللّٰہ لانگو کا مزید کہنا تھا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے باعث 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ہرنائی اور شاہرگ میں 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔

    مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، تمام علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں-

  • بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلے کے باعث 15 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 3 بجکر 2 منٹ پر آیا جس نے ہرنائی میں تباہی مچا دی۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی جبکہ زمین میں اس کی گہرائی پندرہ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز بلوچستان کے علاقے ہرنائی کے قریب تھا۔

    زلزلے کے باعث کئی مکانات گر گئے جن کے ملبے تلے پھنسے افراد کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالا جبکہ حکومتی مشینری پہنچنے کے بعد بھی ریسکیو کا کام جاری رہا زلزلے سے سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    زلزلے کے بعد بلوچستان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچنے پر طبی عملے کو مشکلات کا سامنا رہا۔

    ہرنائی کوئٹہ شہر کے مشرق میں واقع ہے اور اس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ہرنائی میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور ضلع میں ایمرجنسی نافذ کر کے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    وزیر داخلہ نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کو متحرک کرکے ہیوی مشینری ہرنائی کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔

    ہرنائی میں مقامی صحافی یزدانی ترین نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے بہت شدید تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ہرنائی میں لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے ہرنائی، شاہرگ اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ متعدد علاقوں میں زلزلے سے گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض مقامات پر گھروں کے گرنے سے جانی نقصان ہوا ہے۔

    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکل گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

    اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پشین، سبی اور متعدد دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے تاہم ہرنائی کے علاوہ دیگر علاقوں سے تاحال جانی اور مالی نقصانات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہیں۔